ایک اور بیٹی کا قتل. تویشا شرما کیس

ایک اور بیٹی کا قتل. تویشا شرما کیس

ایک اور بیٹی کا قتل.
تویشا شرما کیس

 

ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی

 

تویشا شرما، 33 سالہ سابق ماڈل اور مس پونے 2012 کی فاتح، 12 مئی 2026 کی رات بھوپال کے کٹارا ہلز علاقے میں اپنے سسرال میں مردہ پائی گئیں۔ ان کی شادی دسمبر 2025 میں بھوپال کے وکیل سمرتھ سنگھ سے ہوئی تھی۔ شادی کو صرف پانچ ماہ گزرے تھے۔ (Republic World)
تویشا نوئیڈا کی رہنے والی تھیں اور مارکیٹنگ و کمیونیکیشن کے شعبے میں پیشہ ور تھیں۔ انہوں نے سمرتھ سے ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ملاقات کی تھی۔ واقعے کی جگہ سے کوئی خودکشی کا نوٹ نہیں ملا۔ (India TV News)

اہم حقائق و اعداد و شمار
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پھانسی بتائی گئی، مگر رپورٹ میں جسم پر متعدد بلنٹ فورس یعنی ضربوں کے نشانات بھی درج کیے گئے۔ خاندان نے مقامی تفتیش پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ایمس دہلی میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا ہے۔ (Social News XYZ)

فرانزک ڈاکٹر اس لیے گلے کے نشانات کا تجزیہ نہ کر سکے کیونکہ جس بیلٹ سے پھانسی دی گئی وہ پوسٹ مارٹم کے وقت غائب تھی، جو ثبوت مٹانے کی کوشش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (Republic World)

تویشا اس وقت دو ماہ کی حاملہ تھیں۔ الزام ہے کہ شوہر نے بچے کی نسب پر سوال اٹھاتے ہوئے ازدواجی تعلق پر شک ظاہر کیا، جس کے بعد حمل ضائع کروایا گیا۔ (Republic World)

رات دس بجے تویشا کی اپنے خاندان سے آخری بات ہوئی۔ انہوں نے پیغام بھیجا تھا کہ "میری زندگی جہنم بن گئی ہے، یہاں سب ظالم ہیں۔” (India TV News) یہ کال کتنی بھیانک ہوگی اس کا اندزہ ہر کوئی نہیں کر سکتا ۔
شادی کو پانچ مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ تویشا شرما اپنی ماں سے روتے ہوئے یہی کہتی رہتی تھیں کہ وہ بھوپال میں اپنے شوہر کا گھر چھوڑنا چاہتی ہیں اور نوئیڈا میں اپنے میکے واپس آنا چاہتی ہیں۔ ٹکٹیں بک ہو گئی تھیں، مگر وہ کبھی واپس نہ آ سکیں۔
تویشا کے والد نووِدھی شرما نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، "غلط ہو گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بیٹی کو مسلسل تکلیفیں دی جا رہی تھیں۔
تویشا شرما کی ملاقات سمرتھ سنگھ سے 2024 میں ایک ڈیٹنگ ایپ پر ہوئی تھی۔ ایک سال بعد دسمبر 2025 میں دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ اسی مہینے کی 12 تاریخ کو تویشا بھوپال میں اپنے سسرال کے گھر میں مردہ پائی گئیں۔ وہ 15 مئی کو گھر واپس آنے والی تھیں۔

قانونی صورتحال کیا ہے

شوہر سمرتھ سنگھ اور ساس گیریبالا سنگھ کے خلاف جہیز موت، جہیز ہراسانی اور بھارتیہ نیائے سنہتا کے متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ بھوپال پولیس نے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے جس کی قیادت اے سی پی راجنیش کشیپ کر رہے ہیں۔ (Social News XYZ)
شوہر کی پیشگی ضمانت مقامی عدالت نے مسترد کر دی ہے جبکہ ایس آئی ٹی تفتیش جاری ہے۔ (thestatesman)

بااثر پس منظر اور سازباز کے الزامات
ملزمہ( ساس ) گیریبالا سنگھ ایک ریٹائرڈ جج ہیں جو اس وقت کنزیومر کورٹ میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بیچاری تویشا کے غم زدہ والد نووِدھی شرما کا کہنا ہے کہ ہم ایک بہت بڑے نظام سے لڑ رہے ہیں۔ ایف آئی آر درج کروانے میں تین سے چار دن کی تاخیر کی گئی۔ (Republic World)

خاندان نے مدھیہ پردیش کے گورنر سے مداخلت کی استدعا کی ہے اور آئین کی دفعات 14 اور 21 کا حوالہ دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ (Social News XYZ)
جنتر منتر دہلی میں شمع روشن کرنے کا احتجاجی مارچ بھی منعقد کیا گیا اور خاندان نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ (Republic World)۔

ہندوستانی معاشرے میں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کو نئی بات نہیں ہے ہمارے معاشرے میں بیٹی کے پیدا ہوتے ہی ماں باپ کے لیے مشکلات اور مسائل پیدا ہو جاتے ہے اکثر جگہوں پر بیٹی پیدا ہونے پر بیٹی کی ماں کو کوسا جاتا ہے سماج میں بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور گھروں میں بیٹی کی پیدائش کو نحوست سمجھا جاتا ہے غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کروڑوں بیٹیوں کو مادر رحم میں پیدا ہونے سے قبل ہی قتل کر دیا گیا ہے ۔ اتنا زیادہ کے شمالی بھارت میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی آبادی میں کمی واقع ہو گئی ہے۔
بیٹی کی پیدائش سے ہی ماں باپ کو بیٹی کے لیے جہیز کی تیاری کرنی پڑتی ہے لوگ ہر چھ مہینے سال میں بیٹی کی لیے کچھ نہ کچھ خرید کر رکھتے ہیں تاکہ جہیز میں زندگی بھر کی کمائی بیٹی کے ہونے والے شوہر کو دی جاسکے اور اُنکی بیٹی کو سسرال میں کوئی ستائے نہیں اس کے ساتھ جہیز کم لانے پر ذلت آمیز سلوک نہ ہو اور بعض اوقات میں واقع جان بخشی ہو۔
اسکے علاوہ بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کرنا پڑتا ہے سینکڑوں باراتیوں کو یا بن بلائے مہمانوں کو کھانا کھلانا پڑتا ہے سسرالی رِشتہ داروں کو مہنگے تحفے تحائف دینے پڑتے ہیں جو جہیز کے علاوہ ہیں۔

مگر اسکے بعد بھی بنت حوا کی آزمائش ختم نہیں ہوتی اکثر اوقات جہیز کے تانے سالوں سال چلتے ہیں بہو کو زندگی بھر ایک اذیت ناک ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں کروڑوں خواتین ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔
ٹویشا شرما کا کیس دل دہلا دینے والا کیس ہے کس طرح ہمارا معاشرے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے اتنی زیادہ تعلیم عام ہونے کے باوجود جہیز اور بارات کا سلسلہ جاری ہے اس میں مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی معاشرے کی یہ برائی مسلم معاشرے میں بھی پوری طرح سرایت کر چکی ہے ہمارے ہاں بھی شادی میں لڑکی کے باپ کو جہیز کی موٹی رقم کار موٹر سائیکل اور دوسری چیزوں کا انتظام کرنا پڑتا ہے بن بلائے مہمانوں کو جنہیں باراتی کہا جاتا ہے کھانا کھلانا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں نکاح آسان نہیں مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے