Breaking
پیر. جون 8th, 2026

8 اپریل کے بعد پہلے ایرانی میزائل حملے کی اسرائیلی رپورٹس میں بھی تصدیق

8 اپریل کے بعد پہلے ایرانی میزائل حملے کی اسرائیلی رپورٹس میں بھی تصدیق

اسرائیل،8جون(ایجنسیز)اتوار کے روز اسرائیل کے شمالی حصوں میں ایرانی میزائل حملوں کے باعث ایک بار پھر اسرائیل کے سائرن بجنے لگے۔ ایران نے یہ میزائل حملے لبنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اور اسرائیل کی جانب سے لبنانیوں کے خلاف اسرائیل کے متواتر حملوں کے رد عمل میں کیے ہیں۔

8 اپریل سے ایران نے جنگ بندی کے باعث اسرائیل کے خلاف اپنے میزائل حملے روک رکھے تھے۔ مگر اسرائیل نے امریکی صدر کے جنگ بندی کرانے کے باوجود لبنان کے خلاف اپنی بمباری جاری رکھی۔ بلکہ اسی جنگ بندی کے دوران لبنان میں مزید پیش قدمی کر لی۔

اب اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے میزائل حملے کیے ہیں۔ اس میزائل حملے سے محض چند گھنٹے پہلے ایران نے دھمکی دی تھی کہ بیروت پر اسرائیلی بمباری کا جواب دیا جائے گا۔

8 اپریل سے جاری جنگ بندی کے بارے میں ایران کا موقف ہے کہ ایک تو اس جنگ بندی کو عارضی نہ رکھا جائے ، نیز اسے لبنان کے لیے بھی قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل عمل کیا جائے۔

مگر اتوار ہی کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے بیروت کے علاقے میں لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ کے کمانڈ سنٹر پر حملہ کیا ہے۔ نیتن یاہو کے بقول یہ حملہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے علاقے میں فائرنگ کے جواب میں کیا گیا ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی تازہ حملے میں 2 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیل جو جنگ بندی کے باوجود آئے روز لبنان میں حملے کر رہا ہے، اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملے کیے تو جواب دیا جائے گا۔ بعد ازاں حزب اللہ نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج کی دو بیرکوں کو اتوار کی صبح میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد قالیباف نے اسرائیل کے لبنان پر مسلسل حملوں کے باعث کہا امریکہ نے اسرائیل کو لبنان پر حملوں کے لیے گرین سگنل دے رکھا ہے۔ اس لیے امریکی و اسرائیلی اثاثے اب ہمارا جائز ہدف ہوں گے۔

اس اعلان کے محض چند گھنٹۓ بعد اسرائیلی فوج نے رپورٹ کیا کہ ایران کی جانب سے کم از کم میزائل حملوں کی تین لہریں آئیں۔ تاہم فی الحال ہمارا دفاعی نظام بروئے کار ہے۔ اس لیے ایرانی میزائل روک لیے گئے ہیں۔

ایرانی فوجی کے سنٹرل کمانڈ کے سربراہ نے کہا ہے اسرائیل نے تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ اسے چاہیے لبنان میں اپنے حملے روک دے۔ جنرل علی عبداللہی نے کہا اسرائیل نے حملے نہ روکے تو اسے زیادہ سخت دھچکوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی شہر اہواز میں ایک فٹنیس ٹرینر نے اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں ‘اے ایف پی’ سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ ایرانی کئی ہفتوں سے بے یقینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک 35 سالہ ایرانی فہد نے کہا ‘ اب تو ہر چیز خوفناک لگتی ہے۔ ہم اس ماحول میں صرف اپنے بچاؤ کی کوشش میں ہیں۔ معمول کی زندگی کا سوچنا تو ایک مذاق کے مترادف ہو گیا ہے۔ ہر چیز کی قیمتیں جنگ کی وجہ سے آسمان کو چھو رہی ہیں۔’

فہد کے مطابق وہ ایک شیف ہے مگر زندگی مسلسل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ محض چند ماہ پہلے آپ جو چیزیں خرید سکتے تھے اب محض خواب ہو گئی ہیں۔ جیسے یہ بات اب صرف کہانیوں میں ممکن ہو گئی ہو۔

اس صورت حال میں البتہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اختتام ہفتہ سے ایران میں ہیں۔ وہ ہفتے کے روز ایران پہنچے تھے تاکہ ایرانی سپریم کمانڈر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خط پہنچا سکیں۔ ایرانی ریاستی ٹی وی کے مطابق اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف کا بھی ایک خط لائے ہیں۔

ڈیڈ لاک : ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی کا امریکی چینل ‘ سی سی این ‘ سے بات کرتے ہوئے امریکہ سے مذاکرات میں ڈید لاک آ چکا ہے۔ اس ڈیڈ لاک کو صدر ٹرمپ کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے انہیں ایران منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر واپس کرنا ہوں گے۔ دوسری جانب ٹرمپ کسی معاہدے سے پہلے ایسا کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

دریں اثنا امریکی سنیٹ کام نے کہا ہے کہ اس نے دو امریکی ڈرون مار گرائے ہیں۔ یہ ڈرونز آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی نقل و حمل کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ یاد رہے آبنائے ہرمز اس وقت دوہری ناکہ بندی کی زد پر ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے