ٹرمپ کےہاتھوں اسرائیل کی رسوائی

ٹرمپ کےہاتھوں  اسرائیل کی رسوائی

ٹرمپ کےہاتھوں اسرائیل کی رسوائی

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

ایران اور امریکہ امن معاہدے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ جی ۷ممالک کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی خاطرفرانس آگئے ۔ وہاں انہوں نے مشکل حالات میں قطر کے امیر کی اہم کردار ادا کرنے پر تعریف کی اور اپنا ایک اہم شراکت دار قرار دیا۔ اس کےساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اگر وہ مداخلت نہیں کرتےتو سرائیل بہت پہلے تباہ ہوجاتا ۔ اس طرح تو ٹرمپ نے کبھی نریندر مودی کو بھی رسوا نہیں کیا ۔ فرانس کے اندر 16؍ ماہ بعد ٹرمپ کے ساتھ مودی نے مصافحہ تو کیا مگر اس میں کوئی گرمجوشی نہیں تھی۔ اسرائیل کو اس طرح کھلے عام بے عزتی پر کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کاایک تبصرہ یاد آتا ہے جو انہوں نے نتین یاہو کے امارات دورے کی بابت کیا تھا ۔کریگ نے کہا تھا کہ ’اس سفر کا اعلان کر کے، نیتن یاہو نے ظاہر کیا کہ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر وہ دوسروں کی قربانی دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہتےہیں‘۔ ٹرمپ نے یہی کیا کہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے ہندوستان کے بعد اسرائیل کو بلی کا بکرا بنا دیا۔
یہودیوں نے یہ جعلی تاثر قائم کررکھا ہے کہ امریکہ پر یہودی سرمایہ داروں کا مکمل قبضہ ہے اور وہ امریکی انتظامیہ کے ذریعہ بالواسطہ پوری دنیا پر حکمرانی کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں مرعوب دانشوروں کی ایک بہت بڑی تعداد اس دعویٰ سے اتفاق کرتی ہے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس غبارے کی ہوا نکال دی کہ امریکہ پر یہودی سرمایہ داروں کا راج ہے ۔ انہوں نے فرانس کے ایوین میں شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اسرائیل، لبنان اور ایران سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی سلامتی میں امریکہ کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے وہ بولےکہ اگر انہوں نے کچھ فیصلے نہیں کیے ہوتے تو اسرائیل کی پوزیشن کافی کمزور ہو سکتی تھی۔اسرائیل میں قومی سلامتی کے وزیر بن گوئر تو امن معاہدے کی پابندی سے انکار کررہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے میں ٹرمپ اسرائیل کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کررہے ہیں۔
لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ملک کبھی اساتذہ، ڈاکٹروں اور وکلا کے لیے مشہور تھا، لیکن اب وہاں حالات خراب ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور اس لیےبڑی تعداد میں لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ غزہ کی نسل کشی کے دوران تو ٹرمپ کو یہ خیال نہیں آیا مگر اب ایران کے ہاتھوں شکست کے بعد وہ کہہ رہے ہیں کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت گرا دینا درست نہیں، کیونکہ اس میں کئی بے گناہ لوگ بھی رہتے ہیں۔ کاش کے یہ سمجھ پہلے آئی ہوتی تو غزہ کی تباہی کو ٹالا جاسکتا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اسرائیل کو مشورہ دیا تھا کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق شام یہ کام بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے۔ اہل مغرب کی یہ پرانی حکمتِ عملی ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اس کی آگ پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکو مگر اب مسلمانوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ مغرب کا آلۂ کار بن کر ایک دوسرے سے نہیں لڑیں گے ۔ ایران کے خلاف اسرائیل سمیت امریکہ کی شکست کی ایک اہم وجہ ہے ۔ مسلم ممالک آپس میں بھڑ جاتے تو امریکہ و اسرائیل کی فتح آسان ہوجاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ کو لبنان کے حوالے سے فکر مندی اس لیے ہے کہ اس سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ لبنانی تنازع طول پکڑے اور اس کے اثرات علاقائی استحکام پر پڑ یں ۔ ایران کی جانب سے منہ توڑ جواب کے بعد دوہفتوں کے اندر ہی امریکہ کے ہوش ٹھکانے آگئے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کر کے ایران نے یہ پیغام دے دیا تھاکہ وہ خطے میں اپنے حامیوں مثلاً حوثی، حزب اللہ یا حماس پر کسی مفاہمت پر راضی نہیں ہوگا۔ امریکہ کو پتہ چل گیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے لے کر اسلامی انقلاب کے خاتمے تک کوئی خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا ۔ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کرے گا ۔ الٹا ایران نےآبنائے ہرمز کی بندش سے ہنگامہ مچا دیا ۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور امریکہ میں پائی جانے والی بے چینی نے ٹرمپ کی حالت خراب کردی یہاں تک کہ امریکی کانگریس نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیا اور ٹرمپ کے سامنے امن معاہدہ کرنےکے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہا۔
ٹرمپ کی اوٹ پٹانگ دھمکیوں سے مرعوب ہوئے بغیر ایران اپنے شرائط اور مطالبات پر اڑا رہا اور امریکہ کوبادلِ ناخواستہ انہیں قبول کرنا پڑا۔ایران کی فتح کا سب سے بڑا ثبوت حکومت اور پاسداران انقلاب کی قیادت کا دشمن کو ناکوں چنے چبوا دینا ہے ۔ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل چاہتا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل، سٹوریج ڈپو، کمانڈ اور کنٹرول مراکز سمیت ریڈار اور پاسداران انقلاب کے اڈوں کو تباہ وتاراج کردیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔اسرائیل ایرانی میزائلوں اور اس کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے مگر وہ اب بھی نہ صرف محفوظ و مامون ہیں بلکہ اپنا لوہا منوا چکےہیں ۔ ایران کے ذریعہ یورینیئم کی افزودگی اسرائیل کے لیےپریشانی کا سبب ہے مگر امریکہ اب اسے ہٹانے میں دلچسپی نہیں رکھتا یعنی اسے اسرائیلی تحفظ سے اسے سروکار نہیں ہے۔ ایسے میں جس جنگ کو اسرائیل ایران کی طاقت اور جوہری پروگرام کے خلاف فیصلہ کن موڑ میں بدلنا چاہتا تھا، اب وہ اسرائیل کی مرضی کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے سے جائز ہوگیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے معاہدے کی شرائط طے ہونے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو فون کرکے صاف طور پر کہہ دیا کہ ایران کے ساتھ کچھ دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا اور جنگ بندہوجائےگی ۔ ایکساوس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا، ”یہ ڈیل ہے۔ یہ ایک شاندار معاہدہ ہے، اور اب جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے‘‘۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے لیے یہ ایک بھیانک خواب تھا کیونکہ پورے مذاکرات کے دوران کسی نے اسرائیل کو پوچھ کر نہیں دیا اور امن کی شرائط کو طے کرنے کے بعد امریکہ نے اپنا فرمان سنادیا۔ نیتن یاہو نے جنگ میں داخل ہوتے وقت اس طرح کے خاتمے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ تو شروع سے ہی اس جنگ کے نتیجے میں ایران کے اندر اپنے لیے سازگار حکومت کی تبدیلی کے سپنے دیکھ رہا تھا لیکن اب صورتحال اس حد تک بدل چکی ہے کہ اسرائیل خود کو مذاکرات اور اس مشمولات میں بے دست و پا محسوس کررہا ہے۔
امریکی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ میں معاہدے کے تقریباً طے پا جانے کی اطلاع نیتن یاہو کے لیے حیران کن تھی۔ حتیٰ کہ اسرائیلی حکام بھی اس سے پہلے سے لاعلم تھے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے تقریباً ایک گھنٹے بعد دونوں رہنماؤں نے فون پر بات کی۔ اس کے بعد بددماغ بن گوئر نے تو اپنی ناراضی کا اظہار کرکے خود کو رسوا کرنے کی حماقت کی مگر نیتن یاہو نے احتجاج کرنے کے بجائے خاموش رہنے پر اکتفا کیا کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ معاہدے کو روکنا اب ان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق چپ چاپ برداشت کرلیا ۔ اسرائیلی قیادت کواس معاہدے سے خدشہ لاحق ہے کہ جنگ کے خاتمے اور معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ایران معاشی ریلیف حاصل کر کے خود کو مضبوط کر لے گانیز لبنان میں جنگ بندی حزب اللہ کے خلاف اس کی فوجی کارروائی کو محدود کر دےگی۔ تل ابیب کو مستقبل میں کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے قبل واشنگٹن سے اجازت لینی پڑے گی ۔
اسرائیل مذاکرات کے دوران حملہ کرکے اسے روکنے کی مذموم حرکت کرتا رہا ہے۔ پچھلے ہفتے بھی نیتن یاہو نے ایران کی توانائی اور انفراسٹرکچر پر بڑے حملوں کی تیاری کی تھی لیکن ٹرمپ نے آخری لمحات میں روک کرا سے مذاکراتی عمل سے پوری طرح باہر کر دیا حالانکہ ایک شریک کار ہونے کی وجہ سے معاہدے پر ہونے والی بات چیت میں شامل نہیں کیاجانااس کو پسند نہیں تھا۔ جنگ کی ابتداء میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اپنی پوری سیاسی زندگی میں اس لمحے کا انتظار کرتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کا سب سے بڑے دشمن ایران کو ختم کریں۔ اب وہ سیاسی مخالفین کی طرف سے اس تنقید کا شکار ہے اس نے اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔نیتن یاہو کوعنقریب اکتوبرمیں متوقع عام انتخابات کے دوران ان الزامات اور نتائج کا جواب دینا پڑے گا۔ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ٹرمپ ہی واحد اس کا نجات دہندہ امریکی صدر ہے مگر اسے نہیں پتہ تھا کہ وہی ساری دنیا کے سامنے اسرائیل کی قلعی کھولتے ہوئے کہہ دے گا کہ امریکہ کے بغیر اسرائیل کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ اسرائیل کی تاریخ میں اس کی یہ سب سے بڑی ذلت ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے