سرخ مہر

سرخ مہر

ازقلم:ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی ، مہاراشٹر
موبائل : 8668323359

بھاری اور کھردرے لکڑی کے تختوں پر جمی چالیس سال پرانی کالک پر جب سرکاری محکمے کی سرخ مہر لگی، تو سردار کلدیپ سنگھ کی آنکھوں میں ڈھابے کے چولہے کا دھواں پہلی بار پانی بن کر اتر آیا۔
‘گرو کرپا ڈھابہ’ ہائی وے کے اس موڑ پر واقع تھا جہاں سامان سے لدے ٹرکوں کی طویل قطاریں رات کے اندھیرے کو چیرتی ہوئی گزرتیں اور دور دراز کے مسافروں کو تندور کی تپش اپنی طرف کھینچ لیتی۔ نیم اندھیرے میں لپٹے اس موڑ پر پیلے بلب کی مدہم روشنی اور پیتل کے بڑے پتیلوں سے اٹھتا دھواں دور سے ہی تھکے ہارے ڈرائیوروں کا استقبال کرتا۔ یہاں نہ تو کوئی جدید روشنیاں تھیں اور نہ مینو کارڈ؛ بس مٹی کے روایتی تندور سے نکلتی گرما گرم کڑک روٹیاں، مکھن کی تہہ میں ڈوبی تڑکے والی دال کی مہکتی خوشبو اور کلدیپ سنگھ کی ایمانداری تھی۔ باپ دادا کے زمانے سے بس ایک ہی اصول چلا آ رہا تھا: "رب دی دتی روٹی اے، بندے نوں زہر نہیں کھوا سکتے۔”
"پاپا جی! ہائی وے پر فوڈ اتھارٹی کی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ سائیں کینٹین والا تو اپنی دکان کھلی چھوڑ کر ہی بھاگ گیا ہے!” کلدیپ کے بیس سالہ بیٹے گرمیت نے تندور کے پاس آ کر ہانپتے ہوئے کہا۔ ماتھے سے ٹپکتے پسینے اور کانپتی آواز کے ساتھ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
کلدیپ سنگھ نے کڑاہی میں ابلتی دال میں چمچہ چلاتے ہوئے بڑے سکون سے کہا، "ڈرنے کی کیا لوڑ ہے پتّر؟ ہم دیسی گھی خود نکالتے ہیں، مصالحے شہر کی منڈی سے ثابت لا کر خود پیستے ہیں۔ جب نیت صاف ہو تو بندہ ڈرتا نہیں، ہم نے کبھی ملاوٹ نہیں کی، سرکار کو اپنا کام کرنے دو۔”
لیکن یہ کوئی عام یا روٹین کی چیکنگ نہیں تھی۔ ریاست گیر سطح پر ملاوٹ اور عدمِ صفائی کے خلاف ایک زبردست مہم چل رہی تھی، جس کی لپیٹ میں شہر کے بڑے نامی گرامی ہوٹلوں سے لے کر ہائی وے کے یہ چھوٹے روایتی ڈھابے تک آ رہے تھے۔ روز صبح اخبارات دکانیں سیل ہونے کی خبروں سے بھرے ہوتے اور نیلی بتی والی سرکاری گاڑیاں ہر چوک، ہر موڑ پر پوزیشن لیے کھڑی نظر آتیں۔
کچھ ہی دیر میں ایک چمکدار سفید گاڑی ڈھابے کے سامنے آ کر رکی۔ قرینے سے استری کی ہوئی وردی اور آنکھوں پر کالا چشمہ چڑھائے ایک سخت گیر فوڈ انسپکٹر اپنے عملے اور دو پولیس والوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ ڈھابے پر بیٹھے ڈرائیور نوالے ہاتھ میں لیے سہم گئے۔
"ڈھابے کی رجسٹریشن، ملازمین کے میڈیکل سرٹیفکیٹ اور پانی کی ٹیسٹنگ رپورٹ دکھاؤ!” انسپکٹر نے میز پر ہاتھ مار کر کڑک دار آواز میں کہا۔
کلدیپ سنگھ نے مؤدبانہ انداز میں ہاتھ جوڑے، "سرکار، آؤ جی بیٹھو۔ رجسٹریشن بالکل پکی ہے، یہ دیکھیے بابا جی کے وقت کا کاغذ۔” اس نے فریم میں جڑا ہوا پرانا لائسنس سامنے کر دیا۔
انسپکٹر نے اسے سرسری نظر سے دیکھا اور کچن کی طرف بڑھ گیا۔ "یہ بابا جی کا زمانہ نہیں ہے سنگھ صاحب! مجھے نیا FSSAI لائسنس، پیسٹ کنٹرول کا ثبوت اور کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے تیل کا ریکارڈ چاہیے۔” پھر اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی، "اور یہ چولہا کھلا کیوں ہے؟ دیواروں پر ٹائلیں کیوں نہیں لگی ہیں؟ تندور کے پاس کاؤنٹر لکڑی کا کیوں ہے؟ نئے قانون کے مطابق سب کچھ سٹینلیس سٹیل اور ڈیجیٹل ہونا چاہیے۔”
"حضور! یہ پنڈ کا ڈھابہ ہے،” کلدیپ نے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔ "لکڑی کے تختے اور مٹی کا تندور ہی تو اس دال کا سواد بناتے ہیں۔ آپ دال چکھ کر دیکھیے، اگر اس میں رتی بھر بھی ملاوٹ یا گندگی مل جائے، تو جو چور کی سزا وہ میری۔”
ایک جونیئر اہلکار نے دال کی دیگ کا ڈھکن اٹھایا تو بھینی بھینی خوشبو سے اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اس نے دھیمی آواز میں انسپکٹر سے کہا، "سر، چیز تو بالکل نمبر ون ہے، کوئی خرابی نہیں لگ رہی۔”
انسپکٹر نے اسے گھور کر دیکھا، "اوپر سے سخت آرڈر ہے، اس پورے روٹ کے تمام ڈھابے اور کینٹینز سیل کرنے ہیں۔ اگر اس سکھ کو چھوڑ دیا تو پریس والے کہیں گے کہ ہم نے جانبداری سے کام لیا۔ چلو، تصویریں لو اس لکڑی کے کاؤنٹر کی اور عدمِ صفائی کا کیس بناؤ۔”
انسپکٹر کا حکم ملتے ہی ماتحتوں کے کیمروں کی فلیش چمکنے لگی۔ اس پاکیزہ تندور کی تصویریں اتاری گئیں جس نے چالیس سال سے کسی مسافر کو بھوکا نہیں سونے دیا تھا، لیکن قانون کی نئی فائلوں میں وہ صرف قواعد کی خلاف ورزی کا ثبوت بن کر رہ گئیں۔
"ڈھابے کو سیل کر دو، پچاس ہزار روپے کا جرمانہ کورٹ میں جمع کروا کے چابی لے لینا،” انسپکٹر نے سرد مہر لہجے میں حکم دیا۔
"صاحب جی! ایسا ظلم نہ کرو،” گرمیت آگے بڑھا، لیکن کلدیپ سنگھ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے کھینچ لیا۔ کلدیپ کا چہرہ غصے سے سُرخ ہو چکا تھا، لیکن اس نے اپنا وقار ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
ادھر مٹی کے تندور کی آنچ اب آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہی تھی اور کڑاہی میں تڑکے والی دال کی سطح پر مکھن کی تہہ بے جان ہو کر جمنے لگی تھی۔ اگلے ہی لمحے، لوہے کا ایک بڑا تالا ڈھابے کے لکڑی کے دروازے پر لٹکا دیا گیا اور اس پر سرکاری سرخ مہر ثبت کر دی گئی۔
کلدیپ سنگھ باہر لکڑی کے بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس کے سامنے سے وہ سرکاری گاڑیاں دھول اڑاتی ہوئی نکل گئیں جو قانون کا پرچم بلند کیے ہوئے تھیں۔ ہائی وے کے دوسرے دکاندار افسوس کرنے جمع ہو گئے، مگر کلدیپ کی نظریں صرف اس سرخ مہر پر جمی رہیں۔ اس نے زندگی بھر دیانت داری کی کمائی سے اپنی پگڑی کا مان رکھا تھا، مگر آج وہ اسی صف میں کھڑا کر دیا گیا تھا جہاں گناہ گار اور ملاوٹ خور کھڑے ہوتے ہیں۔
اس نے اپنی سفید لمبی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور سرخ مہر لگے تالے کو دیر تک تکتا رہا۔ شام گہری ہوتی گئی۔ ہائی وے پر ٹرک پہلے کی طرح گزرتے رہے، مگر ‘گرو کرپا ڈھابہ’ کے سامنے پہلی بار ایک گہرا سناٹا پسرا ہوا تھا۔
٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے