Breaking
جمعرات. جولائی 16th, 2026

اسلام میں نحوست و بدشگونی کی حقیقت

اسلام میں نحوست و بدشگونی کی حقیقت

اسلام میں نحوست و بدشگونی کی حقیقت

از: مفتی محمد سلمان قاسمی کریم نگری
(امام وخطیب مسجد عبد الغفور کریم نگر)

مذہب اسلام ایک ایسا پاکیزہ مذہب ہے جو ہر طرح کے نقص و عیب، خرافات، بد عقیدگی، نحوست اور بدشگونی وغیرہ سے منزہ و مبرا ہے جسکی تعلیمات و ہدایات صاف ستھرے معیار پر قائم ہے جسمیں کسی طرح کا کوئی خلل اور شگاف نہیں ہے. لیکن بد قسمتی سے ہمارے مسلمان معاشرے میں خصوصا خواتین کے طبقے میں نحوست اور بدشگونی والا عقیدہ رفتہ رفتہ پھیلتا جارہا ہے جیسے کسی بے زبان جانوروں سے بدشگونیاں لینا، مخصوص مہینہ یعنی صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا نیز اس ماہ صفر میں نکاح نہ کرنا، سفر نہ کرنا، کاروبار کا آغاز نہ کرنا، اسکی ١٣ تاریخ کو منحوس سمجھنا اور اس ماہ میں مختلف چیزوں کو پکا کر تقسیم کرنا وغیرہ گویا کہ اس طرح کا عقیدہ رکھتےہوئے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ خدا تعالیٰ کی خلقت میں عیب اور خلل نکال رہا ہے۔

یہ بات ایک طئے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزوں میں کوئی چیز منحوس یا عیب دار نہیں ہے۔ خالق کائنات نے کوئی دن یا مہنیہ منحوس نہیں بنایا یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے کہ ما ترى فى خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر هل ترى من فطور ثم ارجع البصر كرتين ينقلب إليك البصر خاسئا وهو حسير ترجمہ: اے دیکھنے والے تو خدا کے اس پیدا کرنے میں کوئی خلل اور فرق یا کسی طرح کا عدم تناسب نہ دیکھے گا۔ اگر تمہیں کچھ شک و شبہ ہو تو اب کی بار نگاہ ڈال کر دیکھ لو کیا خدا کی خلقت میں کہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ لو آخر کار تمہاری نگاہ دیکھتے دیکھتے تھک کر ذلیل ہوکر واپس لوٹ آئے گی لیکن اللہ رب العزت کی خلقت میں کوئی شگاف اور خلل نظر نہ آئیگا(تدریسِ قرآن سورہ قلم آیت:٣,٤ ص١٤) اسی طرح ایک اور آیت میں بدشگونی اور نحوست کا سد باب کچھ اس طرح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” ما أصابك من حسنة فمن الله وما أصابك من سيئة فمن نفسك (سورة النساء)جو کوئی بھلائی تمہیں پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہی ہے اور جو کوئی برائی تمہیں پہنچے تو وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہے۔ ان آیتوں کی روشنی میں ایک ایمان والے کے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی دن یا مہینہ کو منحوس سمجھے یا کسی جانور وغیرہ سے بدشگونی لے۔ مزید اس سلسلے میں احادیث مبارکہ میں ہمیں کیا بات ملتی ہے آئیے اسکا جائزہ لیتے ہیں.

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں خود اس بات کی تردید فرمائی ہے کہ ماہ صفر میں کوئی بدشگونی یا نحوست نہیں ہے چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہے
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر( رواه البخاري، کتاب الطب رقم: 5717)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بیماری بذات خود متعدی نہیں ہے اور نہ کسی اڑنے والے پرندے سے بدشگونی لینا درست ہے اور نہ ہامہ (الو) کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی صفر کے مہینے میں کوئی نحوست ہے۔ اس حدیث میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے چار عقیدوں کو باطل قرار دیا ہے چنانچہ محدثین اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ بیماری کا لگنا یا نہ لگنا یہ ارادۂ الہی پر منحصر ہے یہ عقیدہ رکھنا کہ بیماری از خود لازمی طور پر منتقل ہوتی ہے صحیح نہیں ہے۔ نیز عربی زبان میں نحوست کے لیے لفظ طیرۃ مستعمل ہے جس کے معنی پرندے کے ہیں اہل عرب چونکہ پرندے کے دائیں یا بائیں اڑانے سے فال اور شگون لیتے تھے اس لیے طاہر بدفالی بدشگونی کے لیے استعمال ہونے لگا اور اللہ کے نبی علیہ السلام نے اس حدیث میں اس کی نفی فرمائی کہ پرندے کے اڑنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔اور ایسے ہی مختلف مہینوں اور ساعتوں کو منحوس سمجھنے کا عقیدہ ہر جگہ پایا جاتا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے عقائد کو باطل قرار دیا۔ (حدیث نبوی ص / 30)

شریعت مطہرہ میں بدشگونی اور بد فالی لینا ایک ایسا سنگین اور گمراہ کن عمل ہے جسکو احادیث مبارکہ میں شرک سے تعبیر کیا گیا ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ الطيرة شرك قاله ثلاثا بدشگونی لینا شرک ہے یہی جملہ آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا( سنن أبی داؤد رقم الحدیث: ٣٩١٠) نیز مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی چیز سے بدفالی کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا اس نے شرک کیا (مسند احمد : ٣٦٠٨) اسی طرح المنھاج فى شرح مسلم بن الحجاج میں امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ الطيرة فهو شرك لأنهم جعلوا لها أثرا فى الفعل والإيجاد کسی چیز سے بدشگونی لینے کو شرک کہنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اسکو نفع ونقصان دینے کی طاقت مان لی گویا کہ یہ اللہ کے سوا کسی اور چیز کے مؤثر ہونے کا عقیدہ ہے( المنھاج فی شرح مسلم، باب لا عدوی ولا طیرۃ ص/ 383) بہرحال مذکورہ بالا سطور سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی والے عمل کو شرک قرار دیا اس لئے کہ اس عمل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر کسی دوسری شئ کو مؤثر اور نفع و نقصان کا مالک مانا جارہا ہے اور یہ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ہونے کے ساتھ انتہائی جہالت اور گمراہی پر مبنی ہے۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام الناس کو روشناس کرایا جائے کہ اسلام اور شریعت کی بنیاد توہم پرستی بدشگونی اور نحوست جیسی کمزور ستونوں پر قائم نہیں ہے بلکہ اسلام توحید و توکل علی اللہ جیسے مضبوط و مستحکم ستون پر قائم ہے۔ جسمیں کوئی دن یا مہینہ منحوس نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سارے مہینوں کو برابر قرار دیا ہے چنانچہ کسی دن کومنحوس سمجھنا جہالت اور غیر اسلامی تصورات میں سے ہے۔ نیز ہمیں چاہئے کہ خاص کر ماہ صفر کو منحوس نہ سمجھے کیونکہ اس کو منحوس سمجھنا سراسر غلط فہمی اور اسلامی عقائد کے خلاف ہے، اس طرح کے گمراہ عقائد سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ناگزیر ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھیں اور ان پر عمل کریں تاکہ ہم اس طرح کے بدعت و خرافات اور بدشگونیوں سے محفوظ رہ سکے اللہ تعالی ہم سب کو صحیح علم اور صحیح فہم عطا فرمائے آمین یارب العالمین

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے