بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سورۃ الروم، آیت
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
ترجمہ:
اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو، اور اُس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ یقیناً اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔
عربی زبان اور اسلامی ثقافت میں نکاح کو "بناء” (تعمیر یا عمارت کی ابتدا) سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ شادی کو ایک نئے گھر، نئے خاندان اور نئی سماجی اکائی کی بنیاد رکھنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔عربی میں ایک معروف تعبیر "بنى بزوجته” (اس نے اپنی بیوی کے ساتھ گھر بسایا) استعمال ہوتی ہے۔ یہاں "بنى” کا لفظ اصل میں عمارت تعمیر کرنے کے معنی ہے، لیکن مجازی طور پر اس سے مراد شادی کے بعد مشترکہ زندگی کا آغاز اور اپنا گھر بسانا ہے۔
اس تعبیر کے پس منظر میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ اسلام میں خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اور نکاح اس بنیاد کی پہلی اینٹ ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے، اسی طرح ازدواجی زندگی بھی محبت، اعتماد، ذمہ داری اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
نکاح صرف دو افراد کے درمیان تعلق کا نام نہیں بلکہ ایک نئے خاندان، نئی نسل اور نئے سماجی رشتوں کی تشکیل کا نقطۂ آغاز ہے۔ اسی کے ذریعے معاشرہ استحکام حاصل کرتا ہے اور انسانی اقدار ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہیں۔قدیم عرب معاشرے میں شادی کے بعد مرد و عورت کے اکٹھے رہنے اور خیمہ یا گھر قائم کرنے کو بھی "بناء” سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں یہ لفظ نکاح اور رخصتی کے لیے ایک معروف اصطلاح بن گیا۔اس حقیقت کو ایک خوبصورت تمثیل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ جس طرح ایک معمار پہلے مضبوط بنیاد رکھتا ہے، پھر اینٹ پر اینٹ رکھ کر ایک خوبصورت اور پائیدار عمارت تعمیر کرتا ہے، اسی طرح نکاح بھی ایک نئی زندگی کی بنیاد ہے۔ میاں بیوی محبت، ایثار اور تعاون کی اینٹوں سے اپنے خاندان کی عمارت کھڑی کرتے ہیں، اور یہی عمارت آگے چل کر ایک مضبوط اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ بنتی ہے۔
اسی لیے اسلامی لٹریچر میں جب "بناء” یا "الدخول بالزوجة” کا ذکر آتا ہے تو اس سے مراد شادی کے بعد میاں بیوی کی مشترکہ زندگی کا عملی آغاز ہوتا ہے، گویا ایک نئی عمارت یعنی خاندان کی تعمیر شروع ہو گئی۔
بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں الٹا ہے تصور ہے ہمارا معاشرہ نئے نکاح کرنے والے جوڑے کو پرائیویسی دینے کے حق میں نہیں ہے ماں باپ ہر طرح سے ہمیشہ ہمیشہ اپنے بیٹے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھنے کے حق میں ہوتے ہیں اگر ذرا سی بھی پرائیویسی کی کوشش میاں بیوی کریں تو اسے ماں باپ کی نافرمانی اور بغاوت سے تعبیر کیا جاتا ہے لڑکی پر الزام لگایا جاتا ہے ہمارے بیٹے کو شادی ہوتے ہی بہکا دیا اپنے بس میں کر لیا۔ حالانکہ میاں بیوی میں محبت اللہ تعالیٰ نے نکاح کے ذریعے پیدا کی ۔ مشترکہ خاندان میں رہنے کو اسلامی تہذیب سمجھ کر اسی پر زور دیا جاتا ہے آنے والی بہو سے دولہے کے بھائی بہن اور دوسرے رِشتہ داروں کی خدمت کے لئے ایسے حوالے دیے جاتے ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہی نہیں اور اس طرح ایک محبت بھرے خاندان کی ابتدا ہوتے ہی عجیب سے کشمکش بھرے ماحول میں سبھی صبح شام لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں دلوں میں دراڑ اور بعض اوقات کورٹ کچہری اور خون خرابا۔ انسانی نفسیات کی باریکیوں کو سمجھے بنا خاندان کی ابتدا اور استقامت کی کوششیں کی جاتی ہے جو اکثر ناکام ثابت ہو رہی ہیں اور لوگ ایک تنگ نظری کے اور محبت سے خالی ماحول میں رہنے کو مجبور ہیں.