سپریم کورٹ کے حالیہ دو عبوری فیصلوں نے اس بنیادی بحث کو زندہ کر دیا کہ کیا صرف وقتی راحت کو انصاف کا متبادل سمجھا جا سکتا ہے یا انصاف کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ آئینی اور قانونی سوالات کا بروقت واضح اور دو ٹوک جواب دیا جائے؟ ہندوستانی عدلیہ ہمیشہ سے اس اصول کی علمبردار رہی ہے کہ قانون کی حکمرانی ہر حال میں برقرار رہنی چاہئے لیکن جب ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جن کا تعلق شہریوں کی شہریت، بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور آئینی تحفظات سے ہو تو محض عبوری احکامات کئی نئے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
____ حالیہ دنوں ایک طرف آسام کے ستائیس شہریوں کے معاملے میں سپریم کورٹ نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے پر عبوری روک لگا کر انہیں فوری طور پر ملک بدر ہونے سے بچا لیا مگر ساتھ ہی انہیں دو بارہ اسی فارنرز ٹریبونل سے رجوع کرنے کی ہدایت دی جس کے فیصلے پر پہلے ہی سنگین اعتراضات اٹھائے جا چکے تھے۔
_____ دوسری جانب مدھیہ پردیش کے بھوج شالہ۔ کمال مولا مسجد تنازعہ میں عدالت نے مسجد کے اندر نماز کی اجازت دینے کے بجائے متصل کھلی جگہ پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کا عبوری انتظام برقرار رکھا۔ دونوں فیصلے وقتی اعتبار سے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ضرور محسوس ہوتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان سے اصل آئینی و قانونی سوالات اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔
____ آسام کے ستائیس شہریوں کا معاملہ ہندوستانی آئین کے اس بنیادی وعدے سے جڑا ہوا ہے جس میں ہر شہری کو مساوی تحفظ، منصفانہ سماعت اور قانون کے مطابق انصاف کی ضمانت دی گئی ہے۔ ان افراد نے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے ووٹر لسٹ، تعلیمی اسناد، سرکاری دستاویزات اور دیگر قانونی شواہد پیش کئے مگر فارنرز ٹریبونل نے ان تمام ثبوتوں کو ناکافی قرار دے کر انہیں غیر ملکی قرار دیا۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے بھی اسی فیصلے کو برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ ملک بدری پر روک لگا کر ایک بڑے انسانی بحران کو ٹال دیا لیکن اسی ٹریبونل کے سامنے دو بارہ جانے کا حکم دے کر ایک ایسا سوال چھوڑ دیا جس کا جواب آج بھی تلاش کیا جا رہا ہے کہ اگر وہی فورم پہلے تمام ثبوتوں کو مسترد کر چکا ہے تو اب وہاں انصاف کی امید کس بنیاد پر قائم کی جائے؟
____ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سپریم کورٹ براہ راست شواہد کا ازسرنو جائزہ لینے والی عدالت نہیں ہوتی اور اکثر معاملات میں متعلقہ فورم کو دو بارہ غور کا موقع دیا جاتا ہے مگر جب کسی فورم کے طریقہ کار، شواہد کے جائزے اور قانونی استدلال پر ہی بنیادی سوالات اٹھ رہے ہوں تو انصاف کا تقاضا صرف دو بارہ اسی راستے پر بھیج دینا نہیں بلکہ اس پورے عمل کی آئینی جانچ بھی ہے۔ ہندوستانی عدلیہ کی عظمت اسی میں رہی ہے کہ اس نے متعدد مواقع پر تکنیکی رکاوٹوں سے بلند ہو کر بنیادی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی ہے۔ اگر کسی شہری کی آزادی، شناخت اور وطن میں رہنے کا حق خطرے میں ہو تو عدالت عظمیٰ سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف وقتی تحفظ نہ دے بلکہ ایسا واضح قانونی راستہ بھی متعین کرے جس سے مستقبل میں اسی نوعیت کی ناانصافیوں کا اعادہ نہ ہو۔
____ اسی طرح بھوج شالہ۔ کمال مولا مسجد تنازعہ بھی محض ایک مقامی اختلاف نہیں بلکہ اس کا تعلق براہ راست 1991ء کے تحفظ عبادت گاہ قانون کی روح سے ہے۔ اس قانون کا مقصد یہی تھا کہ آزادی کے وقت ملک میں موجود تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت کو برقرار رکھا جائے تاکہ ماضی کے تنازعات کو بنیاد بنا کر مستقبل کا امن خراب نہ کیا جا سکے۔ اس قانون کو پارلیمنٹ نے قومی یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی اور آئینی استحکام کے پیش نظر منظور کیا تھا۔ اگر اس قانون کی اصل روح کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو پھر ایسے مقدمات کے دائرہ سماعت میں آنے ہی پر سوال پیدا ہوتا ہے جن میں تاریخی دعووں کی بنیاد پر موجودہ مذہبی حیثیت کو چیلنج کیا جا رہا ہو۔ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کھلی جگہ پر نماز جمعہ کی اجازت دے کر بظاہر دونوں فریقوں کے درمیان وقتی توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ امن و امان کا قیام یقیناً ہر آئینی ادارے کی ذمہ داری ہے لیکن جب کسی عبادت گاہ کے حقوق کا سوال قانون کی واضح دفعات سے متعلق ہو تو صرف انتظامی نوعیت کے عبوری بندوبست سے مسئلہ اپنی اصل جگہ برقرار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں اصل ضرورت اس قانون کی واضح تشریح اور اس کے مؤثر نفاذ کی ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے مقدمات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
_____:کمال مولا مسجد کی جانب سے پیش کئے گئے دلائل بھی اسی اصول پر مبنی تھے کہ تاریخ کو مسلسل عدالتوں میں لا کر موجودہ قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہر تاریخی دعوے کو نئی قانونی بنیاد بنا دیا جائے تو پھر ملک کی بے شمار قدیم عبادت گاہیں مسلسل تنازعات کی زد میں آجائیں گی۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو پہنچے گا بلکہ عدلیہ بھی ایسے تنازعات میں غیر ضروری طور پر الجھتی چلی جائے گی۔ آئین سازوں نے اسی اندیشے کے پیش نظر تحفظ عبادت گاہ قانون وضع کیا تھا تاکہ مستقبل کی نسلیں ماضی کے جھگڑوں میں نہ الجھیں۔ یہاں ایک اہم اصول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عدالت کا ہر عبوری حکم اپنے اندر ایک پیغام بھی رکھتا ہے۔ اگرچہ عبوری فیصلے حتمی نہیں ہوتے لیکن وہ مقدمے کی آئندہ سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لئے جب عدالت کسی حساس معاملے میں وقتی انتظامات کرتی ہے تو عوام اس سے یہ اندازہ بھی لگاتے ہیں کہ عدالت قانون کی کس سمت میں سوچ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبوری احکامات بھی عوامی اعتماد پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ یہ اعتماد صرف اس بنیاد پر قائم نہیں رہتا کہ عدالتیں فیصلے دیتی ہیں بلکہ اس لئے قائم رہتا ہے کہ ان کے فیصلے غیر جانب دار، آئین کے مطابق اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد سمجھے جاتے ہیں۔ جب کسی فیصلے کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہونے لگے کہ عدالت نے اصل آئینی سوال کو مستقبل پر چھوڑ دیا ہے تو فطری طور پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہوتی ہے۔ یہ بحث عدلیہ کے وقار کے خلاف نہیں بلکہ جمہوری نظام کی صحت کا حصہ ہے کیونکہ آئینی عدالتوں کے فیصلوں پر علمی اور قانونی گفتگو ہر مہذب معاشرے میں ہوتی رہی ہے۔
___ گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں تاریخی عبادت گاہوں سے متعلق مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وارانسی، متھرا، سنبھل اور اب بھوج شالہ جیسے معاملات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اگر تحفظ عبادت گاہ قانون کی حدود کو واضح طور پر نافذ نہ کیا گیا تو مستقبل میں ایسے تنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں سپریم کورٹ کا کردار صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے فیصلے پورے قانونی نظام کے لئے نظیر کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح شہریت کے معاملات بھی محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ انسانی وقار سے براہ راست وابستہ ہیں۔ کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینا اس کی پوری زندگی، خاندان، معاشرتی شناخت اور بنیادی حقوق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے فیصلوں میں معمولی قانونی غلطی بھی ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لئے دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں شہریت سے متعلق مقدمات میں انتہائی احتیاط برتی جاتی ہے اور شک کی صورت میں شہری کے بنیادی حقوق کو ترجیح دی جاتی ہے۔
_____ بعض ماہرین قانون کا استدلال ہے کہ سپریم کورٹ اکثر حساس معاملات میں مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کرتی ہے تاکہ اچانک کسی بڑے تصادم کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ اس رائے میں یقیناً وزن موجود ہے کیونکہ عدالت کو صرف قانونی نہیں بلکہ انتظامی اور سماجی نتائج کا بھی اندازہ رکھنا پڑتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر خود انصاف کے تصور کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک معروف قانونی اصول تسلیم کیا جاتا ہے کہ
"تاخیر سے ملنے والا انصاف بھی بعض اوقات انصاف سے محرومی کے مترادف ہوتا ہے۔”
_____ سپریم کورٹ کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ ایک طرف آئینی اصولوں کی پاسداری کرے اور دوسری طرف عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بنائے۔ اگر ہر حساس مقدمے میں اصل سوالات کو عبوری انتظامات کے ذریعے مؤخر کیا جاتا رہا تو فریقین کے درمیان قانونی غیر یقینی کی کیفیت برقرار رہے گی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ہر مقدمہ کئی برسوں تک عبوری احکامات کے سہارے چلتا رہے گا جبکہ اصل تنازعہ جوں کا توں باقی رہے گا۔ ہندوستانی عدلیہ نے متعدد تاریخی فیصلوں کے ذریعے آئین کی بالادستی کو مضبوط کیا ہے۔ بنیادی حقوق، اظہار رائے، شخصی آزادی، پرائیویسی اور انتخابی اصلاحات جیسے کئی معاملات میں سپریم کورٹ نے ایسی نظیریں قائم کی ہیں جنہیں دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی روشن روایت کے پیش نظر عوام کی توقعات بھی غیر معمولی ہوتی ہیں۔ جب سب سے بڑی آئینی عدالت سے امید وابستہ کی جاتی ہے تو یہ امید صرف قانونی تکنیک کی نہیں بلکہ مکمل آئینی انصاف کی ہوتی ہے۔ ہر عبوری فیصلہ انصاف کے منافی ہوتا ہے کیونکہ بعض حالات میں فوری ریلیف ہی ناگزیر ہوتا ہے لیکن ایسے فیصلوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حتمی سماعت غیر معمولی سرعت کے ساتھ مکمل ہو اور بنیادی آئینی سوالات کو زیادہ عرصے تک معلق نہ رکھا جائے۔ اگر عبوری احکام ہی طویل عرصے تک عملی صورت حال کا تعین کرتے رہیں تو اس سے قانون کی قطعیت اور عدالتی فیصلوں کی تاثیر دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔
_____ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یہی توقع وابستہ ہے کہ وہ نہ صرف ہر قسم کے سیاسی، سماجی اور اکثریتی یا اقلیتی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد رہے بلکہ اپنے فیصلوں میں آئین ہند کو واحد معیار بنائے۔ آئین نے عدلیہ کو اسی لئے آزاد اور خودمختار حیثیت عطا کی ہے تاکہ وہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کی محافظ بن سکے۔ اگر کسی مرحلے پر یہ تاثر پیدا ہونے لگے کہ عدالت مختلف فریقوں کو وقتی طور پر مطمئن رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو اس تاثر کا ازالہ صرف واضح، دوٹوک اور آئین پر مبنی فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ شہریت سے متعلق مقدمات میں ایک ایسا جامع قانونی معیار متعین کیا جائے جس کے بعد کسی شہری کو معتبر سرکاری دستاویزات کے باوجود غیر یقینی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
____ اسی طرح تحفظ عبادت گاہ قانون کی ایسی واضح عدالتی تشریح سامنے آئے جو مستقبل میں تاریخی عبادت گاہوں کے بارے میں نئے تنازعات کے دروازے بند کر دے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف آئین کی روح سے ہم آہنگ ہے بلکہ قومی یکجہتی، سماجی استحکام اور عدلیہ پر عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ بالآخر یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ عدالتوں کا اصل وقار صرف فیصلے دینے میں نہیں بلکہ ایسے فیصلے دینے میں ہے جو قانون کی بالادستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے اعلیٰ ترین معیار کی نمائندگی کریں۔ عبوری احکام وقتی سکون کا ذریعہ بن سکتے ہیں لیکن قومیں اپنے آئینی سفر میں ہمیشہ انہی فیصلوں کو یاد رکھتی ہیں جو ابہام کے بجائے وضاحت، تاخیر کے بجائے بروقت انصاف اور مصلحت کے بجائے قانون کی بے لاگ حکمرانی کا پیغام دیتے ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت بھی اسی وقت مزید مضبوط ہوگی جب ہر شہری یہ یقین رکھے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں انصاف صرف ہوتا ہی نہیں بلکہ بروقت، غیر جانب دار اور مکمل طور پر ہوتا ہوا نظر بھی آتا ہے۔
iftikharahmadquadri@gmail.com