ٹیلنٹ، گلیمر اور ویمن امپاورمنٹ کے نام پر ہونے والی سرگرمیاں لمحۂ فکریہ؛
پردے، حیا اور مسلم خواتین کے وقار پر سنجیدہ غور کی ضرورت
✍️ عمران عبدالعلیم باحشوان
چیف ایڈیٹر، روزنامہ آج کی آواز
اورنگ آباد، مہاراشٹر
موبائل : 9730000675
ٹیلنٹ، ویمن امپاورمنٹ، گرینڈ ایونٹ، گلیمر اور نہ جانے کن کن ناموں کی آڑ میں ہماری بچیوں کو ایک ایسی دنیا کی طرف لے جایا جا رہا ہے جہاں بظاہر ترقی، خودمختاری اور صلاحیتوں کے اظہار کے نام پر ایک الگ ہی ماحول تشکیل دیا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس سارے تماشے کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں.. الله ھو اکبر…. الله ہدایت ہدایت دیں… پردے کی آڑ میں نہ جانے کیا کچھ ہو رہا ہے.! کون کس مقصد کے تحت ان معصوم لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے اور مستقبل میں ان کے لیے کیا منصوبے رکھتا ہے یہ غور طلب سوالات ہے اللہ تعالیٰ ہماری بچیوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں ہر قسم کے فتنے سے محفوظ رکھے. ٹیلنٹ، گلیمر اور ویمن امپاورمنٹ کے نام پر ایسے ایسے ایونٹس منعقد کیے جا رہے ہیں کہ بہت سی لڑکیاں اور خواتین ان کی کشش میں مبتلا ہو جاتی ہے.ان تقریبات میں بعض مشہور شخصیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرس بھی شریک ہوتے ہے اور اپنی کامیابی و ترقی کے راز بیان کرتے ہے. بظاہر یہ سب کچھ صلاحیتوں کو نکھارنے یا خواتین کو خودمختار بنانے اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے نام پر کیا جاتا ہے لیکن سوچنے والی بات کہ ان سرگرمیوں کے حقیقی مقاصد کیا ہیں اور ان کے نتائج ہماری نئی نسل پر کیا اثرات کر رہے ہیں؟ سوچو… سمجھو… غور کرو… میں کھول کر اب کیا کہوں؟ کچھ باتیں اپنی سمجھ سے بھی سمجھنی چاہئیں۔ یہ کوئی توہمات یا الزام نہیں، بلکہ اپنی بچیوں پر توجہ دینے اور ان کی حفاظت کے حوالے سے غور کرنے کی بات ہے. سب سے زیادہ قابل غور پہلو یہ ہے کہ جب کسی تعلیمی پروگرام کے نام پر خواتین کے لیے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تو بعض اوقات تعلیم اور تربیت کے بجائے ظاہری نمائش، گلیمر اور اسٹیج کی رونق کو زیادہ اہمیت دی جانے لگتی ہے۔ موٹیویشن اور نام نہاد ٹیلنٹ کے نام پر میدانوں اور ہالوں میں ہونے والے ان پروگراموں کا مقصد اگر واقعی قوم کی بچیوں کے مستقبل کو سنوارنا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ سال میں ایک آدھ پروگرام منعقد کرکے بچیوں کی تعلیمی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ اور صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تو اسے یقیناً ایک مثبت کوشش قرار دیا جا سکتا ہے لیکن جب سال بھر کوئی نہ کوئی ادارہ یا تنظیم اسی طرز کے پروگرام منعقد کرتی رہے اور خواتین کو محض محفلوں کی رونق اور تقریبات کی کشش بڑھانے کا ذریعہ بنایا جانے لگے تو اس صورتِ حال پر سوال اٹھنا فطری ہے. خواتین کی حقیقی ترقی اور بااختیاری کا مقصد انہیں محض تقریبات کی زینت بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں علم، شعور، خوداعتمادی اور عملی زندگی میں کامیابی کے مواقع فراہم کرنا ہے.
ہمارے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ آخر ان دنوں یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟ اپنی بچیوں کو اس راستے پر کیوں لے جایا جا رہا ہے جہاں ان کی صلاحیتوں کے بجائے ان کی ظاہری شخصیت کو اہمیت ملنے لگے؟
مانا کہ بعض تقریبات میں پردے کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن کیا صرف پردے کا نام یا اس کا ظاہری اہتمام کسی پروگرام کے ہر پہلو کو درست ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟ کیا ہمیں ان تقریبات کے ماحول، لباس، انداز، مقاصد اور ان کے مجموعی اثرات کا جائزہ نہیں لینا چاہیے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض تقریبات میں پردے کی آڑ میں ایسے لباس اور انداز اختیار کیے جاتے ہیں جو خود پردے کے بنیادی مقصد اور روح پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہے اگر کسی لباس یا برقعے کا انداز اس قدر نمایاں اور توجہ مبذول کرانے والا ہو کہ اصل مقصد پس منظر میں چلا جائے تو اس پر غور کرنا ضروری ہے. اب یہ بات بھی میں کھول کر نہیں کر سکتا……. غور کرو….
ایسے مواقع پر بے اختیار یہ سوال ذہن میں آتا ہے… وہ حجاب ہی کیا جس میں حیا نہ ہو….
دیکھا جا رہا ہے کے یہ معاملہ کسی ایک فرد ایک ایونٹ یا ادارے تک محدود نہیں ہے بلکہ ہماری اجتماعی سوچ ، سماجی ذمہ داری اور آنے والی نسلوں کی تربیت سے جڑا ہوا ہے. اس حوالے سے ایسے افراد اور شخصیات کا نام بھی سامنے آتا ہے جو بظاہر سنجیدہ اور باوقار سمجھے جاتے ہے لیکن ان کے زیر اہتمام ہونے والی سرگرمیوں کے بعض پہلو قابل غور ہوتے ہے اس لیے ضروری ہے کہ کسی پر بے بنیاد الزام لگانے کے بجائے ہر پروگرام کا اس کے مقاصد، طریقۂ کار اور عملی نتائج کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے. یہ خاص ذمہ داری ہے غور کیا جایئں….. سوال کرنے والے پوچھتے ہیں کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ہمارا معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ کیا ہم نے اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیا ہے؟ کیا اب خواتین کی نمائش کو بھی ترقی,ٹیلنٹ اور بااختیاری کا نام دے کر ہمارے معاشرے میں قابل قبول بنایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کرنا چاہیے؟ خدارا….. اپنی بچیوں کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچو….انہیں تعلیم دوں ہنر سکھاو, کیریئر میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرو….ان کی صلاحیتوں کو نکھاروں اور انہیں خودمختار بناوں لیکن ساتھ ہی ان کی عزت، وقار، تحفظ اور اخلاقی تربیت کو بھی دھیان رکھوں…
حقیقی ویمن امپاورمنٹ وہ ہے جو عورت کو علم، شعور، خوداعتمادی، خودداری اور عزت عطا کرے۔ اور پردے کا لحاظ ایسا رکھیں کہ جو عبایا یا برقع وہ خواتین پہنتی ہے اس میں نمائش نہ ہو… کیونکہ آپ کو یہ احساس ہونا چاہیے کے آپ ہماری مسلم قوم کی عزت ہے آپ کے صحیح قدم ہماری عزت ہے….آپ کے پہناوے ہمارا وقار ہے. کوئی غیر جب دیکھے کہ یہ مسلم خواتین ماشاءاللہ صحیح سے پردہ کرتی ہیں، تو وہ لوگ بھی آپ کو دیکھ کر سیکھیں گےاور عمل کریں گے. مگر اگر آپ کے پردے میں حیا نہ ہو تو خدارا.. برقعوں کو بدنام نہ کروں پردے کی آڑ میں ایسا کوئی کام نہ کروں جس سے صحیح پردہ کرنے والی خواتین کا نام خراب ہو. ہمارا لکھنا یا کچھ کہنا آپ کا دل دکھانا نہیں ہے بس اصلاح کرنا ہے اور ایسے لوگوں سے آپ کو بچانا ہے جو آپ کو نمائش کا سامان بنا رہے ہے وہ بھی چند پیسوں اور جھوٹی شہرت کے لیے.. خدارا… اسے محض نمائش کا ذریعہ نہ بننے دیں. معاشرے کے ذمہ دار افراد، والدین، علما، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ مقصد بچیوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ شکنی کرنا نہیں، بلکہ ان کے لیے ایسا محفوظ، باوقار اور تعمیری ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکیں. خاموشی اختیار کرنے کے بجائے شعور، دلیل اور ذمہ داری کے ساتھ آواز اٹھائیے کیونکہ آج کی بچیوں کا مستقبل ہی کل کے معاشرے کی بنیاد ہے.