از: مفتی محمد سلمان قاسمی
استاذ ادارہ أشرف العلوم حیدرآباد
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو آزمائش کی جگہ بنایا ہے، جہاں زندگی اور موت دونوں انسان کے لیے امتحان ہیں۔ اہلِ ایمان کے نزدیک موت اگرچہ فطری طور پر جدائی اور رنج کا سبب بنتی ہے، لیکن جب یہی موت اللہ تعالیٰ کے راستے میں، دینِ اسلام کی سربلندی اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے واقع ہو تو وہ "شہادت” کہلاتی ہے، جو اسلام میں سب سے بلند درجات میں شمار ہوتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اہل تشیع و روافض کے ساتھ مخلوط کلچر میں زندگی بسر کرنے کی وجہ سے معاشرے میں بعض شہادت کے واقعات بالخصوص سیدنا و مولانا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی اس عظیم الشان شہادت کو صرف ماتم، آہ و بکا اور غم و اندوہ کے زاویے سے دیکھا جانے لگا ہے، حالانکہ قرآن و سنت کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ شہادت درحقیقت اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام، ابدی سعادت اور جنت کی دائمی زندگی کا پروانہ ہے۔ شہادت اگرچہ ظاہرا اہلِ خانہ و اہل دنیا سے جدائی کا سبب بنتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ غم کا نہیں بلکہ فخر، سعادت اور مبارک باد کا مقام ہے؛یہ ایسا مبارک سودا ہے جس میں مؤمن اپنی جان اور مال پیش کرتا ہے اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا مستحق بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے والے لوگ اپنے وطن، اپنے گھربار، اپنے اہل و عیال اور اپنی آسائشوں کو چھوڑ کر صرف اس اجر و ثواب کے حصول کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
شہادت کا مقام قرآنِ کریم کی روشنی میں:
قرآن مجید نے شہداء کو مردہ قرار دینے سے منع فرمایا ہے:
﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ﴾
(البقرة: 154)
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡۙ اَ لَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَۘ ( آل عمران)
ترجمہ: ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے وہ مردہ ہیں، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں، اور اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہے اس پر خوش ہیں،اور خوش وقت ہوتے ہیں ان کی طرف سے جو ابھی تک نہیں پہنچتے ان کے پاس ان کے پیچھے سے اس واسطے کہ نہ ڈر ہے ان پر اور نہ ان کو غم۔
مندجہ بالا آیات میں شہداء کرام کے درج ذیل فضائل بیان کیے گئے ہیں: ۱:-ان کی ممتاز دائمی حیات ہے۔ ۲:- ان کو من جانب اللہ رزق دیا جاتاہے۔ ۳:- وہ ہمیشہ خوش وخرم رہیںگے۔ ۴:- وہ اپنے جن متعلقین کو دنیا میں چھوڑ گئے تھے، ان کے متعلق بھی ان کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں رہ کر نیک عمل اور جہاد میں مصروف رہیں تو ان کو بھی یہاں آکر یہ ہی نعمتیں اور درجاتِ عالیہ ملیںگے۔
اور سدیؒ نے بیان فرمایاہے :’’ شہید کا جو کوئی عزیز، دوست مرنے والا ہوتاہے شہید کو پہلے سے اس کی اطلاع کردی جاتی ہے کہ فلاں شخص اب تمہارے پاس آرہاہے، وہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے، جیسے دنیا میں کسی دور افتادہ دوست سے بعد مدت ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔‘‘ (معارف القرآن:ج۲، ص:۲۳۷)
جب شہید خود خوشی اور نعمت میں ہو تو اس کی شہادت کو محض مصیبت اور غم کا عنوان بنانا قرآن کے مزاج کے خلاف ہے۔
احادیثِ نبویہ میں شہادت کی فضیلت:
رسول اللہ ﷺ نے شہید کے عظیم مقام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ خصوصیات ہیں: اس کی پہلی ہی خون کی بوند پر مغفرت کردی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے، عذابِ قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے، بڑی گھبراہٹ سے امن دیا جاتا ہے، عزت کا تاج پہنایا جاتا ہے اور اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔(سنن الترمذي: 1663)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
ترجمہ: جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص دنیا میں واپس آنا پسند نہیں کرے گا، سوائے شہید کے؛ وہ تمنا کرے گا کہ دنیا میں واپس جائے اور دس مرتبہ شہید کیا جائے، اس عزت و کرامت کی وجہ سے جو اس نے دیکھی۔(صحیح البخاری: 2817، صحیح مسلم: 1877)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ شہید اپنی شہادت پر افسوس نہیں کرتا بلکہ بار بار شہید ہونے کی آرزو کرتا ہے۔
ایک اور حدیث پر غور کریں کہ امام الانبیا سرور کائنات رسول اللہ ﷺ خود کس انداز سے شہادت فی سبیل اللہ کے مقام سے امت کو آگاہ فرمارہے ہیں،آپﷺ کا فرمان ہے:
ترجمہ: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔(صحیح البخاری: 2797، صحیح مسلم: 1876)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔‘‘ پوچھا گیا: اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: ’’اللہ کی راہ میں جہاد۔‘‘ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد؟ فرمایا: ’’حجِ مبرور۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الإیمان)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جو اللہ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے، اللہ کے راستے میں حقیقتاً کون زخمی ہوا ہے؟ اس کی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتاہے، جب قیامت کا دن ہوگا، وہ اپنے رب کے پاس اس حال میں حاضر ہوگا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہوگا، اس خون کا رنگ تو خون جیسا ہی ہوگا، لیکن اس میں خوشبو مشک کی ہوگی۔ (ترمذی:ج۱،ص:۲۹۵)
حضرت سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: آج رات میں نے دو آدمیوں کو خواب میں دیکھا جو مجھے لے کر درخت پر چڑھے اور مجھے ایسے محل میں داخل کیا کہ جو بہت ہی حسین تھا اور بہت ہی عمدہ تھا، اس جیسا محل میں نے کبھی نہیں دیکھا اور مجھے بتایاگیا کہ یہ شہداء کرام کا محل ہے۔ (بخاری: ج۱،ص:۳۹۱)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے درجے پر پہنچاتا ہے، اگرچہ وہ اپنے بستر پر مرے۔ (مسلم:ج۲، ص:۱۴۱)
غرض جس چیز کی خواہش خود سید الانبیاء ﷺ کریں، وہ اہلِ ایمان کے لیے باعثِ فخر ہونی چاہیے نہ کہ باعثِ حسرت،نیز حضورﷺ کے اس ارشاد میں صاف طور پر ترغیب ہے کہ ہر مومن دل میں شہادت کی آرزو رکھے اور اس کا دل اس جذبہ سے سرشار ہو کہ جب بھی مجھے موقع ملے میں اپنی اس متاح زیست کو جان آفریں کے حوالے کردوں گا،حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضور پاک ﷺ کا عکس کامل تھے،ان حضرات کی زندگی نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ سے عبارت بلکہ اس کی شرح تھی،ان کے اقوال و اطوار،افکار و خیالات میں تعلمیات نبویہ کے اثرات نمایاں ہوتے تھے،اسی نبوی تعلیم کا اثر ہے کہ حضرات صحابہ شہادت کے لیے بیتاب و بے چین رہا کرتے تھے۔
چنانچہ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کو دیکھیں کہ غزوۂ أحد میں مسلمان سنگین صورتحال سے گزر رہے تھے اور ادھر حضور کی وفات کی خبر نے ان کو اور بھی زیادہ بے دم کردیا تھا تو حضرت انس دشمنوں کے لشکر میں گھستے ہوئے کہتے ہیں
"إني لأجد ريح الجنة دون أحد”
"میں اُحد کے اس پہاڑ کے پیچھے سے جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔”
(صحیح البخاری)
پھر بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے اس تاریخی واقعہ کو یاد کریں محرم 14ھ میں جنگ قادسیہ کے خونریز معرکہ میں یہ اپنے چار جوان بیٹوں کے ساتھ تشریف لے گئیں جب میدان جنگ میں لڑائی کی صفیں لگ گئیں اور بہادروں نے ہتھیار سنبھال لیے تو انھوں نے اپنے بیٹوں کے سامنے یہ تقریر کی کہ۔ میرے پیارے بیٹو! تم اپنے ملک کو دوبھر نہ تھے نہ تم پرکوئی قحط پڑا تھا باوجود اس کے تم اپنی بوڑھی ماں کو یہاں لائے اور فارس کے آگے ڈال دیا۔ خدا کی قسم! جس طرح تم ایک ماں کی اولاد ہو اسی طرح ایک باپ کی بھی ہو میں نے کبھی تمھارے باپ سے بد دیانتی نہیں کی نہ تمھارے ماموں کو رسوا کیا لو جاؤ آخر تک لڑو۔ بیٹوں نے ماں کی تقریر سن کر جوش میں بھرے ہوئے ایک ساتھ دشمنوں پر حملہ کر دیا جب نگاہ سے اوجھل ہو گئے تو حضرت خنساء رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا کہ الٰہی عزوجل! تو میرے بچوں کا حافظ و ناصر ہے تو ان کی مدد فرما۔ چاروں بھائیوں نے انتہائی دلیری اور جانبازی کے ساتھ جنگ کی یہاں تک کہ چاروں اس لڑائی میں شہید ہو گئے۔
تو حضرت خنساء نے فرمایا:
"الحمد لله الذي شرفني بقتلهم.”
"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ان کی شہادت کے ذریعے عزت بخشی۔”
یہ ایمان کی وہ کیفیت ہے جو شہادت کو سعادت سمجھتی ہے، صرف مصیبت نہیں۔
خلیفۂ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دعا
آپ دعا کیا کرتے تھے:
"اللهم ارزقني شهادة في سبيلك واجعل موتي في بلد رسولك.”(صحیح البخاری)
"اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر فرما۔”
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی،اور فجر کے وقت شہر رسول میں آپ کو ایک دشمن خدا نے خنجر گھونپ دیا جس سے ان کی شہادت واقع ہوگئی،حضرت عمرؓ کو جنت کی بشارت اور جنت میں آپؐ معیت کا پروانہ زبان رسالت سے حاصل ہوچکا تھا، اس کے باوجود تمنائے شہادت مقام شہادت کی اہمیت کے پیش نظر ہے۔
اقوالِ سلف:
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید سے زیادہ معزز کوئی نہیں۔”
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"شہادت اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے، اسی لیے انبیاء، صدیقین اور صالحین اس کے طالب رہے ہیں۔”
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"شہداء زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس لیے ان کی موت درحقیقت اکمل زندگی کا آغاز ہے۔”
کیا شہادت پر غم کرنا جائز ہے؟
اسلام فطری جذبات کا انکار نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر فرمایا:
«إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَإِنَّ الْقَلْبَ يَحْزَنُ»
(صحیح البخاری: 1303)
"آنکھ اشکبار ہوتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے۔”
لہٰذا کسی محبوب کی جدائی پر دل کا رنجیدہ ہونا فطری امر ہے، لیکن نوحہ کرنا،سینہ کوبی کرنا،تقدیر پر اعتراض کرنا،شہادت کو محض المیہ قرار دینا یہ اللہ کے فیصلے پر ناراضی کے مترادف ہے بلکہ ایک انعام عظیم کی ناقدری
جس سے بچنا بہر صورت ضروری ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ»(صحیح البخاری: 1294)
"وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔”
شہادت: غم نہیں، فخر اور مبارک باد کا مقام ہے،جب قرآن شہداء کو زندہ قرار دے،
جب اللہ ان کے رزق اور فرحت کی خبر دے،
جب رسول اللہ ﷺ خود شہادت کی تمنا کریں،جب صحابۂ کرام اسے سعادت سمجھیں،
اور جب شہید خود بار بار شہید ہونے کی آرزو کرے،تو پھر شہادت کو صرف غم و ماتم کا عنوان بنانا اسلامی تصورِ شہادت سے ہم آہنگ نہیں۔
ہر سال 10 محرم الحرام کو ملک بھر میں ماتم و نوحہ،جلسے جلوس، ناچ گانا اور تعزیت و الم کا ماحول بن جاتا ہے اور ان تمام خرافات کا محرک نواسۂ رسول جگر گوشہ بتول حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت عظمی ہے؛ یقینا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ علیہ السلام کے اہل بیت کے ساتھ ظالموں نے جو عہد شکنی کی اور جس طرح کے مظالم ڈھائے اس کو یاد کر کے دل مغموم ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ یہ اہل بیت سے محبت کا تقاضا ہے؛ لیکن یہ پہلو بھی ملحوظ رہے کہ وہ سارا قافلہ راہ خدا میں شہید ہو کر خدا کی رضا پاکر جنت کے اعلی درجات پر فائز ہو چکا ہے جو کہ انسانی زندگی کا بنیادی ہدف اور مقصد تخلیق ہے، اس قابل فخر واقعہ کی وجہ سے 10 محرم الحرام جیسے عظیم و بابرکت دن کو اور اسی کے سبب پورے محرم کے مہینے کو منحوس سمجھنا ہوا پرستی اور شریعت کی صریح خلاف ورزی ہے۔
الغرض شہادت فی سبیل اللہ اسلام کی نظر میں موت نہیں بلکہ حیاتِ جاودانی کا آغاز ہے۔ یہ خسارہ نہیں بلکہ کامیابی ہے، محرومی نہیں بلکہ ابدی نعمتوں کا دروازہ ہے۔ اگرچہ شہید کی جدائی پر فطری غم محسوس کرنا جائز ہے، لیکن شہادت کو محض مصیبت، ماتم اور آہ و زاری کا عنوان بنانا قرآن و سنت کے مزاج کے خلاف ہے۔ ایک مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ شہداء کی قربانیوں پر فخر کرے، ان کے لیے دعا کرے اور اللہ تعالیٰ سے خود بھی حسنِ خاتمہ اور شہادت جیسی عظیم نعمت کا سوال کرتا رہے۔
اللهم ارزقنا الشهادة في سبيلك، واجعل خير أعمالنا خواتيمها، وخير أيامنا يوم نلقاك. آمين.