کلیوگ میں انسانیت کے نام پر ہونے والے سنگین جرائم کی ایک اور ہولناک کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ مارکس ویسن نامی ایک شخص، جسے باہر سے دیکھنے والے نیک اور فلاحی سمجھتے تھے، درحقیقت اپنے خاندان پر ظلم ڈھانے والا ایک سفاک شیطان نکلا۔ معاشرہ اسے بے سہارا لڑکیوں کو پناہ دینے والا مسیحا سمجھتا تھا، لیکن حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔
مارکس لڑکیوں کو پال پوس کر بڑا کرتا تھا، لیکن جوان ہوتے ہی ان سے شادی کر لیتا تھا۔ اس کے بعد انہیں حاملہ بنایا جاتا تھا۔ 12 مارچ 2004 کو فریسنو پولیس کو ایک گھر میں جھگڑے کی اطلاع ملی۔ جب پولیس وہاں پہنچی تو پورا معاملہ سامنے آ گیا۔
واقعہ کیا تھا؟ب پولیس شکایت پر مارکس ویسن کے گھر گئی تو انہیں ایک مردہ بچہ ملا۔ اس کی لاش خود مارکس باہر لے کر آیا تھا۔ اندر جا کر پولیس حیران رہ گئی۔ بستر پر مزید 8 کم عمر بچوں کی لاشیں ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوئی تھیں۔ مجموعی طور پر 9 معصوم بچے، جن کی عمریں 1 سے 8 سال کے درمیان تھیں، سب کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا
اس نے کلٹ کیسے بنایا تھا؟ویسن نے کئی دہائیوں تک ایک بند خاندانی کلٹ قائم کر رکھا تھا۔ وہ اپنی بیٹیوں، بھتیجیوں اور ان لڑکیوں کو، جنہیں اس نے بچپن سے پالا تھا، اپنی “بیویاں” بناتا گیا۔ اس نے خاندان کو مکمل طور پر دنیا سے الگ تھلگ رکھا۔ نہ ٹی وی، نہ اخبار اور نہ ہی باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ ہونے دیا۔ وہ خود کو مذہبی رہنما ظاہر کرتا تھا اور بائبل کے حوالے دے کر اپنے جرائم کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
خاندان کے افراد کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ اگر پولیس یا باہر کے لوگ بچوں کو لینے آئیں تو انہیں قتل کر دینا بہتر ہے۔ جب اس کی دو بیٹیوں نے بغاوت کی اور اپنی اولاد کو واپس لینے کے لیے پولیس کے ساتھ آئیں تو مارکس ویسن نے گھر کے پچھلے کمرے میں جا کر یہ خوفناک واردات انجام دی۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اس نے خاندان کے ایک فرد کو گولی چلانے کا حکم دیا اور خود آخری گولیاں چلائیں۔
عدالت کا فیصلہ میں عدالت نے مارکس ویسن کو 9 قتلوں کا مجرم قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی اسے 14 جنسی جرائم (زیادتی اور استحصال) کے مقدمات میں بھی سزا سنائی گئی، جن میں اس کی کم عمر بیٹیاں اور بھتیجیاں شامل تھیں۔ جج نے اسے سزائے موت سنائی۔ اس وقت وہ کیلیفورنیا ڈیتھ رو میں قید ہے۔
بچ جانے والے بچوں اور خاندان کے افراد نے عدالت میں ہولناک گواہیاں دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ویسن کے تسلط میں خاندان کے افراد کو مارپیٹ، ذہنی اور جسمانی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بچوں کو صرف وہی دنیا معلوم تھی جو ویسن کے بنائے ہوئے قوانین اور اصولوں کے تحت چلتی تھی