ازقلم: ڈاکٹر محمد آصف
اسسٹنٹ پروفیسر اردو
صدر شعبہ اردو و فارسی
گورنمنٹ آف مہاراشٹرا ، اسماعیل یوسف کالج
جوگیشوری ایسٹ ، ممبئی
9403282420
دسمبر کی انتہائی سرد صبح ولیمہ کی تقریب میں شرکت کی غرض سے گھر سے نکل پڑا۔اسٹیشن پہنچا تھا کہ ایک لڑکی پر نظر پڑی جو شان سے سگریٹ کشی کا لطف اٹھا رہی تھی،حیرت اس وقت دامن گیر ہوئی جبکہ اسے چائے اور آئس کریم بیک وقت انجوائے کرتے دیکھا ،میرے لیے یہ مشاہدہ بالکل نیا تھا،اس سے قبل لڑکیوں کو تو سگریٹ نوشی کرتے بارہا دیکھ چکا ہوں ، لیکن چائے اور آئس کریم کا سنگم تعجب خیزتھا۔حیرت و استعجاب کے احساس سے دوچار ہی تھا کہ میری ٹرین آگئی اور میں ٹرین میں سوار ہوگیا۔ٹرین میں ایک نوجوان کانوں میں ایئر بڈز لگائے موسیقی سن رہاتھا ،اس کے پورے جسم میں ارتعاش پیداہورہا تھا اور وہ اطراف کی دنیا سے بے خبر نغموں سے محظوظ ہورہاتھا ۔تقریباََ ایک گھنٹہ کے بعد میں اپنی منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ولیمہ گاہ پہنچ کر دیکھا وہاں کا منظر ،رونق و دلکشی اور انواع و اقسام کے پکوان من کو لبھا رہے تھے۔ایک بات ذہن میں گردش کرنے لگی کہ صاحب ولیمہ کے معاشی حالات تو ایسے نہیں ہےکہ اس قدر اہتمام کرسکے۔ولیمہ بے تکلف رشتہ دار کے یہاں تھا اس لیے پوچھ لیا کیوں بھائی! اتنے پیسوں کا انتظام کہاں سے کیا ؟ کہنے لگے ہم نے بینک سے لون لیا ہے،ورنہ کہاں ممکن تھا؟ دلہن ہمارے عزیز کی دختر تھی ۔انتہائی خوبصورت ،پری پیکر،نفاست و سلیقہ مندی میں اپنی مثال آپ ۔ بیوٹی پالر سے پچاس ہزار کا میک اپ کر کے آئی ہیں۔حد سے زیادہ بناو سنگھار کے ساتھ مغربی لباس زیب تن کیے اسٹیج پر رونق محفل بنی ہیں۔
موجودہ معاشرےمیں یہ ہمارے سماجی رویے ہیں، اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔مجھے اس پر کوئی اعتراض کرنے کا حق بھی نہیں ہےاور نہ کوئی سوال قائم کرنا ہے۔فرد کی اپنی زندگی ہے۔ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔اس کے اپنے طریقے اور ترجیحات ہیں۔اس کے باوجود میرے دماغ کو یہ رویے برابر جھنجوڑرہے تھے۔اس نوعیت کے بے شمار معاملات جو ہمارے سماجی شعور میں داخل ہوگئے ہیں ۔جب غور و فکر کا سلسلہ دراز ہوا تو میرے تجسس نے جدید زمانے کے کچھ فریب کے نشاندہی کی جنھوں نے ہمارے ذہن و دماغ پر قابو پا لیا ہے۔
معاصر سماج لذت و سرور کی سحر انگیز وادیوں میں خوشنما بہار کا مشاہدہ کررہا ہے۔ لطف اندوزی محورِ حیات بن چکی ہے۔مادی اشیا سے محظوظ ہونا لازمی تصور کیا جانے لگا ہے۔اس کے لیے لذت پسندی (ہیڈونزم)کی اصطلاح مستعمل ہے۔ انسان کی اس لذت پسندی نے صارفیت (کنزیومرزم)کو فروغ دیا ہے۔جو نفسِ انسانی کو اکساتا ہے۔اشیاء کو خوشنما انداز میں مشتہر کرتا ہے۔ انسان پر اس کا فوری اثر ہوتا ہے اوروہ اس کے حصول کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے۔نفع و نقصان سے قطع نظر وہ فوری تسکین کے جذبات کا شکار ہوجاتا ہے۔اس کی مت ماری جاتی ہے۔دیر پا نتائج کو پسِ پشت ڈال کر وہ سری لذت و تسکین کو ترجیح دینے لگتا ہے۔
بیان کردہ جذبات کو ابھارنےمیں سوشل میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے۔سوشل میڈیا کا استعمال بڑے پیمانے پر ہونے لگا ہے۔ شعبہ حیات کے کچھ معاملات کے لیے ناگزیر بھی ہوگیا ہے۔ہر کس و ناکس کسی نہ کسی ضرورت کے تحت اس سے مستفیض ہورہا ہے۔اس عمل نے توجہ کی معیشت (اٹینشن ایکونامی) کے لیے راہیں ہموار کردی ہے۔یہ ایسا تجارتی نظام ہے جس میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال سرمایہ درانہ نظام کے حق میں کارگر ثابت ہورہا ہے۔غیر شعوری و غیر ارادی طور پر انسان اس کا شکار ہوتا جارہا ہے۔اس پلیٹ فارم پر پیش کیے جانے والے اشتہارات بے جا خواہش کو پروان چڑھانے کے لیے ڈیزائن کیے جارہے ہیں۔جس کے نتیجے میں انسان خواہشات کی پیروی کرنے لگا ہے۔خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر وقت بے چین رہتا ہے۔اسی کو حاصلِ زندگی سمجھ رہا ہے۔اس بات کو یکسر بھول گیا ہے کہ خواہشات کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ۔ برسوں قبل شاعر نے اسی طرف اشارہ کیا تھا۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
شاعر کا ذکرہی کیا ۔ معلم کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ انسان کو اگر ایک سونے کا پہاڑ مل جائے تب بھی وہ دوسرے کی خواہش کرےگا۔یقیناََ ایسا ہی ہے۔ایک خواہش پوری نہیں ہوتی کہ دوسری سر ابھارتی ہے ۔ لذت کی طلب ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔دل مطمئن ہی نہیں ہوتا۔حتیٰ کہ انسان خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔بعض معاملات میں تو ایسا لگتا ہے کہ انسان نے اپنی خواہشات کو معبود بنا لیا ہے ۔قرآن کریم کی سورۃ الجاثیہ کے آیت نمبر 23 میں ارشاد ہوتا ہے۔
(ترجمہ از کنزالعرفان: بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجودگمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے گا؟تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟)
اس آیت کے نزول کا پس منظر مختلف ہے۔ اس میں بیان کردہ امور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں خواہشات کی پیروی عزت نفس اور اپنا سماجی مرتبہ قائم رکھنے کے لیے کی جانے لگی ہے۔ہم معاشرتی و ثقافتی معاملات میں تو حد سے بڑھے ہوئے ہیں ہی ، مذہبی تہواروں کے انتظام و انصرام میں بھی اسراف کرنے لگے ہیں۔مذہبی و سماجی معاملات پر ذرانظر ڈالیے خود بخود سمجھ میں آجائے گا۔دوسرے اشارے پر غور کیجیے ،کتنا عبرت ناک ہے کہ خواہشات کی پیروی میں بندہ علم ہونے کے باوجود اندھا ہوجاتا ہے۔کان جس سے وہ سنتا ہے ، آنکھ جس سے وہ دیکھتا ہے اور اور دل جو مختلف قسم کےاحساس و جذبات کی منبع ہوتاہے ،اپنا کام کرنا بند کردیتے ہیں۔ یہی اعضاء ہیں جن کے ذریعے شعور و آگہی حاصل ہوتی ہے۔ان تینوں میں باہمی ربط علم کی دنیا کو جلا بخشتا ہے۔بے جا خواہشات اس تعلق کو منقطع کردیتی ہیں ۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لی جاتی ہے۔انسان ہواوہوس کا اسیر بن کر رہ جاتا ہے۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔آخرت میں جو معاملہ ہوگا سو ہوگا۔اللہ غفور و رحیم ہے۔آج ہم اپنے سکون و اطمینان کو کھو بیٹھے ہیں۔جدیدت کے خوش رنگ فریب نے ہمارا بیڑا غرق کردیا۔نام نہاد روشن خیالی نے ہمیں گمراہی کے عمیق گڑھے میں دھکیل دیا۔ہم اسے اپنا بڑا پن سمجھتے ہیں ، عقل مندی گردانتے ہیں ،حقیقت اس کے برعکس ہیں۔ ہم سرمایہ دارنہ نظام کا کھلونہ بن چکے ہیں۔جس نے ہمیں خواہشات کا غلام بنا دیا ہے۔