اسلامی ممالک کے درمیان اختلاف و انتشار کو ایک زمانے تک امت کے سارے مسائل کی جڑ سمجھا جاتا تھا ۔ اہل ایمان کو عار دلانے کی خاطر یوروپ و امریکہ کے اتحاد کی مثال دی جاتی تھی اور یہ بھی کہا جاتا تھا کہ جب تک سارے مسلمان ممالک متحد نہیں ہوجاتے اسرائیل کو شکست دینا ناممکن ہے۔ اس کے ساتھ یہ پیشنگوئی بھی کی جاتی چونکہ مسلم ممالک کے اتحاد کا کوئی امکان نہیں ہے اس لیے اب تاقیامت اسرائیل کے ہاتھوں ذلت و رسوائی امت کا مقدر ہے۔ حالیہ جنگ نے ان میں سے کئی بت توڑ دئیے۔ اول تو اکیلا ایران ہی اسرائیل کے لیے کافی ہوگیا۔ اس کے علاوہ کسی مسلم ملک ایران پر جوابی حملہ کرکے دشمنان اسلام کی مدد نہیں کی۔ ویسے یوروپ و امریکہ کا اتحاد بھی ایک خیالی بیانیہ تھا کیونکہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم جیسی کوئی جنگ مسلمانوں نے آپس میں نہیں لڑی۔ اس بڑے پیمانے پر ایک دوسرے کا خون بھی مسلم ممالک نے کبھی نہیں بہایا۔ ایک عرصے سے جاری یوکرین اور روس کے میدان میں بھی دونوں جانب یوروپی عیسائی خون خرابہ کررہے اور جنگ بندی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ وہاں مرنے اور زخمی ہونے والوں کی جملہ تعداد کئی لاکھ ہوچکی ہے۔
یوکرین کے حوالے سے یوروپ اور امریکہ کے درمیان اختلاف پہلے سے تھے مگر ایران اور امریکہ کی جنگ میں بھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ نظر نہیں آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب آبنائے ہُر مز کو کھولنے کے لیے دنیا بھر سے گہار لگائی تو کوئی ساتھ نہیں آیا۔ سب نے صاف کہا یہ ہماری جنگ نہیں ہے تم جانو تمہارا کام جانے۔ یوروپ اور امریکہ کے درمیان تعلقات بگاڑنے میں گرین لینڈ اور کینیڈا پر امریکی دعویٰ نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ ویسے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سب سے بے مثال دوستی تھی جس میں اب بال پڑ گیا ہے ۔ اسرائیلی روزنامہ ”معاریو” کے مطابق ان کے بیچ فاصلے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اسرائیلی حکام کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسلحہ پر پابندی کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔ امریکہ کا جو معاندانہ سلوک کسی زمانے میں ایران کے ساتھ ہواکرتا تھا ویسا ہی کہیں اسرائیل کے ساتھ نہ ہوجائےیعنی سکیورٹی پابندیاں نہ تھوپ دی جائیں یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ امریکہ نے بیس فیصد میزائل ہٹانے کی دھمکی دے دی ہے ۔
بڑے میاں ٹرمپ تو ٹرمپ چھوٹے میاں یعنی امریکہ کے نائب صدی جی ڈی وینس کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل یہ بھولے کہ جس ہتھیار سے وہ لڑتا ہے اس کا دوتہائی امریکہ سے آتاہے۔ اس لیے اپنی اوقات کا لحاظ کر کےحد اندر رہے۔ اس اعلان کے بعد نیتن یاہو کو ٹیلی ویژن پر خود کفالت کا راگ الاپنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ اس نے کہا کہ اب ہمیں کسی اور پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے پیر پر کھڑا ہونا ہوگا ۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ سبق اپنے اولین دشمن ایران سے سیکھا ہے جو اسلحہ کے معاملے میں بڑی حدتک خود کفیل ہے۔ عبرانی اخبار کے مطابق اسرائیلی حکام اس بات پر فکرمند ہیں کہ امریکہ وایران کے مفاہمتی معاہدے کے دوران اسرائیل واشنگٹن کے ساتھ سنگین اختلافات گہرے ہوتے چلے گئےاور اگر تل ابیب اپنی موجودہ پوزیشن پر قائم رہا تو نہ صرف اسلحہ کی ترسیل میں تاخیر اور فوجی امداد پر پابندیاں لگیں گی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لبنان میں اسرائیل کی کشیدگی پر تنقیدی بیانات اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں ان کے ذاتی تبصرے امریکی دباؤ کی علامت ہیں اور ان میں مزید شدت کا امکان ہے۔
اخبار معاریو کے مطابق امریکی مطالبات میں جنوبی لبنان کے پانچ مقامات سے انخلا، شام کے ہرمن علاقے کو خالی کرنا اور فوجی کشیدگی میں نمایاں کمی شامل ہے تاکہ ایران کے ساتھ سفارتی عمل کی پیش رفت پر آنچ نہ آئے۔حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات درست کرنے کی خاطر ٹرمپ سے ملاقات یا ایک اعلیٰ سطحی وفد کو واشنگٹن بھیجنے کی تیاری چل رہی ہےمگر امریکہ کی جانب سے مثبت جواب کا انتظار ہے۔صدر ٹرمپ نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل پر لبنان میں اسرائیل کی کارروائی کے حوالے سے کڑی تنقید کے بعد اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کردی ہے ۔ جی۔7ممالک کے اجلاس میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘ہمیں لبنان کو لے کر تھوڑا سا اختلاف ہے۔ میں کہتا ہوں، ”آپ تھوڑا نرم انداز اپنا سکتے ہیں، بیبی(نیتن یاہو) ۔ حزب اللہ کے کسی رکن کو نشانہ بنانے کے لیے ہر بار کوئی عمارت گرانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
لبنان پر اسرائیلی حملے نے امریکہ -ایران مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس کے بعد ایک نجی فون کال میں ٹرمپ نے مبینہ طور پر سخت لہجے میں نیتن یاہو کو ‘ پاگل’ قرار دے کر یہاں تک کہہ دیا کہ : ‘تم کیا بیوقوفی کر رہے ہو؟’ اس دوران امریکہ دو معروف صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان نے امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ایک انتہائی کشیدہ ٹیلی فونک گفتگو کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ کتاب کے مطابق اس کال کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو شدید جھاڑ پلائی اور ان پر سخت الفاظ اور گالیاں برسائیں۔ اس فون کال کے وقت ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر اور وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے ۔ ان کے سامنے ٹرمپ نےنیتن یاہو سے کہا "بی بی، ہر کوئی تم سے تنگ آ چکا ہے۔ ہر یہودی تم سے تنگ آ چکا ہے، حتیٰ کہ لائن پر موجود یہ دو یہودی (کشنر اور وٹکوف) بھی تم سے اکتا چکے ہیں”۔
اس نئی کتاب ‘Regime Change’ (حکومت کی تبدیلی) میں ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کار کے پہلے سال کے سیاسی نشیب و فراز ، قصرِ ابیض کے پس پردہ واقعات اور امریکہ کے اندر و باہر اعلیٰ حکام کے درمیان تعلقات پر ایک باب ہے۔اس میں مذکورہ بالا انکشافات کیے گئے لیکن ان کا ایسے وقت میں سامنے آجانا جب امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے اور لبنان میں جاری جنگ کے تناظر میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو "پاگل” تک قرار دے دیا ہو معاملے تو دوآتشہ کردیتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مودی کو ہنستے ہوئے فرشتہ نما قاتل کہہ دے اورسامعین ناظرین کو گجرات کے فسادات یاد آجائیں۔ اس کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم کی سمجھ میں یہ نہیں کہ ’میں رووں یا ہنسوں ، کسی سے کیا کہوں؟فی الحال نیتن یاہو کو اپنے یار غار ٹرمپ سے جو غم مل رہا ہے اس پر احمد فراز کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
نیتن یاہو کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے سابق اسرائیلی وزیرِ انصاف ڈینیل فریڈمین نے عبرانی اخبار "معاریو” میں غزہ کی جنگ کے نتائج اور اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت و عالمی شبیہ پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ۔ اپنے مضمون میں انہوں نے یہاں تک لکھ نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھوں اسرائیل سمیت خود کو ذلیل کرنے کا موقع دیا ہے۔فریڈمین کہتا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ تباہ حال غزہ کی پٹی، مردہ اور زخمی بچے، اور ملبے کے درمیان بھٹکتے لوگ، اور تیز دھوپ یا شدید بارش میں خیموں میں زندگی کی تصاویر دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل میں کچھ لوگ اسے قومی مفاد میں سمجھتے ہیں لیکن یہ صرف جزوی حقیقت ہے۔ اسرائیل کے تعلق سے رائے عامہ میں آنے والی تبدیلی اسرائیلی مفادات کے خلاف ہیں۔
فریڈمین کے مطابق 7؍اکتوبر 2023ء کے فوراً بعد عالمی رائے عامہ بڑی حد تک حماس کے خلاف تھی، لیکن جنگ جاری رہنے اور وقت گزرنے کے ساتھ غزہ کی تباہی نے حماس کے حملے کی بحث کو پسِ پشت ڈال دیا اور دنیا بھر کے لوگ، بشمول دوست اور اتحادی، تیزی سے اسرائیل کے خلاف ہو گئے۔ان کے مطابق مغربی کنارے میں تشددکےحوالے سے یہودی اور عرب حملہ آوروں کے ساتھ غیر مساوی سلوک اور وزراء اور اتحادی اراکینِ پارلیمنٹ کے بیانات اسرائیل کی سلامتی پر حملہ ہے۔ وہ بیانیہ ،اسرائیل کو کمزور کرکے، دشمنوں کو مضبوط کرتا ہے ۔فریڈمین نےیاد دلایا کہ ستمبر 2025ء میں اسرائیل کے ذریعہ حماس کے سینئر لیڈروں کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی تو اس کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قطری رہنماوں سے معافی مانگیں اور یقین دہانی کریں کہ اسرائیل قطری سرزمین پر حملے نہیں کرے گا۔
فریڈمین کے مطابق ٹرمپ نے حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں پر پابندیاں عائد کرکے اسرائیلی کے موقف کو نظرانداز کیا ہے۔ امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر عالمی توانائی کی روانی بحال کرنے کے چکر میں نہ صرف امریکی ڈالر بلکہ اسرائیلی مفادات قربان کرنے کو تیار ہے۔ فریڈمین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اب اسرائیل ایک بین الاقوامی کشمکش میں’متاع کوچہ و بازار‘ بن چکا ہے ۔ وہ اسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہودیوں کے ساتھ بدترین تجارت اور سودے بازی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی ٹرمپ کے مقروض ہونے کا اعتراف بھی کرتے ہیں ۔ وہ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں انہوں نے غزہ کی لامتناہی جنگ روکی اور یرغمالوں کو واپس لایا۔فریڈ مین کے نزدیک جنگ کو طول دینا وہ نیتن یاہو کی ناکامی تھی ۔ ویسے ایک ایسے امریکی صدر سے کیا توقع کی جائےکہ اسرائیل بہت پہلے تباہ ہوجاتا اگروہ مداخلت نہیں کرتا اور امریکہ کے بغیر اسرائیل کا وجود ہی نہیں ہوتا۔اس میں شک نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل تعلقات ماضی میں کبھی اتنے برے نہیں تھے مگر مستقبل میں مزید خراب ہی ہوں گے۔