سارے ہندوستان میں طالب علموں کے دلوں میں پلنے والا غم و غصہ سڑکوں پر امڈ آیا ہے۔ جو بات قومی سطح کے امتحانات میں بار بار پرچے افشا ہونے اور نظامِ تعلیم کی گہری خامیوں پر بےچینی سے شروع ہوئی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک مکمل قومی تحریک کی صورت اختیار کر گئی ہے جسے عام طور پر "کاکروچ” تحریک یا کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے۔
اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا دائرہ اور اس کی رفتار ہے۔ دہلی کا جنتر منتر اگرچہ اس کا مرکزی نقطہ ہے، مگر ملک بھر کے کم از کم چونتیس شہروں میں مظاہرے بھڑک اٹھے ہیں۔ پریاگ راج، لکھنؤ جیسے علمی و تعلیمی مراکز سے لے کر، دھمکیوں کے باوجود، پٹنہ اور جے پور تک، اور ممبئی، بنگلورو اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں تک، طلبہ اور نوکری کے متلاشی نوجوان دھرنے دیے بیٹھے ہیں، نعرہ زن ہیں، اور حکام سے مکمل شفافیت اور جوابدہی کا تقاضا کر رہے ہیں۔ شاید انھیں لگ رہا ہے انہوں نے بھاجپا کو ووٹ دیکر بڑی غلطی کی تھی اب وقت آ گیا ہے اپنی غلطی کو درست کیا جائے۔
ممبئی میں کل ٹھاکرے برادران کی مشترکہ پریس کانفرنس میں دوجوں بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھنے کا نادر منظر دیکھنے کو ملا، آج شیواجی پارک جہاں ادھو ٹھاکرے، آدتیہ ٹھاکرے اور توشار گاندھی نے مل کر شیوا جی پارک کے تاریخی میدان میں احتجاج میں شامل ہوئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ میرے خیال میں تقریباً تین دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ ٹھاکرے خاندان سڑکوں پر نکلا ہے، طلبہ کی تحریک کو نئی روح بخش رہا ہے اور بلاشبہ صفِ اول میں رہ کر ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔گرفتار لڑکوں کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں رہا سوال کے اس بار آئی ٹی سیل کیوں طلباء کی تحریک کو بد نام کیوں نہیں کر سکا شاید اس لیے کہ یہ نوجوان آئی ٹی سیل سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں سوشل میڈیا کا استعمال جانتے ہیں گویا طلباء نے آئی ٹی سیل کے چھ کھلاڑیوں کو پہلی اوور میں کلین بولڈ کر لیا دوسرے اوور میں باقی کھلاڑیوں کو باؤنسر سے زخمی کرکے پویلین بھیج دیا۔
طالب علموں اور نوجوانوں کی یہ بےچینی صرف سرزمینِ ہند تک محدود نہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں کی کئی راجدھانیوں، مثلاً گوہاٹی، شیلانگ اور ایزول میں بھی احتجاج کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی برادری کے دلوں میں بھی اس قدر گونجی کہ لندن، برلن اور نیویارک جیسے شہروں میں بھی ریلیاں ہوئیں۔
بہت سے نوجوان ہندوستانیوں کے لیے، جو مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں برسہا برس صرف کر دیتے ہیں اور پھر پرچہ افشا ہونے کے اسکینڈلز کی بھینٹ اپنی محنت چڑھتی دیکھتے ہیں، یہ احتجاج اب محض ایک امتحان کا معاملہ نہیں رہا یہ ایک پوری نسل کے لیے ایک ایسا نازک موڑ ہیں جو ایک ایسے نئے نظام کی طلب گار ہے جس پر وہ حقیقی معنوں میں اعتماد کر سکے۔ غیر ملکی کیا سوچتے ہونگے کیا امتحان میں گڑبڑی ہوتی ہے؟
ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، لیکن اب یہ احتجاج سونم وانگچک اور کاکروچ جنتا پارٹی سے آگے نکل چکا ہے جنتر منتر پر، ہندوستان کے دیگر گوشوں میں، اور یہاں تک کہ ایوانِ پارلیمنٹ میں بھی مصالحت کا کوئی شائبہ نظر نہیں آتا۔ راہل گاندھی ایک نئے رہنما کی حیثیت سے ابھرے ہیں، جن کے پاس فہم و فراست، جرات اور کثیر تعداد میں اراکینِ پارلیمنٹ کی تائید موجود ہے۔ کانگریسی رہنماؤں کے ہمراہ وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کی جانب ان کا مارچ، ان کی گرفتاری، اور ان کی ناک سے بہنے والا لہو یہ سب وہ باتیں ہیں جنہیں یہ طلباء اور نوجوان قوم کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔