کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج کیا صدا بصحرا ثابت ہوگا؟
ازقلم:عبدالعزیز
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)کے جنتر منتر پر احتجاج کو ایک مہینہ ہوگیا۔ مشہور سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کو بھی 18 دن مکمل ہوئے پھر بھی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان یا حکومت ہند کی جانب سے کوئی ریسپانس ابھی تک نہیں ہوا اور نہ ہی کاکروچ پارٹی کے ذمہ داروں سے حکومت ہند نے بات چیت کرنا گوارا کیا حالانکہ ملک کے کونے کونے سے نوجوان لڑکے لڑکیاں، طلبا و طالبات بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل ہونے پہنچے ہیں۔ رات دن جنتر منتر پر ہی گزارہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں میں سے بھی اکثر و بیشتر لیڈران نہ صرف احتجاج کی حمایت و یکجہتی کے لئے جنتر منتر پہنچے بلکہ سب نے اظہارِ خیال بھی کئے۔ حکومت کی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں ملنے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے ذمہ داروں نے 20جولائی کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے کسانوں نے بھی مارچ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ سونم وانگچک کی حالت نازک ہے۔ اٹھارہ دنوں کی بھوک ہڑتال میں ان کا وزن 9کیلو گھٹ گیا ہے۔ ایک اپیل کنندہ نے دہلی ہائی کورٹ کو سونم وانگچک کی زندگی بچانے کے لئے اپیل کی ہے۔ ہائی کورٹ نے سماعت کی منظوری دے دی ہے۔
اکثر لوگوں کے دلوں میں یہ بات یقینا ہوگی کہ جنتر منتر پر احتجاج اور مظاہرے کامیاب ہوں گے یا صدا بصحرا ثابت ہوں گے؟ میرے خیال سے جو لوگ اپنے لئے زندہ ہیں اور صرف اپنے لئے زندہ رہنے والے زندہ لاش کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں تو یہ بات پیدا ہوسکتی ہے کہ کوئی کوشش یا کوئی جدو جہد جب تک مقصد حاصل نہ کرلے یا منزل مقصود تک نہ پہنچ جائے اسے کامیابی میں شمار نہیں کیا جاسکتا، لیکن جو لوگ مجاہدہ کرتے ہیں اور صرف اپنے لئے ہی زندہ نہیں ہوتے وہ لامتناہی کوشش اور جدوجہد کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ مثلاً کوئی لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے، تبلیغ و اشاعت میں کوئی کمی نہ کرے تو وہ کامیاب سمجھا جائے گا۔ اللہ کے پیغمبروں میں سے ایسے بھی پیغمبر گزرے ہیں جو کسی قوم کو ہزاروں سال اللہ کی طرف بلاتے رہے لیکن کسی نے بھی ان کے پیغام کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ پیغمبر یا پیغامِ حق ناکام ہوا۔ناکام در اصل وہ دنیا ہوتی ہے جو حق کو تسلیم نہیں کرتی۔
مودی حکومت یا ان کے وزیر تعلیم جائز یا حق بات کو تسلیم کرنے سے قاصر ہیں۔ مودی حکومت کی کارکردگی نے 90 سے زائد امتحانات کے پیپر لیک ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کروڑوں طلبا و طالبات متاثر ہوئے ہیں۔ پچاسوں نوجوان مایوسی میں مبتلا ہوکر خود کشی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ جو وزیر تعلیم نالائق اور نکما ہے اسے استعفیٰ دینا چاہئے اور ناقص نظام تعلیم میں ایسی مناسب اور موزوں تبدیلی ہونی چاہئے جس سے پیپر لیک نہ ہو اور نہ ہی امتحان دینے والوں کا مستقبل داؤ پر لگے اور وہ مایوس و نا امید ہوکر اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایک ایسا جائز مطالبہ ہے جسے کوئی بھی جمہوری اور فلاحی حکومت آناً فاناً قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرسکتی، لیکن موجودہ حکومت نہ جمہوری ہے ، نہ عوامی ہے اور نہ ہی اسے فلاحی حکومت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
جو لوگ دانشور، مصنف، سیاستداں، اداکار اور اداکارہ یا کامیڈین جنترمنتر پہنچ رہے ہیںان کی آواز، ان کی تقریروں کی بازگشت ملک بھر میں سنائی دے رہی ہے۔ ایک کامیڈین نے گزشتہ روز ہی اپنی تقریر میں بڑے پتے کی بات کی۔ اس نے کہا کہ یہ جو لوگ فی الحال حکومت کر رہے ہیں ان کا کوئی اخلاق و کردار نہیں ہے۔ یہ بے شرم لوگ ہیں۔ یہ کام وہ آج سے نہیں سالوں سے انجام دے رہے ہیں۔ سیتا کے شوہر کا نام لے کر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ زیادہ دنوں تک ایسے لوگ کرسی پر براجمان نہیں رہ سکتے۔ چندر شیکھر آزاد ایم پی نے کہا کہ ’’کرسی ہے تمہارا جنازہ تو نہیں ہے- کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے۔‘‘ ایک ادکارہ نے کہا کہ ’’احتجاج یا مظاہرہ جو جنتر منتر پر ہورہا ہے اس کی آواز ملک بھر میں گونج رہی ہے۔ ہزاروں ، کروڑوں نہیں بلکہ اربوں نوجوان اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کسی مہم کسی مظاہرے کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ لوگ جوق درجوق مظاہرے میں شامل ہورہے ہیں اور 20 جولائی کے مارچ میں لاکھوں لوگ شامل ہوں گے۔ 20جولائی سے ہی پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہوگا۔ کسان بھی بڑی تعداد میں مارچ میں شامل ہوں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی کی دلیل ہے۔ احتجاج کو صدا بصحرا کہنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوگا۔‘‘ نہا بھارتی جو دلت سماج سے آتی ہیں تعلیم یافتہ اور سماجی کارکن ہیں۔ ان کے بیانات اکثر و بیشتر بلکہ تقریباً روزانہ جنتر منتر سے باز گشت کر رہے ہیں۔ وہ اعلانیہ کہتی ہیں کہ ’’نریندر مودی سے وہ زیادہ پڑھی لکھی ہیں۔ یہاں جتنے لوگ ہیں ہم سے زیادہ پڑھے لوگ ہیں وہ ملک کو چلا سکتے ہیں اور بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو لامذہب کہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بابا صاحب امبیڈکر کے سوا کسی کو مانتی نہیں۔ اندھ بھکتوں کے کسی ریتی رواج کو وہ تسلیم نہیں کرتیں۔ ان کی سائنٹفک آواز اور ہندو دھرم میں جو پچھلی ذاتوں پر ظلم و ستم ڈھائے گئے ہیں یا اب تک جاری ہیں اس کا ذکر وہ کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ جو مذہب لوگوں کو بانٹتا ہو، کمزوروں اور غریبوں پر ظلم کرتا ہو وہ مذہب کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ ‘‘
ہندستان بہت بڑا ملک ہے ۔ سری لنکا، نیپال یا بنگلہ دیش نہیں ہے جہاں ’جنریشن زی ‘ نے حکومت کے تخت و تاج کو الٹ دیا۔ ہندستان میں جمہوریت یقینا دم توڑ چکی ہے لیکن سڑکوں پر احتجاج جاری ہے۔ سڑکیں سنسان نہیں ہیں۔ رام منوہر لوہیا کہا کرتے تھے کہ ’’جب سنسد سنسان ہوتا ہے تو سڑکیں آباد ہوتی ہیں۔‘‘ اس لحاظ سے سڑکیں سنسان نہیں ہیں ، سنسد یقینا سنسان ہے جو جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
شیو سینا کے اودھو ٹھاکرے نے اپنی پارٹی کی طرف سے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی حمایت کی ہے اور اپوزیشن کی تمام پارٹیوں سے حمایت کی اپیل کی ہے، خاص طور سے راہل گاندھی سے کہ وہ جنتر منتر کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کریں اور ممکن ہو تو وہاں جاکر احتجاج سے یکجہتی کا اظہار بھی کریں۔‘‘ میرے خیال سے اودھو ٹھاکرے کی یہ اپیل راہل گاندھی کو تسلیم کرنا چاہئے۔ راہل گاندھی پہلے شخص ہیں جنھوں نے پارلیمنٹ میں پیپر لیک پر بحث کرنے کی آواز بلند کی تھی لیکن اسپیکر نے ان کی اپیل ان سنی کردی۔ اب وہ شہر شہر جاکر ملک میں رائج نظام تعلیم کی خرابیوں، کمیوں اور خامیوں ہی کا ذکر نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسی چیز کا اظہار کر رہے ہیں جس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ’’امتحان دینے والے جو فیس دیتے ہیں اسی سے حکومت کی پانچ وزارتوں کے بجٹ کے برابرہوتا ہے۔ تعلیم تجارت میں تبدیل ہوگئی ہے۔ پورا نظام تعلیم تغیر اور تبدیلی کے لائق ہے کیونکہ یہ نظام تعلیم غریبوں اور کمزوروں کے خلاف ہے۔‘‘
راہل گاندھی کی آواز سے نوجوان بے حد متاثر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ان کو بہت سے شہروں میں جلسے یا میٹنگ کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ اگر راہل گاندھی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شامل ہوں گے تو امید کی جاسکتی ہے کہ دیر یا سویر حکومت لرزہ بر اندام ہوسکتی ہے۔ راہل گاندھی اور کاکروچ جنتا پارٹی کا مطالبہ حکومت منظور کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068