سپریم کورٹ آف انڈیا میں حالیہ دنوں پیش آنے والے واقعہ کے پس منظر میں ایسے کئی سوالات پوشیدہ ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت عظمیٰ ملک کا سب سے بڑا آئینی ادارہ ہے جہاں ہر آنے والا شخص اس امید کے ساتھ حاضر ہوتا ہے کہ اسے قانون و آئین کے مطابق انصاف ملے گا۔ اگر اسی عدالت میں کوئی درخواست گزار جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، عدالت کے آداب پامال کرے، جج صاحبان سے غیر مناسب انداز میں گفتگو کرے یا کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے تو عدالتی نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام انصاف، عوامی نفسیات اور ریاستی اداروں پر اعتماد سے جڑ جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے نہ صرف بنچ کے سامنے نامناسب رویہ اختیار کیا بلکہ چیف جسٹس آف انڈیا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ عدالت میں کاغذات اچھال دیے اور اس انداز میں گفتگو کی جیسے وہ عدالت کو احکامات دے رہا ہو۔ عدالتی سیکورٹی اہلکاروں نے بروقت مداخلت کرکے صورت حال کو قابو میں کیا جبکہ بنچ نے معاملے کو مزید طول دینے کے بجائے قانونی کارروائی محدود رکھتے ہوئے مقدمے کی سماعت مکمل کی اور درخواست خارج کر دی۔ بعد ازاں جج صاحبان کے ریمارکس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وہ اس واقعے کو محض توہین عدالت کے زاویے سے نہیں بلکہ ایک مایوس شخص کے طرزِ عمل کے طور پر بھی دیکھ رہے تھے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ایک شخص اس حد تک کیوں پہنچ جاتا ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا؟ کیا اس کی وجہ صرف اس کی ذاتی طبیعت ہوتی ہے یا اس کے پیچھے کوئی طویل قانونی جد وجہد، مسلسل ناکامی، اداروں سے مایوسی اور انصاف کے حصول میں پیدا ہونے والی بے چینی بھی شامل ہوتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کیے بغیر صرف اس شخص کے رویے کی مذمت کر دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔ یہ درست ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں عدالتی نظام کے حوالے سے عوامی توقعات میں بے حد اضافہ ہوا۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ اگر اسے نچلی عدالتوں، پولیس یا انتظامیہ سے انصاف نہ ملے تو سپریم کورٹ اس کی آخری امید ہے۔ جب کوئی شخص اس آخری دروازے تک پہنچ کر بھی اپنی توقعات کے مطابق نتیجہ حاصل نہیں کر پاتا تو بعض اوقات وہ شدید ذہنی دباؤ، غصے اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یقیناً یہ کیفیت کسی بھی صورت میں عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کا جواز نہیں بن سکتی لیکن اس کیفیت کو سمجھنا ضروری ضرور ہے۔
یاد رہے کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں جذبات کے مطابق نہیں۔ ہر مقدمے کا فیصلہ ریکارڈ، شہادت، آئینی دفعات اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اگر کسی درخواست کو عدالت ناقابل سماعت قرار دیتی ہے یا یہ سمجھتی ہے کہ درخواست گزار کے پاس کوئی متبادل قانونی راستہ موجود ہے تو عدالت اسی کے مطابق حکم صادر کرتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عدالت درخواست گزار کی تکلیف یا احساسات سے بے خبر ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ قانون جس حد تک اجازت دیتا ہے عدالت اسی دائرے میں رہ کر فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس واقعے میں بھی یہی پہلو سامنے آیا کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے قانونی اصولوں کو برقرار رکھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ فریق کے لیے دیگر قانونی راستے موجود ہیں اس لیے خصوصی اجازت کی درخواست قابل قبول نہیں۔ اس فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس پر قانونی بحث بھی کی جا سکتی ہے لیکن عدالت کے اندر ہنگامہ آرائی، بدزبانی یا کارروائی میں خلل ڈالنا کسی بھی مہذب قانونی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
کیا معاشرے میں برداشت کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے؟ اختلاف رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کا حسن ہے لیکن اختلاف اگر بے ادبی، اشتعال اور اداروں کی توہین میں تبدیل ہو جائے تو پھر یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے سماجی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد زبان اور لہجے میں جو شدت پیدا ہوئی ہے اس نے اداروں کے بارے میں گفتگو کا معیار بھی متاثر کیا ہے۔ آج بہت سے لوگ دلیل کے بجائے جذبات اور قانونی گفتگو کے بجائے اشتعال انگیز بیانیے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے اثرات عدالتوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
بعض یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور خود ساختہ تجزیہ نگار عدالتی کارروائیوں کے مختصر کلپس یا ادھوری معلومات کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ عوام کے ذہن میں غلط فہمیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ جب کسی مقدمے کے قانونی پہلو کو نظر انداز کرکے صرف جذباتی مناظر دکھائے جائیں تو عوام کا ایک طبقہ حقیقت سے زیادہ تاثر کو اہمیت دینے لگتا ہے۔ یہی رجحان بالآخر اداروں پر اعتماد کو متاثر کرتا ہے اور غیر ضروری تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد کسی بھی جمہوری ریاست کا بنیادی سرمایہ ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کو یقین رہے کہ عدالتیں آزاد، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں تو وہ اپنی شکایات کے ازالے کے لیے آئینی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ اعتماد کمزور پڑنے لگے تو اس کے اثرات پورے نظام حکومت پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے عدالتی وقار کا تحفظ صرف ججوں یا وکلا کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم عدالتی وقار کے تحفظ کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عدالتی فیصلوں پر علمی یا قانونی تنقید کا دروازہ بند کر دیا جائے۔ آئین ہر شہری کو اظہار رائے کا حق دیتا ہے لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ قانونی فیصلوں پر اختلاف دلیل، قانون اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ گالم گلوچ، اشتعال انگیزی یا عدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی صورت میں۔ مہذب معاشروں میں عدالتوں پر تنقید بھی شائستگی اور قانونی حدود کے اندر رہ کر کی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں پیش آنے والا واقعہ اسی لیے تشویش ناک ہے کہ اس نے عدالتی ماحول کے تقدس کو متاثر کیا۔ اگر ایسے واقعات معمول بن جائیں تو عدالتوں میں کام کرنے والے جج، وکلا، عدالتی عملہ اور انصاف کے متلاشی شہری سب متاثر ہوں گے۔
عدالت ایک ایسی جگہ ہے جہاں قانون کی حکمرانی کا عملی اظہار ہوتا ہے اس لیے وہاں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے ادارے کی فضا کو متاثر کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بنچ نے فوری طور پر سخت تعزیری کارروائی کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا اور مقدمے کے قانونی پہلو پر توجہ مرکوز رکھی۔ اگرچہ عدالت کے پاس توہین عدالت سمیت مختلف قانونی اختیارات موجود تھے لیکن جج صاحبان نے معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھانے کے بجائے مقدمے کو قانون کے مطابق نمٹا دیا۔ اس طرز عمل سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدلیہ طاقت کے اظہار سے زیادہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ وکلا صرف اپنے مؤکل کے نمائندے نہیں ہوتے بلکہ عدالت اور انصاف کے نظام کا بھی حصہ ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مؤکل کو قانونی حدود، عدالتی آداب اور مناسب طرزِ عمل سے آگاہ کریں۔ اگر کوئی فریق شدید ذہنی دباؤ یا جذباتی کیفیت میں ہو تو وکیل کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اسے ایسا کوئی قدم اٹھانے سے روکے جو اس کے اپنے مقدمے اور عدالتی وقار دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو۔ اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، یوٹیوب چینلز اور خود کو صحافی یا تجزیہ کار کہنے والے افراد پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالتی کارروائیوں کے منتخب حصوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا یا سنسنی خیزی پیدا کرنے کے لیے اشتعال انگیز عنوانات استعمال کرنا وقتی طور پر ناظرین تو بڑھا سکتا ہے لیکن اس سے عوام کے ذہن میں عدلیہ کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر مکمل، متوازن اور مصدقہ انداز میں پیش کی جائے نہ کہ جذبات کو بھڑکانے کے لیے۔
آج معاشرے میں برداشت، مکالمے اور قانونی شعور کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر لوگ یہ سمجھ جائیں کہ ہر اختلاف کا حل قانون کے دائرے میں موجود ہے اور ہر عدالتی فیصلہ پسندیدہ ہونا ضروری نہیں تو ایسے ناخوشگوار واقعات میں یقیناً کمی آ سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں، بار ایسوسی ایشنز، سماجی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو بھی اس حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ضرورت ہے کہ انصاف کی فراہمی کا عمل زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور عام آدمی کے لیے قابل فہم بنایا جائے۔ مقدمات کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے، قانونی پیچیدگیوں اور مسلسل عدالتی چکروں سے پیدا ہونے والی مایوسی بعض اوقات لوگوں کو غیر متوازن رویوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
اگرچہ اس سے کسی غیر قانونی حرکت کا جواز پیدا نہیں ہوتا لیکن انصاف کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ضرور اجاگر ہوتی ہے۔ آج ریاستی اداروں پر اعتماد قائم رکھنے کے لیے صرف قانون کافی نہیں بلکہ عوامی اعتماد، ذمہ دارانہ صحافت، باوقار عدالتی ماحول، پیشہ ورانہ وکالت اور سماجی برداشت بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ عدلیہ کا احترام جمہوریت کے استحکام کی بنیاد ہے لیکن اس احترام کے ساتھ یہ توقع بھی وابستہ رہتی ہے کہ انصاف کا نظام عوام کے اعتماد پر ہمیشہ پورا اترنے کی کوشش کرے۔ یہ واقعہ یقیناً افسوس ناک ہے مگر اگر اس سے ریاستی ادارے، وکلا، میڈیا اور معاشرہ اپنے اپنے کردار کا ازسرِنو جائزہ لیں تو یہی واقعہ ایک مثبت سبق بھی بن سکتا ہے۔ اختلاف کو انتشار میں بدلنے کے بجائے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات کہنا ہی ایک مہذب اور آئینی معاشرے کی پہچان ہے۔ عدلیہ کا وقار، شہریوں کا اعتماد اور آئین کی بالادستی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات پورے جمہوری نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عدالتی احترام، آئینی شعور اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو اجتماعی قومی اقدار کے طور پر فروغ دیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں اور عوام کا اعتماد نظامِ انصاف پر مزید مستحکم ہو۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com