ایران اور امریکہ کی جنگ کے 3 ماہ اور 16 دن بعدامن کے ایک تاریخی سنگ میل پر امن معاہدہ ہوگیا ۔ اس کے تحت لبنان سمیت تمام فوجی محاذوں پر جنگ کے فوری خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ اس معاہدے میں ایران کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی بن گویر کی سخت ناراضی ہے۔ اس بدمعاش نےاس امن معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے اور وہ امریکہ کے مطالبات کا پابند نہیں ہے۔ امریکہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے اسرائیل کو جب اس کے آقا نے حیثیت دِکھا دی تو اسے اپنی صفائی میں یہ کہنا پڑالیکن اب اس صہیونی ریاست کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ جس امریکہ کی بھروسے ’یہ شاخِ نازک پھل پھول رہی تھی ‘ اس نے شہ رگ کاٹ دی ہے اور اب اس شجر خبیثہ کے مرجھانے کا وقت آچکا ہے۔ ایتامار بن گویر نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس لیے اسرائیل اس کا فریق نہیں ہے۔اسے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کہتے ہیں کیونکہ پورے امن مذاکرات سے اسرائیل کو دودھ کی مکھی کے مانند نکال پھینکا گیا ۔ بن گوئر نے کہہ تو دیا معاہدے کا اسرائیل پر اطلاق نہیں ہوگا مگر اس کی مجال نہیں ہے کہ وہ امریکہ کو آنکھ دکھائے اور اگر ایسی جرأت کی گئی تو ٹرمپ اسے پھوڑ دے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان جاری کرکے اطلاع دی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ سب کو مبارک ہو۔ میں آبنائے ہرمز کو ٹول فری بنیادوں پر مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں اور ساتھ ہی امریکہ کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دیتا ہوں۔ دنیا کے جہاز اپنے انجن شروع کریں، تیل کو آزادانہ بہنے دیں۔ کاش کے یہ معاہدہ ایک ہفتہ قبل ہوجاتا تو مودی اور ٹرمپ کی دوستی کا بھی بھرم رہ جاتا ۔ پچھلے ہفتے یکے بعددیگرے تین دنوں تک امریکہ نے ہندوستانیوں پر حملہ کرکے مودی کو ان کی اوقات دِکھا دی ۔ اس کے بعد جب وزیر خارجہ نے بہت ہمت جٹا کر احتجاج درج کرایا تو امریکی وزیر خارجہ نے ایسی بے عزتی کی دماغ ٹھکانے آگیا ۔ اب جئے شنکر امریکہ کے خلاف دوبارہ زبان کھولنے کی جرأت نہیں کریں گے اور مودی جی من ہی من خوش ہورہے ہیں کہ اچھا ہی ہوا جو وہ نہیں بولے ورنہ ان کے خلاف ٹرمپ کا ردعمل یقیناً مارکو روبیو سے کہیں زیادہ سخت ہوتا اور راہل گاندھی کو مذاق اڑانے کا ایک نادر موقع ہاتھ آجاتا ۔
وزیر اعظم مودی کو اپنے ملاحوں کی ہلاکت سے زیادہ صدمہ اس کاہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر باضابطہ دستخط کی جو تقریب سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہوگی اس کی میزبانی کا شرف پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے حصے میں آئے گا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نےبھی امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے۔
شہباز شریف یا شیخ محمد آل ثانی نے و معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا ذکرکرنے گریز کرکے اچھا کیا ورنہ نیتن یاہو کے ساتھ نریندر مودی کا نام بھی آسکتا تھا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکہ ، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کی دنیا کے بڑے ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی مگر دہلی میں سناٹا پسرا ہوا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس معاہدے پر اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن قائم ہوگا۔شیخی باز نےیہ بھی کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے حصولِ امن میں سچی مدد کی ہے۔ سچائی تو یہ ہے اوبامہ کے ذریعہ کیے جانے والے امن معاہدے کو ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کردیا تھا ۔ اب جنگ میں شکست کے بعد عقل ٹھکانے آئی ہے۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔ اس میں نیا کیا ہے؟ ایران پہلے بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے کا اعلان کرتا رہا ہے اور آبنائے ہر مز تو امریکی حملے کے بعد بند ہوئی ورنہ اس میں کون سی رکاوٹ تھی لیکن ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا خواب، ایرانی تیل پر قبضے کا ناپاک ارادہ، ایران سے ایٹمی مواد نکالنے دھمکی جیسی ساری گیدڑ بھپکیاں خاک میں مل گئیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نےمعاہدے کی تصدیق کی اورامریکہ کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کے عمل کا اعلان کیا ۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحالی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ اس کے ساتھ کاظم خیراآبادی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکہ کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔اس جنگ کا سب بڑا حاصل امریکی اور اسرائیلی دھا ک اور دبدبہ کا خاتمہ ہے۔ موجودہ تصادم نے دشمن کا ڈر نکال دیا ۔ ایرانی میڈیا نے جو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ شائع کیا ہے اس میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کی تعمیرِ نو جیسے اہم معاملات پر شرائط اور عمل درآمد کا طریقہ کار نمایاں ہے۔ اس مسودے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کے علاوہ امریکہ پرایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور ایران کی خودمختاری کا احترام کرنے کی پابندی شامل ہے۔اس میں ایران کے خلاف بحری محاصرہ 30 روز کے اندر مکمل طور پر ختم کرنااور ایران کے اطراف سے امریکی فوجی دستوں کی واپسی شامل ہے ۔ مسودے کے مطابق ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلقہ اشیا کی فروخت پر عائد پابندیاں معطل کی جائیں گی اور ایران کو اپنے مالی وسائل تک مکمل رسائی دی جائے گی۔ امریکہ کو ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پیش کرنے ہوں گے نیز 24 ارب ڈالر کے منجمدایرانی اثاثے بحال کیے جانے کی بھی شق ہے اور اس میں سے نصف رقم مذاکرات کے آغاز میں ایران کے حوالے کر دی جائے گی۔
ایران کے میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت سے متعلق معاملات کو مذاکرات کے ایجنڈے میں کسی طور شامل نہیں کیا جائے گا۔مسودے کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور ایران پر کوئی نئی پابندی بھی عائد نہیں کرے گا۔ یہ ساری تفصیلات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ایران کا دعویٰ ’جنگ تم نے شروع کی ختم ہم کریں گے ‘ سچ نکلا ۔ جنگ ایران کی شرائط پر ختم ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خاتم الانبیاء عسکری ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ’ اللہ کے حکم سے امریکہ اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں‘۔ اس جنگ کا کمال یہ ہے کہ اس نے ایک جھٹکے میں مشرق وسطیٰ سے سارے امریکی فوجی ٹھکانوں کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔بقول امین اعجاز ؎
تمہاری پھونک سے کیا فرق پڑنے والا ہے
جہاں میں حق و صداقت کا بول بالا ہے