ہمیشہ ہمیش کی جنت ، اللہ تعالی کی رضا ، مغفرت ایسے لبھانے والے الفاظ ہیں جو ہر مسلمان کو اچھے لگتے ہیں اور ہر مسلمان کی تمنا اور خواہش ہے اور اس طرح کے عنوان سنتے ہوئے اور پڑھتے ہوئے خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔دوزخ ، اللہ تعالی کی ناراضگی ، قیامت کے دن کی رسوائی اور ذلت ، عذاب قبر ایسے عنوان ہیں جس کو نہ سننا چاہتا ہے کوئی مسلمان اور نہ اس طرح کے عنوان پڑھنا پسند کرتا ہے ۔۔۔۔
جیسے جنت اللہ تعالی نے تیار فرمائی ہے ایسے ہی جہنم بھی اللہ تعالی نے تیار فرمائی ہے ۔۔۔۔نیک کام ، اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی والے کام جو کریں گے ان کے لیے رب ذوالجلال نے اپنی رضا اور جنت طے فرمائی ہے ۔۔۔۔اور اللہ تعالی کی نافرمانی والے کام ، اللہ کی ناراضگی والے کام ، کفر ،شرک اور نفاق اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالی نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔۔۔۔
اللہ تعالی نے پابند بنایا ہے سارے انسانوں کو کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہرائیں یعنی اللہ تعالی کو سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب بندہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی غیر کو شریک ٹہرائے ۔۔۔بہت سارے مسلمان ایمان پر رہتے ہوئے شرکیہ اعمال کرتے رہتے ہیں ۔۔اور بعض مرتبہ شرکیہ اعمال غیر محسوس طریقے پر انسان کو اسلام سے خارج کر دیتے ہیں ۔۔۔۔اور کافر یعنی اللہ تعالی کا علی الاعلان انکار کرنے والا ۔۔۔۔اور منافق یعنی دل میں کفر اور شرک رکھنے والا اور ظاہر میں اپنے اپ کو مؤمن بتانے والا ۔۔۔۔یہ سب کے سب شرک یا کفر یا نفاق پر بغیر توبہ کے مرنے والے درحقیقت کفر کرنے والے شمار کیے جائیں گے ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالی کے پاس قیامت میں معافی کی کوئی شکل نہیں ہوگی ایسے محروم القسمت لوگ کل قیامت کے دن جنت کی طلب میں ہر قیمتی چیز اللہ تعالی کو فدیہ کے طور پر دینے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالی کی طرف سے قبول نہیں کی جائے گی اللہ تعالی نے سورۃ المعارج میں ارشاد فرمایا
یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىٕذٍۭ بِبَنِیْهِۙ (11) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ (12) وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُــٴْـوِیْهِۙ (13) وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۙ-ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ (14)
مجرم آرزو کرے گا، کاش ! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے بدلے میں اپنے بیٹے دیدے ۔ اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی اور اپنا وہ کنبہ جو اسے پناہ دیتا رہا اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ، پھر یہ (بدلہ دینا) اسے بچالے۔۔۔۔
مگر ایسا نہیں ہو سکے گا ۔۔۔۔
ایک اور جگہ پر اللہ تعالی نے أل عمران میں ارشاد فرمایا
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ (91)
بیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرگئے ان میں سے کوئی اگر اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں پوری زمین کے برابرسونا بھی دے تو ہرگز ا سے قبول نہ کیا جائے گا ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔۔۔
قرآن مجید یا احادیث مبارکہ میں جہاں کہیں اللہ تعالی کی طرف سے معافی کے پروانے کا لفظ ملتا ہے اس سے مراد حقوق اللہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں مگر اللہ نے ضابطہ یہ بنایا کہ جو اللہ کے حقوق ہیں جیسے کسی نے نمازیں چھوڑی زکوۃ نہیں دی کبھی کفر کیا کبھی شرک کیا پھر توبہ کر لیا وقت پر حج نہیں کیا وغیرہ ۔۔۔چونکہ یہ سارے کے سارے گناہوں کا تعلق اللہ تعالی کی نافرمانی سے ہے اس لیے اللہ تعالی اپنا فضل فرما کر اپنی رحمت خاصہ سے کسی کو معاف کر دیں تو اللہ تعالی معاف کر دیتے ہیں ۔۔۔۔رہا مسئلہ حقوق العباد کا جس میں اللہ تعالی کی نافرمانی تو ہوتی ہے مگر کسی بندے کے حق کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے ۔۔۔ایسے معاملات میں اللہ تعالی اس وقت تک اس گناہ کو معاف نہیں فرماتے جب تک کہ اس شخص نے معاف نہ کیا ہو جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔۔۔
اسلام میں حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔۔۔
رسول اکرم ﷺ نے حقوق العباد کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی ہے ۔۔۔
★ حضور اکرم ﷺ نے اپنے مرضِ وصال کے دوران منبر پر تشریف لا کر حقوق العباد کے حوالے سے جو خطبہ دیا تھا، اس میں آپ ﷺ نے فرمایا:
”اے لوگو! میرے ذمے تم میں سے کسی کے حقوق ہو سکتے ہیں ۔۔۔اگر کسی کی پیٹھ پر میں نے کوڑا مارا ہو، یہ میری پیٹھ حاضر ہے وہ اس کا بدلہ لے لے۔ جس کسی کی عزت کو میں نے ٹھیس پہنچائی ہو، یہ میری عزت حاضر ہے وہ بدلہ لے لے۔ اور جس کا مال میں نے لیا ہو، یہ میرا مال حاضر ہے وہ اس سے بدلہ لے لے۔“
اس خطبے کے بعد ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے آپ پر تین درہم ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ وہ کس بات کے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک مسکین آپ کے پاس آیا تھا اور آپ کے حکم پر میں نے اسے تین درہم دیے تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں تین درہم ادا کر دیں۔۔۔۔
خطبہ حجۃ الوداع کے موقع سے آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کر کے فرمایا:
"لوگو! اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے اپنا بدلہ (قصاص) لے لے۔ اگر میں نے کسی کی آبرو پر کوئی حرف اٹھایا ہو تو میری آبرو حاضر ہے، وہ بدلہ لے لے۔ اور اگر میں نے کسی کا مال لیا ہو تو یہ میرا مال حاضر ہے، وہ اس میں سے اپنا حق لے لے، اور اسے یہ ڈر نہیں ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنا حق مانگے گا تو میرے دل میں اس کے لیے عداوت یا کینہ پیدا ہوگا۔ یاد رکھو! کینہ اور دشمنی میری خصلت اور شان ہی نہیں ہے۔”
آپ ﷺ نے مزید فرمایا:
"مجھے اللہ کے پاس جانے کے لیے وہی شخص سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جو مجھ سے اپنا حق (اگر کوئی ہو) لے لے، یا مجھے دل سے معاف کر دے، تاکہ میں اپنے رب کے پاس بالکل پاک صاف ہو کر جاؤں۔”۔۔۔۔
★ مفلس کون ہے ؟
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاہُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام سے) پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم (پیسہ) ہو اور نہ ہی کوئی سامان ہو۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا (حقیقی) مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (جیسی نیکیاں) لے کر آئے گا، لیکن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس نے (دنیا میں) کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا پیٹا ہوگا۔
چنانچہ اس (مظلوم) کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اس (دوسرے مظلوم) کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی۔ پھر اگر اس کی نیکیاں دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے پہلے ہی ختم ہو گئیں، تو ان (مظلوموں) کے گناہ لے کر اس (ظالم) پر ڈال دیے جائیں گے، اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔“صحیح مسلم (کتاب البر والصلۃ والآداب، حدیث نمبر: 2581 ۔۔۔
★ شہید کے بارے میں معروف اور مشہور ہے کہ اس کے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں مگر شہید کے بارے میں بھی رسول اکرم ﷺ فرمایا کہ حقوق العباد اس کے معاف نہیں کیے جاتے
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کے سامنے خطبہ دیا اور جہاد و ایمان کے فضائل بیان فرمائے۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا: "یا رسول اللہ ﷺ ! اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے؟” تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«نَعَمْ، إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِي ذَلِكَ» (صحیح مسلم: 1885)
"ہاں! بشرطیکہ تم اللہ کی راہ میں اس حال میں قتل کیے جاؤ کہ تم صبر کرنے والے، ثواب کی نیت رکھنے والے، آگے بڑھنے والے ہو نہ کہ پیٹھ پھیرنے والے۔ پھر آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا: تم نے کیسے پوچھا تھا؟ اس شخص نے سوال دہرایا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، سوائے قرض کے، کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ابھی یہی بتایا ہے”۔)
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی اپنے کسی بھائی کے عِرض (عزت و آبرو/غیبت) یا کسی اور چیز کے سلسلے میں کوئی ظلم کی شکل (یا حق) باقی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ آج (دنیا ہی میں) اس سے معافی مانگ لے (اپنے آپ کو حلال کروا لے)، اس سے پہلے کہ وہ دن (قیامت) آ جائے جب نہ کوئی دینار ہوگا اور نہ درہم۔ اگر (غیبت کرنے والے کے پاس) کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کے بقدر (نیکیاں) لے لی جائیں گی، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی، تو مظلوم کے گناہ لے کر اس (ظالم) پر ڈال دیے جائیں گے۔”
(صحیح البخاري، کتاب المظالم، حدیث نمبر: 2449)
ان ساری احادیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق اللہ تو اللہ تعالی معاف کر دیں گے مگر حقوق العباد کے لیے اللہ تعالی اس وقت تک معاف نہیں فرمائیں گے جب تک کہ وہ شخص جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے وہ خود معاف نہ کر دے ۔۔۔۔۔
لوگ آ ج حقوق اللہ کی معافی کے لیے بہت کوشش کرتے ہیں بار بار حج ہو رہے ہیں اور بار بار عمرے ہو رہے ہیں رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والوں کے افطار کا انتظام کروایا جا رہا ہے، صدقات و خیرات ہو رہے ہیں ، اپنے گھر پر لوگوں کا استقبال ہو رہا ہے اور خوب خیرات تقسیم کی جا رہی ہے ، مسجدیں بنائی جا رہی ہیں ،مدرسوں میں کھانے کھلائے جا رہے ہیں ، لنگر چلائے جا رہے ہیں وغیرہ ۔ ۔ ۔ مگر حقوق العباد کی معافی کی طرف توجہ یا تو نہیں ہے یا بالکل برائے نام ہو گئی ہے ۔۔۔۔
بہت سارے لوگ اس غلط فہمی میں بھی ہیں کہ حج کر لیں گے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے عمرہ کرنے سے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے شب قدر میں خوب عبادت کریں گے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے شب برات میں اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑا کر مانگیں گے اللہ تعالی معاف فرما ئیں گے تو سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے مسجد بنا دیں گے تو اللہ تعالی نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے کسی مدرسے میں ایک یا چند بچوں کو حافظ قران بنا دیں گے وہ حفاظ ہم کو جنت میں لے کر چلے جائیں گے ۔۔۔۔یہ خام خیالی ہے حقوق العباد معاف کروائے بغیر جنت میں جانے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔
انبیاء اور صدیقین کے بعد سب سے افضل مقام شہداء کا ہے جن کے جنتی ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہو سکتا رسول اکرم ﷺ نے شہید کے بارے میں فرمایا کہ شہداء کے بارے میں بھی فرمایا کہ ان کے حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک کہ ان کے ورثاء اس کا حق ادا نہ کر دیں یا ان کے حقدار اپنے حق کو معاف نہ کر دیں ۔۔۔۔معلوم ہوا کہ حقوق العباد جس کی طرف ہم میں سے اکثر لوگ توجہ نہیں دیتے اس سلسلے میں غفلت برتتے ہیں توجہ دینے کی ضرورت ہے حقوق العباد کی ادائیگی بہر حال ضروری ہے یا پھر معافی مانگ لینا ضروری ہے ۔۔۔۔
یاد رکھیں !حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک کہ وہ شخص معاف نہ کر دے جس کے ساتھ آ پ نے زیادتی کی ہے۔۔۔۔
کسی طاقتور جانور نے کسی کمزور جانور پر حملہ کیا دنیا میں تو اس کا بھی بدلہ اللہ تعالی کل قیامت کے دن دلادیں گے تو انسانوں میں سے کسی پر ظلم ہوا تو اس کا بدلہ اللہ تعالی کیوں نہیں دلائیں گے ۔۔۔
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
"مَنْ ضَرَبَ سَوْطًا ظُلْمًا، أُقِيدَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”
"جس شخص نے (دنیا میں) ظلم کرتے ہوئے کسی کو ایک کوڑا (یا تھپڑ) بھی مارا ہوگا، قیامت کے دن اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔”
(الادب المفرد للبخاری: 185)
ایک اور حدیث میں ہے
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
"لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ
یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے (بدلہ لے کر) بغیر سینگ والی بکری کو دیا جائے گا (جسے دنیا میں سینگ والی نے مارا تھا)۔”
(صحیح مسلم: 2582)
ایک اور حدیث میں ہے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
إِنَّ اللَّهَ يَحْشُرُ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ، كُلَّ دَابَّةٍ وَطَائِرٍ وَإِنْسَانٍ، يَقُولُ لِلْبَهَائِمِ وَالطَّيْرِ: كُونِي تُرَابًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَقُولُ الْكَافِرُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا”
"بے شک اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جمع فرمائے گا، ہر چوپائے کو، پرندے کو اور انسان کو۔ (پھر ان کے درمیان حساب فرما کر اور بدلہ دلا کر) چوپایوں اور پرندوں سے فرمائے گا: ‘مٹی ہو جاؤ!’ پس اس وقت کافر کہے گا: کاش! میں بھی مٹی ہوتا۔”
(تفسیر طبری، المستدرک للحاکم: 3231 )
رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا
اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ”
ظلم کرنے سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں (اندھیروں) کا سبب بنے گا، اور بخل (کنجوسی/لالچ) سے بچو، کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا…”
(صحیح مسلم: 2578)
ان آ یات کریمہ اور احادیث مبارکہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد میں کوتاہی کرنے والا نادان اور بے وقوف ہے
حقوق العباد کو بنیادی طور پر درج ذیل حصوں اور اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے
★ اقسام کے لحاظ سے (دیون اور مظالم)
★ دیون (مالی حقوق): اس سے مراد کسی کا مالی حق کسی شخص کے ذمہ باقی ہے اور اس نے دنیا میں ادا نہیں کیا جیسے ★قرض لیا کسی سے اور اپنی زندگی میں ادا نہیں کر سکا اور نہ ہی وصیت کی اپنے وارثین کو کہ فلاں کا قرض مجھ پر باقی ہے ،
★ مزدوری یعنی کسی شخص سے کوئی کام لیا اور اس کی پوری یا کچھ مزدوری ادا نہیں کر سکا اپنی زندگی میں ★ یا کسی کو اپنے پاس ملازمت کے لیے چند دن کے لیے یا چند مہینوں کے لیے رکھ لیا اور بغیر کسی وجہ کے اس کی تنخواہ روک لی یا کاٹ دی ★ امانت میں خیانت یعنی کسی شخص نے آپ کے پاس اعتماد کرتے ہوئے کوئی چیز امانت رکھوائی اور اس امانت میں آ پ نے خیانت کی
★ چوری کی بچپن یا عمر کے کسی حصے میں اور جس شخص کی چیز چوری کی تھی نہ اس کو چوری کی ہوئی چیز واپس کی نہ اس کی قیمت واپس کی اور نہ ہی اس سے معافی مانگی ★ آ پ کو کسی نے کسی کام پر مقرر کیا اور اس کام کے کرنے پر تنخواہ بھی متعین کر دی اور باضابطہ آپ کو تنخواہ ملتی رہی مگرطمع اور لالچ میں آ کر دن دو دن میں ہی کروڑ پتی بننے کے ارادے سے آ پ نے رشوت لینا شروع کر دیا کسی بھی کام کو انجام دینے میں ★ یا کسی کا مال ناحق دبا لینا جس کو غصب کہا جاتا ہے یعنی کسی شخص کی کوئی چیز یا زمین یا مکان یا فارم ہاؤز یا کھیت چھین کر قبضہ کر لی یا ڈرا دھمکا کر کھینچ لیا یہ سب کے سب حقوق العباد سے متعلق ہیں ۔۔۔چونکہ زندگی میں آ پ نے جس کا حق تھا اس کو ادا نہیں کیا اور نہ ہی اپنے وارثین کو آ پ نے وصیت کی کہ فلاں فلاں کے مجھ پر یہ چیزیں لازم ہیں ان کو ادا کرنا چاہیے اس لیے وارثین نے اس کو ادا بھی نہیں کیا کل قیامت کے دن یہ سارے کے سارے حقدار اللہ تعالی کے سامنے عرض کریں گے اے اللہ اس نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ہم کو ہمارا حق دلا دیجئے اللہ تعالی قیامت میں ان سب دعوے داروں کے دعوے کو قبول کرتے ہوئے ان کا حق دلانے کے لیے اس شخص سے کہیں گے جس نے دنیا میں زیادتی کی تھی چونکہ اس کے پاس لوٹانے کے لیے پیسہ سرمایہ کچھ نہیں ہوگا اس لیے ان لوگوں کا حق ادا کرنے کے لیے اس شخص کی نیکیاں ان کو دی جائیں گی اور ان کے گناہ اس کے اوپر ڈال دیے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
★ مظالم (جسمانی اور عزتی حقوق): اس سے مراد کسی کی جان، جسم، عزت، یا دل کو تکلیف پہنچانا ہے (مثلاً مار پیٹ کرنا، گالی دینا یا دل آزاری کرنا)۔۔۔اپنے عہدے اور منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کے ساتھ مار پیٹ کرنا جیسے غنڈہ گردی کرنا پہلوانی اور لیڈری کرنا اور خاص طور پر پولیس کے وہ عہدہ دار جو اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے رہے وہ سب کے سب کل قیامت کے دن حقدار کو حق نہ دینے یا ناحق کسی پر ظلم کرنے کی وجہ سے ذلیل اور رسوا ہوں گے ۔۔۔۔۔
★ والدین کے حقوق: والدین کی فرمانبرداری کرنا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، ان کی خدمت کرنا اور انہیں اف تک نہ کہنا۔۔۔۔کسی شخص نے اپنے ماں باپ کے ساتھ زیادتی کی یا ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی کی اور اپنی زندگی میں معافی بھی نہیں مانگ سکا وہ بھی کل قیامت کے دن ذلیل اور رسوا کیے جائیں گے ۔۔۔۔
★ معاشرتی و سماجی معاملے میں زیادتی : وہ شخص جو لوگوں کی غیبت کرتا ہے،
آ ج کل معاشرے میں سب سے زیادہ جس گناہ کو ہلکا سمجھا جاتا ہے وہ غیبت ہے ۔۔۔۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
من كانت لأخيه مظلمة من عرض أو شيء، فليتحلله منه اليوم، قبل ألا يكون دينار ولا درهم
جس کسی کا اپنے بھائی یا بہن کی آبرو یا کسی اور چیز کے بارے میں کوئی حق (مظلومی) ہو، تو وہ آج ہی اس سے معاف کرا لے، اس سے پہلے کہ وہاں (قیامت کے دن) نہ دینار ہوگا نہ درہم [بلکہ نیکیاں لی جائیں گی]۔
★ غیبت کی تعریف: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟” صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جو اسے ناگوار ہو۔” عرض کیا گیا: اگر وہ عیب میرے بھائی میں موجود ہو (جو میں کہہ رہا ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ عیب اس میں ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ عیب اس میں نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔” (صحیح مسلم)
حدیث شریف میں ہے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
إِيَّاكُمْ وَالْغِيبَةَ، فَإِنَّ الْغِيبَةَ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا، إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يَزْنِي وَيَتُوبُ، فَيَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَغْفِرَ لَهُ صَاحِبُهُ”
"غیبت سے بچو! کیونکہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے. (صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی زنا کرتا ہے اور توبہ کر لیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، جبکہ غیبت کرنے والے کی تب تک مغفرت نہیں ہوتی جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی غیبت کی گئی ہے.”
★ کسی پر جھوٹی تہمت لگاتا ہے۔۔۔۔۔آ ج کل یہ مشغلہ بھی بہت زوروں پر ہے عورتیں بھی اور مرد بھی کسی پاک دامن شخص پر الزام لگا دیتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے شیرینی کی دکان پر تھوڑا سا شیرا لگا کر کہیں سکون سے بیٹھ جاؤ اور جو گڑبڑ ہو رہی ہے وہ دور سے دیکھتے رہو والا معاملہ ہو رہا ہے۔۔۔ یا گالی گلوچ اور مار پیٹ سے دوسروں کی جان، مال اور عزت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
★ دیگر مخلوقات کے معاملے میں: وہ شخص جو بے زبان جانوروں پر ظلم کرتا ہے، انہیں بھوکا پیاسا رکھتا ہے یا ناحق مارتا پیٹتا ہے۔۔۔یعنی جو لوگ اپنے پاس جانور یا پرندے پالنے کا شوق رکھتے ہیں ان پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ جانوروں کو اور پرندوں کو وقت پر چارہ اور غذا کا انتظام کرتے رہیں
★ بیوی / شوہر کے حقوق: میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ معاشرت، نان و نفقہ (خرچہ) اور باہمی احترام کا رشتہ نبھانا۔۔میاں بیوی کے رشتے میں بھی ایک دوسرے پر کوئی زیادتی کرتے ہیں جیسے بعض جگہوں پر عورتیں شوہروں پر اور بعض جگہوں پر شوہر عورتوں پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں کل قیامت کے دن ظلم کے بدلے میں اللہ تعالی کے پاس نیکیاں لے لی جائیں گی اور جس پر ظلم کیا گیا اس کے گناہ اس ظالم پر ڈال دیے جائیں گے ۔۔۔۔
کیا برا اور تکلیف دہ وقت ہوگا اس وقت جب (خدا نخواستہ) کسی پر ایسا تکلیف دہ لمحہ آ ئے ۔۔۔اس شخص کا تو دیوالیہ نکل جائے گا جس کے اوپر یہ برا وقت آئے گا ۔۔۔۔
اللہ تعالی اپنے فضل سے ہم سب کو اس برے وقت سے محفوظ فرمائے ۔۔۔آمین یا رب العالمین