مولانا علی میاںؒ …کچھ یادیں کچھ باتیں

مولانا علی میاںؒ …کچھ یادیں کچھ باتیں

مولانا علی میاںؒ
کچھ یادیں کچھ باتیں

ازقلم:عبدالعزیز

۱۹۷۱ء؁ کی بات ہے راقم الحروف کلکتہ یونیورسٹی میں علم السیاسیات(Pol.Sc.) کا طالب علم تھا۔ بنگلہ دیش معروض وجود میں آچکا تھا۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی المعروف مولانا علی میاں‘ عمر خاں صاحب کی طلبہ تنظیم ایم ایس اے(MSA) کی دعوت پر بنگلہ دیش کا دورہ کرتے ہوئے کلکتہ ایم ایس اے ہی کے کئی پروگراموں میں شرکت کیلئے تشریف لائے تھے۔ پہلا پروگرام مسلم انسٹی ٹیوٹ ہال میں مولاناکا خطاب عام تھا۔ راقم سطور کا پہلا اتفاق تھا مولانائے محترم کی تقریر سننے کا اور قریب سے دیکھنے کا مگر ان کی کئی کتابیں پڑھ چکا تھا اور ان کے بارے میں بہت کچھ سننے سنانے کا موقع بھی ملاتھا۔ تقریر کے شروع میں مولانا نے اپنی نوزائیدہ تنظیم حلقہ پیام انسانیت کا تعارف کرایا اور کہا کہ’’ آج ہندستان میں ایک ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو تنہائی میں بھی سیاست کا نام نہ لے۔‘‘ تقریر ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ مولانا نے بالکل اس کے برعکس بات بیان کردی کہ ’’اسی ملک میں مسلمانوں نے آٹھ ساڑھے آٹھ سوسال حکومت کی تھی آج بھی اگر ہمارے نوجوان آگے بڑھیں تو ملک کی زمام کار ان کے ہاتھوں میں آسکتی ہے۔ تقریر کے اختتام کرتے ہوئے مولانا نے خواہش ظاہر کی کہ لوگ ان کے حلقہ پیام انسانیت کا ممبر بنیں اور ان کا ساتھ دیں۔ دوسرے دن دفتر حلقہ جماعت اسلامی ہند میں مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب(بھاگلپور) جو مولانا علی میاں کے عقیدتمندوں میں سے تھے ان سے مولانائے محترم کی تضاد بیانی کا تذکرہ کیا تو مولانا قاسمی نے کہا کہ مولاناسی ایم او ہائی اسکول کے ایک کمرہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں اچھا ہوتا کہ مولانائے محترم سے ملاقات کی جاتی اور مولانا ہی سے اس تضاد بیانی کی وضاحت کی درخواست کی جاتی۔ ہم نے دیکھا موقع غنیمت ہے۔ ہم لوگ حاضر ہوئے۔ آداب وسلام کے بعد مولانا ئے محترم کے پاس بیٹھ گئے۔ غالباً مولانا اس وقت اپنی ایک کتاب ’’منصب نبوتؐ‘‘ کا اپنے ایک معاون کو املا کرارہے تھے۔ مولانا سے ہم نے ادب واحترام کے ساتھ تضاد بیانی کا تذکرہ چھیڑدیا اور کہا کہ مولانا آپ نے ایک طرف سیاست کو تنہائی میں بھی زبان پر لانے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف آپ نے ایک ایسی سیاست کا تذکرہ فرمایا جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ اور وہ سیاست جو نہ اسلام کی صحیح نمائندگی کرتی ہے اور نہ مسلمانوں کی۔‘‘مولانا سنتے ہی سنبھل کر بیٹھ گئے اور فوراً کہا کہ ’’زورِ خطابت میں زبان سے یہ بات نکل گئی اسے لغزش زبان (Slip of Tongue) ہی کہہ سکتے ہیں ‘آپ کی پکڑ بجا ہے۔‘‘مولانا کے اس اعتراف سے ہمارا حوصلہ بڑھ گیا ہم نے دوسرا سوال کر ڈالا’’مولانا آپ جماعت اسلامی میں بھی رہے اور تبلیغی جماعت میں بھی‘ ان دونوں میں آپ کے رہنے کا تجربہ ہوا ہوگا پھر بھی آپ نے ایک تیسری جماعت حلقہ پیام انسانیت کی’’ تشکیل کی ہے آخر کیا وجہ ہے؟‘‘
مولانا نے جواب میں کہا کہ ’’جہاں تک تبلیغی جماعت کا سوال ہے وہ غیر مسلم دنیا کو مخاطب کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی اور جماعت اسلامی سیاست زدہ ہوچکی ہے اس لئے وہ بھی غیر مسلم آبادی کو خطاب کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے مجھے حلقہ پیام انسانیت کی تشکیل کرنی پڑ ی تاکہ ہم غیرمسلمانوں کو خطاب کرسکیں اور مسلمانوں سے قریب لاسکیں۔‘‘
مولانا ئے محترم کو جب ہم نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند خدمت خلق کا وسیع پیمانے پر کام کرتی ہے اور بلاامتیاز مذہب وملت کرتی ہے تو غیرمسلمانوں سے اس کی قربت آسانی سے ہوجاتی ہے اور غیر مسلم بھی اسلام اور مسلمانوں سے قریب آنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔
اس پر مولانا نے فرمایا کہ ’’آپ صحیح کہہ رہے ہیں اگر خدمت خلق کا کام انجام دیا جائے تو غیر مسلم حضرات قریب آسکتے ہیں غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے مولانا نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ ٹرین میں دورانِ سفر ایسے کئی مواقع آئے جب میں نے غیر مسلم بھائیوں کو اپنی ٹوکری سے نکال کر پھل وغیرہ کھلایا تو ان میں اپنائیت کا جذبہ پیدا ہوگیا اور میرا یہ عمل ربط و تعلق کا ذریعہ بن گیا۔ اس طرح بعض اسٹیشنوں پر میرے رفقاء نے ٹفن کیرئیر میں کھانا دیا تو اس میں بھی بعض اوقات میں نے شرکت کی دعوت دی بعض نے قبول کیا اور بعض نے گریز کیا لیکن اس سے ربط پیدا ہوگیا۔
دو سوالات ہمارے ذہن میں مزید کلبلارہے تھے مگر ان سوالوں کیلئے ہمت درکار تھی ہم اسے جٹانے میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ ہمت ہوئی تو ہم نے مولانا سے پوچھا کہ مولانا ایک دو ضروری باتیں مزید دریافت کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ۔ مولانا ئے محترم نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
’’ضرور فرمائیے‘‘
’’مولانا! قرآن مجید میں کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو انسانیت کی طرف بلانے کی بات کہی ہے یا کہیں قرآن مجید میں انسانیت کی بات کہی گئی ہے؟‘‘ ہم نے سوال کیا’’جی ہاں!‘‘ مولانا نے فرمایا:
پھر مولانا نے قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر۱۰۳پڑھ کر سنائی اور کہا کہ اس میں انسانیت کی بات کہی گئی ہے۔
ہم نے مولانا کی بات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا مولانا یہاں نعمت اسلام کی بات کہی گئی ہے اور ایمان لانے والوں کو دین اسلام کی رسی مضبوطی سے پکڑنے کی ہدایت کی گئی ، تفرقہ وانتشار سے بچنے کی تنبیہ کی گئی ہے اور یہ یاد دلایا گیا ہے کہ ’’اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دئیے اور اس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے۔ اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے‘‘۔
مولانا خموشی سے سنتے رہے پھر کہنے لگے کہ اس میں انسانیت کی بھی بات کہی گئی ہے۔
مولانا کی بزرگی اور عظمت وعلمیت کے پیش نظر ہم نے موضوع کو موضوع بحث بنانے سے گریز کرتے ہوئے کہا مولانائے محترم آپ کی تاریخ پر خاص طور سے اسلامی تاریخ پر گہری نظر ہے۔ آپ نے بنگلہ دیش کے واقعہ کو کربلا کے واقعہ سے بھی بڑا سانحہ کہا ہے اور وہاں سے ابھی سفر کرکے واپس ہوئے ہیںآپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وہاں تمام مسلم جماعتیں لسانی عصبیت کی شکار ہوگئیں صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) اس عصبیت کا شکار نہیں ہوئی کیا یہ غور وخوض کا موضوع نہیں ہے کہ مسلم جماعتوں کی طرف سے اپنی جماعتوں کے کارکنوں کو تربیت وتزکیہ کی جو تعلیم دی جارہی ہے وہ امتحان وآزمائش کی گھڑی میںاسلام کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی۔
مولانا نے کہا ’’اس پر میں نے غور نہیں کیا ہے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی غور وخوض سے کام لوں گا پھر کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کروں گا۔ مولانا کا ہم لوگوں نے شکریہ ادا کیا ، دعا کی درخواست کی اوررخصت ہوئے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068 , 9874445664

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے