ہمارے ہاں ایک قدیم مقولہ بڑی شد و مد اور تواتر کے ساتھ دہرایا جاتا ہے کہ "سفر وسیلۂ ظفر ہے”۔ اس مقولے پر ہمارے عہدِ جدید کے سیاست دانوں اور رہنماؤں کا ایمان اس قدر پختہ، غیر متزلزل اور اندھا ہو چکا ہے کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ اپنی مستقل رہائش کسی جدید ترین، میزائل شکن اور ہزاروں کروڑ کی لاگت سے تیار کردہ بوئنگ طیارے کی مخملی نشستوں پر ہی رکھ لیں۔ اپنی ذاتِ ناچیز کے بارے میں کیا عرض کروں، مجھ فقیر کا حال تو یہ ہے کہ بچپن میں لٹو کو گھومتا دیکھ کر چکرا کر گر پڑتا تھا، ہوائی جہاز کا سفر تو درکنار، محلے کی خستہ حال اور ہچکولے کھاتی بس میں بیٹھ کر اگلے اسٹاپ تک جانا بھی میرے لیے کسی اعصاب شکن مہم جوئی سے کم نہیں ہوتا۔ لیکن آج کل سفر اور سیاست کا تصور یکسر بدل چکا ہے۔ پرانے وقتوں میں جب کوئی شخص طویل سفر پر نکلتا تھا تو محلے والے باقاعدہ اس سے معافی تلافی کرواتے، گلے مل کر زار و قطار روتے اور زادِ راہ کے ساتھ دعاؤں، تعویذوں اور پھونکوں کا ایک پلندہ بھی باندھ دیتے۔ تب سفر کو عقوبت اور جلاوطنی کو سب سے بڑی سزا سمجھا جاتا تھا۔ ابنِ بطوطہ، البیرونی اور فاہیان جیسے سیاحوں نے عمریں کھپا دیں، جنگلوں کی خاک چھانی اور جوتیاں چٹخائیں، تب جا کر تاریخ کے اوراق میں بمشکل جگہ پائی۔ مگر دورِ حاضر کی سیاسی ستم ظریفی اور نرالی منطق دیکھیے کہ آج کل اپنے ہی ملک میں لگاتار قیام کرنا اور غریب عوام کے درمیان رہنا، کسی بھی حکمران کے لیے سب سے بڑی ذہنی اذیت، سفارتی پسماندگی اور جمود کی علامت تسلیم کیا جاتا ہے۔
تاریخِ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ ماضی کے راجے مہاراجے اور چکرورتی سمرات اپنے محلات اور پایۂ تخت سے نکلنے میں سخت عار محسوس کرتے تھے۔ انہیں ہمہ وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ اگر وہ دارالحکومت سے ذرا بھی دور گئے تو پیچھے سے کوئی دوسرا دعویدار تخت پر قابض ہو جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ وہ اپنی طاقت، سطوت اور دبدبے کے اظہار کے لیے ‘اشومیدھ یگیہ’ کیا کرتے تھے جس میں ایک سفید گھوڑا چھوڑ دیا جاتا تھا اور جہاں جہاں وہ گھوڑا بلا روک ٹوک جاتا، وہ سارا علاقہ راجا کی قلمرو تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ مگر جدید، چمچماتی اور ڈیجیٹل جمہوریت نے اس قدیم رسم کو ایک نیا، ہوائی اور انتہائی نفیس روپ بخشا ہے۔ آج کے دور کا اشومیدھ یگیہ یہ ہے کہ حکمران اپنا ہزاروں کروڑ روپے کا اڑتا ہوا فولادی محل لے کر اڑتا ہے اور جس جس ملک کے سرخ قالین پر اس کے قدم پڑتے ہیں، وہاں کی حکومت کو سفارتی، اخلاقی اور روحانی طور پر مسخر سمجھ لیا جاتا ہے۔
ہمارے عہد کے ہردلعزیز، کیمرہ شناس اور ہمہ وقت سرگرم ‘وشو گرو’ نے اس نظریے کو ایک ایسا کمال اور عروج بخشا ہے کہ اب عوام کو یہ پختہ شک ہونے لگا ہے کہ شاید وہ ملک چلانے نہیں، بلکہ دنیا کو محض یہ بتانے آئے ہیں کہ ہوائی جہاز کی برقی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے، ہوا کے دوش پر اڑتی شال کو سنبھالتے ہوئے کیمرے کے عدسے کی جانب دیکھ کر، ایک مخصوص اور نپے تلے زاویے سے مسکرا کر ہاتھ ہلانے کا اصل، مستند اور اساطیری طریقہ کیا ہے۔ ان کے قریبی رفیق اور ہوا بازی کے امور کے روحانی فلسفی ‘سوامی ہوائی آنند’ اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے پردھان سیوک کا زمین کی کششِ ثقل سے تعلق محض رسمی، اخلاقی اور عارضی سا رہ گیا ہے۔ سوامی جی کا پختہ عقیدہ ہے کہ وہ انسانوں کے اس برگزیدہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو بادلوں کے درمیان اوزون کی تہہ کے قریب زیادہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو کابینہ کا ہنگامی اجلاس اور نیتی آیوگ کی میٹنگ بھی پینتیس ہزار فٹ کی بلندی پر منعقد کریں جہاں حزبِ اختلاف کا کوئی بے ہنگم شور اور زمینی حقائق کی کوئی تلخی ان کی نازک سماعتوں پر گراں نہ گزرے۔
جب ہمیں یہ روح پرور، ولولہ انگیز اور چشم کشا خبر ملی کہ ہمارے ہردلعزیز رہبر نے فرانس کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی اپنے غیر ملکی دوروں کی شاندار اور ناقابلِ شکست سنچری مکمل کر لی ہے، تو ‘آنکڑا رام جی’ کے چہرے پر ایک عجیب سی طمانیت تھی۔ آنکڑا رام جی ان لوگوں میں سے ہیں جو وقت کی اتنی پابندی کرتے ہیں اور گنتی میں اتنے طاق ہیں کہ محلے کے لوگ ان کی کھانسی سن کر اپنی گھڑیوں کا وقت درست کر لیتے ہیں اور ان کے ہونٹ ہلتے دیکھ کر اپنے بینک بیلنس، ماہانہ بجٹ اور قرضوں کا حساب لگانے لگتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ضخیم، خستہ حال اور ہندسوں سے بھرے رجسٹر سے اعداد و شمار نکالتے ہوئے انکشاف کیا کہ سفارت کاری کی عالمی پچ پر سو دوروں کی سنچری کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے سو مرتبہ مختلف ہوائی اڈوں پر بچھے سرخ قالین پر خراماں خراماں چلنا، سو مرتبہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کرتے ہوئے یوں سینہ تان کر سر ہلانا جیسے وہ خود کسی زمانے میں فیلڈ مارشل رہے ہوں اور سب سے بڑھ کر، سو مرتبہ مختلف زبانیں بولنے والے سربراہانِ مملکت کو ایسے بے ساختہ، دیوانہ وار اور پسلیاں توڑ انداز میں گلے لگانا کہ دیکھنے والوں کو گمان گزرے کہ یہ دونوں پچھلے جنم میں سگے بھائی تھے اور کسی بین الاقوامی کمبھ کے میلے میں بچھڑ گئے تھے۔ آنکڑا رام جی نے اپنے کیلکولیٹر کے بٹن دباتے ہوئے پوری سچائی اور دیانت داری سے بتایا کہ اگر ان تمام دوروں پر اٹھنے والے اخراجات اور ان کے طیارے کے فضائی میل جمع کیے جائیں، تو ہم اب تک مریخ پر ایک پورا مضافاتی علاقہ خریدنے اور اسے مکمل طور پر خود کفیل (آتم نربھر) بنانے کے اہل ہو چکے ہوتے۔
اس تاریخی سنچری والے عدیم النظیر موقعے کے لیے فرانس کا انتخاب بھی کمالِ فن، ذوقِ جمالیات اور فیشن پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیرس جہاں کی ہوائیں بھی مہنگے عطر، انقلاب کی سرگوشیوں اور تازہ بیک کی ہوئی کروساں کی اشتہا انگیز خوشبو سے معطر ہوتی ہیں، وہاں کی رومانوی فضاؤں میں جب یہ جدید اور پرآسائش پشپک ومان اترا تو وہاں موجود ان کے ذاتی مشیرِ ملبوسات ‘وستر بھوشن جی’ کی باچھیں کھل گئیں۔ وستر بھوشن جی کا شمار ان نابغۂ روزگار اور عبقری ہستیوں میں ہوتا ہے جن کا پختہ اور غیر متزلزل ایمان ہے کہ حکمران کے کپڑے اس کی خارجہ پالیسی سے زیادہ مضبوط، دیدہ زیب، تہہ دار اور برانڈڈ ہونے چاہئیں۔ ہمارے وشو گرو کی یہ خوبی دنیا بھر میں تسلیم کی گئی ہے کہ وہ دن میں اتنی تیزی اور مہارت سے اپنا قیمتی لباس اور سر کی ٹوپی تبدیل کرتے ہیں کہ بسا اوقات خود موسم کو شرمندگی ہونے لگتی ہے کہ وہ اتنی جلدی کروٹ کیوں نہیں بدل پایا۔ پیرس جیسے فیشن کے دارالحکومت میں ان کی آمد کسی عالمی فیشن ویک کے طمطراق سے کم نہ تھی۔
یہاں ایک عجیب و غریب تضاد دیکھنے کو ملتا ہے جس نے دورِ حاضر کے سیاسی پنڈتوں، ماہرینِ عمرانیات اور بالخصوص علمِ اقتصادیات کے طالب علموں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے رہبرِ معظم خود کو فقیری، درویشی، تیاگ اور کٹیا نشینی کا سب سے بڑا دعویدار بتاتے ہیں۔ ان کا وہ مشہورِ زمانہ اور طلسماتی جملہ کہ "ہم تو فقیر آدمی ہیں، اپنا جھولا اٹھائیں گے اور چل پڑیں گے” آج بھی غریب اور بھولے بھالے عوام کے کانوں میں رس گھولتا ہے اور انہیں ایک روحانی سرشاری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لیکن تصدیق شدہ زمینی اور فضائی حقائق کتنے ظالم، شوخ اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس فقیر کا مبینہ جھولا کسی عام پرواز کی فرسٹ کلاس میں ہرگز نہیں جاتا، بلکہ اس کے لیے قومی خزانے سے آٹھ ہزار چار سو کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم خرچ کر کے ایک ایسا ذاتی، میزائل شکن، فولادی اور ہوش ربا اڑن کھٹولا تیار کروایا گیا ہے جس کی شان و شوکت اور اندرونی آرائش کے سامنے مغل شہنشاہوں کے دربار اور دیوانِ خاص بھی حقیر، پسماندہ اور غریب معلوم ہوں۔ اس اڑتے ہوئے محل نما طیارے میں اتنے بیش قیمت سوٹ، کشمیری پشمینے کی قیمتی شالیں اور اعلیٰ ترین برانڈز کی عینکیں رکھی ہوتی ہیں جتنی فرانسیسی صدر کی پوری کابینہ نے اپنی شادیوں پر بھی کرائے پر نہیں لی ہوں گی۔ بقول شخصے، وہ اتنے سچے اور کھرے ہیں کہ فقیری کا دعویٰ بھی آٹھ ہزار کروڑ کے ذاتی طیارے میں بیٹھ کر پوری شاہانہ شان و شوکت اور کروفر سے کرتے ہیں تاکہ ان کی فقیری پر کسی مفلسی، ناداری یا کنجوسی کا گمان نہ گزرے اور مغربی دنیا یہ نہ سمجھے کہ وشو گرو کے پاس اڑنے کو ڈھنگ کا جہاز نہیں ہے۔
فرانس کے اس دورے میں سب سے زیادہ لطف انگیز، قابلِ دید اور اعصاب شکن مرحلہ سفارتی معانقوں کا تھا۔ دورِ جدید کی سفارت کاری میں محض ہاتھ ملانے کو ایک تکلف، سرد مہری اور پرانے زمانے کی دقیانوسی رسم سمجھا جاتا ہے۔ اصل کام تو سامنے والے کو اس زور، جذبے اور عقیدت سے بھینچنا ہے کہ اس کے اندر موجود تمام جمہوری، سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظریات ایک لمحے کے لیے مفلوج ہو جائیں اور اس کی پسلیاں عالمی امن کے گیت گانے لگیں۔ فرانسیسی صدر جو فطرتاً ایک نپے تلے، محتاط اور جراثیم سے خائف رہنے والے یورپی انداز کے عادی تھے، جب ہمارے رہبر کے روایتی، بھرپور اور جذباتی مشرقی معانقے کی زد میں آئے تو ان کے چہرے کے تاثرات دیدنی تھے۔ ‘بھگت چرن داس’، جو ہر وقت سرکاری وفد میں سائے کی طرح ساتھ رہتے ہیں اور جن کا واحد کام ہر حکومتی اقدام کی دیومالائی تاویل تراشنا اور کیمرے کا زاویہ درست کروانا ہے، انہوں نے بعد میں یہ دعویٰ کیا کہ اس ایک تاریخی، زوردار اور آکسیجن کش جھپی نے عالمی حدت سے لے کر بحیرۂ اسود تک کے تمام پیچیدہ مسائل آناً فاناً حل کر دیے ہیں۔ معانقے کے بعد دونوں رہنما جب مشترکہ پریس کانفرنس کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے فرانسیسی صدر ابھی تک اس زور دار التفات کے صدمے سے باہر نہیں آ پائے اور دل ہی دل میں ہڈی و جوڑ کے کسی ماہر معالج سے ہنگامی وقت لینے کا سوچ رہے ہیں۔
ان بیرونی دوروں کا ایک اور لازمی، ناگزیر اور انتہائی جذباتی جزو بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن سے خطاب ہوتا ہے۔ تارکینِ وطن کی نفسیات پر غور کیا جائے تو بڑی دلچسپ، ستم ظریفانہ اور سبق آموز صورت حال سامنے آتی ہے۔ یہ وہ نفیس، نرم و نازک اور ڈالروں یا یورو میں کمانے والے روشن خیال لوگ ہیں جو اپنے ملک کے ناگفتہ بہ حالات، ٹوٹی سڑکوں، رشوت خوری، اڑتی دھول، مچھروں اور بدانتظامی سے تنگ آکر دیارِ غیر میں بس گئے ہیں اور وہاں کی تمام جدید سہولیات، صاف پانی، بلاتعطل بجلی اور تیز ترین انٹرنیٹ سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لیکن جب ان کا اپنا رہنما ان کے شہر میں آتا ہے تو ان کی سوئی ہوئی حب الوطنی ایک دم سے یوں جاگ اٹھتی ہے جیسے کسی نے سوکھے پتوں پر چنگاری پھینک دی ہو۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں اسٹیڈیم میں جمع ہوتے ہیں، مہنگے ٹکٹ خریدتے ہیں اور اپنے ملک کی یاد میں زار و قطار آنسو بہاتے ہیں۔ اسٹیج پر جب ٹیلی پرامپٹر کی طلسماتی اور پوشیدہ اسکرینیں روشن ہوتی ہیں اور ایک گونج دار اور ڈرامائی آواز ابھرتی ہے کہ "مترو!”، تو ہجوم پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔ رہنما جب انہیں پورے یقین اور وجدانی کیفیت میں بتاتے ہیں کہ پیچھے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور ترقی کے ایسے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں جو خود گنیز بک والوں کی سمجھ سے باہر ہیں، تو یہ تارکینِ وطن کھڑے ہو کر یوں والہانہ اور دیوانہ وار تالیاں بجاتے ہیں جیسے انہوں نے کل ہی اپنا بوریا بستر گول کر کے اپنا غیر ملکی پاسپورٹ جلا کر واپس اپنے آبائی گاؤں منتقل ہونے کا حتمی اور اٹل ارادہ کر لیا ہو۔ اس موقع پر ایک عجیب سی حیرانی ہوتی ہے کہ یہ کیسی پرسرار، ڈیجیٹل اور وائی فائی سے جڑی محبت ہے جو دور سے تو بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے لیکن کوئی بھی شخص اپنی سہولیات کو ٹھوکر مار کر اس جنتِ ارضی میں واپس جانے کو تیار نہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر غالب کا وہ مشہور شعر ذرا سی تحریف کے ساتھ یوں لبوں پر مچلنے لگتا ہے:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ہم اپنے دیش سے نکلے
سو دوروں کی تکمیل پر جہاں دنیا بھر میں سرخیاں لگ رہی تھیں اور پیرس کا ایفل ٹاور روشنیوں سے نہا رہا تھا، وہیں پیچھے اپنے ملک میں عوام ایک عجیب سی کشمکش اور فخریہ تذبذب کا شکار تھے۔ غریب عوام کا روزمرہ کا معمول یہ بن چکا ہے کہ وہ صبح اٹھ کر چائے کے کھوکھے پر بیٹھتے ہیں اور ایک ہاتھ میں سستی چائے کی پیالی (جو خود اس نظام میں ایک بہت بڑا اور طاقتور سیاسی استعارہ ہے) پکڑے اخبار میں دیکھتے ہیں کہ آج ہمارا وشو گرو کس ملک کے سربراہ کے ساتھ ناشتہ کر رہا ہے۔ کبھی وہ جاپان میں بلٹ ٹرین کی سواری کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی جرمنی میں چانسلر کے ساتھ چہل قدمی فرما رہے ہوتے ہیں۔ ادھر عوام اپنے محلے کی اس ٹوٹی ہوئی سڑک کے گڑھے کو دیکھتے ہیں جس میں پچھلی بارش کا پانی اور ڈینگی کے مچھر ابھی تک پوری تندہی اور استقامت سے جمع ہیں اور پھر اخبار میں چھپی پیرس کے شانزے لیزے کی شاندار تصویر پر نظر ڈال کر ایک گہری، طویل مگر مطمئن سانس لیتے ہیں۔ وہ یہ سوچ کر اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ چلو ہم نہ سہی، ہمارا نمائندہ تو ہزاروں کروڑ کے طیارے میں بیٹھ کر پیرس کی صاف ستھری سڑکوں پر چل رہا ہے۔ یہ احساسِ شرکت کہ اگر ملک کا ایک آدمی بھی دنیا کی سیر کر رہا ہے تو گویا پورا ملک ہی عالمی سیاحت پر نکلا ہوا ہے، جدید جمہوریت کا وہ میٹھا، رنگین اور نشہ آور زہر ہے جسے عوام بڑی رغبت سے پی رہے ہیں۔
اس ریکارڈ توڑ دورے پر ہمارے محلے کے ایک جہاندیدہ بزرگ جو روزانہ شام کو چوپال میں بیٹھ کر دنیا کی نبض ٹٹولنے کے ماہر ہیں، انہوں نے ایک بڑی گہری اور فلسفیانہ بات کہی۔ کہنے لگے کہ انسان جتنا زیادہ بلندی پر اڑنے لگتا ہے، زمین پر بسنے والے اسے اتنے ہی چھوٹے، حقیر اور غیر اہم نظر آنے لگتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب پینتیس ہزار فٹ کی بلندی سے اپنے اربوں روپے کے طیارے کی کھڑکی سے نیچے دیکھنے پر عام انسانوں، ووٹروں اور کیڑے مکوڑوں میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔ ہمارے رہبر نے سو دورے مکمل کر لیے، یہ بلاشبہ ایک عظیم کارنامہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب آگے کیا؟ سو ممالک کی خاک چھاننے اور دنیا بھر کے سرخ قالینوں کو اپنے قدموں سے رونق بخشنے کے بعد، اب اس دنیاوی زمین پر بچا ہی کیا ہے جو ان کے وسیع ذوقِ سیاحت کو تسکین دے سکے؟ بزرگ نے اپنی عینک کے موٹے شیشے صاف کرتے ہوئے پیشین گوئی کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خلائی تحقیق کا ادارہ (اسرو) اپنا بجٹ دگنا کر دے اور ایک نیا خلائی پشپک ومان تیار کرے، کیونکہ وہ دن اب دور نہیں جب مریخ اور چاند کے سرکاری دوروں کا مطالبہ کیا جائے گا تاکہ وہاں موجود خلائی مخلوق کو بھی ‘مترو’ کہہ کر مخاطب کیا جا سکے، ان کے ساتھ بھی باقاعدہ معانقہ کیا جا سکے اور چاند کی سطح پر ایک عدد میگا ایونٹ منعقد کر کے وہاں کے عوام کو بتایا جا سکے کہ اصل آتم نربھر ہونا کسے کہتے ہیں۔ علامہ اقبال نے شاید جدید دور کے اسی خلائی سفر اور لامتناہی ذوقِ پرواز کے لیے کہا تھا:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
زمیں ناپ لی، آسماں اور بھی ہیں
فرانس کا یہ سوواں دورہ محض ایک سفارتی ہجرت نہیں تھی، بلکہ یہ اس حقیقت کا اعترافِ عام تھا کہ ہمارے قائد اعظم نے اب سیاست کو سیاست کے بجائے "سیاحت” اور ریاست کو "ایونٹ مینجمنٹ” کے ارفع درجے پر فائز کر دیا ہے۔ پرانے زمانے کے درویشوں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ اپنا دل کسی ایک جگہ نہیں لگاتے تھے، مگر ہمارے عہد کا یہ "میگا پکسل درویش” تو اپنا قدم بھی کہیں ٹکنے نہیں دیتا۔ جب ملک کے کسی کونے سے مہنگائی، بے روزگاری یا افلاس کا شور اٹھتا ہے، تو موصوف کمالِ بے نیازی سے اپنے آٹھ ہزار کروڑ کے اڑن کھٹولے کی کھڑکی کا پردہ گرا دیتے ہیں؛ کیونکہ پینتیس ہزار فٹ کی بلندی پر عوام کی آہ و بکا سنائی نہیں دیتی، وہاں تو بس انجنوں کا سریلا شور اور میزائل شکن نظام کی اطمینان بخش گھنگھراہٹ ہوتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ سو دوروں کی اس سنچری کے بعد اب موصوف اپنے ہی ملک میں غیر ملکی مہمان لگنے لگے ہیں۔ وہ جب کبھی تھوڑی دیر کے لیے وطن واپس آتے ہیں، تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں اپنی عادت کے مطابق وہ اپنی ہی حکومت کے ساتھ کسی مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کر کے واپس ہوائی اڈے کی طرف نہ دوڑ پڑیں۔ آخرکار، "سفر وسیلۂ ظفر” ہو نہ ہو، "وسیلۂ مفر” ضرور ثابت ہوا ہے؛ یعنی جب زمینی حقائق کا سامنا نہ ہو سکے، تو آسمان کی وسعتوں میں پناہ لینا ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔