للن گھوش نے کلن بنرجی سے پوچھا دادا یہ کون سا نیا کھیلا ہوگیا ؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے؟
کلن بولا بھیا اپنے بنگال میں تو ہر روز نیا کھیلا ہوتا ہے تم کس کی بات کررہے ہو ؟
بھائی میں تو سمجھ رہا تھا کہ ترنمول کے باغی ارکان ِ پارلیمان کے لیے بی جے پی سرخ قالین بچھا کر ان کا استقبال کرے گی لیکن یہ تو کچھ اور ہی ہوگیا ۔
یار کیا بکتے ہو کیا تمہیں نہیں معلوم کہ سرخ رنگ کس پارٹی کا ہے ۔ اشتراکیوں سے تو نہ صرف بی جے پی بلکہ ترنمول کی بھی لڑائی ہے ۔
سمجھ گیا کہ اس لیے بچھانا اور اس پر چل کر جانا دونوں ناممکن ہے مگر کیا کروں محاورہ ہی ایسا ہے اور حقیقت میں بھگوا قالین زمین پر بچھایا نہیں جاتا۔
کلن نے کہا ہاں بھیا وہ بھی اہم پہلو ہے۔ مجھے شاہ رخ خان کی فلم پٹھان کے نغمہ پر ہنگامہ یاد ہے ۔
اچھا وہ آئٹم سانگ ’ہمیں تو لوٹ لیا مل کے عشق والوں نے ، بے شرم رنگ کہاں دیکھا دنیا والوں نے‘ لیکن وہ توبھگوا نہیں بے شرم رنگ کی بات تھی۔
بھیا اس فحش نغمے پر پر ناچنے والی اداکارہ نے بھگوا رنگ کا لباس نما کچھ پہن رکھا تھا اس لیے ہندوتوا نوازوں نے توہین محسوس کی غصہ اتارنے کود پڑے ۔
یار اس سے زیادہ فحش نغموں پر تو منوج تیواری نے نرنگی لباس پہن کر ناچا اور نچوایا ہے ۔ ایسے میں پٹھان کے نغمے پر تنازع ناقابلِ فہم ہے ۔
کلن نے سوال کیا بھیا تیواری برہمن ہے ۔ اس کے ہاتھ میں آکر مچھلی بھی سبزی بن جاتی ہے ۔ اس کا شاہ رخ خان سے کیا موازنہ ؟
یہ درست ہے کہ کہاں شاہ رخ اور کہاں منوج تیواری ؟ مگر چونکہ دونوں نے ایک رنگ کے لباس کو فحاشی سے جوڑا اس لیے موازنہ کرنا پڑا ۔
یار کہیں خود شاہ رخ نے تو اپنی فلم کی مقبولیت بڑھانے کے لیے یہ تنازع نہیں کھڑا کروادیا کیونکہ فلمی دنیا میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
ہوتو سکتا ہے مگر ہندوتوانواز شاہ رخ کی فلم کو کامیاب کریں یہ ماننا ذرا مشکل ہے۔
اس میں کیا مشکل ہے؟ یہ پیشہ ور تلک دھاری لکشمی کی خاطراگر بی جے پی کی خدمت کرسکتے ہیں تو پیسے کے لیے شاہ رخ کی مدد کون سی بڑی بات ہے ؟
للن نے کہا بھیا یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ تم نے تو ہماری پارٹی کے کارکنان کو رقاصہ سے طوائف بنا دیا ۔ یہ توہین برداشت نہیں کی جائےگی۔
بھیا آج کل جس بے حیائی کے ساتھ ہمارے سیاستداں اپنی وفاداری بدلتے ہیں اتنی آسانی سے تو طوائف بھی اپنے گاہک نہیں بدلتی ہوگی۔
اچھا تو کیا تم اسی لیے ہمیں طوائف کے کوٹھے پر لے گئے ؟ مجھے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ بی جے پی نے ترنمول کے باغیوں کو اپنی پارٹی میں کیوں نہیں لیا ؟
کلن بولا بی جے پی والوں نے چونکہ ابھی حال میں ترنمول کو ملک کا غدا ر اور ہندووں کا دشمن کہا ۔ اس کے فوراً بعد انہیں اندر کیسے لیا جائے؟
اچھا ؟ اگر ایسا ہے تو ان قومی غداروں اور ہندو دشمنوں کو گھر بلا کراپنے قومی رہنما نشستیں کیوں کررہے ہیں؟
اس لیے کہ فی الحال ہمارے پاس صرف دو سو چالیس ارکان پارلیمان ہیں ۔حامیوں کو ملا لیا جائے تب بھی دو تہائی نہیں ہوتے۔
لیکن اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم لوگ معمولی اکثریت سے من مانی کرسکتے ہیں ۔
جی ہاں مگر آئین میں تبدیلی کی خاطر دو تہائی اکثریت لازم ہے۔ اسی لیے تو ہم لوگ حد بندی اور خواتین ریزر ویشن کا قانون نہیں بناسکے۔
للن بولا یار کیوں نہ یہ دوتہائی کا قانون ہی منسوخ کردیا جائے ۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
اوہو للن یہ بھی تو دستوری ترمیم ہے اور دوتہائی اکثریت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
ااب سمجھا کہ ان کی ضرورت کیا ہے؟ مگر یہ سوال کہ انہیں میں پارٹی میں کیوں نہیں لیا جاتا ہنوز تشنہ ہے لیتے ۔ کیا ہم اپنوں کی مخالفت سے ڈرتے ہیں؟
کلن بولا سوال ڈر کا نہیں ہم انہیں سمجھا سکتے ہیں مگر ان گھُس پیٹھوں ( دراندازوں ) کچھ ارکان اسمبلی اور پارلیمان کے ارکان مسلمان ہیں ۔
تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ آنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیا حرج ہے ؟
ارے بھیا ہم ساری دنیا میں کہتے پھر رہے ہیں ہماری پارٹی میں مسلمانوں کی جگہ نہیں ہے۔ اب کیا انہیں لینے سے ناک نہیں کٹ جائے گی؟
للن بولا یار ناک تو اسی وقت کٹ گئی جب ہم اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ اس لیے اب اس کی فکر کیوں کی جائے؟
بھائی کرنا پڑتا ہے۔ آج کل سوشیل میڈیا پر اپوزیشن بہت طاقتور ہوگیا ہے۔ وہ لوگ بہت مذاق اڑاتے ہیں اس لیےخیال کرنا پڑتا ہے۔
لیکن اس کا تو بہترین علاج مہاراشٹر میں کیا گیا۔ کیوں نہ شندے اور پوار کے طرز پران باغیوں کے ذریعہ ترنمول پر قبضہ کرلیا جائے ؟
جی ہاں وہ بھی ٹھیک ہے ایک بار دو پتے ہاتھ آجائیں تو شاخ کی ضرورت ہی کیا ہے؟
نہیں بھیا ہمارے رہنماوں کوممتا کی عوامی حمایت سے ڈر لگتا ہے۔ ان بے ضمیر ارکانِ ایون سے قطع نظرووٹر تو کے ساتھ ہے ۔
ووٹر اس کے ساتھ ہے تو کیا ہوا ؟ الیکشن کمشنر گیا نیش کمار تو ہمارے پا س ہے ۔ ہم ووٹرس کا انتظام کردیں گے ۔
دیکھو بھائی یہ اتنا آسان ہوتا تو چار ہزار ای وی ایم جلانا نہیں پڑتا اس لیے اسے ہلکے میں نہ لو۔ ممتا کے تئیں ہمدردی بڑھ گئی تو ہمارا کمل مرجھا جائے گا۔
اچھا ایسی اشبھ باتیں نہ کرو اور یہ بتاو کہ اچانک اے این سی پی کہاں سے آگئی ؟
کلن بولا اچانک نہیں آئی ۔تین سال قبل اسے یہیں رجسٹر کرایا گیا تھا ۔ اس کے بعد اس نے الیکشن بھی لڑا۔
اچھا مگر میں نے تو بنگال میں اس کا نام بھی نہیں سنا۔
کیسے سنتے وہ تریپورہ میں ۷؍نشستوں پر الیکشن لڑنا چاہتی تھی مگر تین پر لڑ سکی اور اسے پانچ سو ووٹ بھی ملے ۔
کیا پانچ سو ، یار اس سے زیادہ تو نوٹا کے ووٹ ہوتے ہیں ۔ آخر اس کا مسئلہ کیا ہے؟
بھیا اس کے پاس دھن دولت نہیں ہے ۔ فی الحال اس کی تجوری میں صرف 75؍روپیہ ہے۔
ارے غضب اور اس کے باوجود اس پارٹی کے اندر بیس ارکان پارلیمان ہیں ۔ یار یہ تو بہت بڑا چمتکار ہے۔
ارے بھیا مودی ہے تو ممکن ہے اور شاہ جی ہے تو کیا کہنے؟ کچھ بھی ہوسکتا ہے؟
یار کلن میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ۔ اس لیے ذرا تفصیل سے بچاو کہ یہ کیسے ہوگیا ؟
کلن نے ہنس کر کہا میں ایک کہانی سناتا ہوں ۔ اس سے تمہیں بات سمجھ میں آجائے گی ۔
چلو کہا نی سہی ۔ کچھ تو بولو۔
بھیا ایک امیر کبیر آدمی کا ایک لڑکی سے چکر چل گیا اور اس ناجائز تعلق سے وہ حاملہ ہوکر شادی پر اصرار کرنے لگی ۔
یہ تو جائز مطالبہ ورنہ وہ بیچاری دنیا کو کیا منہ دکھا تی ؟
جی ہاں مگر وہ بگڑا ہوا رئیس بولا میں اپنی بیوی کو ناراض کرکے تم سے شادی نہیں کرسکتا کیونکہ میں اسی کے گھر میں رہتا ہوں ۔
یہ سن کر لڑکی چونک پڑی اور پوچھا تمہارا گھر کہاں ہے؟
وہ بولا میرا شہر میں کوئی گھر نہیں تھا۔ میں اس گھر میں نوکر تھا بعد میں میری شادی ہوگئی تو گھر داماد بن گیا ۔
ارے !نوکر سے اپنی بیٹی کی شادی کون کرتا ہے؟ کہانی میں گڑ بڑ ہے؟؟
یہی سوال اس لڑکی نے پوچھا تو جواب ملا شادی اس لیے کرنی پڑی کیونکہ میرے مالک کی بیٹی بھی تمہاری طرح حاملہ ہوگئی تھی ۔
ارے یہ تو گویا تاریخ نے اپنے آپ کو دوہرا دیا ۔
جی ہاں سہی سمجھے ۔ یہ سن کر لڑکی کی آنکھوں میں چمک آگئی اور اس نے پوچھا کیا تمہارا بھی کوئی تمہاری طرح وفادار نوکر نہیں ہے؟
رئیس بولا ویسے تو کئی ہیں لیکن کیا تم اس کی جھونپڑی میں رہ لوگی ؟
کیوں نہیں ؟ میں تمہاری بدولت اس کے جھونپڑے کو محل بنادوں گی جیسے اے این سی پی کو بی جے پی نے محل بنادیا ۔
لیکن وہ تاریخ دوہرانے والی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔
تم بہت بھولے ہو للن ۔ کیا تم نے کبھی سوچا کہ دیدی نےکس کی خاطر کانگریس سے نکل ترنمول بنائی تھی ؟
اسی کی خاطر جس کے لیے کوکیلا گھوش ترنمول سے نکل ای این سی پی میں چلی گئی ہے ۔
صحیح سمجھے ۔ اب یہ بتاو کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے یا نہیں ؟
ہاں یار یہ تو ہو بہو تمہاری کہانی والی بات ہے۔ تم نے تو ایک کہانی سے ساری گتھیاں سلجھا دیں ۔
لیکن اب آگے کیا ہوگا ؟
یہی کہ کوکیلا گھوش کو بھی آگے چل کر اسی کرب سے گزرنا پڑے گا اور پھر کسی نوکر کی قسمت کھل جائے گی ۔
یار میں تو کہتا ہوں اس موضوع پر ’سسر بھی کبھی داماد تھا‘ نامی سیریل بننا چاہیے ۔ قسم سے بہت چلے گا ۔
اچھا تو میں بھی چلتا ہوں ورنہ میری بیگم اپنے والد سے شکایت کرکے مجھے پٹوادے گی کیونکہ میں بھی ۰۰۰۰
سمجھ گیا ۔ اب جاو اور خیر مناو۔