Breaking

خانقاہ سے درس گاہ تک، روحانیت سے تعلیم تک، اور روایت سے تعمیرِ مستقبل تک . خانوادہ بندہ نواز کی روحانی ، دینی ،علمی ،ادبی و سماجی خدمات پر سرسید ایکسیلنس ایوارڈ

خانقاہ سے درس گاہ تک، روحانیت سے تعلیم تک، اور روایت سے تعمیرِ مستقبل تک .  خانوادہ بندہ نواز کی روحانی ، دینی ،علمی ،ادبی و سماجی خدمات پر سرسید ایکسیلنس ایوارڈ

خانقاہ سے درس گاہ تک، روحانیت سے تعلیم تک، اور روایت سے تعمیرِ مستقبل تک .
خانوادہ بندہ نواز کی روحانی ، دینی ،علمی ،ادبی و سماجی خدمات پر سرسید ایکسیلنس ایوارڈ

ازقلم:محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
8277465374
athar.gul@gmail.com

گلبرگہ کی سرزمین محض ایک تاریخی شہر نہیں، بلکہ تہذیب و تمدن، علم و ادب، تصوف و روحانیت اور دینی و سماجی خدمات کی ایک ایسی زرخیز وادی ہے جس کی مٹی میں اولیائے کرام کی نسبتوں کی خوشبو، اہلِ علم کی محنتوں کی مہک اور انسانیت کی خدمت کے روشن نقوش پیوست ہیں۔ اس شہر کی فضاؤں میں جہاں خانقاہوں کی روح پرور صدائیں سنائی دیتی ہیں، وہیں مدارس، درس گاہوں، کتب خانوں اور علمی اداروں کی سرگرمیاں اس کی تہذیبی زندگی کو نئی جہت عطا کرتی ہیں۔اسی تاریخی و روحانی گلبرگہ کی شناخت کا ایک درخشاں حوالہ خانوادہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ ہے، جس نے اپنی روحانی عظمت، دینی خدمات، علمی روایت، تعلیمی جدوجہد اور سماجی فلاح کے ذریعے کئی نسلوں کی علمی،فکری و اخلاقی تربیت میں حصہ لیا ہے۔

یہ خانوادہ ان خوش نصیب خانوادوں میں شمار ہوتا ہے جن کے لیے روحانیت محض خانقاہ کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے معاشرے کی اصلاح، علم کی اشاعت، تعلیم کے فروغ اور انسانیت کی خدمت کی صورت میں بھی اپنا اظہار کیا۔اسی عظیم علمی و روحانی روایت کے اعتراف میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے خانوادہ بندہ نواز کو سرسید نیشنل ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا جانا ایک قابلِ مسرت اور لائقِ تحسین واقعہ ہے۔ یہ اعزاز صرف ایک خانوادے کی پذیرائی نہیں، بلکہ گلبرگہ کی اس تاریخی روایت کا اعتراف بھی ہے جس نے دین و دنیا، روحانیت و تعلیم اور تہذیب و خدمت کے درمیان ایک خوب صورت رشتہ اورتوازن قائم کیا۔سرسید احمد خانؒ کی تعلیمی تحریک اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی شناخت اس بات کی علامت ہے کہ قوموں کی ترقی کے لیے علم، جدید تعلیم، فکری بیداری اور سماجی شعور ناگزیر ہیں۔ ایسے ادارے کی جانب سے خانوادہ بندہ نواز کی خدمات کا اعتراف اپنے اندر ایک گہری معنویت رکھتا ہے۔ اس میں ماضی کی جدوجہد کے لیے خراجِ تحسین بھی ہے اور مستقبل کے لیے ایک روشن پیغام بھی۔یہ اعزاز ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حقیقی روحانیت وہ ہے جو انسان کو انسان کے قریب لائے، علم کی قدر سکھائے، معاشرے کے محروم طبقات کی دست گیری کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے ترقی و سربلندی کے راستے ہموار کرے۔

خانوادہ بندہ نواز کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے اس عظیم روحانی سرچشمے کو یاد کرنا ضروری ہے جن سے اس خانوادے کی منفرد شناخت صدیوں سے وابستہ ہے۔ حضرت خواجہ سید محمد حسینی گیسودراز بندہ نوازؒ رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت کا شمار برصغیر کی ممتاز صوفی شخصیات میں ہوتا ہے ۔ آپ نے گلبرگہ کو اپنا مرکز بنایا اور دکن کی سرزمین کو علم، تصوف، اخلاق اور دینی تعلیم کے فیوض سے مالا مال کیا۔ آپ کی علمی و تصنیفی خدمات کا دائرہ بھی بہت وسیع ہے اور آپ کی روحانی نسبت نے بھی صدیوں سے لوگوں کے دلوں کو متاثر کیاہے ۔اولیائے کرام کی زندگیوں کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر دوسروں کے لیے جینا سیکھے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کے دل میں مخلوق کے لیے خیر خواہی پیدا کرے، عبادت انسان کو اخلاق کی بلندی عطا کرے اور علم انسان کو خدمت کے راستے پر گامزن کرے۔قرآنِ مجید نے نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرنے کی تعلیم دی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی ،ٰترجمہ: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (سورۃ المائدہ: 2)

یہی وہ اصول ہے جو کسی بھی روحانی روایت کو معاشرتی زندگی میں بامعنی بناتا ہے۔ جب خانقاہ کا فیض انسان کی اصلاح سے آگے بڑھ کر تعلیم، فلاح، خدمتِ خلق اور اجتماعی ترقی تک پہنچے تو اس کی برکتیں پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔خانوادہ بندہ نواز کی تاریخی اہمیت اسی وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس خانوادے کی شناخت صرف ایک مقدس آستانے کی تولیت یا مذہبی تقریبات کے انعقاد تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک ایسی تعلیمی اور سماجی روایت بھی وابستہ ہے جس نے گلبرگہ کی اجتماعی زندگی پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔اگر خانوادہ بندہ نواز کی جدید تعلیمی اور سماجی خدمات کی تاریخ مرتب کی جائے تو ایک عہد ساز شخصیتحضرت سجادہ نشین مرحوم حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ کا نام نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔ آپ 1922ء میںاس دنیا میں تشریف لائے اور 2007ء میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آپ دینی و روحانی ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیم اور سماجی بہبود کے میدان میں بھی اپنی خدمات کے لیے معروف تھے۔کسی روحانی خانوادے کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی روایات کو صرف محفوظ رکھے یا ان روایات کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بھی بنائے۔

حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہی تھا کہ روحانی ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیمی ترقی کو بھی اہمیت دی اور ادارہ جاتی سطح پر اس کی بنیادیں مضبوط کرنے کی کوشش کی۔آپ نے اس حقیقت کو محسوس کیا کہ ایک قوم کی ترقی کے لیے صرف جذبات کافی نہیں ہوتے؛ تعلیم، تربیت، شعور، خود اعتمادی اور معاشی و سماجی امکانات بھی ضروری ہوتے ہیں۔ بالخصوص اس معاشرے میں جہاں لڑکیوں کی تعلیم کے راستے سماجی پابندیوں، روایتی تصورات اور محفوظ آمدورفت کے مسائل کے باعث محدود تھے، وہاں تعلیمی اداروں کا قیام ایک غیر معمولی سماجی ضرورت تھی۔گلبرگہ کی تاریخ میں حضرت سید شاہ محمد الحسینی صاحب قبلہؒ کی شخصیت ایک ایسے مصلح اور صاحبِ بصیرت رہنما کی حیثیت رکھتی ہے، جنہوں نے ملت کی پسماندگی کو محض ایک سماجی مسئلہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے دور کرنے کے لیے تعلیم کو بنیادی ذریعہ بنایا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جب تک قوم کے بچے اور بچیاں جدید تعلیم سے آراستہ نہیں ہوں گے، اس وقت تک معاشرتی ترقی، معاشی خود کفالت اور باوقار زندگی کا خواب پوری طرح شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے لیے علم کے کتنے دروازے کھولتا ہے۔ بیٹی کی تعلیم دراصل ایک فرد کی تعلیم نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت کا آغاز ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون خاندان کی فکری تربیت، بچوں کی اخلاقی پرورش اور معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔گلبرگہ کے قدیم معاشرتی ماحول میں، جب بہت سے گھرانوں میں لڑکیوں کا تنہا گھر سے باہر نکلنا پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا تھا، خواتین کی تعلیم کے لیے عملی انتظامات کرنا ایک اہم سماجی پیش رفت تھی۔ خانوادہ بندہ نواز کی تعلیمی خدمات کا تذکرہ خواتین کی تعلیم کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ لڑکیوں کے اسکول سے شروع ہونے والی تعلیمی جدوجہد نے ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلائی جو اس زمانے میں معاشرتی سطح پر نہایت اہم تھا۔آج خواتین کی تعلیم کو صرف ایک طبقے کی ضرورت سمجھنا کافی نہیں۔ یہ معاشرتی ترقی، صحت، معاشی خود کفالت، بچوں کی بہتر تربیت اور قومی تعمیر سے براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔جب ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کے سامنے زندگی کے نئے امکانات کھلتے ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانتی ہے، اپنے حقوق و فرائض کو سمجھتی ہے اور اپنے خاندان و معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنتی ہے۔خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کا قیام اسی بنیادی ضرورت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

سوسائٹی کی تاریخ میں خواتین کے جونیئر اور ڈگری کالجوں کے قیام کا ذکر بھی موجود ہے۔اس تاریخی سفر میں ہمیں ان تمام اساتذہ، منتظمین، والدین اور طالبات کی محنت کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے ان اداروں کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ادا کیا۔ کوئی تعلیمی تحریک صرف ایک شخصیت سے شروع ہو سکتی ہے، لیکن اسے زندہ اور مؤثر رکھنے کے لیے پوری جماعت کی محنت درکار ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے مشن سے وابستہ تمام اہلِ علم اور اہلِ خدمت کو بھی یاد کرنا ضروری ہے۔ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہیکہ حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ نے لڑکیوں کو گھر سے اسکول تک لانے اور ان کے لیے پردے کا اہتمام کرنے والی بیل گاڑیوں کا انتظام کیا، تاکہ والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے کے لیے آمادہ ہو سکیں۔یہ واقعہ محض آمدورفت کے ایک انتظام کی داستان نہیں؛ یہ ایک دور اندیش ذہن، ایک درد مند دل اور معاشرتی نفسیات کو سمجھنے والی قیادت کی علامت ہے۔ذرا اس دور کا تصور کیجیے: ایک طرف تعلیم کی ضرورت کا احساس، دوسری طرف معاشرتی جھجک؛ ایک جانب بیٹیوں کے مستقبل کی فکر، دوسری جانب پردے اور محفوظ ماحول کے بارے میں والدین کے تحفظات۔ ایسے حالات میں اگر کوئی شخصیت ان رکاوٹوں کو محض تنقید کا موضوع بنانے کے بجائے ان کا عملی حل پیش کرے تو وہ معاشرے میں تبدیلی کی راہ ہموار کرتی ہے۔پردے والی بیل گاڑیوں کا یہ انتظام اسی نوعیت کی ایک تدبیر تھا۔

اس نے تعلیم اور معاشرتی اقدار کے درمیان ایک ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے بچیوں کی تعلیم کا امکان پیدا ہو سکے۔یہاں اصل عظمت اس بات میں ہے کہ تبدیلی کو لوگوں کے حالات اور ان کے احساسات کو سمجھتے ہوئے ممکن بنایا جائے۔ کسی معاشرے کو آگے بڑھانے کے لیے اس کے اندر اعتماد پیدا کرنا پڑتا ہے، اس کے مسائل کا حل تلاش کرنا پڑتا ہے اور علم کے دروازے کھولنے کے لیے عملی قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔اگر ہم اس واقعے کو گلبرگہ کی تعلیمی تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو یہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹا دکھائی دینے والا انتظام آنے والے زمانوں کے لیے بڑی تبدیلی کی راہ کھول دیتا ہے۔ایک بیل گاڑی صرف ایک سواری نہیں رہتی؛ وہ ایک بچی کے لیے تعلیم تک پہنچنے کا ذریعہ، ایک خاندان کے لیے اعتماد کی علامت اور ایک معاشرے کے لیے تبدیلی کا پیغام بن جاتی ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒعلیہ الرحمہ کی اس تعلیمی جدوجہد کو عقیدت اور احترام کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ کی دور اندیشی کا ایک مستند اور نمایاں ثبوت 1958ء میں خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کا قیام ہے۔ ادارے کی اپنی تاریخ کے مطابق، اس تعلیمی تحریک کا آغاز لڑکیوں کے اسکول سے ہوا، جس کے بعد گلبرگہ میں اسکولوں اور کالجوں کے قیام کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔یہاں ایک لمحے کے لیے ٹھہر کر اس حقیقت پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھنا اور بات ہے، لیکن ایسے علاقے میں تعلیم کا چراغ روشن کرنا جہاں تعلیمی سہولتیں محدود ہوں، اس سے کہیں بڑا کام ہے۔

ایک اسکول کی عمارت دراصل اینٹوں، پتھروں اور چھتوں کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ اس کی بنیاد میں ایک بانی کے خواب، اس کے اخلاص، اس کی قربانیوں اور اس کے یقین کی قوت شامل ہوتی ہے۔ اس کے کمروں میں آنے والے بچے صرف نصابی کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ اپنی ذات کو پہچاننا، سوال کرنا، آگے بڑھنا اور زندگی میں اپنے لیے نئی منزلیں تلاش کرنا بھی سیکھتے ہیں۔حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ نے جس تعلیمی تحریک کی بنیاد رکھی، اس کا بنیادی مقصد تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا اور معاشرے کے لیے علم کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ سوسائٹی کی تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ابتدا میں لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح دی گئی اور پھر مختلف تعلیمی اداروں کے ذریعے اس مشن کو وسعت دی گئی۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک روحانی شخصیت کی سماجی بصیرت اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ایک طرف خانقاہ سے وابستہ عقیدت مندوں کی روحانی ضروریات، دوسری طرف معاشرے کے بچوں اور بچیوں کے تعلیمی مستقبل کی فکر؛ ایک جانب اسلاف کی روایت کی حفاظت، دوسری جانب آنے والے زمانے کے تقاضوں کی تکمیل۔یہ دونوں ذمہ داریاں بظاہر الگ دکھائی دیتی ہیں، مگر حقیقت میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

گلبرگہ کو جنوبی ہندوستان کا علی گڑھ کہا جانا اس شہر کی تعلیمی شناخت اور علمی آرزوؤں کی ترجمانی کرتا ہے۔ علی گڑھ کی شناخت سرسید احمد خانؒ کی تعلیمی تحریک سے وابستہ ہے، جس نے مسلمانوں میں جدید تعلیم، سائنسی شعور اور فکری بیداری کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ گلبرگہ میں خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کی تعلیمی جدوجہد نے بھی اپنے علاقے کے لیے اسی نوعیت کا ایک اہم کردار ادا کیا: تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا، لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرنا اور ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ و پیشہ ورانہ تعلیم تک راستے کھولنا۔سوسائٹی کے تحت اسکولوں، خواتین کے کالجوں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی ترقی نے اس مشن کو ایک وسیع تر صورت عطا کی۔ اس کے تعلیمی مقاصد میں دینی اقدار کے ساتھ جدید، سائنسی اور تکنیکی تعلیم، کردار سازی، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی جگہ دی گئی ہے۔یہاں اصل کامیابی صرف اداروں کی تعداد نہیں، بلکہ ان اداروں کے ذریعے پیدا ہونے والے امکانات ہیں۔

جب کسی خطے کا طالب علم اپنے ہی شہر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتا ہے، جب کسی خاندان کی بیٹی تعلیم کے ذریعے خود اعتمادی حاصل کرتی ہے اور جب کسی محروم طبقے کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے دروازے کھلتے ہیں تو تعلیمی ادارہ اپنے قیام کے مقصد کی طرف ایک حقیقی قدم اٹھاتا ہے۔اسی لیے گلبرگہ کی تعلیمی ترقی کی داستان میں خانوادہ بندہ نواز اور خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ نے جس مشن کی بنیاد رکھی، اس کو اگلی منزلوں تک پہنچانے میں ان کے فرزند حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینیؒمرحوم ا کردار نہایت اہم رہا۔2007ء میں والدِ محترم کے انتقال کے بعد ڈاکٹر خسرو حسینیؒ مرحوم نے خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے اس سلسلے کو مزید وسعت دینے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک جامع ادارہ قائم کرنے کی سمت کام کیا۔ ان کی قیادت میں خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا، جسے 2018ء میں قانونی منظوری حاصل ہوئی۔

یہ پیش رفت اس بات کی مثال ہے کہ کسی بانی کا خواب اس وقت زندہ رہتا ہے جب آنے والی نسلیں اسے محض یادگار نہ سمجھیں، بلکہ اس کی تکمیل کے لیے اپنی صلاحیتیں اور وسائل صرف کریں۔ڈاکٹر خسرو حسینیؒ مرحوم نے تعلیم کے میدان میں اپنے والد کے ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک ایسے تعلیمی تصور کو تقویت دی جس میں دینی شناخت، جدید علوم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت ایک دوسرے سے مربوط ہو سکیں۔یونیورسٹی کا قیام محض ایک نئے ادارے کا افتتاح نہیں تھا؛ یہ گلبرگہ کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے امکانات میں اضافے، مقامی تعلیمی ڈھانچے کی ترقی اور اس خطے میں علمی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ڈاکٹر خسرو حسینیؒ مرحوم کی وفات نومبر 2024ء میں ہوئی۔ ان کی رحلت سے خانوادہ بندہ نواز نے ایک ایسی شخصیت کو کھو دیا جس نے روحانی ورثے کے ساتھ تعلیمی اداروں کی ترقی کو اپنی زندگی کے اہم مقاصد میں شامل رکھا۔ان کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک نسل کی محنت کو اگلی نسل کس طرح محفوظ رکھتی ہے۔ اس کا جواب محض تعزیتی اجتماعات یا یادگاری کلمات میں نہیں، بلکہ اداروں کی مضبوطی، تعلیمی معیار، تحقیق، کردار سازی اور سماجی خدمت کے تسلسل میں پوشیدہ ہے۔

آج خانوادہ بندہ نواز کی روحانی روایت اور درگاہ شریف کی ذمہ داریوں اور یونورسٹی و تعلیمی اداروں کے حوالے سے حضرت سجادہ نشین حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت سید محمد علی الحسینی کو خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی کے چانسلرہیں۔کسی تاریخی خانوادے کی قیادت کا منصب محض ایک اعزاز نہیں، بلکہ ایک بھاری امانت بھی ہوتا ہے۔ اس میں اسلاف کی روایات کی حفاظت، عقیدت مندوں سے تعلق، دینی و روحانی ذمہ داریوں کی ادائیگی، اداروں کی سرپرستی اور معاشرے کے ساتھ مثبت تعلق قائم رکھنے جیسے کئی پہلو شامل ہوتے ہیں۔حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب کے لیے یہ روایت ایک ایسے خانوادے کی روایت ہے جس نے روحانی نسبت کو تعلیمی و سماجی خدمت کے ساتھ جوڑا ہے۔ اس ورثے کی حقیقی قدر اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اس کے بنیادی مقاصد کو نئی نسلوں کی ضروریات سے ہم آہنگ رکھا جائے۔آج کے دور میں تعلیم کے میدان میں مقابلہ شدید ہے۔ ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے، روزگار کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، تحقیق کے نئے شعبے سامنے آ رہے ہیں اور نوجوانوں کو ایسے تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے جو انہیں علم کے ساتھ اخلاق، ہنر کے ساتھ ذمہ داری اور کامیابی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کا شعور بھی دے۔

ایسے حالات میں خانوادہ بندہ نواز کے تعلیمی ورثے کو آگے بڑھانا ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس میں اسکولوں اور کالجوں کے معیار کو بہتر بنانا، خواتین کی تعلیم کو مزید مستحکم کرنا، جدید تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا، ضرورت مند طلبہ کے لیے سہولتیں پیدا کرنا اور دینی و عصری تعلیم کے درمیان تعمیری تعلق قائم رکھنا شامل ہے۔یہ وہ میدان ہیں جہاں ماضی کی عظمت مستقبل کے لیے عملی قوت بن سکتی ہے۔حضرت سجادہ نشین کی سرپرستی میں اس ورثے کی ترقی اور اداروں کی مسلسل بہتری گلبرگہ کے لیے بھی اہم ہے اور ان تمام خاندانوں کے لیے بھی جو ان اداروں سے وابستہ ہیں۔ اس لیے ان کی خدمت میں یہ پیغام پیش کرنا مناسب ہے کہ اسلاف کی روشن روایت کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے علمی اور انسانی ثمرات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچتے رہیں۔

گلبرگہ کی تاریخ میں کئی تہذیبی اور علمی دھارے ملتے ہیں۔ اس کی خانقاہیں روحانی نسبتوں کی علامت ہیں، اس کے علمی مراکز تعلیم کی روایت کے امین ہیں، اس کی ادبی محفلیں زبان و تہذیب کی ترجمان ہیں اور اس کے سماجی ادارے بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوششوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس پورے منظرنامے میں خانوادہ بندہ نواز کی خدمات ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ کی روحانی میراث، حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒعلیہ الرحمہ کی تعلیمی بصیرت، ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینیؒمرحوم کی ادارہ جاتی توسیع اور موجودہ سجادہ نشین حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب کی ذمہ داریاں ایک مسلسل تاریخی روایت کے مختلف پہلو ہیں۔اس روایت کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ اسلاف کی عظمت کو صرف یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے اچھے کاموں کو آگے بڑھانا بھی ضروری ہے۔

اگر ایک زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پردے والی بیل گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا تو آج اسی جذبے کا تقاضا ہے کہ بچیوں کو معیاری تعلیم، محفوظ تعلیمی ماحول، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔اگر ایک زمانے میں تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے اسکول قائم کیے گئے تھے تو آج ضرورت ہے کہ طلبہ کو سائنس، طب، انجینئرنگ، قانون، ادب، سماجی علوم اور جدید تحقیق میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔اور اگر اسلاف نے خدمت کو اپنی پہچان بنایا تھا تو آج اس پہچان کو مزید مضبوط بنانے کے لیے معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات تک تعلیم کے ثمرات پہنچانا ضروری ہے۔یہی ماضی سے وفاداری ہے اور یہی مستقبل کی تعمیر۔سرسید نیشنل ایکسیلنس ایوارڈ کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن کسی ادارے کی حقیقی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ اس اعزاز کے بعد اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کس قدر سرگرم رہتا ہے۔

اعزازات ماضی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں، مگر مستقبل کی کامیابی کے لیے مسلسل محنت ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے یہ اعزاز خانوادہبندہ نواز اور خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کے لیے مسرت کے ساتھ ساتھ ایک نئی ذمہ داری کا احساس بھی ہونا چاہیے۔آج گلبرگہ کے نوجوانوں کو ایسے تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے جہاں انہیں جدید علوم کے ساتھ تحقیق کی عادت، زبان و بیان کی مہارت، تنقیدی فکر، اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داری کا شعور بھی حاصل ہو۔ انہیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو ان کی صلاحیتوں کو پہچانیں، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں اپنے شہر، اپنی ریاست، اپنے ملک اور پوری انسانیت کے لیے مفید شہری بننے میں مدد دیں۔اس مشن میں خانوادہ بندہ نواز کی تاریخی حیثیت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس سرمایہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے ادارے معیار، شفافیت، علمی دیانت اور خدمتِ خلق کے اصولوں پر مسلسل ترقی کرتے رہیں۔یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک تاریخی روحانی مرکز جدید دور میں بھی علم و تہذیب کا روشن چراغ بن سکتا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے خواجہ بندہ نواز ایجوکیشنل سوسائٹی، گلبرگہ کو سرسید ایکسیلنس ایوارڈ 2026ء کے قومی اعزاز کے لیے منتخب کیا جانا اسی پس منظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس اعزاز کی معنویت اس لیے بھی گہری ہے کہ سرسید احمد خانؒ کی تحریک نے تعلیم کو مسلمانوں کی اجتماعی ترقی کا بنیادی وسیلہ قرار دیا تھا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ بدلتے ہوئے زمانے میں قوموں کو اپنی فکری صلاحیتیں بیدار کرنی چاہییں، علم کے نئے دروازے کھولنے چاہییں اور اپنی آنے والی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا چاہیے۔جب اسی تعلیمی روایت سے وابستہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گلبرگہ کے ایک ادارے کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے تو اس میں ایک تاریخی ربط محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف سرسید کی تعلیمی فکر ہے، دوسری طرف حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ کی عملی جدوجہد؛ ایک طرف علی گڑھ کی علمی روایت، دوسری طرف دکن کی روحانی و تعلیمی سرزمین۔

یہ اعزاز گویا ان دونوں روایتوں کے درمیان ایک معنوی پل ہے۔اسے صرف ایک سند، ایک یادگار یا ایک تقریب کی خبر سمجھ کر فراموش نہیں کر دینا چاہیے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ تعلیم کے میدان میں اخلاص کے ساتھ شروع کیا گیا کام وقت کے ساتھ وسیع تر اثرات پیدا کر سکتا ہے اور اس کی قدر ایک دن دور دراز علمی مراکز میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔یہ اعزاز حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒ علیہ الرحمہ کے اس خواب کی یاد تازہ کرتا ہے جس کی بنیاد ایک لڑکیوں کے اسکول سے رکھی گئی تھی۔ یہ ڈاکٹر خسرو حسینیؒ کی ان کوششوں کی بھی یاد دلاتا ہے جن کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ اور یہ موجودہ قیادت کے لیے اس مشن کو مزید مستحکم کرنے کی ترغیب بھی ہے۔اسلام نے علم کو بڑی فضیلت عطا کی ہے۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی ہی پڑھنے اور علم کی طرف توجہ دلاتی ہے:اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَق ،َترجمہ: پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ (سورۃ العلق: 1)اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لَا یَعْلَمُون ،َترجمہ: کہہ دیجیے، کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ (سورۃ الزمر: 9)یہ آیات ہمیں علم کی قدر، اس کے حصول اور اس سے پیدا ہونے والی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہیں۔

اسلامی نقط نظر سے علم کی حقیقی افادیت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسان کو اپنے خالق کی معرفت، اپنے کردار کی اصلاح، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور معاشرے کی بہتری کی طرف لے جائے۔ اسی لیے تعلیم کو محض ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور معاشرتی تعمیر کا وسیلہ بھی سمجھنا چاہیے۔خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کے تعلیمی مقاصد میں جدید تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت، دینی اقدار، رواداری اور انسانیت کی خدمت پر زور دیا گیا ہے۔یہی وہ امتزاج ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ہمیں ایسے ڈاکٹر چاہئے جو طبی مہارت کے ساتھ انسانیت کا درد بھی رکھتے ہوں؛ ایسے انجینئر چاہئے جو تکنیکی قابلیت کے ساتھ دیانت داری کو اہمیت دیں؛ ایسے اساتذہ چاہئے جو کتاب کے ساتھ کردار بھی پڑھائیں؛ اور ایسے رہنما چاہئے جو منصب کو ذاتی برتری نہیں، بلکہ اجتماعی خدمت کا ذریعہ سمجھیں۔اگر کوئی تعلیمی تحریک ایسی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کی کامیابی کا دائرہ اداروں کی دیواروں سے کہیں آگے بڑھ جاتا ہے۔

خانقاہوں کی روشنی جب علم کے چراغوں میں ڈھلتی ہے تو نسلوں کی تقدیر بدلتی ہے، اور جب روحانیت کے ساتھ تعلیم و تربیت کا جذبہ شامل ہوجاتا ہے تو قومیں تاریخ کے صفحات پر اپنے نقوش ثبت کرتی ہیں۔ علامہ اقبال کا یہ مصرعہ ’’نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری‘‘ محض ایک شعر نہیں، بلکہ ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ہمہ گیر پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی روحانی میراث کو زندگی کے عملی میدانوں سے جوڑیں، علم کو عام کریں، نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ رسمِ شبیری کا تقاضا ہے کہ حق و صداقت، ایثار و قربانی اور خدمتِ خلق کے جذبے کو زندگی کا نصب العین بنایا جائے۔تاریخِ دکن میں اگر کسی خانوادے نے روحانیت، علم و ادب، تہذیب، سماجی خدمت اور تعلیمی بیداری کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنے کی قابلِ قدر روایت قائم کی ہے تو خانوادہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ رحمۃاللہ علیہ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ گلبرگہ کی سرزمین کو اس خانوادے کی روحانی نسبت ہی نہیں، بلکہ اس کی علمی و تہذیبی خدمات سے بھی ایک منفرد شناخت حاصل ہوئی ہے۔

آج جب ہم خانوادہ بندہ نواز کو ملنے والے سرسید نیشنل ایکسیلنس ایوارڈ کا ذکر کرتے ہیں تو ہماری نگاہوں کے سامنے ایک طویل سفر کی تصویر ابھرتی ہے۔ اس سفر کا آغاز روحانیت اور علم کی اس روایت سے ہوتا ہے جس نے گلبرگہ کو ایک نمایاں مقام عطا کیا؛ پھر حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒعلیہ الرحمہ کی تعلیمی بصیرت سامنے آتی ہے، جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح دے کر ایک نئی راہ کھولی؛ اس کے بعد ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینیؒمرحوم کی کوششیں دکھائی دیتی ہیں، جنہوں نے تعلیمی مشن کو اعلیٰ تعلیم کے میدان تک وسعت دی؛ اور پھر موجودہ سجادہ نشین حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب کی قیادت میں اس ورثے کی حفاظت اور ترقی کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔یہ ایک ایسے چراغ کی داستان ہے جس کی روشنی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔یہاں عقیدت ہے، مگر صرف عقیدت نہیں؛ تاریخ ہے، مگر صرف تاریخ نہیں؛ روحانیت ہے، مگر صرف روحانی نسبت نہیں۔ اس کے ساتھ تعلیم، سماجی شعور، خواتین کی ترقی، ادارہ سازی اور انسانیت کی خدمت کا ایک عملی تصور بھی موجود ہے۔

خانوادہ بندہ نواز کی عظمت اسی وقت مکمل طور پر نمایاں ہوتی ہے جب ہم اس کے روحانی ورثے کے ساتھ اس کی تعلیمی اور سماجی خدمات کو بھی دیکھتے ہیں۔ سرسید نیشنل ایکسیلنس ایوارڈ اسی وسیع تر روایت کی قدر افزائی ہے اور گلبرگہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔ خانوادہ بندہ نواز کو دلی مبارک باد، اور گلبرگہ کی اس علمی و روحانی روایت کو سلام، جس نے خانقاہ کی روشنی کو درس گاہ تک پہنچایا اور علم کے چراغ سے نسلوں کے مستقبل کو روشن کرنے کی کوشش کی۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ کے فیوض و برکات سے اس سرزمین کو مستفید فرمائے، م حضرت سید شاہ محمد محمد حسینیؒعلیہ الرحمہ اور ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینیؒ مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے، موجودہ سجادہ نشین حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب کو صحت، عافیت اور خدمتِ دین و خلق کی توفیق عطا فرمائے، اور خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کو علم و تحقیق، اخلاق و کردار اور سماجی بہبود کے میدانوں میں مزید ترقی عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ اس خانوادے کی علمی و روحانی روایت کو آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ خیر بنائے اور گلبرگہ کو علم، امن، ادب، رواداری اور انسانیت کی خدمت کا مرکز بنائے رکھے۔آمین یا رب العالمین۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے