Public anger on the streets of Europe A wave of protests in France and Spain
رام لیلا میدان کی وہ ریلی جس کے بعد ایمرجنسی لگ گئی تھی
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
25 جون 1975 کی شام دہلی کے رام لیلا میدان میں لوگوں کا ایک سمندر امڈ آیا تھا۔ ہزاروں لوگ دور دور سے آئے تھے، کیونکہ اس دن حزبِ اختلاف اندرا گاندھی کے خلاف اپنی طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے والی تھی۔ اسٹیج پر بزرگ رہنما جے پرکاش نارائن تھے، جنہیں لوگ پیار اور احترام سے جے پی کہتے تھے، اور ان کے ساتھ اپوزیشن کے بڑے لیڈر مرارجی دیسائی، اٹل بہاری واجپئی، ایل کے اڈوانی اور چرن سنگھ بھی موجود تھے۔ حالات یہاں تک کیسے پہنچے، اسے سمجھنے کے لیے کچھ سال پیچھے جانا پڑے گا۔ 1974 میں گجرات اور بہار کے طلبہ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔اس وقت مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی، نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں تھا اور سرکاری دفتروں میں کرپشن کی شکایتیں عام تھیں۔ گجرات میں کینٹین میں کھانے کی قیمتوں کو لے کر نو نرمان آندولن چلا، اور بہار میں تحریک کی باگ ڈور جے پی کے ہاتھ میں آ گئی، جو عملی سیاست سے برسوں پہلے کنارہ کش ہو چکے تھے مگر نوجوانوں کی پکار پر واپس آئے۔ انہوں نے اسے "سمپورن کرانتی” یعنی مکمل انقلاب کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف ایک حکومت کا نہیں، پورے سیاسی، سماجی اور انتظامی نظام کی اصلاح کا ہے۔ اس تحریک میں طلبہ، سماجی کارکن اور مختلف نظریات کی اپوزیشن جماعتیں ایک ساتھ آ گئیں، اور یہ اندرا گاندھی کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج بنتی گئی۔
ریلی سے کچھ ہی دن پہلے، 12 جون 1975 کو، الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جگموہن لال سنہا کا فیصلہ آیا تھا۔ انہوں نے 1971 میں رائے بریلی سے اندرا گاندھی کے انتخاب کو انتخابی بدعنوانی کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا اور انہیں چھ سال تک منتخب عہدے کے لیے نااہل ٹھہرایا۔ یہ مقدمہ ان کے حریف راج نارائن نے دائر کیا تھا۔ 24 جون کو سپریم کورٹ کے جسٹس وی آر کرشنا ایّر نے مشروط حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) دیا، جس کے مطابق وہ وزیر اعظم رہ سکتی تھیں مگر لوک سبھا میں ووٹ نہیں دے سکتی تھیں۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ایسی حالت میں ان کا وزارتِ عظمیٰ پر رہنا اخلاقی اور سیاسی طور پر درست نہیں۔ یعنی انتخابی دھاندلی کے الزامات کے باوجود ان کا وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہنا حزبِ اختلاف کو قبول نہیں تھا، اور استعفے کا مطالبہ تیز ہو گیا۔ اسی ماحول میں 25 جون کی ریلی ہوئی۔ جے پی نے ملک گیر ستیہ گرہ کا اعلان کیا اور وزیر اعظم کے استعفے کے لیے 29 جون سے ایک ہفتے کے احتجاج کی کال دی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ پُرامن طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ مگر ان کی تقریر کا سب سے متنازع حصہ وہ اپیل تھی جس میں انہوں نے پولیس اور فوج کے اہلکاروں سے کہا کہ وہ ایسے احکامات پر عمل نہ کریں جو ان کے ضمیر کے مطابق غیر قانونی یا غیر اخلاقی ہوں۔ ریلی میں رام دھاری سنگھ دنکر کا مصرع "سنگھاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے” بھی گونجا، جو اس تحریک کا نعرہ بن گیا۔ حکومت نے جے پی کی اس اپیل کو بغاوت پر اکسانے اور امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ ان کے حامی اسے ضمیر کی آواز اور غیر قانونی احکامات کی اندھی تعمیل کے خلاف تنبیہ سمجھتے تھے۔
اسی رات اندرا گاندھی نے صدر فخرالدین علی احمد کو مشورہ دیا کہ آئین کی دفعہ 352 کے تحت "اندرونی خلفشار” کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کر دی جائے۔ صدر نے رات گئے اعلان نامے پر دستخط کر دیے۔ پو پھٹنے سے پہلے جے پی، مرارجی دیسائی، راج نارائن اور بہت سے دوسرے رہنما گرفتار ہو چکے تھے۔ بہادر شاہ ظفر مارگ پر اخباروں کے دفاتر کی بجلی کاٹ دی گئی تاکہ اگلے دن خبریں نہ چھپ سکیں۔ اُس وقت انٹرنیٹ کا زمانہ نہیں تھا۔ 26 جون کو ایمرجنسی کا باضابطہ اعلان ہوا اور اس کے ساتھ پریس پر سنسرشپ لگ گئی۔ یہ ایمرجنسی 21 مارچ 1977 تک، یعنی تقریباً 21 مہینے، جاری رہی۔ اس دوران بنیادی حقوق معطل رہے، ہزاروں لوگ MISA جیسے قوانین کے تحت حراست میں لیے گئے اور اخبارات سنسرشپ میں کام کرتے رہے۔ انہی دنوں سنجے گاندھی کے خلاف ماحول بنا اور جبری نس بندی کی مہم کے خلاف عوام میں شدید غصہ پھیل گیا۔ مارچ 1977 کے انتخابات میں اپوزیشن جنتا پارٹی کے پرچم تلے متحد ہو کر لڑی، اندرا گاندھی اپنی نشست ہار گئیں، اور مرکز میں پہلی بار غیر کانگریسی حکومت بنی۔
وقت کا پہیہ تیزی سے چلتا ہے۔ آج پورا ملک ایس آئی آر اور "ووٹ چوری” کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، اور دہلی اس احتجاج کا مرکز ہے۔ اس سے پہلے پیپر لیک کے خلاف احتجاج ہوئے تھے۔ 20 جون سے جنتر منتر پر طلبہ کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ کاکروچ جنتا پارٹی اور ابھیجیت دیپکے نے احتجاج کیا اور بھوک ہڑتال بھی ہوئی۔ 20 جولائی کو دہلی پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا، جس میں وحشیانہ تشدد ہوا اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ بالآخر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔
پھر "ووٹ چوری” اور گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر پر احتجاج ہوئے۔ راہل گاندھی نے سپریم کورٹ تک مارچ نکالا، جس میں لاکھوں افراد شامل ہوئے۔ ووٹ چوری اور ایس آئی آر کے خلاف تحریک زور پکڑتی گئی اور احتجاج ملک بھر میں پھیل گئے۔
اب ایک بار پھر یکم نومبر کو حزبِ اختلاف، جس کی رہنمائی راہل گاندھی کر رہے ہیں، نے دہلی کے رام لیلا میدان پہنچنے کی کال دی ہے۔ پورے ملک سے کارکنوں کو بلایا جا رہا ہے اور سیاسی ماہرین کے مطابق ایک بڑی بھیڑ جمع ہونے والی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت راہل گاندھی کے اس احتجاجی اجتماع کو کس طرح سنبھالتی ہے۔ اندازہ ہے کہ بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں گی، جبکہ دیگر پابندیاں کیا اور کیسی ہوں گی، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ مسلسل تین مہینوں سے احتجاج جاری ہیں، حکومت کی مقبولیت میں مسلسل گراوٹ نظر آ رہی ہے اور حزبِ اختلاف دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ ووٹ چوری کے خلاف تحریک صرف گیانیش کمار کے استعفے تک محدود رہے گی، ایسا ممکن نہیں لگتا۔ حزبِ اختلاف اب پورے سسٹم کے خلاف بولنے لگی ہے اور وسیع تبدیلی چاہتی ہے۔ دیکھنا ہے کہ یکم نومبر کے بعد حالات کس رخ پر جاتے ہیں۔ حزب اختلاف اس کو ووٹ میں کیسے تبدیل کر سکتی ہے اتحاد کیسے قائم رکھتے ہیں لگاتار دو سال تک یا اگلے لوک سبھا انتخابات تک کیسے عوام کو اپنے قریب رکھ سکتے ہیں۔