Breaking
جمعرات. جولائی 16th, 2026

توہمات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا انسان (توہمات قدیمہ اور جدیدہ کے اندھیروں سے توحید اور توکل کے نور تک)

توہمات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا انسان  (توہمات قدیمہ اور جدیدہ کے اندھیروں سے توحید اور توکل کے نور تک)

توہمات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا انسان
(توہمات قدیمہ اور جدیدہ کے اندھیروں سے توحید اور توکل کے نور تک)

ازقلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک

انسان کی پوری تاریخ اگر ایک جملے میں سمیٹ دی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ دراصل یقین اور وہم کی کشمکش کی تاریخ ہے۔ ایک طرف انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت تھی جو انسان کو یقین، توحید، عقلِ سلیم اور وحیِ الٰہی کی روشنی میں زندگی گزارنے کی تعلیم دیتی رہی، اور دوسری طرف شیطان کی وہ قدیم سازش تھی جس نے ہر دور میں انسان کے دل میں ایسے اوہام، اندیشے اور بے بنیاد تصورات پیدا کیے جن کی نہ عقل شہادت دیتی ہے، نہ فطرت ان کی تائید کرتی ہے اور نہ آسمانی شریعت انہیں قبول کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انسان نے وحی کی رہنمائی سے منہ موڑا، اس نے اشیاء میں تاثیر تلاش کی، ستاروں میں تقدیر ڈھونڈی، پرندوں کی آوازوں میں مستقبل پڑھنا شروع کیا، مہینوں اور دنوں کو نحوست کا سرچشمہ قرار دیا، اور اپنے خوف کو عقیدے کا لباس پہنا کر اس کا نام "تجربہ” یا "روایت” رکھ دیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہم اس وقت جنم لیتا ہے جب یقین کمزور ہو جائے، اور توہم اس وقت پروان چڑھتا ہے جب دل سے توکل کی دولت رخصت ہونے لگے۔
اسلام نے جب دنیا میں قدم رکھا تو اس ان باطنی باطل عقیدوں کو بھی پاش پاش کیا جو انسان کے دل و دماغ میں صدیوں سے مسلط تھے۔ قرآن مجید نے انسان کو بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ کائنات میں کوئی چیز مستقل طور پر نفع و نقصان کی مالک نہیں، کوئی دن، مہینہ، ستارہ، درخت، پرندہ یا انسان بذاتِ خود مؤثر نہیں، بلکہ ہر اثر کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کا اذن ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:﴿قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾”آپ کہہ دیجیے کہ ہمیں ہرگز کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔” (سورۃ التوبۃ: 51) یہ ایک آیت اپنے اندر عقیدۂ تقدیر، توحیدِ افعال، توکل، رضا بالقضاء اور توہمات کی مکمل نفی کو جمع کیے ہوئے ہے۔ جس دل میں اس آیت کا یقین اتر جائے، وہاں کسی الو کی آواز، کسی بلی کا راستہ کاٹنا، کسی تاریخ یا مہینے کی نحوست، کسی نجومی کی پیش گوئی یا کسی فال گیر کا فریب جگہ نہیں پا سکتا۔
درحقیقت توہم کوئی معمولی اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ یہ ایک فکری بیماری ہے۔ اس کا تعلق صرف رسم و رواج سے نہیں بلکہ عقیدے کی بنیادوں سے ہے۔ جب انسان کسی ایسی چیز کو، جس کی تاثیر پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کوئی دلیل قائم نہیں کی، اپنے نفع یا نقصان کا سبب سمجھنے لگتا ہے تو وہ غیر شعوری طور پر اسباب کو مسببِ حقیقی کے مقابلے میں ایک ایسی حیثیت دے دیتا ہے جو شریعت کی نظر میں درست نہیں۔ اسی لیے اسلام نے توہمات کی اصلاح کو محض معاشرتی اصلاح نہیں بلکہ اصلاحِ ایمان کا حصہ قرار دیا۔قرآن مجید نے گزشتہ امتوں کا ایک نفسیاتی مرض بھی بیان فرمایا کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی تو وہ اس کا سبب انبیائے کرام کو قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ ۚ قَالَ طَائِرُكُمْ عِندَ اللَّهِ﴾”انہوں نے کہا: ہم نے تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھا ہے۔ نبی نے فرمایا: تمہاری نحوست تو اللہ کے علم و فیصلے کے تابع ہے۔” (سورۃ النمل: 47)
اسی طرح قومِ فرعون کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ﴾ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو منحوس قرار دیتے، حالانکہ سن لو! ان کی قسمت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں تھا۔” (سورۃ الأعراف: 131)یہ آیات اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ توہم پرستی ہمیشہ باطل اقوام کی علامت رہی ہے، جبکہ یقین اور توکل اہلِ ایمان کا شعار ہے۔

یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شیطان انسان کو یک دم شرکِ جلی تک نہیں پہنچاتا، بلکہ وہ اس کے قلب و دماغ میں پہلے ایسے خیالات پیدا کرتا ہے جو بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ یہی خیالات عقیدہ بن جاتے ہیں۔ بدشگونی، فالِ بد، غیر ثابت اسباب پر اعتماد، غیر شرعی تعویذات، نجومیوں اور کاہنوں کی باتوں پر یقین—یہ سب اسی شیطانی منصوبے کی مختلف کڑیاں ہیں۔ قرآن کریم نے شیطان کی اسی حکمتِ عملی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾”یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے تمہیں ڈراتا ہے، لہٰذا ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔” (سورۃ آل عمران: 175)
غور کیجیے! خوف توہمات کی پہلی سیڑھی ہے، اور توکل اس کا سب سے بڑا علاج۔ جو دل اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہو جائے، وہ غیر اللہ کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے؛ لیکن جو دل اللہ سے خالی ہو جائے، وہ پھر ہر آواز، ہر خواب، ہر تاریخ، ہر ستارے اور ہر افواہ سے لرزنے لگتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے امت کی عقیدہ سازی کا آغاز انہی باطل تصورات کی جڑ کاٹنے سے فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ»کوئی چیز بذاتِ خود مؤثر بیماری پھیلانے والی نہیں، نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے، نہ الو کی نحوست، اور نہ ماہِ صفر کی کوئی نحوست۔” (صحیح البخاری، کتاب الطب، حدیث: 5757؛ صحیح مسلم، حدیث: 2220)
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان تمام جاہلی عقائد کی نفی فرمائی جن میں لوگ مخلوقات کو بذاتِ خود خیر و شر کا مالک سمجھنے لگے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب کا انکار کر دیا جائے، بلکہ یہ کہ سبب کو مؤثرِ حقیقی نہ سمجھا جائے۔ (فتح الباری، ج10، ص213-215)
امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:طیرہ (بدشگونی) یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو دیکھ کر اپنے ارادے سے باز آ جائے یا کسی کام کو اس گمان سے چھوڑ دے کہ یہ چیز نقصان پہنچائے گی، حالانکہ اس کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔” (شرح صحیح مسلم، ج14، ص219)
یہاں ایک نہایت باریک نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام اسباب کا انکار نہیں کرتا، بلکہ اسباب کی الوہیت کا انکار کرتا ہے۔ دوا لینا سنت ہے، لیکن دوا کو شافیِ حقیقی سمجھنا درست نہیں۔ آگ جلانے کا سبب ہے، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے وہی آگ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ٹھنڈی ہو گئی۔ چھری کاٹنے کا سبب ہے، مگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کے وقت وہ بے اثر ہو گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مؤثرِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہے، باقی تمام اسباب اس کے حکم کے تابع ہیں۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ:
"اسباب کو اختیار کرنا سنت ہے، مگر اسباب پر اعتماد کرنا توکل کے خلاف ہے۔ مومن سبب سے تعلق ضرور رکھتا ہے، لیکن اعتماد صرف مسبب الاسباب پر کرتا ہے۔” (کشف الغطاء عن التوکل والقضاء، ص 27)
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں توکل کا مفہوم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ مشروع اسباب اختیار کرتے ہوئے دل کو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ رکھنا ہے۔ جب یہ حقیقت دل میں راسخ ہو جاتی ہے تو پھر توہمات کی پوری عمارت خود بخود زمین بوس ہو جاتی ہے، کیونکہ توہم کی بنیاد ہی اس غلط عقیدے پر ہے کہ بعض چیزیں اللہ کے اذن کے بغیر بھی نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اسی لیے امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"طیرہ (بدشگونی) دل کی ایسی بیماری ہے جو انسان کو اللہ پر حسنِ ظن سے محروم کر دیتی ہے، اور جس قدر بندہ اس میں مبتلا ہوتا ہے، اسی قدر اس کا توکل کمزور ہوتا جاتا ہے۔” (مفتاح دار السعادة، ج2، ص246)
یہی وہ بنیادی اصول ہے جسے سمجھے بغیر نہ تو توہمات کی حقیقت واضح ہوتی ہے اور نہ ان کا علاج ممکن ہے۔ اسلام پہلے دل میں توحید کو راسخ کرتا ہے، پھر عقل کو وحی کی روشنی دیتا ہے، اور اس کے بعد انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ خوف، امید، نفع، نقصان، عزت، ذلت، کامیابی اور ناکامی—سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ یہی یقین مومن کو ہر قسم کے وہم، بدشگونی اور جاہلی اوہام سے آزاد کر دیتا ہے۔
اسلام نے توہم پرستی کو صرف اس لیے رد نہیں کیا کہ یہ عقل کے خلاف ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ انسان کے ایمان کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے۔ جو شخص صبح گھر سے نکلتے وقت کسی پرندے کی آواز، کسی جانور کی حرکت، کسی عدد، کسی تاریخ یا کسی خواب کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا سمجھنے لگے، اس نے درحقیقت اپنے دل کا ایک گوشہ اللہ تعالیٰ کے بجائے غیر اللہ کے حوالے کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اس مسئلے کو معمولی اخلاقی کمزوری قرار نہیں دیا بلکہ عقیدے کی اصلاح کے باب میں اس کا مستقل ذکر فرمایا۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کوئی قوم وحیِ الٰہی سے دور ہوئی، توہمات نے اس کے عقائد پر قبضہ جما لیا۔ قومِ نوح نے اپنے بزرگوں کی قبروں سے وابستگی اختیار کی، قومِ عاد و ثمود نے ظاہری اسباب کو قوت کا سرچشمہ سمجھا، فرعون اور اس کے درباری نجومیوں اور کاہنوں کے سہارے مستقبل کا فیصلہ کرنے لگے، اور عربِ جاہلیت نے پرندوں کی اڑان، ستاروں کی گردش اور مہینوں کی آمد و رفت کو خیر و شر کا معیار بنا لیا۔ گویا توہم ہمیشہ اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان کا تعلق خالق سے کمزور اور مخلوق سے غیر متوازن ہو جاتا ہے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ایک نہایت حکیمانہ نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ انسان جس قدر اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کرتا ہے، اسی قدر اس کے دل سے غیر اللہ کا خوف نکلتا جاتا ہے، اور جب معرفت کمزور پڑ جائے تو وہم اور اندیشے اس خلا کو بھر دیتے ہیں۔ اس لیے اصلاح کا آغاز رسوم کے خاتمے سے نہیں بلکہ ایمان کی مضبوطی سے ہونا چاہیے۔
اسی حقیقت کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ شیطان کا مقصد یہ نہیں کہ انسان فوراً مشرک بن جائے، بلکہ وہ پہلے اس کے دل میں ایسے اوہام پیدا کرتا ہے جن کا کوئی شرعی یا عقلی ثبوت نہیں ہوتا، پھر انہی اوہام کو آہستہ آہستہ عقیدہ بنا دیتا ہے۔ (اقتضاء الصراط المستقیم، ج ۱، ص ۴۵۴)
آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس امت نے دنیا کو ﴿قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا﴾ کا پیغام دیا تھا، اسی امت کے بعض افراد دوبارہ انہی جاہلی اوہام کی طرف لوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی کاروبار شروع کرنے سے پہلے تاریخوں کی نحوست تلاش کرتا ہے، کوئی شادی کے لیے مہینوں کو منحوس قرار دیتا ہے، کوئی پرندوں اور جانوروں کی آوازوں سے قسمت کا فیصلہ کرتا ہے، اور کوئی نجومیوں اور فال گیروں کے دروازوں پر اپنی تقدیر معلوم کرنے پہنچ جاتا ہے اور کتا یا بلی کے راستہ کاٹنے کو ناکامی کی بنیاد سمجھنا کسی اچھے کام کے وقت اگر چھینک آ جائے تو اس سے بد شگونی لینا ۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ توحید کے چشمۂ صافی سے تعلق کمزور پڑ رہا ہے۔
حقیقت واضح ہوگئی کہ توہم پرستی دراصل عقیدۂ توحید کی کمزوری اور توکل علی اللہ کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی، وہاں صرف بت ہی معبود نہیں تھے بلکہ اوہام، فال گیری، نجوم، نحوست اور بے بنیاد عقائد بھی لوگوں کے ذہنوں پر حکومت کر رہے تھے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا ایک اہم پہلو ان تمام فکری زنجیروں کو توڑنا بھی تھا جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے ہٹا کر بے حقیقت اسباب کا غلام بنا دیتی تھیں۔
عربِ جاہلیت کا ایک مشہور رواج "طِیَرَہ” تھا۔ جب وہ کسی سفر، تجارت یا اہم کام کا ارادہ کرتے تو پرندہ اڑاتے۔ اگر وہ دائیں جانب اڑتا تو اسے خوش بختی کی علامت سمجھتے اور اگر بائیں جانب جاتا تو پورا منصوبہ منسوخ کر دیتے۔ گویا ایک بے اختیار پرندے کی پرواز ان کی قسمت کا فیصلہ کرتی تھی۔ اسلام نے اس تصور کو ایک ہی جملے میں ختم کر دیا:
«لَا طِيَرَةَ»بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔” (صحیح البخاری، حدیث: 5757؛ صحیح مسلم، حدیث: 2220)
یہ الفاظ محض ایک رسم کی تردید نہیں بلکہ انسانی عقل کی آزادی کا اعلان تھے۔ اسلام نے بتایا کہ جس مخلوق کو اپنے نفع و نقصان پر اختیار نہیں، وہ دوسرے کی قسمت کیسے بدل سکتی ہے؟
اسی طرح اہلِ عرب الو (ہامہ) کو منحوس سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اگر الو کسی گھر کی چھت پر بیٹھ کر آواز دے تو اس گھر میں موت یا مصیبت ضرور آئے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«لَا هَامَةَ»الو کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں۔” (صحیح البخاری، حدیث: 5757)حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث نے ان تمام باطل عقائد کو ختم کر دیا جو الو یا کسی دوسرے جانور کے متعلق جاہلیت میں رائج تھے۔ (فتح الباری، ج10، ص214)
اسی طرح ماہِ صفر کے متعلق عربوں میں یہ عقیدہ تھا کہ یہ منحوس مہینہ ہے، اس میں سفر، شادی یا نئے کام شروع کرنا نقصان کا باعث بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بھی صریح تردید فرمائی:«وَلَا صَفَرَ»ماہِ صفر میں کوئی نحوست نہیں۔” (صحیح مسلم، حدیث: 2220)امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی مہینے کو بذاتِ خود منحوس سمجھنا جاہلیت کا عقیدہ ہے، اسلام کا نہیں۔ (شرح صحیح مسلم، ج14، ص220)
یہاں ایک بنیادی اصول ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اسلام اسباب کا انکار نہیں کرتا، لیکن بے دلیل اسباب کو تسلیم بھی نہیں کرتا۔ اگر شریعت یا صحیح تجربہ کسی چیز کو سبب قرار دے تو اسے اختیار کرنا مشروع ہے، لیکن محض وہم، روایت یا عوامی کہانیوں کی بنیاد پر کسی چیز کو مؤثر سمجھ لینا ایمان کے مزاج کے خلاف ہے۔اسی اصول کو سامنے رکھ کر جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ شکلیں بدل گئی ہیں مگر جاہلیت کے عقائد آج بھی زندہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے پرندے اڑائے جاتے تھے، آج روزانہ کے "فال”، "راشی”، "قسمت کے اعداد”، "منحوس رنگ”، "مبارک تاریخ” اور نجومی پیش گوئیوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ نام جدید ہو گئے ہیں، لیکن حقیقت وہی پرانی جاہلیت ہے۔
اسی لیے آگے ہم ان توہمات کا جائزہ لیں گے جو آج ہمارے گھروں، بازاروں، شادی بیاہ، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں رائج ہیں، اسلام کی حقانیت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے انسان کو ہر اس قید سے آزاد کیا جس کی بنیاد دلیل کے بجائے وہم، خوف اور اندھی تقلید پر تھی۔ لیکن افسوس! آج بھی مسلمانوں کے گھروں، بازاروں اور معاشرتی زندگی میں ایسے بے شمار توہمات موجود ہیں جن کی نہ قرآن میں کوئی اصل ہے، نہ حدیث میں، نہ آثارِ صحابہ میں اور نہ ائمۂ امت نے انہیں دین کا حصہ قرار دیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان میں سے بعض توہمات کو اس قدر مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے کہ انکار کرنے والے کو ہی بے احتیاط یا بے دین سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو سفر روک دینا چاہیے، ورنہ نقصان ہوگا۔ کوئی شخص گھر سے نکلے اور یہ منظر دیکھ لے تو فوراً واپس لوٹ آتا ہے یا چند لمحے رک کر دوبارہ چلتا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ وہی جاہلی بدشگونی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے «لَا طِيَرَةَ» کہہ کر جڑ سے اکھاڑ دیا۔ بلی ایک بے زبان جانور ہے، اسے نہ انسان کے ارادوں کا علم ہے اور نہ مستقبل کے واقعات پر کوئی اختیار۔ اگر وہ راستہ کاٹنے سے کسی کا مقدر بدل سکتی، تو وہ اپنے لیے بھی بہتر مقدر کا انتخاب کر لیتی۔
اسی طرح بعض لوگ آنکھ پھڑکنے، ہتھیلی میں خارش ہونے یا کان بجنے کو آئندہ پیش آنے والے واقعات کی علامت سمجھتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے دائیں آنکھ پھڑکے تو خوش خبری آئے گی، بائیں پھڑکے تو مصیبت آئے گی؛ کوئی ہاتھ کی خارش کو دولت آنے کی نشانی قرار دیتا ہے۔ یہ سب ایسے دعوے ہیں جن پر نہ کوئی شرعی دلیل موجود ہے اور نہ کوئی یقینی عقلی یا سائنسی بنیاد۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ خاموش ہوں وہاں انسان بھی خاموش رہے اور بے دلیل دعووں کو عقیدہ نہ بنائے۔
اسی طرح چھینک اور آوازوں کے متعلق بھی طرح طرح کے اوہام پائے جاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے چھینک کے بارے میں نہایت متوازن تعلیم دی ہے۔ چھینک آنے پر الحمد لله کہنا، سننے والے کا يرحمك الله کہنا اور جواب میں يهديكم الله ويصلح بالكم کہنا مسنون ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 6224؛ صحیح مسلم، حدیث: 2992)۔ لیکن اسے کسی آنے والی خیر یا شر کی علامت سمجھنا شریعت سے ثابت نہیں۔
اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں دن خریداری نہ کرو، فلاں تاریخ میں نکاح نہ کرو، فلاں مہینے میں گھر نہ بناؤ، فلاں عدد منحوس ہے، فلاں عدد مبارک ہے۔ یہ تمام تصورات اس وقت تک محض بے بنیاد اوہام ہیں جب تک ان پر قرآن، سنت یا کسی قطعی دلیل کی تائید موجود نہ ہو۔ اسلام انسان کو اعداد، تاریخوں اور مہینوں کا غلام نہیں بناتا بلکہ ربِّ کائنات کا بندہ بناتا ہے۔امام ابن قیم رحمہ اللہ نے نہایت گہری بات لکھی ہے:طیرہ (بدشگونی) کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو ایسی چیز سے وابستہ کر لے جسے اللہ تعالیٰ نے سبب نہیں بنایا، پھر اسی وابستگی کی وجہ سے وہ خود اپنے اوپر تنگی اور پریشانی مسلط کر لیتا ہے۔” (زاد المعاد، ج 2، ص 444
ہی باتبھی نفسیاتی اعتبار سے بھی نہایت اہم ہے۔ بہت سے لوگ کسی توہم پر یقین کر لیتے ہیں، پھر جب اتفاقاً کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اسے اسی توہم سے جوڑ دیتے ہیں، لیکن ہزاروں مرتبہ جب کچھ نہیں ہوتا تو اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی انسانی ذہن کا فریب ہے جسے اسلام وحی کی روشنی سے درست کرتا ہے۔ اب اخیر میں ہم ایک ایسے دروازے پر پہنچتے ہیں جہاں سے توہم محض ایک نفسیاتی کمزوری نہیں رہتا بلکہ عقیدے کی گمراہی میں تبدیل ہونے لگتا ہے، اور وہ ہے نجوم، کہانت، فال گیری، قسمت بتانے والوں اور غیب دانی کے دعویداروں پر اعتماد۔ افسوس یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس فتنے سے محفوظ نہیں۔ اخبارات کے "راشی”، ٹیلی ویژن کے نجومی، سوشل میڈیا کے فال نامے اور قسمت بتانے والے مختلف عنوانات سے اسی جاہلیت کو نئے لباس میں پیش کر رہے ہیں اسلام نے یہ بنیادی عقیدہ قائم کیا کہ علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ﴾آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔” (سورۃ النمل: 65)
ایک اور مقام پر فرمایا:﴿وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ﴾غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔” (سورۃ الأنعام: 59)
جب قرآن نے غیب کے علم کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کر دیا تو پھر کوئی نجومی، کاہن، فال گیر یا زائچہ بنانے والا یہ دعویٰ کیسے کر سکتا ہے کہ وہ آنے والے حالات، قسمت، رزق، شادی، موت یا کامیابی کا یقینی علم رکھتا ہے؟رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق نہایت سخت تنبیہ فرمائی۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہآپﷺنے فرمایا:«مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»”جو شخص کسی کاہن یا غیب بتانے والے کے پاس جائے اور اس سے کوئی بات پوچھے، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی۔” (صحیح مسلم، حدیث: 2230)اور ایک دوسری روایت میں فرمایا:«مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ»جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، اس نے محمد ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت کا انکار کیا۔” (مسند أحمد، حدیث: 9532؛ سنن أبي داود، حدیث: 3904)
یہ الفاظ معمولی نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف نجومیوں کی مذمت نہیں کی بلکہ ان کی تصدیق کو ایمان کے لیے نہایت خطرناک قرار دیا، کیونکہ یہ عقیدہ انسان کو توحید سے ہٹا کر غیب دانی کے جھوٹے دعووں کی طرف لے جاتا ہے۔
آج اس فتنے کی صورتیں بدل چکی ہیں۔ کوئی اپنے موبائل میں روزانہ "آج کا زائچہ” پڑھتا ہے، کوئی اپنی تاریخِ پیدائش سے قسمت معلوم کرتا ہے، کوئی ستاروں کی گردش سے کاروبار کا فیصلہ کرتا ہے، کوئی شادی سے پہلے "برج” ملاتا ہے، اور کوئی "لکی نمبر” یا "لکی رنگ” کے بغیر قدم نہیں اٹھاتا۔ یہ سب اسی جاہلی ذہنیت کی جدید شکلیں ہیں۔ اگر ان پر اعتقاد قائم ہو جائے تو یہ توہم سے بڑھ کر عقیدے کی خرابی بن جاتی ہیں۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"نجوم کے ذریعہ مستقبل اور غیب کا علم حاصل کرنے کا دعویٰ باطل ہے، کیونکہ غیب اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت ہے، اور اس باب میں نجومیوں کی بات ماننا گمراہی کا دروازہ کھولنا ہے۔” (مجموع الفتاویٰ، ج 35، ص 173)
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مسلمان ایک طرف قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور دوسری طرف روزانہ اپنی قسمت نجومیوں سے معلوم کرتے ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں: "حسبنا الله ونعم الوكيل”، لیکن دل میں اعتماد ستاروں، اعداد اور زائچوں پر رکھتے ہیں۔ یہ وہ تضاد ہے جسے ختم کیے بغیر ایمان کی حلاوت مکمل نہیں ہو سکتی۔حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ توہم پرستی محض ایک معاشرتی رسم یا ثقافتی روایت نہیں، بلکہ ایک فکری و اعتقادی انحراف ہے جو انسان کو بتدریج توحیدِ خالص سے دور اور غیر اللہ کے سہاروں کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام اس مرض کا علاج کیا پیش کرتا ہے؟
اسلام کا پہلا اور بنیادی علاج توحیدِ خالص ہے۔ جب بندہ اس یقین پر قائم ہو جائے کہ نفع و نقصان، عزت و ذلت، صحت و بیماری، رزق اور زندگی و موت کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے تو ہر قسم کے وہم اور بدشگونی کی جڑ خود بخود کٹ جاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ﴾اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔” (سورۃ یونس: 107)
دوسرا علاج توکل ہے۔ توکل اسباب کو ترک کرنے کا نام نہیں، بلکہ مشروع اسباب اختیار کرکے دل کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینے کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ…»اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔” (سنن الترمذی، حدیث: 2344)
پرندہ گھونسلے میں بیٹھا نہیں رہتا بلکہ کوشش کرتا ہے، پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہی مومن کی شان ہے، جبکہ توہم پرست اسباب سے زیادہ اوہام پر اعتماد کرتا ہے۔
تیسرا علاج دعا، ہے۔ اسلام انسان کو نجومیوں، فال گیروں اور غیب دانی کے دعویداروں کے بجائے براہِ راست اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا سکھاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو مکمل طور پر مالک پر اعتماد کرنے کی تعلیم دی ہے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جس دل میں توکل، دعا اور ذکر کی کثرت ہو جائے، وہاں اوہام کو جگہ نہیں ملتی۔”
اسی یقین نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ہر قسم کی بدشگونی، نجوم، کہانت اور بے بنیاد خوف سے بے نیاز کر دیا تھا۔ آج بھی امت کی عزت، قوت اور فکری آزادی اسی میں ہے کہ وہ توہمات، بے اصل تعویذات، نجومیوں اور ہر قسم کے باطل سہاروں کو چھوڑ کر اپنے ایمان، توکل اور تعلقِ مع اللہ کو مضبوط بنائے۔ یہی قرآن و سنت کا پیغام اور ہر دور کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے
اسلام کا پورا نظامِ عقائد یقین پر قائم ہے اور توہمات کا پورا نظام گمان پر۔ اسلام بندے کو آسمان سے جوڑتا ہے اور توہمات اسے زمین کی بے جان اور بے اختیار چیزوں کا غلام بنا دیتے ہیں۔ اسلام کا مرکز ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ ہے (سورۃ الفاتحہ: 5)، جبکہ توہمات کا مرکز یہ خیال ہے کہ فلاں چیز، فلاں تاریخ، فلاں ستارہ یا فلاں شخص میری تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایمان اور جاہلیت، توحید اور وہم، یقین اور گمان کے درمیان حدِّ فاصل کھینچ دیتا ہے۔
قرآن مجید نے بار بار انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اکثر گمان حقیقت نہیں ہوتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا﴾
"بلاشبہ گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔” (سورۃ یونس: 36)اور ایک مقام پر فرمایا:﴿وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا﴾ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں۔” (سورۃ یونس: 36)
توہم دراصل اسی بے بنیاد گمان کا نام ہے، جسے انسان بار بار دہراتے دہراتے عقیدہ بنا لیتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جدید دور کے مسلمان نے پرانے توہمات کو صرف نئے نام دے دیے ہیں۔ پہلے کاہنوں کے دروازے آباد تھے، آج نجومیوں کی ویب سائٹس آباد ہیں پہلے فال کے تیر نکالے جاتے تھے، آج روزانہ کے زائچے پڑھے جاتے ہیں۔ پہلے پرندوں کی پرواز سے قسمت معلوم کی جاتی تھی، آج تاریخِ پیدائش، برج، اعداد اور رنگوں کے ذریعے مستقبل جاننے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ لباس بدل گیا، مگر جاہلیت کی روح باقی رہی۔
اہلِ ایمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ خود ان اوہام سے بچے، بلکہ اپنے گھروں، اپنی اولاد، اپنے معاشرے اور اپنی مساجد میں بھی عقیدۂ توحید کی صحیح تعلیم عام کریں۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ کسی جانور، کسی تاریخ، کسی مہینے یا کسی انسان میں مستقل نفع و نقصان کی طاقت نہیں؛ ہر خیر اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہر مصیبت اسی کی حکمت کے تحت آتی ہے۔ یہی تعلیم ان کے دلوں کو مضبوط بنائے گی اور انہیں خوف، وہم اور فکری غلامی سے آزاد کرے گی۔
حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے ایک نہایت بامعنی بات فرمائی کہ "جہاں علمِ صحیح اور یقینِ کامل آ جاتا ہے، وہاں اوہام خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔” یہی وجہ ہے کہ اسلام نے توہمات کا علاج صرف ممانعت سے نہیں کیا بلکہ علم، ایمان، توکل، دعا اور ذکر کی دولت عطا کی۔
آخر میں ہر مسلمان کو اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا میرا اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہے یا ان چیزوں پر جن کی کوئی شرعی حقیقت نہیں؟ اگر کسی تاریخ، کسی ستارے، کسی تعویذ، کسی نجومی یا کسی وہم کی وجہ سے میرے فیصلے بدل جاتے ہیں، تو مجھے اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اسباب اختیار کرتا ہے، مگر دل صرف ربِّ الاسباب کے ساتھ وابستہ رکھتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ توحید کو صرف زبان کا کلمہ نہ بنائے بلکہ زندگی کا عقیدہ بنائے۔ جب یہ یقین دل میں اتر جائے گا کہ "نہ کوئی نفع اللہ کے بغیر ہے، نہ کوئی نقصان اللہ کے بغیر” تو پھر نہ کوئی منحوس دن باقی رہے گا، نہ کوئی منحوس مہینہ، نہ کوئی منحوس پرندہ، نہ کوئی منحوس عدد اور نہ کوئی منحوس انسان۔ اس کے بعد انسان کا دل صرف ایک آواز پر مطمئن ہوگا:﴿حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ہمارے لیے اللہ کافی ہے، اور وہی بہترین کارساز ہے۔” (سورۃ آل عمران: 173)
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں خالص توحید، کامل توکل اور مضبوط یقین کی دولت عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو ہر قسم کے شرکیہ، جاہلی اور توہماتی تصورات سے پاک فرمائے،

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے