جمعہ کا اردو بیان: ایمان کی تازگی اور نیک اعمال میں اضافے کا سب
از قلم: مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی
خادمِ تدریس، ادارہ اشرف العلوم، حیدرآباد
امام و خطیب، مسجدِ محی الدین، ونستھلی پورم، حیدرآباد
دین ِاسلام محض انفرادی عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک کامل، متحرک اور منظم نظامِ حیات ہے جس میں انسانی روح کی بالیدگی، فکری بیداری اور معاشرتی اصلاح کا ہمہ گیر انتظام موجود ہے۔ انہی پاکیزہ مقاصد کے حصول کے لیے شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کو ہفتہ وار بنیادوں پر "یومِ جمعہ” کی شکل میں ایک عظیم الشان نعمت اور روحانی اجتماع عطا فرمایا ہے۔ یہ مبارک دن جہاں ایک طرف ربِّ کائنات کے حضور اجتماعی بندگی کے اظہار کا وقت ہے، وہیں دوسری طرف امت کے فکری و اخلاقی احتساب، تجدیدِ ایمان اور باہمی ربط کا ایک بے مثال مرکز بھی ہے۔
اس ہفتہ وار مجلسِ خیر میں نماز سے قبل پیش کیا جانے والا "اردوبیان” اور منبرِ رسول ﷺ سے دیا جانے والا "عربی خطبہ” امت کی تعلیم و تربیت کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ مگر موجودہ دور کی مادہ پرستی، غفلت اور رسمی روش نے اس عظیم الشان دینی نظام کے حقیقی مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ جمعہ کا اہتمام محض ایک روایتی حاضری بن کر رہ گیا ہے، جس کے سبب اس کی برکات و ثمرات سے ہم کماحقہ مستفید نہیں ہو پا رہے۔ زیرِ نظر تحریر سے اسی شعور کو بیدار کرنا ہے کہ خطباء و ائمہ اور عامۃ المسلمین دونوں کس طرح اس مبارک اجتماع، بالخصوص جمعہ سے قبل اردو بیان کو اپنی زندگیوں میں انقلاب، ایمان کی تازگی اور اعمالِ صالحہ کے فروغ کا حقیقی ذریعہ بنا سکتے ہیں۔
۱۔ جمعہ کی عظمت اور قرآنی ہدایات
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دیجائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ، اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ (سورۃ الجمعہ: ۹-۱۰)ان آیات میں نمازِ جمعہ کے اہتمام، ذکرِ الٰہی کی طرف توجہ اور دنیاوی مشاغل کو عبادت میں رکاوٹ نہ بننے دینے کی ہدایت ہے۔ جمعہ مسلمانوں کے لیے عبادت، اجتماع، دینی تعلیم اور اصلاحِ احوال کا خصوصی موقع ہے۔ اس کی برکات سے فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان بروقت مسجد پہنچیں، خطبہ توجہ سے سنیں اور اس کی نصیحتوں کو عملی زندگی میں نافذ کریں۔
۲۔ جمعہ سے قبل اردو بیان کی اہمیت
جمعہ سے قبل اردو بیان دینی تعلیم و تربیت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے امام و خطیب عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات، دینی احکام، اخلاقی ذمہ داریوں اور روزمرہ مسائل میں شرعی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ہفتے بھر کی مصروفیات کے باعث بہت سے لوگوں کو باقاعدہ دینی مجالس میں شرکت کا موقع نہیں ملتا؛ اس لیے جمعہ کا بیان انہیں اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لینے اور زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا موقع دیتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، معاملات، حقوق العباد، حسنِ اخلاق، اصلاحِ خاندان، تربیتِ اولاد اور معاشرتی ذمہ داریوں جیسے موضوعات پر مختصر مگر جامع رہنمائی پورے ہفتے کی عملی زندگی پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
لہٰذا اردو بیان کو محض نماز سے پہلے کا معمول نہیں، بلکہ دینی و اخلاقی تربیت کا قیمتی موقع سمجھنا چاہیے۔
۳۔ ایمان کی تجدید اور اعمالِ صالحہ میں اضافہ
دنیاوی مشاغل اور معاشرتی ماحول کے اثر سے عبادات میں سستی، معاملات میں کوتاہی اور آخرت کی فکر میں کمزوری پیدا ہوسکتی ہے۔ دینی نصیحت دل کو بیدار، ایمان کو تازہ اور نیکی کی رغبت کو مضبوط کرتی ہے۔
جمعہ کے بیان میں نماز کی پابندی، تلاوت، ذکر و دعا، حلال روزی،والدین و رشتے داروں کے حقوق، پڑوسیوں سے حسنِ سلوک اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دی جائے تو سامعین اپنی زندگی کا محاسبہ کرسکتے ہیں۔ کبھی ایک مختصر مگر مؤثر نصیحت توبہ، کسی واجب کی ادائیگی یا کسی نیک عمل کو مستقل اختیار کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔
تاہم بیان کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب اسے توجہ سے سن کر عمل کا عزم کیا جائے۔
۴۔ عقائد، اعمال اور اخلاق کی اصلاح
اسلام عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرتی تعلقات کی مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اردو بیان کے ذریعے توحید و رسالت، آخرت، فرائض و واجبات، حلال و حرام، حقوق العباد اور حسنِ اخلاق کو آسان انداز میں سمجھایا جاسکتا ہے، نیز جھوٹ، غیبت، حسد، بدگمانی، دھوکا دہی، سود اور ناجائز کمائی سے بچنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔
معاشرے کے بہت سے مسائل دینی تعلیم سے ناواقفیت یا اس پرعمل نہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں؛ کاروبار میں بددیانتی، گھریلو حقوق کی پامالی اور زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانا اسی کی مثالیں ہیں۔ جمعہ کا بیان قرآن و سنت کی روشنی میں ان مسائل کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہر ہفتے کسی اہم موضوع پر مستند، واضح اور قابلِ عمل رہنمائی دی جائے۔
۵۔ جمعہ کے اہتمام میں موجودہ کوتاہیاں
بعض لوگ جمعہ کے لیے آخری وقت میں مسجد پہنچتے ہیں، اردو بیان کےدوران باہر رہتے ہیں یا عربی خطبے کے وقت وضو خانے اور مسجد کے بیرونی حصوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اس طرح وہ دینی و تربیتی فائدے سے محروم ہوجاتے ہیں۔
عربی خطبہ نمازِ جمعہ کا اہم حصہ ہے؛ اس دوران خاموشی، ادب اور توجہ لازم ہے۔ گفتگو، غیر ضروری مشغلے یا بلا ضرورت مسجد سے باہر رہنا خطبے کے آداب کے خلاف ہے۔ اسی طرح مسجد میں جلد پہنچنے والے افراد کو، اگر جگہ موجود ہو، اگلی صفوں میں بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ کسی شخص کے پچھلی صف میں بیٹھنے کی وجہ جانے بغیر اس کے بارے میں بدگمانی درست نہیں۔
اصلاح کے لیے نمازی بروقت حاضری اور توجہ کا اہتمام کریں، خطباءمؤثر دینی رہنمائی دیں اور مسجد کی انتظامیہ نظم و ضبط کے لیے مناسب انتظامات کرے۔ جمعہ کو محض ہفتہ وار نماز نہیں، بلکہ دینی شعور اور عملی اصلاح کا ذریعہ بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
۶۔ انفرادی اصلاح سے اجتماعی تبدیلی تک
معاشرے کی اصلاح افراد کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ جب انسانعبادات درست کرتا، معاملات میں دیانت اختیار کرتا، حقوق ادا کرتا اور اخلاقی برائیوں سے بچتا ہے تو اس کے اثرات خاندان اور معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
جمعہ کے بیان میں والدین کی ذمہ داری، بچوں کی دینی تربیت، خاندانی تعلقات، پڑوسیوں کے حقوق، ضرورت مندوں کی مدد، باہمی احترام، معاشرتی اتحاد اور اختلافات کے شرعی حل جیسے موضوعات شامل کیے جاسکتے ہیں۔ ہر ہفتے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا عملی حل پیش کیا جائے تو جمعہ کا اجتماع افراد، خاندانوں اور پورے معاشرے کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
۷۔ بیانِ جمعہ سے عملی تبدیلی کی ضرورت
جمعہ کے بیان کا مقصد صرف معلومات دینا یا وقتی اثر پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسی دینی بیداری پیدا کرنا ہے جو عملی زندگی میں تبدیلی لائے۔ ائمہ و خطباء وقت کے تقاضوں، معاشرتی حالات اور عوام کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے موضوعات منتخب کریں اور روزمرہ مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل پیش کریں۔
بیان آسان، عام فہم، مختصر اور مؤثر ہو۔ مشکل اصطلاحات، غیرضروری طوالت اور پیچیدہ مباحث سے بچتے ہوئے واضح مثالوں، مختصر واقعات اور قابلِ عمل نصیحتوں سے بات سمجھائی جائے۔ خطباء موضوع کی تیاری، مستند حوالوں اور اصلاحی مقصد کا اہتمام کریں، غیر ضروری اختلافی گفتگو سے گریز کریں اور سامعین کی مانوس زبان استعمال کریں۔
سامعین بھی توجہ سے سنیں، غیر ضروری مشاغل سے بچیں اور بیان کی کم از کم ایک نصیحت اسی ہفتے اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ اس طرح جمعہ کا اردو بیان ایمان کی تازگی، اعمال کی اصلاح، اخلاق کی بہتری اور معاشرتی ذمہ داری کے احساس کا منظم ذریعہ بن سکتا ہے۔
سامعین کے لیے جمعہ کے آداب اور عملی اصلاح کے نکات
1. غسل، پاکیزہ لباس اور خوشبو کا اہتمام کرکے وقت سے پہلے مسجدپہنچیں۔
2. مسجد میں سکون و ادب اختیار کریں اور موبائل فون بند یا خاموش کر دیں۔
3. اردو بیان اور عربی خطبہ پوری توجہ سے سنیں اور گفتگو و غیر ضروری مشاغل سے بچیں۔
4. خطبے کے دوران سلام کا جواب دینے، بات چیت کرنے یا دوسروں کو متوجہ کرنے سے گریز کریں۔
5. اگلی صفوں میں جگہ ہو تو آگے بیٹھیں، صفیں درست کریں اور دوسروں کے لیے جگہ بنائیں۔
6. بیان کی کم از کم ایک نصیحت اسی ہفتے عملی طور پر اختیار کریں
7. گھر والوں، دوستوں اور بچوں تک خیر کی بات حکمت اور نرمی سے پہنچائیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جمعہ کا اردو بیان دینی و معاشرتی اصلاح کا قیمتی موقع ہے۔ اگر خطباء اخلاص، تیاری اور حکمت کے ساتھ بیان کریں اور نمازی توجہ و عمل کے جذبے سے سنیں تو یہ سلسلہ ایمان کی تجدید، نیک اعمال میں اضافے اور اجتماعی بہتری کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جمعہ کی عظمت سمجھنے، اس کے آداب کا اہتمام کرنے، نماز و خطبے سے فائدہ اٹھانے اور دینی نصیحتوں کو قرآن و سنت کے مطابق عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین