تیرہ تیزی اور آخری بدھ: اوہام و خرافات کی دبیز چادریں

تیرہ تیزی اور آخری بدھ: اوہام و خرافات کی دبیز چادریں

تیرہ تیزی اور آخری بدھ: اوہام و خرافات کی دبیز چادریں

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک

اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس کی اساس نصوصِ قطعیہ، براہینِ یقینیہ اور وحیِ الٰہی پر استوار ہے، نہ کہ رسومِ موروثہ ، اوہامِ عامیانہ یا تخیلاتِ عوام؛ جب بھی امت کے علمی افق پر ضعفِ علم، جمودِ فکر اور قلتِ بصیرت کے سائے گہرے ہوئے تو دین کے نام پر ایسی متعدد رسوم معرضِ وجود میں آئیں جن کا سرچشمہ کتاب و سنت نہ تھا بلکہ عادت، ماحول اور غیر اسلامی تہذیبوں کے اثرات تھے۔ پھر مرورِ ایام کے ساتھ ان رسوم کو ایسا تقدس حاصل ہو گیا کہ ان سے اختلاف کرنے والا اجنبی اور ان کا پابند شریعت کا متبع سمجھا جانے لگا، حالانکہ شریعتِ مطہرہ میں حق و باطل، مقبول و مردود اور سنت و بدعت کا معیار افراد کا تعامل، اکثریت کا ذوق یا معاشرے کی پسند نہیں، بلکہ صرف قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے اسلام کو ہر عہد کے افکار، اساطیر اور اوہام سے ممتاز رکھا اور اسی نے امت کو یہ تعلیم دی کہ ہر عقیدہ اور ہر عمل کو وحی کے میزان پر پرکھا جائے، نہ کہ آبائی روایت یا عوامی شہرت کے ترازو میں۔
شریعتِ اسلامیہ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے اعتقادات و اعمال کے باب میں انسانی خواہش، معاشرتی رواج، اکثریت کے تعامل یا اسلاف کی اندھی تقلید کو کبھی حجت نہیں بنایا، بلکہ ہر دعوے کے لیے دلیل اور ہر عمل کے لیے سند طلب کی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم بار بار انسان کو تدبر، تعقل اور اتباعِ وحی کی دعوت دیتا ہے اور محض اس بنیاد پر کسی چیز کو قبول کرنے سے روکتا ہے کہ وہ معاشرے میں رائج یا آباء و اجداد سے منقول ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:«﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾»اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں: ہم تو اسی راہ پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں؟”
(سورۃ البقرۃ: 170)
یہ آیتِ کریمہ صرف مشرکینِ عرب کے ایک تاریخی طرزِ عمل کی مذمت نہیں بلکہ ہر اس ذہنیت کی تردید ہے جو دلیلِ شرعی کے مقابلے میں موروثی روایت، عوامی تعامل یا معاشرتی رجحان کو ترجیح دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اس ایک اصول سے واضح کر دیا کہ حق کی پہچان اکثریت، قدامت یا شہرت سے نہیں بلکہ وحیِ الٰہی سے ہوگی۔ یہی وہ معیار ہے جس نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ہر قسم کے جاہلی اوہام، خود ساختہ رسوم اور بے اصل اعتقادات سے محفوظ رکھا، اور یہی وہ منہج ہے جسے ائمۂ امت نے ہر دور میں اپنایا۔

یہ امر بھی نہایت قابلِ التفات ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے جن امور کو ایمان و عقیدہ سے متعلق قرار دیا ہے، ان میں ادنیٰ سی زیادتی یا کمی کو بھی معمولی نہیں سمجھا۔ اس لیے کہ اعمال کی اصلاح کا مدار عقیدے کی درستی پر ہے، اور عقیدے کی درستی کا سرچشمہ صرف وحیِ الٰہی ہے۔ اگر عقائد کے باب میں انسانی قیاسات، عوامی روایات یا غیر مستند حکایات کو دخل دینے کی اجازت دے دی جائے تو دین کی اصل صورت محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر سلفِ صالحین ہمیشہ اتباعِ سنت پر زور دیتے اور ہر اس امر سے روکتے رہے جس کی اصل کتاب و سنت میں نہ ہو۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے:«اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ»
اتباع کرو، نئی باتیں ایجاد نہ کرو، کیونکہ تمہارے لیے (دین) کافی کر دیا گیا ہے۔”(سنن الدارمی، مقدمہ، حدیث: 211)
افسوس کہ امت کے بعض ادوار میں علمی ضعف، غیر اسلامی تہذیبوں کے اثرات اور عوامی حکایات کے غلبے نے متعدد ایسی رسموں کو جنم دیا جن کی بنیاد کتاب و سنت میں نہ تھی، مگر رفتہ رفتہ انہیں مذہبی تقدس کا لباس پہنا دیا گیا۔ بعض رسوم کو باعثِ برکت سمجھا گیا، بعض ایام کو موجبِ نحوست قرار دیا گیا، اور بعض تاریخی یا مقامی روایات کو شرعی حیثیت دے دی گئی، حالانکہ دینِ اسلام میں کسی عمل، دن، مہینے یا تاریخ کی فضیلت یا نحوست کا فیصلہ صرف وحی کرتی ہے، عوامی رجحانات نہیں۔
انہی رسوم میں ماہِ صفر سے متعلق بعض تصورات بھی شامل ہیں، جنہوں نے صدیوں کے دوران عوامی معاشرے میں خاص شہرت حاصل کر لی۔ حالانکہ تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ جذبات سے پہلے دلیل دیکھی جائے، روایت سے پہلے سند کو پرکھا جائے، اور ہر عقیدے کو کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی میزان میں تولا جائے۔ اسی تحقیقی منہج کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس مضمون میں پہلے ماہِ صفر کی شرعی حیثیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا جائے گا، اس کے بعد صفر کی تیرہ تاریخ (تیرہ تیزی) کی تاریخی و شرعی حقیقت کا جائزہ لیا جائے گا، اور آخر میں صفر کے آخری چار شنبہ سے متعلق رائج رسوم و اعتقادات کا تحقیقی محاکمہ پیش کیا جائے گا، تاکہ حق اور روایت کے درمیان امتیاز پوری طرح واضح ہو جائے، اور مسلمان اپنے دین کو خالص کتاب و سنت کی روشنی میں سمجھ سکیں۔
قمری سال کے بارہ مہینے اسلام کی ایجاد نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد سے معروف تھے(تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، تفسیر بغوی)۔ البتہ زمانۂ جاہلیت میں عربوں نے اپنی خواہشات اور جنگی مفادات کی خاطر ان مہینوں کے نظام میں مداخلت شروع کر دی۔ خصوصاً "نَسِیء” کی رسم کے ذریعے کبھی کسی حرمت والے مہینے کو مؤخر کر دیتے اور کبھی کسی دوسرے مہینے کو اس کی جگہ لے آتے، تاکہ جنگ و قتال کے لیے اپنی سہولت کے مطابق مہینوں کی ترتیب بدل سکیں۔ قرآنِ کریم نے اس عمل کو سخت الفاظ میں رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾

"مہینوں کی تقدیم و تاخیر (نَسِیء) کفر میں ایک اور اضافہ ہے، جس کے ذریعے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔”
(سورۃ التوبۃ: 37)اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے صرف عقائد کی اصلاح ہی نہیں کی بلکہ اسلامی تقویم کو بھی اس کی اصل ابراہیمی ترتیب پر بحال کیا۔ چنانچہ ماہِ صفر کو بھی وہی مقام دیا گیا جو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے اس کے لیے مقرر فرمایا تھا، نہ اس میں کوئی اضافہ کیا گیا اور نہ کوئی من گھڑت خصوصیت اس کے ساتھ وابستہ کی گئی۔

اس تاریخی حقیقت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ماہِ صفر کی اصل شناخت ایک قمری مہینے کی ہے، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی کیفیت، آزمائش یا غیر معمولی تاثیر کی بعد کے ادوار میں اس مہینے کے ساتھ جو مختلف رسوم، اعتقادات اور روایات وابستہ ہوئیں، وہ اس کی اصل حقیقت نہیں بلکہ بعد کی تاریخی پیداوار ہیں۔ اسی لیے ان تمام امور کا فیصلہ تاریخ یا عوامی روایت سے نہیں بلکہ قرآن، سنت کی روشنی میں کیا جائے گا۔

ماہِ صفر کے متعلق کسی بھی شرعی حکم پر گفتگو کرنے سے پہلے خود اس مہینے کی حقیقت اور اس کے تاریخی پس منظر کا جاننا ضروری ہے؛ کیونکہ جس چیز کی اصل متعین نہ ہو، اس کے متعلق پیدا ہونے والے اعتقادات کا صحیح محاکمہ بھی ممکن نہیں رہتا۔ چنانچہ اہلِ علم نے ہمیشہ تحقیق کا آغاز اصلِ مسئلہ سے کیا ہے، نہ کہ اس کے گرد پیدا ہونے والی روایات سے۔

اسلام کے ظہور کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صرف جاہلی عبادات کا ہی خاتمہ نہیں فرمایا بلکہ جاہلیت کے پورے نظامِ فکر کی اصلاح فرمائی۔ عرب معاشرے میں بہت سے ایسے تصورات رائج تھے جن کا تعلق ایام، مہینوں اور حوادثِ زمانہ سے تھا۔ شریعتِ اسلامیہ نے ان تمام تصورات کو ایک مستقل اصول کے تحت پرکھا اور ہر اس اعتقاد کو رد کر دیا جس کی بنیاد وحیِ الٰہی پر نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہِ صفر کے بارے میں بھی رسول اللہ ﷺ نے امت کو کسی نئی فضیلت یا کسی نئی پابندی کا حکم نہیں دیا، بلکہ اس مہینے کو اسی فطری اور شرعی حیثیت پر باقی رکھا جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا تھا۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ»
(صحیح البخاری، حدیث: 5757؛)
اس حدیث میں وارد ہونے والے لفظ «ولا صفر» کی تشریح میں ائمۂ حدیث نے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ امام ابوزکریا نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس سے مراد وہ مہینہ ہے جسے اہلِ جاہلیت منحوس سمجھتے تھے، جبکہ بعض کے نزدیک یہاں "صفر” سے مراد پیٹ کا وہ کیڑا ہے جس کے بارے میں عرب غلط عقائد رکھتے تھے۔ امام نووی نے دونوں اقوال نقل کرنے کے بعد واضح فرمایا کہ حدیث کا مقصد جاہلیت کے باطل اعتقادات کی نفی ہے۔ (شرح صحیح مسلم، حدیث: 2220)

اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے متعدد محدثین کے اقوال جمع کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ اس لفظ کی تشریح میں اختلاف ضرور ہے، لیکن کسی ایک قول سے بھی ماہِ صفر کے لیے کوئی مستقل نحوست یا شرعی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی۔ (فتح الباری، ج 10، ص 214–216)

یہی وجہ ہے کہ فقہاء و محدثین نے ماہِ صفر کے متعلق کوئی ایسا مستقل باب قائم نہیں کیا جس میں اس مہینے کے مخصوص احکام یا مخصوص فضائل بیان کیے گئے ہوں۔ اگر یہ مہینہ واقعی کسی غیر معمولی شرعی خصوصیت کا حامل ہوتا تو اس کے آثار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور ائمۂ مجتہدین کے معمولات میں ضرور نمایاں ہوتے، حالانکہ تاریخِ اسلام اس کی تائید نہیں کرتی۔ اس کے برعکس ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دیگر مہینوں کی طرح صفر میں بھی سفر کیے، تجارت کی، نکاح کیے، جہاد کیا، تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رکھا اور اسے زندگی کے معمولات سے الگ نہیں سمجھا۔
پس نتیجہ یہ ہے کہ ماہِ صفر کا صحیح تعارف عوامی روایات سے نہیں بلکہ قرآن، سنت، لغت اور آثارِ سلف سے حاصل کیا جائے گا۔ جب یہ بنیاد واضح ہو جائے تو اس کے بعد اس مہینے سے وابستہ ہر رسم اور ہر عقیدے کو اسی معیار پر پرکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
تیرہ تیزی:
ماہِ صفر کی شرعی حیثیت واضح ہو جانے کے بعد اب اس مہینے سے منسوب ایک ایسی رسم کا جائزہ لینا مناسب ہے جو برصغیر کے بعض علاقوں میں "تیرہ تیزی” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ اس اصطلاح کا ذکر نہ قرآنِ مجید میں ملتا ہے، نہ احادیثِ نبویہ میں، نہ آثارِ صحابہ میں، نہ ائمۂ اربعہ کی کتب میں، اور نہ ہی قرونِ اولیٰ کے معتبر فقہی یا حدیثی ذخیرے میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "تیرہ تیزی” اسلامی اصطلاح نہیں بلکہ ایک مقامی اور بعد کے زمانوں میں وجود میں آنے والی تعبیر ہے، جسے رفتہ رفتہ مذہبی رنگ دے دیا گیا۔

مورخین اور کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر میں مختلف تہذیبوں، بالخصوص ہندو معاشرت، نجومی تصورات اور عوامی رسوم کے باہمی اختلاط کے نتیجے میں بعض تاریخوں کو سعد و نحس کے پیمانے پر پرکھنے کا رجحان پیدا ہوا۔ انہی تصورات کے زیرِ اثر صفر کی تیرہ تاریخ کو بھی بعض حلقوں نے نحوست، رکاوٹ یا آزمائش کی علامت سمجھنا شروع کر دیا، حالانکہ اس عقیدے کی تائید میں نہ کوئی صحیح حدیث موجود ہے، نہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا قول، نہ کسی تابعی کا عمل، اور نہ کسی معتبر فقیہ یا محدث کی تصریح۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ اسلام نے عبادات کے لیے تو مخصوص اوقات مقرر کیے ہیں، مگر کسی تاریخ کو منحوس قرار دینے کی اجازت نہیں دی۔ اگر صفر کی تیرہ تاریخ واقعی شرعاً باعثِ نحوست ہوتی تو رسول اللہ ﷺ ضرور اس کی وضاحت فرماتے، کیونکہ امت کو ہر ایسے معاملے سے آگاہ کرنا آپ ﷺ کی ذمہ داری تھی جس کا تعلق عقیدہ یا عمل سے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ﴾اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے پوری طرح پہنچا دیجیے۔”(سورۃ المائدۃ: 67)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:«أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟»سنو! کیا میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟”صحابۂ کرام نے عرض کیا: "جی ہاں۔”(صحیح البخاری، حدیث: 1741؛)
جب دین مکمل ہو چکا اور رسول اللہ ﷺ نے ہر ضروری حکم امت تک پہنچا دیا، تو اس کے بعد کسی مخصوص تاریخ کی نحوست کا عقیدہ، شرعی دلیل کے بغیر، دین میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ معتبر اسلامی تاریخ کی کتابوں میں صفر کی تیرہ تاریخ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں جس کی بنا پر اسے دائمی طور پر منحوس قرار دیا جا سکے۔ تاریخ میں مصائب بھی آئے اور فتوحات بھی ہوئیں، لیکن اہلِ اسلام نے کبھی کسی ایک تاریخ کو ان واقعات کی وجہ سے شرعی طور پر منحوس نہیں سمجھا۔ شریعت واقعات سے احکام اخذ نہیں کرتی، بلکہ نصوصِ شرعیہ سے احکام اخذ کرتی ہے۔ یہی اصول اہلِ سنت والجماعت کا منہج ہے۔
لہٰذا تحقیقی اعتبار سے "تیرہ تیزی” ایک علاقائی رسم ہے، نہ کہ شرعی حقیقت۔ اس کی دینی حیثیت ثابت کرنے کے لیے کوئی معتبر قرآنی آیت، صحیح حدیث یا اجماعِ امت موجود نہیں۔
تیرہ تیزی کے بارے میں عوامی معاشرے میں مختلف قسم کے تصورات رائج ہیں۔ بعض لوگ اس دن کو سفر، نکاح، کاروبار، مکان کی خرید و فروخت یا کسی نئے کام کے آغاز کے لیے ناموزوں سمجھتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اس تاریخ کے آنے پر گھروں میں ایک غیر محسوس خوف کی فضا پیدا کر دی جاتی ہے، جبکہ بعض لوگ محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر اس دن سے احتیاط برتنے کو دینداری کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ لیکن جب ان تمام تصورات کو علمی معیار پر پرکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بنیاد معتبر شرعی نصوص نہیں بلکہ عوامی روایات، مقامی قصوں اور غیر مستند حکایات پر ہے۔

قابلِ توجہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے معتبر فقہی ذخیرے میں بھی "تیرہ تیزی” کے نام سے کوئی مستقل شرعی باب موجود نہیں۔ فتاویٰ عالمگیری، رد المحتار، الفتاوى الهندية، الفتاوى القاضی خان، بدائع الصنائع، المبسوط، المجموع اور دیگر بنیادی فقہی مراجع میں اس عنوان سے کوئی حکم مذکور نہیں۔ اگر صفر کی تیرہ تاریخ کا کوئی مخصوص شرعی اثر یا حکم ہوتا تو فقہاء یقیناً اس کی صراحت کرتے، کیونکہ انہوں نے عبادات، معاملات، ایام اور اوقات سے متعلق باریک ترین مسائل تک کو محفوظ کیا ہے۔
اسی طرح اکابرِ اہلِ علم نے بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ کسی دن یا تاریخ کے متعلق کوئی ایسا اعتقاد قائم کرنا، جس کی اصل شریعت میں موجود نہ ہو، درست نہیں۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے متعدد مواقع پر یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اعمال و عقائد میں اصل، اتباعِ دلیل ہے، نہ کہ عوامی تعامل۔ (امداد الفتاویٰ، کتاب الحظر والإباحة)

علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے بھی واضح کیا ہے کہ جن امور کی نسبت شریعت خاموش ہے، ان میں اپنی طرف سے فضیلت یا نحوست کا اضافہ کرنا احتیاط کے خلاف ہے، کیونکہ دین مکمل ہو چکا ہے اور اس میں کسی نئے اعتقاد کی گنجائش نہیں۔ یہی منہج تمام ائمۂ اہلِ سنت کا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ بہت سے لوگ "تیرہ تیزی” کو اس قدر قدیم سمجھتے ہیں کہ گویا یہ اسلامی تاریخ کے آغاز ہی سے چلی آ رہی ہو، حالانکہ تاریخی مصادر اس کی تائید نہیں کرتے۔ نہ سیرتِ نبوی ﷺ میں اس کا ذکر ملتا ہے، نہ خلفائے راشدین کے عہد میں، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے معمولات میں، اور نہ تابعین و تبع تابعین کے آثار میں۔ اس سے زیادہ واضح دلیل اور کیا ہوگی کہ خیرالقرون، جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»
سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہیں(صحیح البخاری، حدیث: 2652؛)
ان مبارک ادوار میں "تیرہ تیزی” کا کوئی وجود نہیں ملتا، تو بعد کے زمانے میں اس کو دینی حیثیت دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟

لہٰذا انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ "تیرہ تیزی” کو ایک موروثی سماجی روایت کی حیثیت سے دیکھا جائے، نہ کہ شریعت کے مسلمہ حکم کے طور پر۔ جس عقیدے یا عمل کی بنیاد خیرالقرون میں نہ ملے اور جسے کتاب و سنت کی تائید حاصل نہ ہو، اس کے بارے میں احتیاط اور تحقیق ہی اہلِ علم کا طریقہ رہا ہے۔

آخری چار شنبہ: حقیقت یا محض روایت؟
برصغیر کے متعدد علاقوں میں ماہِ صفر کے آخری بدھ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس دن کو عموماً "آخری چار شنبہ” کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس موقع پر نئے کپڑے پہنتے ہیں، بعض گھروں میں خصوصی کھانے تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ بہت سے خاندان باغات، جنگلات، دریاؤں، نہروں یا دیگر تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں، وہاں اجتماعی طور پر کھانا کھاتے ہیں اور اس دن کو خوشی اور مسرت کے ساتھ گزارتے ہیں۔ عوام کے ایک طبقے میں یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ جس طرح اس دن رسول اللہ ﷺ کو بیماری سے افاقہ ہوا تھا، اسی طرح اگر وہ اس دن سیر و تفریح کریں، خوشی کا اظہار کریں یا مخصوص انداز سے دن گزاریں تو ان کی بیماریاں، مصیبتیں، پریشانیاں اور گھریلو آفات بھی دور ہو جائیں گی، آئندہ سال خیر و عافیت سے گزرے گا اور ان کی زندگی میں برکت و سکون پیدا ہوگا۔ بعض لوگ اسے نحوست کے خاتمے، بلا کے ٹل جانے اور خیر و برکت کے آغاز کی علامت بھی تصور کرتے ہیں۔
یہ عقیدہ بظاہر محبتِ رسول ﷺ اور خیر کی امید کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ میں کسی عقیدے یا عمل کی بنیاد حسنِ نیت، عوامی رواج یا صدیوں سے چلے آنے والے معمولات نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے کتاب اللہ، سنتِ صحیحہ اور تعاملِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے واضح اور معتبر دلیل درکار ہوتی ہے۔ محبت اگر دلیل کے تابع ہو تو عبادت بن جاتی ہے، اور اگر دلیل سے جدا ہو جائے تو محض رسم رہ جاتی ہے۔ اسی لیے محدثین نے ہر اس روایت کو کسوٹی پر پرکھا جس کی بنیاد پر کوئی دینی عمل وجود میں آتا ہو۔
سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی رسول اللہ ﷺ کو ماہِ صفر کے آخری بدھ کے دن مکمل شفا حاصل ہوئی تھی؟ اگر ایسا ہے تو اس کی صحیح اور متصل روایت کہاں ہے؟ اسے کس صحابی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا؟ کس محدث نے اسے صحیح قرار دیا؟ اور اگر بالفرض اس دن کچھ افاقہ ہوا بھی تھا تو کیا خود رسول اللہ ﷺ نے اس دن کو ہر سال خوشی، سیر و تفریح یا کسی مخصوص عمل کے لیے مقرر فرمایا؟ کیا آپ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تلقین فرمائی؟ کیا خلفائے راشدین، ازواجِ مطہرات، اہلِ بیت اور خیرالقرون نے اس دن کو کبھی خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا؟
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں کوئی صحیح اور صریح حدیث موجود نہیں۔ سیرت اور حدیث کی معتبر کتابوں میں یہ ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے آخری بدھ کو مستقل طور پر صحت یاب ہونے کے بعد اس دن کو امت کے لیے خوشی یا جشن کا دن قرار دیا ہو۔ بلکہ مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرضِ وفات کے ایام میں کبھی طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس ہوتا اور پھر دوبارہ بیماری کی شدت بڑھ جاتی تھی، یہاں تک کہ ربیع الاول میں آپ ﷺ کا وصالِ مبارک ہوا۔ اس لیے ایک عارضی افاقہ کو مستقل مذہبی یادگار بنا لینا نہ تاریخی اعتبار سے ثابت ہے اور نہ شرعی اعتبار سے۔
علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ، حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ اور دیگر ائمۂ سیر نے مرضِ وفات کی تفصیلات نقل کی ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے بھی ماہِ صفر کے آخری بدھ کو عید، تہوار یا خصوصی مسرت کا دن قرار نہیں دیا۔ اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، جو محبتِ رسول ﷺ میں پوری امت سے بڑھ کر تھے، ان میں سے کسی ایک سے بھی یہ منقول نہیں کہ انہوں نے ہر سال اس دن نئے کپڑے پہنے ہوں، خصوصی کھانے تیار کیے ہوں، جنگلات یا باغات میں جا کر سیر و تفریح کی ہو، یا اس دن کو باعثِ برکت اور ذریعۂ عافیت سمجھ کر کوئی مخصوص عمل اختیار کیا ہو۔

یہاں ایک اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ جو عمل خیرالقرون میں موجود نہ ہو، اسے بعد کے زمانے میں دین کا شعار بنا لینا انتہائی نازک معاملہ ہے۔ کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ ﷺ سے محبت بھی سب سے زیادہ تھی اور سنت کا علم بھی سب سے زیادہ تھا۔ اگر اس دن کی کوئی دینی حیثیت ہوتی تو وہ اس سے ہرگز غافل نہ رہتے۔ لہٰذا آخری چار شنبہ کے مسئلے کا فیصلہ جذبات،یا عوامی روایت سے نہیں، بلکہ قرآن، سنت، تاریخِ صحیح اور تعاملِ صحابہ کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
اگر آخری چار شنبہ کی بنیاد یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس دن رسول اللہ ﷺ کو مرض سے افاقہ ہوا تھا، تو چند بنیادی سوالات ایسے ہیں جن کا جواب ہر صاحبِ علم اور ہر صاحبِ انصاف کو تلاش کرنا چاہیے۔ کیا محض کسی نبی یا بزرگ کی بیماری سے صحت یاب ہونے کا ایک واقعہ اس دن کو دائمی طور پر مذہبی اہمیت عطا کر دیتا ہے؟ اگر ایسا اصول شریعت میں موجود ہوتا تو کیا قرآن و سنت اس کی صراحت نہ کرتے؟ کیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس مبارک دن کو ہر سال یادگار نہ بناتے؟ کیا ازواجِ مطہرات، اہلِ بیتِ اطہار اور تابعینِ کرام اس دن کی خوشی میں اجتماع، دعوت یا سیر و تفریح کا اہتمام نہ کرتے؟ لیکن تاریخِ اسلام اور ذخیرۂ حدیث ان تمام سوالات کے جواب میں خاموش نظر آتا ہے، اور یہی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت نے اس دن کو کوئی مستقل دینی حیثیت عطا نہیں کی۔

پھر ایک اور سوال غور طلب ہے۔ اگر کسی نبی کی بیماری سے شفا پانے کا دن بطورِ مذہبی یادگار منانا مشروع ہوتا، تو سب سے پہلے اس اعزاز کے مستحق حضرت ایوب علیہ السلام تھے۔ قرآنِ کریم نے ان کی طویل بیماری، بے مثال صبر اور پھر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کامل شفا کو بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ﴾
"پھر ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی تکلیف کو دور کر دیا۔”(سورۃ الأنبیاء: 84)»اور فرمایا:
﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾اپنا پاؤں زمین پر مارو، یہ ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے ہے
(سورۃ ص: 42)اگر شفا کا دن ہر سال منانا دین کا حصہ ہوتا تو کیا حضرت ایوب علیہ السلام کی شفا کا دن امتوں میں بطورِ یادگار محفوظ نہ ہوتا؟ کیا قرآنِ مجید اس کی طرف رہنمائی نہ کرتا؟ کیا انبیائے سابقین کی امتوں کو اس کی تعلیم نہ دی جاتی؟ جب ایسا کچھ بھی ثابت نہیں، تو پھر رسول اللہ ﷺ کے متعلق ایک غیر ثابت روایت کی بنیاد پر آخری چار شنبہ کو مذہبی اہمیت دینا کس اصولِ شریعت پر قائم ہے؟

مزید سوچیے! رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ معجزات، رحمتوں اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے معمور ہے۔ ہجرتِ مدینہ، غزوۂ بدر، فتحِ مکہ، صلحِ حدیبیہ، نزولِ قرآن اور بے شمار عظیم الشان مواقع ایسے ہیں جن کی فضیلت خود شریعت نے جہاں بیان کی، وہاں بھی انہیں سالانہ جشن یا تفریحی دن قرار نہیں دیا۔ تو پھر ایک ایسا واقعہ جو معتبر تاریخی سند سے بھی ثابت نہیں، وہ امت کے لیے مستقل رسم کیسے بن گیا؟

حقیقت یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا نئی رسمیں ایجاد کرنا نہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کی کامل اتباع ہے۔ جو محبت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دکھائی، وہ کسی سالانہ رسم میں نہیں بلکہ ہر لمحہ اطاعت، اتباع اور قربانی میں جلوہ گر تھی۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ فرمایا کہ دین میں وہی چیز قابلِ قبول ہے جس کی اصل کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور تعاملِ خیرالقرون میں موجود ہو، اور جس کی اصل وہاں نہ ہو، اسے ثواب یا مذہبی شعار سمجھنا محلِ نظر ہے۔

اسی اصول کی روشنی میں آخری چار شنبہ کی موجودہ رسم کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد مضبوط شرعی دلیل پر نہیں بلکہ ایک ایسی روایت پر قائم ہے جسے محدثین نے قابلِ استدلال قرار نہیں دیا، اور جس پر خیرالقرون کا کوئی عملی ثبوت بھی موجود نہیں۔ لہٰذا احتیاط، دیانتِ علمی اور اتباعِ سنت کا تقاضا یہی ہے کہ اس دن کو عام ایام کی طرح سمجھا جائے، نہ اس میں کسی غیر ثابت فضیلت کا اعتقاد رکھا جائے اور نہ کسی ایسی رسم کو دین کا حصہ بنایا جائے جسے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اختیار نہیں فرمایا۔

اختتامیہ
حاصلِ بحث یہ ہے کہ دینِ متین کی حجیت کا مدار محض نصوصِ قطعیہ، آثارِ صحیحہ اور فہمِ سلفِ صالحین پر ہے، نہ کہ توارثِ عوام، اشاعتِ رسوم یا استحسانِ نفوس پر۔ جو اعتقاد برہانِ شرعی سے مجرد ہو، اگرچہ مرورِ ازمنہ سے مقبولِ عام بن جائے، وہ میزانِ شریعت میں حجت نہیں بن سکتا۔ اسی بنا پر ماہِ صفر، تیرہ تیزی اور آخری چار شنبہ سے متعلق جملہ مروجات کا تحقیقی محاکمہ یہی ثابت کرتا ہے کہ ان کے لیے نہ قرآنِ کریم میں کوئی اصل موجود ہے، نہ سنتِ صحیحہ میں کوئی مستند مأخذ، نہ تعاملِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس کا اثر ملتا ہے اور نہ ائمۂ مجتہدین و محدثین نے انہیں شعائرِ دین میں شمار کیا ہے۔

شریعت کا مزاج یہ نہیں کہ وہ ہر موروثی روایت کو تقدس عطا کر دے، بلکہ اس کا مقتضا یہ ہے کہ ہر عقیدہ محکِ وحی پر پرکھا جائے اور ہر عمل کو میزانِ اتباع میں تولا جائے۔ جہاں دلیل منقطع ہو، وہاں سکوت ہی دیانت ہے؛ جہاں نص مفقود ہو، وہاں ایجادِ اعتقاد جرأت علی الشریعۃ ہے؛ اور جہاں خیرالقرون کا تعامل موجود نہ ہو، وہاں استحسانِ عوام کو حجت بنانا منہجِ اہلِ حق نہیں۔

لہٰذا اربابِ علم، ائمۂ مساجد، خطباء اور اہلِ دعوت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے اذہان کو رسوم کی اسارت سے نکال کر نصوص کی سیادت کی طرف منتقل کریں، عوام کو جذباتی روایت کے بجائے علمی بصیرت عطا کریں، اور محبتِ رسول ﷺ کا مفہوم رسوم و مظاہر میں نہیں بلکہ صدقِ اتباع، کمالِ انقیاد اور تجریدِ سنت میں تلاش کریں۔ یہی صیانتِ دین کا مقتضا، یہی امانتِ علم کا تقاضا اور یہی فلاحِ امت کا واحد سبیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق جاننے، اس کی اتباع کرنے، باطل کو باطل پہچاننے اور اس سے مکمل اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے