جمعہ کی اہمیت اور ہماری غفلت

جمعہ کی اہمیت اور ہماری غفلت

جمعہ کی اہمیت اور ہماری غفلت

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ

دنیا کے تمام ایام اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض دنوں کو ایسی فضیلت، عظمت اور برکت عطا فرمائی ہے کہ وہ اہلِ ایمان کے لیے رحمتوں کے نزول، مغفرت کے حصول اور قربِ الٰہی کا خصوصی ذریعہ بن گئے ہیں۔ انہی مبارک ایام میں یومِ جمعہ کو ایک ممتاز اور منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ وہ عظیم دن ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے تمام دنوں کا سردا ر قرار دیا، جس میں مسلمانوں کو اجتماعِ عبادت کا حکم دیا گیا، جس کے لیے قرآنِ کریم نے مستقل رہنمائی نازل فرمائی اور جس کے ایک ایک لمحے کو بندۂ مؤمن کے لیے خیر و برکت کا خزانہ بنایا گیا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ایک طرف شریعتِ اسلامیہ اس دن کی تعظیم، اس کی تیاری، اس کے آداب، اس کی عبادات اور اس کے فضائل پر اس قدر زور دیتی ہے، دوسری طرف ہماری عملی زندگی کا حال یہ ہے کہ ہم نے اس عظیم دن کو محض ہفتہ وار معمول، کاروباری مصروفیات سے عارضی فراغت اور مسجد میں چند لمحوں کی رسمی حاضری تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے گھروں، بازاروں، معاملات اور اخلاق و کردار میں جمعہ کے پیغام کی وہ جھلک دکھائی نہیں دیتی جس کا یہ دن ہم سے تقاضا کرتا ہے۔

افسوس! جس دن کو اللہ تعالیٰ نے ذکر و عبادت، توبہ و استغفار، دعا و مناجات، اتحاد و اجتماع اور اصلاحِ زندگی کا ذریعہ بنایا تھا، ہم نے اس کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یومِ جمعہ کی عظمت کو سمجھیں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اس دن نمازِ جمعہ کے لیے پکارے جانے پر دنیوی مشاغل ترک کرکے ذکرِ الٰہی کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ
ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ (سورۃ الجمعۃ)

اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز محض ایک معمول کی عبادت نہیں، بلکہ ایسا دینی فریضہ ہے جس کے وقت دنیاوی مصروفیات کو پسِ پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔ تجارت اور معاشی جدوجہد اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن بندۂ مومن کے نزدیک حکمِ الٰہی کو ہر دنیوی منفعت پر تقدم حاصل ہونا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سورج کے طلوع ہونے والے دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ ہے؛ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن وہاں سے نکالا گیا، نیز قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔ (صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں ہے کہ کوئی بھی جاندار (زمین پر چلنے والی مخلوق) ایسا نہیں ہے جو جمعہ کے دن صبح صادق سے لے کر سورج طلوع ہونے تک قیامت کے خوف سے کان لگائے گھبرایا ہوا نہ ہو، سوائے جنات اور انسانوں کے(سنن ابی داؤد)

یہ فضیلت جمعہ کو انسانی تاریخ کی ابتدا اور اس کے آخری انجام سے مربوط کرتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق، جنت میں داخلہ اور زمین پر نزول کے واقعات انسان کو اس کی اصل، آزمائش اور آخرت کی جواب دہی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ جمعہ اہلِ ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی محض دنیا کی طلب کا نام نہیں؛ انسان کو اپنے خالق کے حضور حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ایک روایت میں جمعہ کو سید الایام، یعنی دنوں کا سردار قرار دیا گیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

جمعہ کی ایک عظیم برکت یہ ہے کہ یہ اہلِ ایمان کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور روحانی تجدید کا موقع بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ (صحیح مسلم)

جمعہ اور درود پاک کا اہتمام
جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنے کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ (سنن ابی داود) درود شریف محبتِ رسول ﷺ کے اظہار، تعلقِ نبوت کی تجدید اور قلبی وابستگی کے استحکام کا ذریعہ ہے۔

جمعہ اور سورہ کہف
جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کے فضائل بھی منقول ہیں، اور اس کے پڑھنے والے کے لیے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک نور کی بشارت بیان کی گئی ہے۔ (المستدرک للحاکم) اسی سورت کی ابتدائی دس آیات کے ذریعہ دجال کے فتنے سے حفاظت کا ذکر صحیح مسلم میں آیا ہے۔ قرآنِ کریم کی تلاوت کا مقصود صرف الفاظ پڑھ لینا نہیں، بلکہ اس کی ہدایت کو سمجھنا، اس کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور اس کے نور سے اپنی فکر و کردار کو منور کرنا بھی ہے۔مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ
ترجمہ:جس شخص نے جمعہ کی رات سورہ کہف کی تلاوت کی، اس کے لیے اس کے اور بیتِ عتیق (کعبہ شریف) کے درمیان ایک نور روشن کر دیا جاتا ہے(سنن دارمی)

نماز جمعہ کے لیے عجلت
رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے لیے جلد مسجد آنے والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو شخص پہلی گھڑی میں مسجد آتا ہے، گویا اس نے ایک اونٹ قربان کیا، دوسری گھڑی میں آنے والا گویا گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے، تیسری گھڑی میں آنے والا گویا سینگوں والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے، چوتھی گھڑی میں آنے والا گویا مرغی اور پانچویں گھڑی میں آنے والا گویا انڈا صدقہ کرنے والے کی طرح ہے؛ پھر جب امام خطبے کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں۔ (صحیح بخاری،)

اس حدیثِ مبارکہ سے جمعہ کے لیے جلد آمد کی اہمیت اور اس کے عظیم اجر کا اندازہ ہوتا ہے۔ ،قرآنِ کریم نے جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت اور دیگر دنیوی مشاغل چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کا تقاضا ہے کہ مسلمان نمازِ جمعہ کو اپنے کاروبار، ملازمت، ملاقاتوں اور دیگر مصروفیات پر ترجیح دےافسوس کہ آج بعض لوگوں کا معمول یہ بن چکا ہے کہ وہ اذانِ جمعہ کے قریب مسجد پہنچتے ہیں۔ بعض تو خطبہ شروع ہونے کے بعد حاضر ہوتے اور بعض کا حال یہ ہے کہ بس اللہ رحم فرمائے جماعت کھڑے ہونے کے بعد بھاگ بھاگ کر جماعت میں شریک ہوتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے حال سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کسی اہم کام کے لیے بھاگے جا رہے ہیں حالانکہ جو اہم کام تھا جو اصل ثواب کا مرحلہ تھا وہ تو گزر چکا ہوں یہ محض جمعہ کی بے اہمیت ہی کی علامت ہے ایسے میں بھاگ بھاگ کر آنے میں کئی دفعہ حادثات کے بھی شکار ہو جاتے ہیں ( اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے )وہیں دوسری طرف آپ غور کریں دعوتوں میں شرکت کے لیے وقت سے پہلے حاضری ہو رہی ہے پہلے دسترخوان کا اہتمام ہو رہا ہے تاکہ کوئی کھانے کی چیز مس نہ ہو جائے اور یہاں آخرت کا اتنا بڑا ثواب ہے اس کی کوئی وقعت ہمارے ذہنوں میں نہیں ہے
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:خطبہ (جمعہ) سننے کے لیے حاضر ہو جاؤ اور امام کے قریب ہو کر بیٹھو، کیونکہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں بھی پیچھے کر دیا جائے گا، اگرچہ وہ اس میں داخل ہو جائے(سنن ابی داؤد)
ایک اور حدیث میں ہے کہ جو جمعہ کے دن امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اس کے لیے ہر ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور اس کی راتوں کے قیام کا ثواب ہے (سنن ترمذی)

سعید ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ ملفوظ ہے لَأَنْ أَشْهَدَ الْجُمُعَةَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حَجَّةِ تَطَوُّعٍ
جمعہ کی نماز کے لیے (وقت سے پہلے) نکلنا اور اس کی برکتوں کو سمیٹنا، میرے نزدیک ایک نفلی حج کے مبارک سفر سے بھی کہیں زیادہ پیارا اور دل کو لبھانے والا عمل ہے
امام مکحول شامی فرماتے ہیں: لَأَنْ أُبَكِّرَ إِلَى الْجُمُعَةِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ رَقَبَةً
ترجمہ: جمعہ کی نماز کے لیے صبح سویرے (جلدی) نکلنا، میرے نزدیک اللہ کی راہ میں ایک غلام آزاد کرنے سے بھی زیادہ محبوب اور دل کو لبھانے والا عمل ہے

حضرت علقمہؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، تو انہوں نے دیکھا کہ تین لوگ ان سے پہلے مسجد پہنچ چکے ہیں۔ اس پر انہوں نے (افسوس کے ساتھ) فرمایا: "میں چوتھا بندہ ہوں، اور چوتھا ہونا بھی اللہ کی رحمت سے دور نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: قیامت کے دن لوگ اللہ کے قرب میں (اس کے سامنے) اسی ترتیب سے بیٹھیں گے جس ترتیب سے وہ جمعہ کی نماز کے لیے جلدی جایا کرتے تھے؛ پہلے آنے والا، پھر دوسرا، پھر تیسرا، پھر چوتھا (سنن ابن ماجہ)

جمعہ کے لیے تیاری
جمعہ کے لیے غسل، صفائی، پاکیزگی، اچھے لباس اور خوشبو کا اہتمام رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کے دن غسل کرنے اور طہارت اختیار کرکے مسجد آنے کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے(صحیح بخاری) مسلمان کو چاہیے کہ وہ جسم، لباس اور مسجد میں اپنی حاضری کے سلسلے میں صفائی کا خاص خیال رکھے۔ بالخصوص ایسے کپڑے پہن کر مسجد میں نہ آئے جن سے بدبو پیدا ہو اور دوسرے نمازیوں کو اذیت پہنچے۔ لہسن، پیاز گٹکا سنگ ریٹ تمبا کو پان مصالحہ وغیرہ یا کسی دوسری بدبودار چیز کے استعمال کے بعد مسجد میں آنے سے متعلق بھی احادیث میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح خوشبو کا استعمال اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ کسی دوسرے شخص کے لیے تکلیف باعث نہ بنے ایسا نہ ہو کہ ہمارے عطر سے بازو والے ساتھی کے سر میں درد ہی شروع ہو گیا مقصد یہ ہے کہ ہمارے جسم کی وہ بو سے دوسرے کو تکلیف نہ ہو بس ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ساری مسجد کو خوشبو سنگھانا ہو ہر ایک کی پسند اور ہر ایک کا مزاج الگ ہوتا ہے اس کا خیال کرنا بہت ضروری ہے ۔

مسجد میں داخل ہونے کے بعد بھی بعض آداب کی رعایت ضروری ہے۔ صفوں میں جگہ بناتے وقت دوسروں کو دھکے دینا، لوگوں کے کندھوں کے اوپر سے پھلانگ کر آگے بڑھنا، کسی نمازی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا اور صفوں میں بے ترتیبی پیدا کرنا ایسے اعمال ہیں جن سے اجتناب کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنے سے منع فرمایا ہے اس لیے مسجد میں داخل ہونے والا ہر شخص اس بات کا خیال رکھے کہ اس کی آمد و رفت، نشست و برخاست اور صف میں جگہ بنانے کا طریقہ دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے

جمعہ کے اردو خطبہ کا اہتمام
خطبۂ جمعہ نماز سے پہلے اصلاح و تربیت کا ایک نہایت اہم موقع ہے۔ خطیب قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کی دینی رہنمائی کرتا، ان کے مسائل واضح کرتا اور انہیں نیکی و تقویٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے خطبے کے دوران خاموشی، توجہ اور ادب اختیار کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی سے یہ کہا کہ خاموش رہو، تب بھی تم نے لغو کام کیا۔

افسوس کہ آج بعض مساجد میں خطبے کے دوران بھی لوگوں کی توجہ منتشر رہتی ہے۔ کوئی موبائل فون میں مصروف ہے، کوئی میسج دیکھ رہا ہے،کوئی چارٹنگ میں مصروف ہیں کوئی اپنے ساتھی سے گفتگو کررہا ہے اور کوئی غیر ضروری حرکات کے ذریعہ دوسروں کی یکسوئی متاثر کررہا ہے۔

ذرا غور کیجیے! ہم دنیاوی دعوتوں میں شرکت کے لیے گھنٹوں پہلے فنکشن ہال پہنچ جاتے ہیں، ڈاکٹر کے پاس گھنٹوں انتظار کرتے ہیں، کسی بڑے آدمی سے ملاقات اور دنیا کا کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنا قیمتی وقت قربان کردیتے ہیں؛ لیکن افسوس! جمعہ کے دن دین کی چند باتیں سننے، اپنی اصلاح کرنے اور آخرت سنوارنے کے لیے آدھا گھنٹہ نکالنا بھی ہمارے لیے مشکل ہے، بلکہ عین اسی وقت ہم غسل خانوں میں مصروف ہوتے ہیں! ذرا سوچیے، ہم کتنی بڑی محرومی کا شکار ہیں! جس مجلس میں ہماری آخرت سنور سکتی ہے، جس نصیحت سے ہماری زندگی بدل سکتی ہے، ہم اسی سے غفلت برت رہے ہیں۔ آخر دین کی بات سننے کے لیے ہمارے پاس وقت کب ہوگا؟ کیا اس وقت جب زندگی ہی ہمیں مہلت دینا بند کردے گی؟ بڑی بڑی لمبی چوڑی باتیں کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت ہے فلسطین پر ظلم ہو رہا ہے سعودی پہ یہ ہو رہا ہے فلاں دوسرے ملک میں یوکرین میں یہ ہو رہا ہے ایران کا یہ حال ہو گیاامت کا یہ حال ہو گیا معاشرہ اتنا بگڑ گیا ہے ایسی لفاظی کے لیے ہمارے پاس وقت ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہ معاشرے کی بگاڑ کا اس وقت ہمارے پاس جو سب سے بڑا ذریعہ ہے اور صرف اور صرف جمعہ سے پہلے ہونے والے بیانات ہیں اس کے علاوہ کوئی اور عمومی طریقہ نظر نہیں آتا اس لیے اس کو بڑی اہمیت دینا چاہیے نماز جمعہ سے پہلے ہونے والے بیانات کو اہمیت کے ساتھ پورے محلے کو جمع کرنے کی کوئی پلاننگ کرنی چاہیے خاص کر نوجوان طبقہ کو اس کی بہت ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ نت نئے فتنوں سے متاثر ہو رہا ہے اور اپنے ایمان اور عقائد کے متعلق بے فکر ہوتا جا رہا ہے سوشل میڈیا پر بولے جانے والے ہر بات کو صحیح سمجھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں گمراہیوں کے عمیق اندھیریوں میں ڈوبتا جا رہا ہے قتل عام ہو گیا نشہ کوئی نئی بات نہیں رہی بے حیائی کی خباثت دل سے نکل گئی اور ان سب کاموں میں مسلم نوجوان سرفہرست نظر آتے ہیں
نماز جمعہ کا ترک کرنا
نمازِ جمعہ کو بلا کسی شرعی عذر کے محض سستی، غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے چھوڑ دینا نہایت سنگین گناہ اور سخت وعید کا موجب ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ : یعنی جو شخص سستی اور لاپروائی کی وجہ سے تین جمعے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں ( ترمذی)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ : یعنی لوگوں کو جمعہ چھوڑنے سے ضرور باز آجانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہوجائیں گے (صحیح مسلم)
افسوس کہ آج ہم اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخلہ دلا رہے ہیں جہاں نمازِ جمعہ کی اجازت تک نہیں ہوتی، حالانکہ ان پر پانچوں وقت کی فرض نمازیں بھی لازم ہیں اور جمعہ کی نماز بھی فرض ہے۔ ذرا سوچیے! اسکول کی پابندیوں کی وجہ سے ہمارے بچے فرض نمازوں سے بھی محروم ہو رہے ہیں اور جمعہ جیسے عظیم فریضے سے بھی۔ آخر ہم اپنے بچوں کے دین و ایمان کے ساتھ یہ کیسا سمجھوتہ کر رہے ہیں؟ ان کے دلوں پر کتنے سیاہ نقطے لگ رہے ہیں اور ان کی روحانی زندگی کس قدر متاثر ہو رہی ہے؟ دنیا کا مستقبل سنوارتے سنوارتے کہیں ہم ان کی آخرت تو برباد نہیں کر رہے؟

جمعہ کے دن اور دعا کی قبولیت
جمعہ کے دن کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی ساعت ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔

جمعہ کے دن قبولیتِ دعا کی ساعت کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ مسلمان اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ ساعت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک ہے۔ (صحیح مسلم)
ایک دوسری روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اس ساعت کو عصر کے بعد جمعہ کے آخری وقت میں تلاش کرو۔ (سنن ابی داؤد)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بھی عصر کے بعد غروبِ آفتاب سے پہلے کے وقت کی تائید منقول ہے۔ (سنن ابی داؤد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جمعہ کا دن عرفہ کے دن کی مانند ہے، اس میں ایک ایسی ساعت ہے جس میں رحمت کا دروازہ کھولا جاتا ہے؛ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی ساعت ہے تو فرمایا: جب نماز کے لیے منادی کرنے والا اذان دے (مصنف ابن ابی شیبہ)

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دعا کے لیے خطبے اور نماز کے وقت بھی اہتمام کیا جائے اور خصوصاً عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک کے لمحات کو غنیمت سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ تہجد اور سحر کے وقت کو بھی فراموش نہ کیا جائے؛ کیوں کہ یہ دعا، استغفار اور رجوع الی اللہ کے نہایت بابرکت اوقات ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي، یعنی عنقریب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا۔ (سورۂ یوسف)
امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر اہلِ علم سے نقل کیا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کے لیے استغفار کو وقتِ سحر تک مؤخر کیا تھا؛ اسی تفسیر میں جمعہ کی رات تک استغفار مؤخر کرنے سے متعلق ایک روایت بھی مذکور ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، تفسیر جلالین)
لہٰذا جمعہ کے دن ہمیں چاہیے کہ خطبے و نماز کے اوقات میں، عصر کے بعد غروبِ آفتاب سے پہلے اور رات کے آخری حصے میں دعا، توبہ اور استغفار کا اہتمام کرے؛ اپنی حاجات کے ساتھ والدین، اہل و عیال اور تمام اہلِ ایمان کے لیے بھی دعا کرے۔

التجاء اور درخواست
اے غفلت کی گہری نیند میں مست مسلمان بھائیوں! خدارا ذرا ٹھہریے، دستِ جنوں کو عنان دیجیے اور اپنے باطن کے آئینہ خانے میں جھانک کر دیکھیے! کیا یومِ جمعہ جو سید الایام، سرچشمۂ فیضانِ الٰہی اور بارگاہِ ایزدی میں باریابی کا جلیل القدر لمحہ تھا صرف اس لیے مقدر ہوا تھا کہ ہم اسے حظوظِ نفسانی اور دنیوی تگ و دو کی بے وقعت نذر کر دیں؟
ہائے حسرت و الم! جن قدسی ساعتوں میں ملائکۂ مقربین رحمتوں کے خیمے تانے، لوح و قلم کو جنبش دیتے ہوئے اولیں عشاق کے مبارک نام درج فرما رہے ہوتے ہیں، ہم اس وقت بھی خاک دانِ دہر کی چمک دمک کے اسیر بن کر خوابِ غفلت کے بستر پر بے سدھ پڑے رہتے ہیں، اور جب ندائے حق کے آخری نقارے گونج کر خاموش ہو جاتے ہیں، تب کہیں جا کر رسمِ بندگی کی خاطر ہانپتے کانپتے مسجد کی طرف قدم اٹھاتے ہیں۔
کب تک یہ تساہل اور قلوب پر جمی یہ زنگ آلود سیاہی؟ خدارا سوچیے! اگر اسی خفتگی اور تسویف کے عالم میں قابضِ ارواح کا پیامِ اجل آن پہنچا، تو اس ربِّ قدوس کی بارگاہ میں کیا منہ لے کر حاضر ہوں گے جس نے ہر جمعہ اپنی رحمت کے ابواب عطاء فرمائے مگر ہم نے روگردانی کی؟
اس سے قبل کہ توبہ کے روزن بند ہو جائیں، دلوں پر شقاوت و محرومی کی ابدی مہر ثبت کر دی جائے، اور ہماری غفلت ہمیں حسرت و پشیمانی کے اس تپتے صحرا میں لا کھڑا کرے جہاں ندامت کے آنسو بھی سنگلاخ مایوسی کا مداوا نہ کر سکیں گے خدارا خوابِ غفلت سے جاگیے، عزمِ مصمم کے ساتھ اٹھیے، اپنے گناہوں کے بوجھ تلے سسکتی روحوں کے ساتھ بارگاہِ رب العزت میں سجدۂ انابت میں گر جائیے، سچے دل سے تڑپ کر مغفرت طلب کیجیے، اور یومِ جمعہ کے ہر ہر سانس کو توبہ، درود اور تجدیدِ وفا کی نذر کر کے اپنے پروردگار کو راضی کر لیجیے۔ الٰہی! ہمارے منجمد دلوں کو حیاتِ تازہ بخش دیجیے، اور اس سید الایام کی برکات سے ہماری آخرت سنوار دیجیے۔ آمین

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے