خبردار کاکروچ جنتا پارٹی ، نیا سیاسی تجربہ یا اپوزیشن اتحاد سے دھیان ہٹانے کی کوشش؟
ازقلم: شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج کے وقت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انڈیا اتحاد کے حامیوں کو یقین ہے کہ یہ احتجاج نئی دہلی میں انڈیا بلاک کے اجلاس سے عوام اور میڈیا کی توجہ ہٹانے کا کام کرے گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انڈیا الائنس اس وقت ملک کا سب سے بڑا اور سب سے وسیع اپوزیشن پلیٹ فارم ہے۔ یہ اتحاد بھاجپا کی قیادت میں این ڈی اے کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کی مختلف علاقائی اور قومی جماعتوں کو ایک ساتھ لے کر چلتا ہے اور انتخابی اصلاحات، ایس آئی آر، جمہوری اداروں کے تحفظ اور اپوزیشن کی یکجہتی جیسے مسائل پر مشترکہ آواز بلند کرتا ہے۔ پورے ملک میں ان کے ساتھ لاکھوں افراد ہیں اور کئی ریاستوں میں ان کی حکومت بھی ہے۔ اسی لیے جب انڈیا بلاک کا اہم اجلاس جاری ہو اور اسی وقت کوئی دوسرا سیاسی واقعہ یا احتجاج بھی ہو رہا ہو تو شک ہونا لازمی ہے اور میڈیا کی توجہ بٹ جانا فطری بات ہے۔ ایسے میں اپوزیشن حکمت عملی اور مشترکہ سیاسی لائحہ عمل پر ہونے والی بحث پس منظر میں چلی جائے گی۔ اتحاد کے حامیوں کا موقف یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی ہی وہ واحد راستہ ہے جو قومی سطح پر بھاجپا کے سامنے ایک مضبوط اور قابل بھروسہ متبادل پیش کر سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ عین اسی وقت اور عین اسی جگہ احتجاج کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ یہ محض اتفاق ہے یا سوچی سمجھی حکمت عملی، اس کا جواب تو وقت ہی دے گا۔ مجھے یہ راہل گاندھی کی لیڈرشپ کے خلاف ایک منظم سازش نظر آ رہی ہے۔ سی جے پی کا یہ احتجاج انڈیا بلاک کے اجلاس پر اثر ڈالتا ہے یا نہیں، یہ بالآخر سیاسی تشریح اور عوامی تاثر کا معاملہ ہے۔ لیکن ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ اگر سی جے پی کوئی انتخاب لڑتی ہے تو اسے ووٹ آخر کہاں سے آئیں گے؟ نوجوانوں میں پرچہ لیک اور بے روزگاری کی وجہ سے حکومت کے خلاف غصہ ہے، نوجوان راہل گاندھی کو اپنے لیڈر کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسی سے خوف کھا کر راتوں رات ایک پارٹی بنائی گئی، دو تین دن میں اس کے کروڑوں فالوور ہو گئے، ایسا کیسے ممکن ہے؟ سی جے پی کو وہی لوگ ووٹ دیں گے جو پہلے سے اپوزیشن جماعتوں اور انڈیا الائنس کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ بھاجپا کا ووٹ بینک بالکل الگ ہے اور وہ سی جے پی جیسی نئی جماعتوں سے ذرا بھی متاثر ہونے والا نہیں ہے۔
آخر میں ایک تاریخی سبق یاد رکھنا ضروری ہے۔ کبھی عام آدمی پارٹی بھی کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھری تھی۔ انا آندولن کی لہر اور میڈیا کی بھرپور حمایت نے اسے بہت تیزی سے آگے بڑھایا۔ لیکن اس پورے سیاسی کھیل کا سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوا؟ بھاجپا کو۔ ہم سب کو تاریخ کو اتنی جلدی بھلانا نہیں چاہیے۔آج دہلی میں جنتر منتر پر سی جی پی CJP کا احتجاج جاری ہے سارا میڈیا کوریج دے رہا ہے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت بھی آسانی سے مل گئی جہاں دوسری پارٹیوں اور لوگوں کو اجازت لینے میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں کئی شرطیں لگائی جاتی ہیں دو ہزار سے زیادہ افراد نہ هوں اتنے بجے شروع کرو اتنے بجے ختم کرو وغیرہ وغیرہ انہیں بڑی آسانی سے اجازت مل گئی خیر پڑھنے والے کافی سمجھدار ہیں۔ سارا کھیل سمجھ جائیں گے۔ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے حزب اختلاف کو متحد اور خبر دار رہنے کی ضرورت ہے۔