امریکی خلابازی، ہوابازی اور اب قلابازی

امریکی خلابازی، ہوابازی اور اب  قلابازی

امریکی خلابازی، ہوابازی اور اب قلابازی

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

بندر کی قلابازیاں مشہور ہیں لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو بھی مات دے دی۔ اس ہفتے کے آغاز میں پیر کے دن جب ہندوستان میں شام ڈھل رہی تھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے ایک زبردست دھماکہ کردیا ۔ انہوں نے اعلان فرمایا کہ امریکہ پھر سے ایرانی ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 20 فیصد چارج وصول کرے گا۔ اس اعلان میں ناکہ بندی تو پرانی تھی مگر چنگی کا اضافہ چونکانے والاتھا ۔ نئے ٹیرف کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ ’غیر مستحکم بحری راستے کی حفاظت کے اخراجات پورے کرنے کی غرض سے وہاں گزرنے والے سامان پر 20 فیصد محصول ضروری ہے‘۔امریکی حملے سے قبل تو آبنائے ہر مز مستحکم اور محفوظ تھی تو سوال یہ ہے کہ اس کے استحکام اور تحفظ کو خطرہ کس نے پیدا کیا؟ یہ اچھی منطق ہے کہ پہلے عدم تحفظ کا شکار کرو اور پھر حفاظت کی آڑ میں اس سے ہفتہ وصولو ۔ اس پر طرہ یہ کہ اپنی غنڈہ گردی پر شرمسار ہونےکے بجائے خود کو’’آبنائے ہرمز کا محافظ‘‘ کےخطاب نوز دو ۔ مولانا حسرت موہانی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ کسی دن ان کے مشہور شعر کی ایسی انوکھی تعبیر ظاہر ہوگی؎
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

مذکورہ بالا اعلان کو ابھی 24؍ گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی حماقت کا احساس ہوگیا ۔ امریکہ میں منگل کی صبح یعنی ہماری شام کو انہوں نے اعلان فرما دیا کہ آبنائے ہرمز ایران کے علاوہ تمام ممالک کے بحری جہازوں کے لیے کھلا ہے نیز وہ 20 فیصد ٹول وصول کرنے کا منصوبہ واپس لیتے ہیں ۔ آبنائے ہر مز کے نام نہاد محافظ نے اس کا یہ جواز پیش کیا کہ انہوں اس کے بجائے مختلف خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موصوف نے سرمایہ کاری کی وضاحت اس طرح کی کہ ’مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی اچھی بات چیت کے بعد میں نے 20 فیصد امریکی معاوضہ فیس کی جگہ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کا فیصلہ کیا ہے۔ مختلف خلیجی ممالک امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف بہت بڑی ہوگی بلکہ ان ممالک اور ان کے مستقبل کے لیے بھی فائدہ مند ہوگی۔ اس بیان کے بعد جب ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر ‘جھوٹ بولنے’ اور ‘پرتشدد اور بدنیتی’ پر مبنی رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا تو ایسا محسوس ہوا کہ گویا وہ خود اپنے آپ کو نئے القاب و آداب سے نواز رہے ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے اپنی اس قلابازی کے بعد امریکی عوام کو یہ لالی پاپ پکڑایا کہ امریکہ میں پہلے ہی تاریخی سطح پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ یہ درست ہے ا سی ماہ رشوت خوری کے الزام سے پیچھا چھڑانے کے لیے گوتم اڈانی امریکی معیشت میں 110رب ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے15ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی اور امبانی بھی وہاں ریفائنری لگا رہے ہیں تاکہ امریکیوں کو نوکری ملے۔ٹرمپ کے مطابق نئی سرمایہ کاری سے یہ رقم مزید بڑھے گی اور ریکارڈ سطح پر فیکٹریاں، پلانٹس اور آلات آئیں گے، جس سے زیادہ تنخواہ والی ملازمتیں ملیں گی‘‘۔ ٹرمپ کے اس بیان میں بین السطور وہ سارے تلخ حقائق چھپے ہوئے ہیں جو ان کو قلابازیاں کھانے پر مجبور کررہے ہیں۔ ایک زمانے میں امریکی ساری دنیا میں جاکر سرمایہ کاری کرتے تھے اور اس سے دنیا بھر کے ممالک میں لوگوں کو روزگار ملتا تھا نیز خوشحالی آتی تھی لیکن وہاں حکمرانوں کے جنگی جنون نے اسے قلاش کردیا ۔ ملک کے اندر بیروزگاری کا بول بالا ہوگیا اور اس کا فائدہ اٹھا کر صدارتی امیدوار کے طور پر ٹرمپ ’ماگا‘ یعنی (Make India Great Again) کا خوشنما نعرہ لگایا۔ اس نعرے میں یہ معنیٰ پوشیدہ تھے امریکہ اب عظیم نہیں رہا اس لیے اسے عظمت کی بلندی پر فائز کرنے کے لیے ٹرمپ کو دوبارہ صدر بنانے کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی دنیا بھر کے تنازعات سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینے کی بات کی۔ یہ وعدہ امریکی عوام کو پسند آیا اور ’اچھے دن ‘ کے چکر میں انہوں نے ٹرمپ کو زبردست کامیابی سے نواز دیا۔ صدر ٹرمپ دوسری کامیابی نے عوامی توقعات میں بے شمار اضافہ کردیا۔ دنیا بھر کی چوکیداری سے پیچھا چھڑانے کی خاطر انہوں نے روس کے ساتھ دوستی کرکے یوکرین کا مسئلہ سلجھانے کی کوشش کی اور پوتن سے الاسکاملنے چلے گئے لیکن وہ معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ اسی دوران ایران کے کے ساتھ گفت و شنید کا آغاز بھی کیا گیا مگر پچھلے سال جون میں دوران گفتگو ایران کی جوہری تنصیبات پر اچانک بمباری کرکے ٹرمپ نے پہلی بڑی قلابازی کھائی اور پھر اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ 17 جون 2025 کو یاد کیجیے۔ صدر ٹرمپ اچانک کینیڈا سے جی ۷ ممالک کا اجلاس درمیان سے چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں ۔ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ’سچویشن روم‘ میں طلب کر لیاجاتا ہے۔

ایران اسرائیل کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے اسرائیل کے وزیرِ دفاع تہران میں ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کو نشانہ بنانے کی تصدیق کردیتے ہیں۔ ایران کا سرکاری ٹی وی چینل تہران میں اس کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی حملے میں ’متعدد‘ افراد کےہلاک ہونے کی خبر نشر کرتا ہےمگر چند منٹ کے بعد نشریات کا دوبارہ آغاز ہوجاتا ہے۔ اس سے ایران کی سخت جانی اور جانبازی دنیا کے سامنے آجاتی ہے اور سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ نرم چارہ نہیں ہے مگراسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ وہ کہتا ہے کہ ’اگر آج تل ابیب پر حملہ ہوا ہے تو کل نیویارک پر بھی ہو سکتا ہے، مجھے امریکہ فرسٹ سمجھ آتا ہے، امریکہ ڈیڈ نہیں‘ اور یہ بھی کہ ’ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ ’تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘ اس بیان میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ نیتن یا ہو کےناپاک ارادے کیا تھے اور تقریباً ۹؍ماہ بعد جب اسے عملی جامہ پہنایا گیا تو اس کی خوش فہمی کیسے دور ہوگئی۔ نیتن یاہو اگر شیخ چلی کے خوابوں میں مبتلا نہ ہوتا تو اسرائیل کو اس قدر تباہی کا منہ نہیں دیکھنا پڑتا اور اس کا کھوکھلا رعب و دبدبہ خاک میں نہیں ملتا۔

ایران نے اسی وقت میزائلوں کی زبردست نئی لہر سے اسرائیل کے دانت کھٹے کرکے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ کوئی ناقابلِ تسخیر طاقت نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ ’سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔‘ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دے دیا تھا ۔ اس کے بعد بی ۲بی بمباری بھی ہوئی لیکن ایرانی جوہری تنصیبات کا بال بیکا نہیں کرسکی تو مجبوراً امریکہ کو جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔ صدر ٹرمپ فی الحال جس تذبذب کا شکار ہیں اس وقت بھی یہی کیفیت تھی ۔ انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے کہا تھا کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں‘۔ فی الحال آبنائے ہر مز پر ٹول لگا کر ایک دن بعد ہٹانے پر وہ جملہ زندہ ہوگیا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں خود بھی نہیں جانتے۔ برازیل کے صدر لوئیز ایناسیو لولا دا سلوا نے ایران کے خلاف امریکی حملے کی مخالفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر امریکہ کی جانب سے 20 فیصد فیس عائد کرنے کے اعلان کو بحری قزاقی کے مترادف قراردیا لیکن یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کوئی شرم کی بات نہیں ہے۔

یاد کیجیے انہوں نے امسال 2 مئی کو فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ”ہم نے… اس (جہاز) پر اوپر سے لینڈ کیا اور جہاز پر قبضہ کر لیا۔ ہم نے اس کے سامان اور تیل پر قبضہ کر لیا۔ یہ ایک بہت ہی منافع بخش کاروبار ہے۔‘‘ انہوں اپنے اندھ بھگتوں کے شور و غل پر کہا تھا، ”ہم قزاقوں کی طرح ہیں۔ ہم ایک طرح سے قزاقوں جیسے ہی ہیں، لیکن ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے۔‘‘ اس لیے صدر ٹرمپ اور ان کے ہمنواوں کو ڈکیتی پر عار نہیں محسوس ہوتی بلکہ فخر ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق مسلسل متضاد بیانات کی بنیادی وجہ تہران کے مقابلے میں واشنگٹن کی مسلسل ناکامیاں ہیں۔الجزیرہ کے مطابق ایران نے ایک فوجی سپر پاور کے طور پر امریکہ کی ساکھ کو چیلنج کیا ہے۔ امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں نے امریکہ عالمی حیثیت اور عسکری برتری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔امریکہ کی اصل تشویش ایران کا جواب نہیں بلکہ اپنی عالمی ساکھ بچانا ہے۔ اسی لیے ٹرمپ کو اپنی تزویراتی ناکامی کو چھپانے کے لیے بار بار لہجہ بدل کر کبھی دھمکیاں دینے اور کبھی معاہدے کی بات کرنی پڑتی ہے۔ ایک زمانے میں امریکہ اپنے خلابازوں کے لیے مشہور تھا اب صدر مملکت قلابازی میں نام کمار ہے ہیں ۔فی زمانہ ایک نام نہاد سُپر پاور کا صدر بہترین قلاباز بن گیا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے