۱۸؍ اور ۲۱؍ سے پهلے نكاح

۱۸؍ اور ۲۱؍ سے پهلے نكاح

۱۸؍ اور ۲۱؍ سے پهلے نكاح

شمع فروزاں

2026.07.17

ازقلم:مولانا خالد سیف الله رحمانی

بد قسمتی سے اس وقت بر سر اقتدار پارٹی مسلم شناخت كو مٹانے؛ بلكه سچائی یه هے كه دستور هند كا قتل كرنے اور سیكولرزم پر هتھوڑا چلانے كی كوشش كر رهی هے، ایسی هی ناروا كوششوں میں ایك یونیفارم سول كوڈ لانا اور مختلف قوموں، بالخصوص مسلمانوں كے پرسنل لا كو ختم كرنا هے، یونیفارم سول كوڈ كے نام پر جن مسائل كو بهت قوت كے ساتھ اٹھایا جاتا هے، اور جن كو مختلف ریاستوں میں قانونی حیثیت دے دی گئی هے، ان میں ایك ۲۱؍ سال سے پهلے لڑكوں اور ۱۸؍ سال سے پهلے لڑكیوں كے نكاح كا مسئله هے، برادران وطن كو یه تصور دیا گیا هے كه مسلمانوں كی كثیر آبادی كا ایك بنیادی سبب كم عمر میں لڑكوں اور لڑكیوں كا نكاح هے۔
ایك مخصوص عمر كے بعد نكاح كے سلسلہ میں کئی باتیں قابل غور ہیں:
اول یہ کہ جسمانی نشوونما تمام لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں نہیں ہوتی، موسمی حالات، غذا، ماحول اور موروثی اثرات کے تحت بلوغ کی عمر مختلف ہوتی ہے، اور جسمانی قویٰ اور تولید کی صلاحیت میں بھی فرق ہوتا ہے، نہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ ۸۱؍سال سے کم عمر کی ہر لڑکی کے لئے ماں بننا نقصان دہ ہے، اور نہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ ۸۱؍ سال کے بعد لڑکیوں میں لا محالہ ایسی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ ماں بننا ان کی صحت کے لئے مضرت رساں نہ ہو؛اس لئے ۸۱؍سال ہی کی تعیین قابل فہم نہیں، قانون فطرت کے تحت عورت کی اس صلاحیت کا اصل معیار وہی ہے کہ جب وہ بالغ ہوجاتی ہے تو اس میں بنیادی طور پر حاملہ ہونے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس وقت ٹی وی کے فروغ، فحش رسائل کی کثرت، انٹرنیٹ اوربے ہودہ فلموں کے ویڈیوز اور ان فلموں تک کم عمر لڑکوں کی رسائی کی وجہ سے صورت حال یہ ہے کہ نابالغ بچے تک جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہورہے ہیں، شادی سے پہلے ناجائزاسقاط حمل کی کثر ت ہوگئی ہے، سوال یہ ہے کہ کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا کم عمری کے جنسی تجربات ؟یقینا بے قید جنس پرستی زیادہ مضرہے،تو اگرایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ ماںباپ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے اخلاق و کردار کی حفاظت کے لئے بلوغ کے بعد جلد سے جلد ان کا نکاح کردینا مناسب سمجھتے ہوں تو کیا یہ بات مناسب نہیں ہوگی کہ انہیں اس عمر سے پہلے ہی نکاح کی اجازت دی جائے؛تاکہ وہ اپنے بچوں کو فساد اور بگاڑ کے گڑھے میں جانے سے بچا سکیں، اصل مسئلہChild Marraigeکا نہیں، بلکہ Child Sexکا ہے، حکومت کو اور سماجی تنظیموں کو چاہئے کہ یہ جو بے راہ روی کا طوفان ملک میں آرہا ہے، اور ہماری تعلیم گاہوں کو اپنا ہدف بنارہا ہے، پہلے اس کے سدباب کی کوشش کریں،مثلا امریکہ میں۲۱؍سے ۷۱؍سال کے بچوں کی طرف سے دوسرے بچوں کے ساتھ جو جنسی زیادتی ۲۰۰۴ء میں ریکارڈ کی گئی ہے، وہ لڑکوں کی طرف سے۰۵۴۲۱ اور لڑکیوں کی طرف سے ۹۷۹ ہے۔
(Source: US Department of Justice, Federal Bereau of Investigation-2004)
اگرچہ یہ امریکہ کے اعداد و شمار ہیں، ہندوستان کے اعداد و شمار دستیاب نہیںہوسکے؛ لیکن اگر صحیح صورت حال سامنے آئے تو شاید ہندوستان کی صورت حال اس سے مختلف نہ ہو۔
تیسری بات یہ ہے کہ کم سنی کے نکاح کے واقعات اب خود ہی کم ہوتے جارہے ہیں، چودہ پندرہ سال کی عمر میں تو لڑکے اور لڑکیاں میٹرک کرتے ہیں، اب لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں میں بھی اعلی تعلیم کا رجحان روز افزوں ہے،اور تعلیم کے درمیان عام طور پر شادی نہیں کی جاتی، لڑکوں کے لئے تو تعلیم کے بعد حصول روزگار کا بھی مسئلہ ہے، اس لئے اس تلاش روزگار میں کئی سال نکل جاتے ہیں، اور اس کے بعد ہی لڑکے شادی کی طرف راغب ہوتے ہیں، اس طرح قانون میں جو عمر متعین کی گئی ہے، عام طور پر اس سے کہیں زیادہ عمر میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں، جوں جوں تعلیم بڑھتی جائے گی، خود کم سنی میں نکاح کا رجحان کم ہوتاجائے گا، اور جب تک تعلیم عام نہ ہوگی، صرف قانون کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل نہیں کیاجاسکتا؛کیونکہ ایسی شادی کے واقعات شہر میں بہت کم پیش آتے ہیں، زیادہ تر دوردراز دیہاتوں میں اس طرح کا رواج پایاجاتا ہے اور اس کی نوبت بہت کم آتی ہے کہ وہ معاملات عدالت کے سامنے آئیں؛اس لئے ایسے واقعات قانون کے دائرہ سے باہر ہی رہتے ہیں،اس کا اندازہ ۸۱؍سا سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں درج ذیل اعداد و شمارسے لگایاجاسکتا ہے:
43,4 : 1981
35,3 : 1991
14,4 : 2001
3,7 : 2011
2,1 2025
چوتھی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس کو مسلمانوں کے ایک سماجی مسئلہ کی نظر سے دیکھتے ہیں؛حالانکہ کم سنی کی شادی کے واقعات مسلمانوں میں بہت کم ہیں، خود ہندوؤں میں ان سے کہیں زیادہ ہیں، راجستھان میں اب بھی ’’اکھاتیج‘‘ کے موقع پر ہزاروں شیر خوار لڑکیوں کی شادی کردی جاتی ہے، راجستھان، مدھیہ پردیش، اڑیسہ اور ہریانہ وغیرہ کے بعض علاقوں میں ہندو سماج میں بہت ہی کم سنی میں نکاح کا رواج پایاجاتا ہے اور اس کا تناسب مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے،مثلاً ۱۱۰۲ ء کے ایک سرکاری سروے رپورٹ کے مطابق ۰۱؍سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کا تناسب ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس طرح ہے:
ہند ولڑکے: 3,56 مسلم لڑکے : 0,49
ہندو لڑکیاں: 6,65 مسلمان لڑکیاں : 0,88
کم سنی کے نکاح زیادہ تر چونکہ دیہاتوں میں ہوتے ہیں ، اس لئے شہر اور دیہاتوں کے اعتبار سے بھی اس کا تناسب ذکر کیا گیا ہے:

دیہی علاقہ

ہندو لڑکیاں
50,34فی لاکھ

مسلمان لڑکیاں
2,62فی لاکھ

ہندو لڑکے
23,93فی لاکھ

مسلمان لڑکے
5,34فی لاکھ
شہری علاقے

ہندو لڑکیاں
16,16فی لاکھ

مسلمان لڑکیاں
3,39فی لاکھ

ہندو لڑکے
11,67فی لاکھ

مسلمان لڑکے
2,29فی لاکھ
(Source: Census of India/India Spend)
اصل مسئلہ ان رواجات کو روکنا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ ہندو معاشرہ میںنکاح کے معاملہ میں لڑکی رضامندی اور ناراضگی کوبہت کم اہمیت دی جاتی ہے اور ان پر رشتے تھوپ دیئے جاتے ہیں،خاص کر کم عمری میں کئے گئے نکاح میں اصل عاقدین کاکوئی حصہ نہیںہوتا،مگر اسلام میں اکثر حالات میں نابالغی کے نکاح کی صورت میں بالغ ہونے کے بعد لڑکے اور لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہوتاہے اور وہ اس نکاح کو رد کرسکتے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، ایسا نہیں ہے کہ اسلام میں کم سنی اور نابالغی کے نکاح کو زیادہ بہتر قرار دیا گیا ہے، مسلم معاشرہ میں ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے بالغ ہونے کے بعد ہی ان کا نکاح کیاجاتا ہے، خود قرآن مجید نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، کہ یتیموں کو آزمائو، جب وہ نکاح کو پہنچ جائیں اور تم ان سے ہوش مندی محسوس کرو تو ان کا مال ان کے حوالہ کردو۔ (نساء:۶)
نکاح کو پہنچنے سے مراد بالغ ہونا ہے؛چنانچہ امام ابوبکر جصاص رازیؒاور مشہور مفسر علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:نکاح کو پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ وہ احتلام کی وجہ سے نکاح کے اہل ہوجائیں۔ (احكام القرآن :۲؍۶۳، جلالین:۷۰)
ان آیات سے واضح ہے کہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کئے جائیں۔
پھر اسلام میں رشتہ کے انتخاب کی جو آزادی عاقدین کو دی گئی ہے، اور اس سلسلہ میں لڑکوں کی طرح لڑکیوں کو بھی اپنی ذات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا جو اختیار دیاگیا ہے، اس کا تقاضا بھی یہی ہے؛کیوں کہ بالغ ہونے کے بعد ہی وہ قانونا اس اختیار کو استعمال کرنے کے اہل ہوںگے اور اس عمر کو پہنچنے کے بعد ہی انسان کے اندر بھلے اور برے کی تمیز بھی پیدا ہوتی ہے، خود پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی صاحبزادیوں کا نکاح عمر بلوغ کو پہنچنے کے بعد ہی فرمایا ہے، اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ اصل یہی ہے کہ بالغ ہونے کے بعدنکاح ہو؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے بالغ ہونے سے پہلے بھی نکاح کی گنجائش رکھی ہے، اور مختلف صحابہ نے کم عمری میں بچوں کے نکاح کئے ہیں۔
یہ اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ بعض دفعہ مصلحت کا تقاضا یہی ہوتا ہے، اس سلسلہ میں دو مصلحتیں تو بہت ہی بنیادی ہیں، ایک یہ کہ بعض اوقات اخلاقی بگاڑ کا اندیشہ ہوتا ہے، نکاح کی وجہ سے ایک جائز راستہ کھل جاتا ہے، اور یہ بات اسے ناجائزرخ پر لے جانے سے بچاتی ہے، اگر ایسے حالات سامنے ہوں اور ۸۱؍ سال تک نکاح کو روکے رکھا جائے تو اس سے بہت سے اخلاقی مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں، اور یہ اخلاقی بگاڑ بیک وقت صحت جسمانی کے لئے بھی مضر ہے، اور ساتھ ہی ساتھ سماج کے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں؛کیونکہ کوئی شخص جب اخلاقی مفاسد کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے لئے سماج ہی میں اپنی غذا تلاش کرتا ہے، اسلام میں حفاظت اخلاق کی بڑی اہمیت ہے، اور والدین بھی اس سلسلہ میں جوابدہ ہیں، چنانچہ حضرت ابوسعید خدریؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو بچہ ہو، تو اسے چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اور اس کی تربیت کرے، پھر جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کردے، اگربالغ ہونے کے باوجود اس کا نکاح نہیں کیا، اور وہ گناہ میں مبتلا ہوگیا تو اس کے باپ پر بھی اس کا گناہ ہوگا:’’فإنما إثمہ علی أبیہ‘‘(شعب الایمان ، حقوا لاولاد والہلین، حدیث نمبر:۹۹۲۸)۔
دوسری اہم مصلحت یہ ہے کہ بعض دفعہ باپ لب گور ہوتا ہے، ظاہری حالات کے تحت اندیشہ ہے کہ اس کے بچوں کو یتیمی کا داغ لگنے والا ہے، اور اس کی موت کے بعد خاندان میں ایسے ذمہ دار اور دیانت دار لوگ نہیں ہیں، جن سے امید رکھی جاسکے کہ وہ صحیح طور پر بچوں کی تربیت کرسکیں گے اور مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کے بے سہارا بچوں کی شادی کریں گے، ابھی بچے نابالغ ہیں؛ لیکن ایک موزوں اور مناسب رشتہ ہاتھ آرہا ہے، تو ایسی صورت میں یقینا مصلحت یہی ہے کہ اس وقت اس کا نکاح کردیاجائے کہ اس میں اس کے لب گور سرپرست کے لئے سکون قلب بھی ہے، اور اس کے بچوں کے مستقبل کے محفوظ ہونے کی امید بھی۔
یقینا یہ مصلحتیں ایسی نہیںہیں، جنہیں نظر انداز کردیاجائے، اس لئے قانون ایسا بنانا چاہئے جس میں مفادات کو حاصل بھی کیاجائے اور نقصانات سے حفاظت بھی ہو، یہ کہاجاسکتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، نابالغی کے نکاح سے بچا جائے، اگر باپ اور دادا کے علاوہ دوسرے اولیاء نکاح کریں یا باپ یا دادا ہی نکاح کریں، لیکن وہ اپنے اختیارات کا صحیح استعمال کرنے کے اہل نہ ہوں توبالغ ہونے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کو اس نکاح کے باقی رکھنے یا ختم کردینے کا اختیار دیاجائے، یہ حدود و قیود جن کی اسلام میں رعایت کی گئی ہے، اگر ملحوظ ہوں تو کم سنی کے نکاح کی مضرتوں سے بچا بھی جاسکتا ہے، اور اس کی مصلحتیں حاصل بھی کی جاسکتی ہیں۔
بعض حضرات غلط فهمی پیدا كرتے هیں کہ اسلام میں نکاح نابالغہ کی اجازت نہیں دی گئی ہے، علماء اسلام نے اپنے طور پر اس طرح کی بات لکھ دی ہے؛حالانکہ یہ بالکل غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ حالت نابالغی کے نکاح کا درست ہونا قرآن مجید سے بھی ثابت ہے، ( طلاق: ۴) احادیث سے بھی (مسلم: ۱۴۴۲۲، ابو داؤد:۲۱۲۱، نسائی: ۳۲۵۵، مصنف ابن شیبه: ۱۶۰۱۰) اور اجماع امت سے بھی، (المغنی: ۹؍ ۳۹۸، كتاب النكاح، موسوعه الاجماع فی الفقه الاسلامی: ۳؍۱۱۸۵) نیز جب لڑکے اور لڑکیاں جسمانی طور پر بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح جلد کردینا چاہئے، اس کاحکم بھی قرآن و حدیث میں موجود ہے اور فقہاء اسلام نے بھی اس کی صراحت کی ہے۔
جب لڑکے یا لڑکیاں بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح جلد کردینا چاہئے؛تاکہ وہ گناہ میں مبتلا نہ ہوں؛چنانچہ قران مجید میں بھی غیر شادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کاحکم دیا گیا ہے، ارشاد ہے:وَأَنکِحُوا الْأَیَامَیٰ مِنْکُمْ (سورۂ نور:۲۳) اس کے علاوہ متعدد حدیثوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے ۔ (مسلم: ۳۳۹۸، بیهقی فی شعب الایمان:۸۶۶۹)
حاصل یہ ہے کہ اسلام نے کم سنی میں لڑکے یا لڑکی کے نکاح کی ترغیب نہیں دی ہے؛البتہ اس سے منع بھی نہیں کیا ہے اور اس کی گنجائش رکھی ہے، جس کا ثبوت قرآن مجید سے بھی ہے، حدیث سے بھی ہے، آثار صحابہ سے بھی ہے اور اس امت کا اجماع و اتفاق بھی ہے، نیز یہ حکم بعض مصالح پر مبنی ہے۔
البتہ بالغ ہونے کے بعد تاکید کے ساتھ نکاح میں عجلت کا حکم دیا گیا ہے؛کیونکہ اس سے اخلاقی اقدار کا تحفظ متعلق ہے اور نکاح میں تاخیر سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، جو ایک پاکیزہ سماج کے لئے ہرگز مناسب نہیں، نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں کم سنی کی شادی کا رواج بمقابلہ برادران وطن سے بہت کم ہے اور خیار بلوغ کے ذریعہ اس کی تلافی کی گنجائش موجود ہے۔

٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے