آئینے سے ناراض چہرے
پرکاش راج، میڈیا کی ساکھ اور احتساب کے سوالات
از: عبدالحلیم منصور
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
کسی بھی جمہوری معاشرے میں میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری اقتدار کو جوابدہ بنانا، عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور سچائی کو منظرِ عام پر لانا ہے۔ لیکن جب یہی ادارہ طاقت کے مراکز کے قریب چلا جائے، کارپوریٹ مفادات کا محافظ بن جائے یا ریٹنگ اور سنسنی کی دوڑ میں حقائق کو پسِ پشت ڈال دے تو سوال صرف صحافت پر نہیں اٹھتا بلکہ پوری جمہوری ساخت پر اٹھتا ہے۔
گزشتہ دنوں بنگلورو پریس کلب میں اداکار، ہدایت کار اور سماجی کارکن پرکاش راج کی پریس کانفرنس نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ بظاہر یہ پریس کانفرنس دھرمستھلا معاملے میں ان کے نام کو بلا جواز گھسیٹے جانے کے حوالے سے وضاحت پیش کرنے کے لیے بلائی گئی تھی، لیکن چند ہی لمحوں میں گفتگو کا رخ موجودہ میڈیا کے کردار، اس کی ساکھ اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں کی طرف مڑ گیا۔
اصل تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب پرکاش راج نے اپنی پریس کانفرنس کے اعلان میں ’’بکے ہوئے میڈیا‘‘ کے لیے خصوصی دعوت کا جملہ استعمال کیا۔ اس ایک فقرے نے بعض صحافیوں اور میڈیا اداروں کو اس قدر برہم کر دیا کہ پریس کانفرنس کا ایک بڑا حصہ اسی بحث کی نذر ہو گیا کہ آیا انہیں یہ الفاظ استعمال کرنے چاہییں تھے یا نہیں۔ تاہم اس سارے ہنگامے میں ایک بنیادی سوال پس منظر میں چلا گیا کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جنہوں نے ملک کے ایک معروف فنکار کو میڈیا کے بارے میں اتنا سخت تبصرہ کرنے پر مجبور کیا؟
پرکاش راج کا استدلال سادہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی میڈیا ادارہ یا صحافی خود کو بکا ہوا نہیں سمجھتا تو اسے اس جملے پر اعتراض کی ضرورت ہی کیا ہے۔ یہ دلیل اپنے اندر ایک گہرا سماجی اور نفسیاتی پہلو رکھتی ہے۔ کسی بھی عمومی تنقید پر سب سے زیادہ ردِعمل اکثر وہی حلقے دیتے ہیں جو خود کو اس تنقید کا مخاطب محسوس کرتے ہیں۔
اس معاملے کو صرف جذباتی یا سیاسی عینک سے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا کے کردار پر سوالات صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں اٹھ رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر جمہوری ممالک میں بھی یہ بحث مسلسل جاری ہے کہ کیا میڈیا عوامی مفاد کی نمائندگی کر رہا ہے یا سیاسی اور معاشی مفادات کا ترجمان بنتا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں اس بحث کی جڑیں نئی نہیں ہیں۔ آزادی کی تحریک کے دوران اخبارات سیاسی شعور، مزاحمت اور سماجی بیداری کا ذریعہ تھے۔ بال گنگا دھر تلک، مولانا ابوالکلام آزاد، گنیش شنکر ودیارتھی اور متعدد دیگر صحافیوں نے صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ بعد ازاں ایمرجنسی کے دور میں میڈیا کی آزادی ایک بڑے امتحان سے گزری۔ اسی پس منظر میں رام ناتھ گوئنکا، کلدیپ نیئر اور دیگر صحافیوں کی مزاحمت صحافتی تاریخ کا اہم باب سمجھی جاتی ہے۔
بعد کے عشروں میں کارپوریٹ سرمایہ کاری، سیاسی وابستگیوں اور اشتہارات پر بڑھتے ہوئے انحصار نے صحافت کی آزادی کو ایک نئے امتحان سے دوچار کیا۔ معروف صحافیوں اور میڈیا محققین نے متعدد مرتبہ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں خبر اور پروپیگنڈے کے درمیان لکیر مسلسل دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ’’گودی میڈیا‘‘ کی اصطلاح سیاسی لغت کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ اصطلاح ان میڈیا اداروں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن پر الزام ہے کہ وہ حکومت سے سخت سوالات پوچھنے کے بجائے اس کے بیانیے کو آگے بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔ اگرچہ اس اصطلاح سے سب کا اتفاق ضروری نہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار بھی مشکل ہے کہ ملک میں میڈیا کی غیر جانبداری پر عوامی اعتماد پہلے کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر میڈیا آزادی کی درجہ بندیوں میں ہندوستان کی پوزیشن اور اس پر ہونے والی بحث بھی اس موضوع کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ مختلف عالمی ادارے مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ صحافیوں پر دباؤ، میڈیا کی ملکیت کا ارتکاز، سیاسی مداخلت اور خود سنسرشپ جیسے مسائل جمہوری مکالمے کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو وہ صحافتی رویہ ہے جس کے تحت کسی بھی الزام، افواہ یا غیر مصدقہ دعوے کو بغیر مناسب جانچ پڑتال کے نشر کر دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ نے خبر کی تصدیق کے اصول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب اکثر اوقات خبر کی اشاعت پہلے ہوتی ہے اور تحقیق بعد میں۔ کسی شخص کی ساکھ متاثر ہو جائے تو اس کا ازالہ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، خواہ بعد میں حقیقت کچھ بھی سامنے آئے۔
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
دھرمستھلا معاملے میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کسی شخص کا نام سامنے آنے کے بعد میڈیا نے حقائق کی تصدیق کے لیے کیا اقدامات کیے؟ کیا خبر نشر کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقوں کا موقف لیا گیا؟ کیا صحافتی احتیاط کے تقاضے پورے کیے گئے؟ اور اگر نہیں کیے گئے تو پھر جوابدہی کس کی بنتی ہے؟
اس بحث کا ایک پہلو خود صحافیوں کی پیشہ ورانہ مجبوریوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے بیشتر صحافی میڈیا اداروں کے مالکان نہیں بلکہ ملازم ہیں۔ ادارتی پالیسیوں، مالکان کے مفادات اور روزگار کے دباؤ کے درمیان بہت سے صحافی ایسے بھی ہیں جو ذاتی طور پر غیر جانبدارانہ صحافت کے خواہاں ہوتے ہیں مگر ادارہ جاتی حدود ان کے راستے میں حائل ہو جاتی ہیں۔ اس لیے تمام صحافیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پورا میڈیا یکساں طور پر جانبدار یا غیر ذمہ دار ہو چکا ہے۔ ملک میں آج بھی ہزاروں صحافی انتہائی مشکل حالات میں تحقیقاتی صحافت کر رہے ہیں۔ بدعنوانی، ماحولیاتی تباہی، سماجی ناانصافی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتظامی ناکامیوں کو بے نقاب کرنے والے صحافی اب بھی موجود ہیں۔ متعدد علاقائی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز محدود وسائل کے باوجود معیاری صحافت پیش کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ’’تمام میڈیا بکا ہوا ہے‘‘ جیسا عمومی جملہ بھی حقیقت کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ میڈیا پر اٹھنے والے تمام سوالات سیاسی محرکات کا نتیجہ ہیں۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان موجود ہے۔
ایک اور اہم تبدیلی نئی نسل کے رویوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اب روایتی ٹی وی چینلوں اور مرکزی دھارے کے میڈیا کے بجائے متبادل پلیٹ فارمز، آزاد صحافیوں اور ڈیجیٹل ذرائع سے معلومات حاصل کر رہا ہے۔ اس رجحان نے ایک طرف معلومات تک رسائی کو وسیع کیا ہے تو دوسری طرف روایتی میڈیا کے لیے اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ اگر میڈیا اپنی ساکھ بحال نہیں کرتا تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
پرکاش راج کے بیان کا اصل وزن اس بات میں ہے کہ انہوں نے میڈیا کے ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کیا جس کا احساس خود میڈیا کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے، نوجوان نسل روایتی میڈیا سے دور جا رہی ہے اور لوگ متبادل ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی محض ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کا بھی نتیجہ ہے۔
یہاں ایک اور سوال بھی اہم ہے۔ اگر بعض صحافی واقعی ادارتی دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری صرف صحافیوں پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ میڈیا اداروں کے مالکان، کارپوریٹ ڈھانچے، اشتہاری نظام، سیاسی اثرات اور حکومتی پالیسیاں بھی اس صورتحال میں برابر کی شریک ہیں۔ صحافت کے بحران کو صرف صحافیوں کی ناکامی قرار دینا مسئلے کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔
دوسری طرف عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹی خبریں، ایڈیٹ شدہ ویڈیوز اور گمراہ کن بیانیے پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔ بہت سے لوگ صرف اپنی پسند کے مطابق خبریں قبول کرتے ہیں اور مخالف معلومات کو فوراً مسترد کر دیتے ہیں۔ اس ماحول میں صحافت کے لیے غیر جانبدار رہنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
پرکاش راج کی پریس کانفرنس کا سب سے اہم پہلو شاید یہی تھا کہ اس نے میڈیا، سیاست اور عوام کے درمیان موجود اعتماد کے بحران کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس سے معافی مانگے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا دوبارہ وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جہاں عوام اسے اپنے حقِ معلومات کا محافظ سمجھتے تھے۔
صحافت کی تاریخ بتاتی ہے کہ میڈیا کی اصل طاقت حکومتوں کے قریب ہونے میں نہیں بلکہ عوام کے قریب ہونے میں ہے۔ جو میڈیا اقتدار کے ایوانوں میں اپنی اہمیت تلاش کرتا ہے، وہ وقتی طور پر طاقتور ضرور دکھائی دے سکتا ہے، مگر عوامی اعتماد کھو دینے کے بعد اس کی حیثیت محض ایک شور مچانے والے آلے کی رہ جاتی ہے۔
بنگلورو پریس کلب میں ہونے والی یہ بحث دراصل پرکاش راج یا چند ناراض صحافیوں تک محدود نہیں۔ یہ ہندوستانی صحافت کے موجودہ دور کا ایک علامتی منظرنامہ ہے، جہاں ایک طرف میڈیا پر جانبداری کے الزامات ہیں اور دوسری طرف صحافی اپنے پیشہ ورانہ وقار اور آزادی کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے میں اصل ضرورت الزام اور جوابی الزام سے آگے بڑھ کر اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ہے کہ کیا میڈیا عوام کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے؟ کیونکہ جمہوریت میں میڈیا کی سب سے بڑی طاقت نہ حکومت کی قربت ہوتی ہے اور نہ سرمایہ کی فراوانی، بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے؛ اور جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو سب سے بلند آواز بھی اپنی تاثیر کھو دیتی ہے۔
آج ضرورت میڈیا کی مکمل مذمت یا اندھی حمایت کی نہیں بلکہ سنجیدہ خود احتسابی کی ہے۔ صحافت کو دوبارہ خبر، تحقیق، تصدیق اور عوامی مفاد کی طرف لوٹنا ہوگا۔ میڈیا اداروں کو اپنی ادارتی خودمختاری مضبوط بنانی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو تنقید برداشت کرنے کی روایت اپنانی ہوگی اور عوام کو بھی معلومات کے ذرائع کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پرکاش راج کا بیان وقتی طور پر ایک تنازعہ بن سکتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں موجود سوالات وقتی نہیں ہیں۔ یہ سوالات صحافت کے مستقبل، جمہوریت کی صحت اور عوامی اعتماد کی بحالی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ان سوالات کا سنجیدگی سے جواب تلاش نہ کیا گیا تو مسئلہ صرف میڈیا کا نہیں رہے گا، پورے جمہوری نظام کا بن جائے گا۔
اگر میڈیا اپنے آئینی اور اخلاقی کردار کی طرف واپس نہیں لوٹتا تو آنے والے برسوں میں عوام کا اعتماد مزید کم ہوگا۔ پھر سوال یہ نہیں رہے گا کہ پرکاش راج نے میڈیا کو ’’بکا ہوا‘‘ کیوں کہا، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ میڈیا نے خود کو اس مقام تک پہنچنے کیوں دیا جہاں ایسے الزامات عوام کے ایک بڑے طبقے کو قابلِ یقین محسوس ہونے لگیں۔
haleemmansoor@gmail.com