Breaking
منگل. جون 16th, 2026

یکم محرم: حضرت عمر بن خطابؓ کی شہادت

یکم محرم: حضرت عمر بن خطابؓ کی شہادت

یکم محرم: حضرت عمر بن خطابؓ کی شہادت

ازقلم: شیخ سلیم،ممبئی

حضرت عمر بن خطابؓ اسلام کے دوسرے خلیفۂ راشدہ، عشرۂ مبشرہ میں شامل جلیل القدر صحابی اور تاریخِ اسلام کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کا دورِ خلافت عدل و انصاف، تقویٰ اور بہترین نظم و نسق کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اور شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ایک مثال ہے۔
تئیس ہجری میں مدینۂ منورہ میں ایک فارسی غلام ابو لؤلؤ فیروز رہتا تھا جو حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا غلام تھا۔ وہ بڑھئی، لوہار اور کاریگر تھا۔ ایک دن اس نے حضرت عمرؓ سے اپنے مالک کی طرف سے مقرر کردہ محصول کی شکایت کی۔ حضرت عمرؓ نے معاملے کا جائزہ لیا اور اسے مناسب قرار دیا۔ اس پر ابو لؤلؤ ناراض ہوگیا۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا تم کیا کام کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا میں چکی بناتا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا میرے لیے بھی ایک چکی بنا دو۔ اس نے کہا میں آپ کے لیے ایک ایسی چکی بناؤں گا دنیا یاد رکھے گی۔ جب وہ چلا گیا تو حضرت عمرؓ نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا: آپ لوگ سمجھے یہ کیا بول گیا ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اس نے مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ لوگوں نے کہا: آپ اسے گرفتار کر لیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: نہیں، کسی کے ارادے پر اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت خلافتِ راشدہ ایران، مصر، حجاز، عراق اور شام کے بڑے حصے پر مشتمل تھی اور اس کے دل میں خلیفۂ وقت کے خلاف بغض اور کینہ نے گھر کر لیا۔
چھبیس ذوالحجہ تئیس ہجری کی صبح مسجدِ نبوی میں فجر کی نماز کے لیے مسلمان جمع تھے۔ حضرت عمرؓ حسبِ معمول امامت کے لیے آگے بڑھے اور نماز شروع کرائی۔ اسی دوران ابو لؤلؤ دو دھاری خنجر لے کر اچانک آگے بڑھا اور حضرت عمرؓ پر یکے بعد دیگرے کئی وار کیے۔ ایک گہرا وار ناف کے نیچے لگا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے۔ فرار ہونے کی کوشش میں اس ملعون نے کئی دیگر نمازیوں پر بھی حملہ کیا جن میں بعض شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ کیوں کہ مسلمان صف میں ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہوتے تھے، جب اس نے دیکھا کہ اب بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے خود کو بھی خنجر مار کر ہلاک کر لیا۔
حضرت عمرؓ کو زخمی حالت میں ان کے گھر منتقل کیا گیا۔ طبیبوں نے معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ زخم جان لیوا ہے۔ اس نازک گھڑی میں بھی حضرت عمرؓ کی سب سے بڑی فکر اپنی آخرت تھی۔ اگرچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریبی صحابی اور جنت کی بشارت پانے والوں میں سے تھے، تاہم ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کا خوف اسی طرح موجود تھا جیسے کسی عام مومن کے دل میں ہوتا ہے۔
حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض منافقین کے نام حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو بتائے تھے اور اسی لیے انہیں صاحبِ سرِّ رسول اللہ ﷺ کہا جاتا تھا۔ اپنی آخری بیماری کے دوران حضرت عمرؓ نے حضرت حذیفہؓ کو بلایا اور نہایت فکر مندی اور اضطراب کے ساتھ پوچھا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا رسول اللہ ﷺ نے میرا نام بھی منافقین میں لیا تھا؟ حضرت حذیفہؓ نے فوراً جواب دیا کہ نہیں، اللہ کی قسم، آپ ان میں سے ہرگز نہیں ہیں۔
یہ جواب سن کر حضرت عمرؓ کو کچھ اطمینان ہوا لیکن اس کے باوجود ان کا خوفِ خدا رتی بھر کم نہ ہوا۔ وہ اپنے اعمال کے بارے میں فکر مند رہے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت و مغفرت کی امید رکھتے رہے۔ ان کی عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں برابر برابر ہی چھوٹ جاتا، نہ مجھے کوئی اجر ملتا اور نہ مجھ پر کوئی مواخذہ ہوتا۔
شہادت سے قبل حضرت عمرؓ نے امت کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے خلافت کے انتخاب کے لیے ایک شوریٰ مقرر کی اور دیگر اہم امور نمٹائے۔ پھر انہوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بلایا اور فرمایا کہ میرے ذمے حضرت عائشہؓ کا کچھ قرض ہے، جب میں دنیا سے چلا جاؤں تو سب سے پہلے یہ قرض ادا کرنا۔ یہ وہ شخص تھا جو پوری مسلم دنیا کا خلیفہ تھا، جس کی سلطنت ایران سے مصر تک پھیلی ہوئی تھی، مگر آخری سانسوں میں بھی اس کی فکر یہ تھی کہ کہیں کسی بندے کا ایک درہم بھی اس کے ذمے نہ رہ جائے۔ اس کے بعد انہوں نے اُمّ المومنین حضرت عائشہؓ سے نہایت ادب اور عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ انہیں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ حضرت عائشہؓ نے یہ سعادتِ عظمیٰ انہیں عطا کر دی۔
چند دن بعد یکم محرم چوبیس ہجری کو حضرت عمر بن خطابؓ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کی شہادت پر پورا عالمِ اسلام سوگوار ہوگیا۔ آج بھی ان کی زندگی عدل، تقویٰ، عاجزی، خوفِ خدا اور خدمتِ امت کی ایک تابندہ مثال سمجھی جاتی ہے۔
انسان کا مقام و مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، اسے ہمیشہ اپنے ایمان، اپنے اعمال اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کی فکر میں لگے رہنا چاہیے۔ بزرگی اور عظمت کا اصل معیار یہی خوفِ خدا اور عاجزی ہے جو حضرت عمرؓ کی پوری زندگی میں جھلکتی رہی۔

سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے میں مستند احادیث
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میرے رب نے تین باتوں میں میری موافقت فرمائی: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش ہم مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں تو اس پر آیت نازل ہوئی۔ نیز پردے کے معاملے میں بھی میری رائے کے مطابق احکامات نازل ہوئے۔”
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، حدیث: 402)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ”
ترجمہ: "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔”
(جامع ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، حدیث: 3686)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اے ابنِ خطاب! تم جس راستے پر بھی چلتے ہو، شیطان اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر بھاگ جاتا ہے۔”
(صحیح بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبي ﷺ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، حدیث: 3683)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم سے پہلی امتوں میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن پر الہام کیا جاتا تھا (محدّث ہوتے تھے)۔ اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہوا تو وہ عمر ہوں گے۔”
(صحیح بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبي ﷺ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، حدیث: 3689)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے۔”
(صحیح بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبي ﷺ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، حدیث: 3680)۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے