تحریکاتِ اسلامی میں دعوت کا نظام: اہمیت و طریقہ کار
ترتیب: عبدالعزیز
تحریکاتِ اسلامی کی بنیاد دعوت پر قائم ہے۔ دعوت یہ ایک لفظ نہیں، ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ یہ وہ دھڑکن ہے جس سے اسلامی تحریکوں کا وجود قائم ہے۔ جب کوئی تحریک دعوت چھوڑ دیتی ہے تو وہ ایک بے روح ڈھانچہ بن جاتی ہے۔ باہر سے منظم، اندر سے کھوکھلی۔ کسی بھی اسلامی تحریک کے لیے دعوت کا نظام ایک شعبہ نہیں بلکہ اس کی بقاء ، نمو اور شناخت کا بنیادی محور ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دعوت کسی بھی تحریک میں داخلے کا دروازہ Gateway ہے جس کے ذریعے افراد کو اسلامی فکر، مقصد حیات اور اجتماعی جدوجہد سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ دعوت وہ پہلا قدم ہے جس کے بغیر کوئی نظریاتی سفر شروع نہیں ہوتا۔ جب کوئی نیا انسان تحریک کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے داعی سے ملتا ہے۔ یعنی داعی کا چہرہ ہوتا ہے۔ اگر یہ چہرہ پرکشش مخلص اور باعمل ہو تو نیا انسان آگے بڑھتا ہے ورنہ دروازے ہی سے واپس لوٹ جاتا ہے۔ دعوت کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ نظریاتی افراد کی تیاری کا ذریعہ بنتی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دعوت کو انبیاء کراؑم کا بنیادی فریضہ قرار دیا۔ اور یہی مشن آج کی اسلامی تحریکات بھی آگے بڑھا رہی ہیں اگر دعوت نہ ہو تو کوئی بھی تحریک اپنی بقاء، وسعت اور اثر انگیزی قائم نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے دعوت کو تحریک کی روح اور زندگی کہا جاسکتا ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کے لیے بہترین مٹیریل کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحریکات اسلامی کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھانے کے لیے مخلص اور نظریاتی افراد کار کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب دعوت کا نظام فعال ہوتا ہے، تو تحریک کو ایسے باصلاحیت اور نظریاتی افراد میسر آتے ہیں جو تنظیم کے استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ ان افراد کی شمولیت سے نہ صرف تنظیم کا ڈھانچہ مضبوط بنتا ہے بلکہ تحریک کی نظریاتی فکر پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ممکن ہوتا ہے۔ ایک ایک فرد دعوت سے روشناس ہوکر معاشرے کا کندن بن جاتا ہے۔ اسی طرح آج جب اسلامی تحریکیں اندرونی کمزوریوں اور بیرونی چیلنجوں میں گھری ہیں، یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ ہماری دعوت کتنی مؤثر، کتنی منظم اور کتنی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟ اس پر غور وفکر کر کے اپنی دعوت کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر مؤثر بنانا چاہیے۔ قرآنِ کریم نے دعوت کو پیغمبری کا مرکزی فریضہ قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاؤ‘‘۔ یہ آیت دعوت کی تین بنیادیں بیان کرتی ہے: حکمت یعنی دانشمندی، موعظہ حسنہ یعنی دلنشین انداز اور مجادلہ بالتی ہی احسن یعنی بہترین اور موثر دلائل۔ دوسری جگہ فرمایا: ’’تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو نیکی اور بھلائی کی طرف بلائے‘‘۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’میرے بعد میری طرف سے تمہیں ایک آیت بھی پہنچے تو دوسروں کو پہنچاؤ‘‘۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دعوت صرف علماء کا نہیں، بلکہ ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا: ’’جو شخص کسی کو ہدایت کی طرف بلائے اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی‘‘۔ قرآن نے داعی کو یہ معیار دیا کہ وہ آگے بڑھ کر دعوت دے اور خود بھی عمل کرے، دعوت کے تقاضوں میں سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ داعی خود نمونہ بنے، دوسرا یہ کہ مخاطب کی سطح کو سمجھے، تیسرا یہ کہ صبر اور تسلسل ہو اور چوتھا یہ کہ دعوت محبت اور ہمدردی سے دی جائے نہ کہ غصے اور تکبر سے۔ دعوت کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے موجودہ دور کی تین بڑی تحریکات اسلامی کا مطالعہ کریں تو دعوت کے نظام کو بہتر طور پر سمجھنا آسان ہو جائے۔
اخوان المسلمون کا قیام 1928ء میں امام حسن البنا اسماعیلیہ مصر میں عمل میں لائے۔ یہ تحریک شروع ہی سے ایک منظم دعوتی نظام پر کھڑی تھی۔ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانا اور اقامت دین کی جدو جہد کے ذریعے اللہ کے دین کو قائم کرنا ان کی دعوت کی بنیاد تھا۔ اخوان کا دعوتی ڈھانچہ تین سطحوں پر کام کرتا تھا۔ پہلی سطح ’’اَسرہ‘‘ یعنی خاندان کی تھی… پانچ سے دس افراد کا ایک چھوٹا حلقہ جو ہفتہ وار ملتا، قرآن پڑھتا، نظریاتی تربیت لیتا اور ایک دوسرے کے احوال جانتا۔ دعوت کی رپورٹ رکھتا۔ یہ دعوت کی سب سے بنیادی اکائی تھی۔ دوسری سطح ’’شعبہ‘‘ کی تھی… علاقائی سطح پر تنظیم جو مساجد، اسکولوں اور فلاحی اداروں کے ذریعے دعوت پہنچاتی، رابطہ عوام کرتی نظرآتی ہے۔ تیسری سطح ملکی سطح پر قیادت کی تھی جو پالیسی اور حکمت ِ عملی طے کرتی اور دعوت کے ذریعے اس کو معاشرے میں وسعت دیتی۔ اخوان کی دعوت کا سب مؤثر پہلو یہ تھا کہ انہوں نے دعوت کو خدمت کے ساتھ جوڑا۔ اسکول، اسپتال، یتیم خانے یہ سب دعوت کے ذرائع تھے۔ عوام نے جب دیکھا کہ یہ لوگ کہتے بھی ہیں اور کرتے بھی ہیں تو دلوں نے قبول کیا۔ امام البنا خود گلیوں میں نکلتے، چائے خانوں میں بیٹھتے اور عام لوگوں سے دعوتی گفتگو کرتے یہ ’’دعوتِ میدانی‘‘ کا بے مثال نمونہ تھا۔
جماعت ِ اسلامی کی بنیاد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 1941ء میں رکھی۔ جماعت کا دعوتی نظام فکری اور نظریاتی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ مولانا مودودی کا نقطۂ نظر تھا کہ دعوت محض جذباتی نہیں، فکری ہونی چاہیے انسان کی عقل کو قائل کرو، دل خود جھکے گا۔ جماعت کا دعوتی نظام تین ستونوں پر کھڑا ہے۔ پہلا ستون تقسیم لٹریچر؛ مولانا مودودی کی تحریریں، تفہیم القرآن، رسائل و مسائل اور دیگر کتب نے کروڑوں لوگوں تک فکری دعوت پہنچائی۔ ان کا دعوتی لٹریچر خصوصاً چھوٹے کتابچوں کی تقسیم اور ان پر عوام سے مکالمہ سازی۔ ترجمان القرآن جیسا رسالہ دہائیوں سے فکری دعوت کا مستقل ذریعہ رہا۔ دوسرا ستون حلقہ درس اور اجتماع عام، جماعت کے کارکن باقاعدہ دروس قرآن، دروسِ حدیث اور نظریاتی مطالعہ کے حلقے چلاتے ہیں۔ ان پروگرامات میں شرکت کے لیے کارکنان کے عوامی رابطے ملاقاتیں اور شرکت کی ترغیب۔ تیسرا ستون، تحریک سے وابستگی اور رکنیت کا منظم نظام؛ جماعت میں شامل ہونے کا عمل آسان نہیں، مراحل موجود ہیں: ہمدرد، ممبر، کارکن امیدوار رکنیت اور رکن۔ یہ تدریجی نظام نظریاتی پختگی کو یقینی بناتا ہے۔ جماعت کی دعوتی افادیت یہ ہے کہ اس نے برِصغیر میں ایک پڑھا لکھا اور فکری طور پر مضبوط حلقہ تیار کیا، لیکن اس کی کمزوری یہ رہی کہ یہ دعوت غیر پڑھے لکھے عوام تک اتنی مؤثر طریقے سے نہیں پہنچی جتنی پڑھے لکھے طبقے تک پہنچی۔ بدقسمتی سے ہمارے عوام میں غیر پڑھے لکھوں کی اکثریت ہے۔
حماس 1987ء میں اخوان المسلمون کی فلسطینی شاخ کے طور پر قائم ہوئی جو بعد میں ایک فلسطینی تنظیم بن گئی۔ حماس کا دعوتی نظام انتہائی حالات میں کام کرتا ہے۔ قبضے، محاصرے اور جنگ کے درمیان۔ پھر بھی حماس نے ایک مکمل دعوتی اور سماجی ڈھانچہ کھڑا کیا۔ حماس کی دعوت تین محاذوں پر ہے: اوّل، مساجد کے ذریعے جہاں حفظ قرآن خطبات اور دروس کا منظم نظام ہے۔ دوم، تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں جو غزہ اور مغربی کنارے میں لاکھوں فلسطینیوں کو خدمات فراہم کرتی ہیں اور یہ خدمت خود ایک زندہ دعوت ہے۔ سوم، میڈیا جس میں الاقصیٰ ٹی وی اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارم شامل ہیں۔ حماس کی دعوتی طاقت یہ ہے کہ اس نے مزاحمت اور دعوت کو ایک کردیا۔ ان کے نزدیک فلسطینی عوام کا دفاع خود ایک دعوتی عمل ہے۔ اس سے عوامی حمایت کا وہ ٹھوس ڈھانچہ بنا جو انتخابات میں بھی ظاہر ہوا۔
نظریاتی افراد کی شمولیت سے تحریک کو وہ قوت ملتی ہے جو محض تعداد سے نہیں ملتی۔ ایک ایسا رکن جو نظریے کو سمجھتا ہو، اس پر عمل پیرا ہو اور اسے پھیلانے کا جذبہ رکھتا ہو؛ وہ ایک سو ایسے لوگوں سے بہتر ہے جو محض نام کے رکن ہوں۔ تنظیم کا استحکام نظریاتی یکجہتی سے آتا ہے، جب سب ایک فکر، ایک مقصد کے لیے کام کریں تو تنظیم میں وہ طاقت آتی ہے جسے کوئی بیرونی طاقت نہیں توڑ سکتی۔ تحریک سے وابستگی کئی سطحوں پر ہوتی ہے اور ہر سطح کی اپنی اہمیت ہے۔
رسمی رکنیت: یہ تحریک کا مضبوط ترین حلقہ ہے۔ جو شخص باضابطہ رکن بنتا ہے وہ نظریاتی تربیت سے گزرتا ہے، تنظیمی ذمے داریاں اٹھاتا ہے اور تحریک کا فعال حصہ بنتا ہے۔ رکنیت کا نظام تدریجی ہے۔
عمومی حمایت یعنی ماس سپورٹ: یہ وہ وسیع حلقہ ہے جو تحریک کو ووٹ دیتا ہے، اس کی بات سنتا ہے اور بحران کے وقت ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس حلقے تک پہنچنا عوامی دعوت کا کام ہے۔ خدمت، اخلاق اور میڈیا کے ذریعے۔ اخوان المسلمون اور حماس نے اسی حلقے کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنایا۔ جماعت اسلامی بھی اس دائرہ میں آگے بڑھ رہی ہے۔
آؤٹر سرکل کے ساتھی و نظریاتی ہمسفر: یہ وہ لوگ ہیں جو رکن تو نہیں لیکن تحریک کی فکر سے متفق ہیں دانشور، صحافی، بزنس مین و علما یہ حلقہ تحریک کی فکری ساکھ بناتا ہے۔
روایتی میڈیا: اخبار، رسالے، کتب، ریڈیو اور ٹیلی ویژن؛ دعوت کے اہم ذرائع رہے ہیں۔ جماعت ِ اسلامی کا ترجمان القرآن، اخوان کے اخبارات اور حماس کا الاقصیٰ ٹی وی اس کی مثالیں ہیں۔ میڈیا کی دعوت بیک وقت لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے، یہ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
آج کا سب سے بڑا دعوتی میدان سوشل میڈیا ہے۔’ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام، ٹک ٹاک‘ یہ پلیٹ فارم اربوں لوگوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ سوشل میڈیا کی خاصیت یہ ہے کہ یہ دو طرفہ ہے۔ آپ بولتے ہیں، سامنے والا جواب دیتا ہے، سوال کرتا ہے اور گفتگو ہوتی ہے۔ یہ وہ دعوتی خصوصیت ہے جو نہ کتاب میں ہے نہ ٹی وی میں۔ سوشل میڈیا کے اثرات دیکھیں تو عرب بہار کی تحریکوں میں سوشل میڈیا نے غیر معمولی کردار ادا کیا اور پوری عرب دنیا کو جگادیا۔
اخوان المسلمون نے مصر میں اپنی مہم سوشل میڈیا پر چلائی۔ آج فلسطین کے حق میں دنیا بھر میں جو آواز اٹھ رہی ہے وہ بڑی حد تک سوشل میڈیا کی طاقت ہے۔ اسلامی تحریکوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کو ایک منظم حکمت ِ عملی کے ساتھ استعمال کریں نہ کہ بے ترتیب انداز میں۔
قرآن نے جو دعوتی نمونہ دیا وہ مستقل ہے ’’یَدْعُوْنَ اِلیَ الْخَیْرِ‘‘ تسلسل کے ساتھ بھلائی کی دعوت دینے کے معنی ہیں۔ نبی کریمؐ نے تیئس سال مسلسل دعوت دی۔ مکہ میں، مدینے میں، گھر میں، سفر میں، جنگ میں، امن میں ہمیشہ۔ یہی مستقل دعوت ہے جو دلوں کو بدلتی ہے اور تحریکوں کو زندہ رکھتی ہے۔ دعوت کے بعد سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جو لوگ آئیں انہیں تحریک سے جوڑے رکھا جائے۔ آخری بات یہ ہے کہ دعوت کے بغیر تحریک زندہ نہیں رہ سکتی جیسے کہ روح کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا۔ دعوت کسی تحریک کا اختیاری شعبہ نہیں بلکہ یہ اس کا دل ہے، اس کی سانس ہے۔ جب یہ دل دھڑکنا بند کر دے تو باہر سے خوبصورت نظر آنے والی تحریک اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ اخوان المسلمون نے دعوت کو خدمت سے جوڑ کر عوامی تحریک بنی، جماعت ِ اسلامی دعوت کو فکر سے جوڑ کر نظریاتی طاقت بنی اور حماس نے دعوت کو مزاحمت سے جوڑ کر قوم کا سہارا بنی۔ آج کا داعی وہی کامیاب ہوگا جو نبی کریمؐ کے اس اصول کو سامنے رکھے: پہلے نمونہ بنو، پھر دوسروں کو بلاؤ اور آج کا دعوتی میدان اتنا وسیع ہے کہ ڈیجیٹل دنیا سے لے کر محلے کی گلی تک؛ جس تحریک نے اسے سمجھ لیا وہ اگلی نسل کی قیادت کرے گی۔ محمد حسین محنتی