جہیز نامہ: حرفِ انکار کے بغیر

جہیز نامہ: حرفِ انکار کے بغیر

جہیز نامہ: حرفِ انکار کے بغیر

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

ہمارے معاشرے میں بعض برائیاں اتنی پرانی اور راسخ ہوچکی ہیں کہ لوگ انہیں برائی سمجھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ جہیز بھی انہی معاشرتی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ عجیب المیہ یہ ہے کہ اس کے خلاف تقریریں بھی ہوتی ہیں، مضامین بھی لکھے جاتے ہیں، سیمینار بھی منعقد ہوتے ہیں اور قراردادیں بھی منظور کی جاتی ہیں، لیکن جب عملی امتحان کا وقت آتا ہے اور شادی کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے تو اکثر لوگ اس برائی کے سامنے اس طرح خاموش ہوجاتے ہیں جیسے کسی نے ان کی زبان پر "شرعی خاموشی” کا تالہ لگا دیا ہو۔

مزید افسوس ناک صورتِ حال اس وقت سامنے آتی ہے جب دینی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور اصلاحی تحریکوں سے وابستہ بعض ذمّہ داران بھی اسی خاموش قافلے کا حصّہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ نہ جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں، نہ اس کی فہرست بھیجتے ہیں اور نہ کسی چیز کا صریح تقاضا کرتے ہیں، لیکن جب سامان سے لدے ٹرک ان کے دروازے پر آکر رک جاتے ہیں تو ان کی خاموشی رضامندی کی عملی تفسیر بن جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جہیز کے بارے میں ان کا غیر اعلانیہ اصول یہ ہو: "مانگنا جائز نہیں، لیکن اگر ازخود آجائے تو اسے قبول کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں!”

حالانکہ یہ وہ فقہ ہے جسے نہ کسی معتبر فقیہ نے بیان کیا ہے، نہ کسی مستند کتاب میں اس کی کوئی بنیاد ملتی ہے۔ یہ محض عملی مصلحت کا ایسا نظریہ ہے جو آہستہ آہستہ دینی مزاج کا حصّہ بنتا جارہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ زبان سے جہیز کی مذمت کی جاتی ہے، مگر عمل سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جب قول اور عمل میں یہ تضاد پیدا ہوجائے تو اصلاحی تحریکیں بھی اپنی اخلاقی قوت کھونے لگتی ہیں، اور معاشرہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جہیز شاید اتنی بڑی برائی نہیں جتنی تقریروں میں بیان کی جاتی ہے۔

جب کسی عام آدمی سے پوچھا جائے کہ آپ نے جہیز کیوں لیا تو وہ شاید بے تکلفی سے کہہ دے: "بھائی! یہی رسم ہے، معاشرہ ہے، سب لیتے ہیں”۔ کم از کم وہ اپنے عمل کو معاشرتی دباؤ کا نتیجہ تو تسلیم کرلیتا ہے۔ لیکن جب یہی سوال کسی دینی مزاج کے فرد سے کیا جائے تو جواب ذرا نفیس اور محتاط ہوجاتا ہے۔ فرمایا جاتا ہے: "ہم نے تو کچھ مانگا ہی نہیں تھا”۔ گویا اصل مسئلہ مانگنے کا ہے، لینے کا نہیں!۔ یہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رشوت وصول کرنے کے بعد صفائی پیش کرے کہ "میں نے تو مطالبہ نہیں کیا تھا، وہ خود ہی لفافہ میز پر رکھ گیا تھا”۔ کیا اس عذر سے رشوت، رشوت نہیں رہتی؟ اگر نہیں، تو پھر جہیز کے معاملے میں یہی منطق کیسے درست قرار دی جاسکتی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ظلم صرف صریح مطالبے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس خاموش رضامندی سے بھی جنم لیتا ہے جو مطالبے کے بغیر ظلم کو قبول کرلیتی ہے۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ سامنے والا سماجی دباؤ، خاندانی روایت یا عزّتِ نفس کے نام پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر سامان لا رہا ہے، اور اس کے باوجود وہ اسے خوش دلی سے قبول کرلے، تو یہ محض خاموشی نہیں بلکہ اس نظام کی عملی تائید ہے۔ زبان اگرچہ خاموش رہے، لیکن قبولیت کا عمل خود ایک واضح بیان بن جاتا ہے۔ بعض اوقات دینی اجتماعات میں جہیز کے خلاف ایسی پُرجوش تقریریں سننے کو ملتی ہیں کہ سامعین کا دل چاہتا ہے کہ ابھی اٹھ کر اس معاشرتی لعنت کا خاتمہ کردیں۔

مقرر صاحب فرماتے ہیں: "جہیز ایک ناسور ہے”۔ سامعین یک زبان ہوکر کہتے ہیں: "بالکل درست!” پھر آواز بلند ہوتی ہے: "جہیز نے ہزاروں بیٹیوں کی زندگیاں تباہ کردی ہیں”۔ مجمع جذبات سے بھر جاتا ہے، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور اصلاح کے عزم کا اظہار بھی ہونے لگتا ہے۔ لیکن چند ہی ماہ بعد انہی سامعین میں سے کسی ایک کے گھر شادی کی تقریب برپا ہوتی ہے۔ گھر کے صحن میں فریج، واشنگ مشین، الماریاں، صوفے اور دیگر سامان قطار باندھے کھڑے ہوتے ہیں، اور سب کچھ نہایت اطمینان سے قبول کرلیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ناسور اپنی جگہ موجود ہے، صرف اس کے استعمال کا اسلوب بدل گیا ہے۔ تقریروں میں وہ قابلِ مذمت رہتا ہے، لیکن عملی زندگی میں وہ قابلِ قبول بن جاتا ہے۔

اصل کشمکش نظریات اور ضرورتوں کے درمیان نہیں، بلکہ نظریات اور روایات کے درمیان ہے۔ زبان اصولوں کا ساتھ دیتی ہے، مگر عمل معاشرتی دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تقریر اور کردار کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔ جب تک یہ فاصلہ برقرار رہے گا، جہیز کے خلاف ہونے والی تقریریں محض جذبات کو گرما سکتی ہیں، معاشرے کو نہیں بدل سکتیں۔ اصلاح اس وقت شروع ہوگی جب وہی لوگ، جو اس برائی کو منبروں پر ناسور قرار دیتے ہیں، اپنے گھروں کے دروازے پر پہنچنے والے "تحائف” کو بھی اسی یقین کے ساتھ واپس لوٹانے کا حوصلہ پیدا کریں۔

دینی تحریکوں کی اصل قوت صرف ان کے نظریات میں نہیں، بلکہ ان نظریات کی عملی تعبیر میں ہوتی ہے۔ کتابوں میں لکھے ہوئے اصول اور منبروں سے ادا کیے گئے خطبات اس وقت تک معاشرے کو نہیں بدل سکتے جب تک ان کے علم بردار اپنی عملی زندگی میں ان کی گواہی نہ دیں۔ درحقیقت کسی تحریک کی سب سے مؤثر دعوت اس کا لٹریچر نہیں، بلکہ اس کے کارکنوں کا کردار ہوتا ہے۔

ایک عام آدمی کی لغزش زیادہ سے زیادہ اس کی ذاتی لغزش سمجھی جاتی ہے، لیکن ایک داعی، عالم، خطیب یا تنظیمی ذمّہ دار کی لغزش پورے پیغام کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔ لوگ اس کے الفاظ سے پہلے اس کے طرزِ عمل کو دیکھتے ہیں۔ اگر وہ سود کی حرمت پر مدلل تقریریں کرے مگر خود سودی معاملات سے نہ بچے تو اس کی بات اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ اگر وہ سادگی کی دعوت دے مگر اپنی زندگی میں نمود و نمائش کو جگہ دے تو اس کی دعوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ جہیز کے خلاف خطبے دے، مضامین لکھے اور نوجوانوں کو اس رسم کے خلاف کھڑا ہونے کی تلقین کرے، لیکن اپنی یا اپنے بچّوں کی شادی میں خاموشی سے جہیز قبول کرلے، تو اس کے الفاظ کی تاثیر خود اس کی خاموشی نگل جاتی ہے۔

یہی وہ عملی امتحان ہے جس میں نظریات کی صداقت پرکھی جاتی ہے۔ اصول اس وقت معتبر بنتے ہیں جب وہ اپنے ماننے والوں سے قربانی کا مطالبہ کریں، اور وہ اس مطالبے کو قبول بھی کریں۔ اگر تحریک کے کارکن خود اس موقع پر معاشرتی دباؤ کے آگے جھک جائیں جہاں انہیں دوسروں کے لیے مثال بننا چاہیے، تو پھر ان کی دعوت محض ایک اچھی تقریر رہ جاتی ہے، ایک زندہ نمونہ نہیں۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ معاشرے کو تقریریں کم، نمونے زیادہ بدلتے ہیں۔

جہیز کے سامان کو دیکھنے والے عموماً اس کے پیچھے چھپی ہوئی داستان نہیں دیکھتے۔ ان کی نگاہیں فریج، الماری، صوفے، بستر اور گاڑی پر تو پڑتی ہیں، مگر ان اشیاء تک پہنچنے کے لیے طے ہونے والا کٹھن سفر ان کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ اس فریج کے لیے کسی باپ نے قرض لیا ہوگا، اس الماری کے لیے کسی ماں نے برسوں کی جمع پونجی نکالی ہوگی، اس بستر کے لیے کسی بہن نے اپنی خواہشات قربان کی ہوں گی، اور اس گاڑی یا موٹر سائیکل کے لیے شاید کسی غریب گھرانے نے اپنی کئی سال کی کمائی ایک ہی دن میں لٹا دی ہوگی۔

بعض گھروں میں یہ سامان صرف بازار سے نہیں خریدا جاتا، بلکہ اسے بیچا جاتا ہے: کہیں زیور بکتا ہے، کہیں زمین کا ٹکڑا، کہیں کھیتی رہن رکھی جاتی ہے، اور کہیں عزتِ نفس۔ یوں ایک شادی کی خوشی، دوسرے گھر کے لیے برسوں کی معاشی پریشانی کا آغاز بن جاتی ہے۔

اس لیے جہیز کا سامان اکثر محض گھریلو استعمال کی اشیاء نہیں ہوتا، بلکہ ایک باپ کی بے خوابیوں کا فرنیچر، ایک ماں کے آنسوؤں کی پیکنگ، ایک بہن کی قربانیوں کی قیمت، اور ایک خاندان کے معاشی بوجھ کا خوبصورت غلاف ہوتا ہے۔ اس کی چمک دمک کے پیچھے وہ خاموش چیخیں دفن ہوتی ہیں جو نہ شادی کی محفل میں سنائی دیتی ہیں اور نہ تصویروں میں نظر آتی ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ جب یہ سامان دلہن کے ساتھ سجا کر رخصت کیا جاتا ہے تو اکثر لوگ اس کی قیمت روپے میں گنتے ہیں، مگر اس کی اصل قیمت ان ٹوٹے ہوئے خوابوں، بڑھتے ہوئے قرضوں اور خاموش آنسوؤں میں ادا کی جاچکی ہوتی ہے۔ اگر جہیز وصول کرنے والا ایک لمحے کے لیے بھی اس سامان کے پیچھے چھپی اس انسانی قیمت کا تصور کرلے، تو شاید بہت سے بھرے ہوئے ٹرک اپنے منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی واپس لوٹ جائیں۔

ہمارے معاشرے میں بعض لوگ جہیز کے حق میں تاریخی یا مذہبی مثالیں پیش کرکے اس رواج کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اکثر ان مثالوں کو ان کے اصل پس منظر سے الگ کرکے بیان کیا جاتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دی ہے، اسے معاشی آزمائش یا سماجی مقابلے کا میدان بنانے کی نہیں۔ رسول اللّٰہﷺ کی تعلیمات کا خلاصہ سہولت، سادگی، تقویٰ اور باہمی تعاون ہے، نہ کہ نمود و نمائش، تفاخر اور مالی بوجھ۔

اگر کسی خاندان کی طرف سے خوش دلی اور اپنی استطاعت کے مطابق کوئی تحفہ دیا جائے تو وہ ایک الگ معاملہ ہے، لیکن جب تحفہ سماجی توقع، خاموش مطالبے یا خاندانی دباؤ کی شکل اختیار کرلے تو اس کی حقیقت بدل جاتی ہے۔ جس چیز کے بغیر نکاح دشوار ہوجائے، جس کے نہ ہونے پر بیٹی والوں کو شرمندگی محسوس ہو، یا جس کی وجہ سے خاندان قرض اور پریشانی میں مبتلا ہوجائیں، اسے سنّت کا نام دینا سنّت کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔

اصل قابلِ فخر بات یہ نہیں کہ دلہن کتنے ٹرک سامان لے کر آئی، بلکہ یہ ہے کہ دلہا کتنے بلند اخلاق، کتنی قناعت اور کتنی ذمّہ داری لے کر آیا۔ گھر فرنیچر سے نہیں، حسنِ سلوک سے آباد ہوتے ہیں؛ رشتے قیمتی سامان سے نہیں، باہمی احترام اور محبت سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر ہم واقعی سنّت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی توجہ ظاہری سامان سے ہٹا کر ان اخلاقی اقدار پر مرکوز کرنی ہوگی جن پر رسول اللّٰہﷺ نے نکاح کی بنیاد رکھی۔ جس دن معاشرہ سامان کی کثرت کے بجائے کردار کی بلندی کو عزّت کا معیار بنا لے گا، اسی دن جہیز کا بوجھ خودبخود ہلکا پڑنا شروع ہوجائے گا۔

اگر جہیز کو زبان مل جاتی تو شاید وہ بڑے اطمینان سے کہتا: "عجیب لوگ ہیں! ہر مجلس میں میری مذمت کرتے ہیں، ہر تقریر میں مجھے لعنت قرار دیتے ہیں، ہر مضمون میں میرے خلاف دلائل دیتے ہیں، لیکن جب میں ٹرکوں میں سجا کر ان کے دروازے پر پہنچتا ہوں تو کوئی مجھے واپس نہیں لوٹاتا۔ زبانوں پر میرا انکار ہوتا ہے، مگر ہاتھوں میں میرا استقبال”۔ اور اگر بعض ذمّہ داران اس کا جواب دیتے تو شاید کہتے: "دیکھو! ہم تمہارے خلاف ضرور ہیں، لیکن صرف اس وقت تک جب تک تم ہمارے گھر کا رخ نہ کرو۔ ہم تمہیں مانگتے نہیں، اس لیے مطمئن رہتے ہیں؛ اور جب تم ازخود آجاتے ہو تو تمہیں واپس بھی نہیں کرتے، تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو!”۔ تب شاید جہیز مسکرا کر کہتا: "مجھے زندہ رکھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ تم میری حمایت نہ کرو، صرف میری مخالفت پر عمل نہ کرو”۔

یہی اس مسئلے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ برائی ہمیشہ اپنے حامیوں کے سہارے زندہ نہیں رہتی؛ کبھی کبھی وہ اپنے خاموش مخالفوں کے سہارے بھی نسل در نسل چلتی رہتی ہے۔ جب زبان انکار کرے اور عمل اقرار، تو معاشرہ تقریروں سے نہیں، کردار سے سبق لیتا ہے۔ اس لیے جہیز کے خلاف سب سے مؤثر تقریر وہ نہیں جو منبر سے کی جائے، بلکہ وہ ہے جو شادی کے دن گھر کے دروازے پر عملاً دکھائی جائے۔ اصلاح کا آغاز تقریروں سے نہیں، بلکہ ذاتی مثال سے ہوتا ہے۔ معاشرے کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر کا دروازہ کھولنا پڑتا ہے۔ دینی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور اصلاحی تحریکوں کے ذمّہ داران اگر واقعی اس معاشرتی برائی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں دوسروں سے پہلے خود اپنی زندگی میں اس کا عملی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

وہ واضح طور پر اعلان کریں کہ ہم جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے، نہ کسی قسم کے سماجی یا خاموش دباؤ کو قبول کریں گے، اور نہ ایسی کسی روایت کی حوصلہ افزائی کریں گے جو بیٹی والوں پر مالی بوجھ بنے۔ ہم اپنی اور اپنی اولاد کی شادیوں کو سادہ رکھیں گے، اور اگر کسی طرف سے ایسی چیز پیش کی جائے جو معاشرتی دباؤ یا مجبوری کا نتیجہ ہو تو اسے قبول کرنے کے بجائے عزت و احترام کے ساتھ انکار کریں گے۔ یہی وہ عملی پیغام ہے جو سینکڑوں تقریروں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

اصلاح کا سفر ہمیشہ چند لوگوں کے حوصلے سے شروع ہوتا ہے۔ جب ایک خاندان ہمت کرتا ہے تو دوسرا بھی حوصلہ پاتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ ایک نئی روایت جنم لیتی ہے۔ معاشرے کی جڑ پکڑ چکی برائیاں صرف ان کی مذمت سے ختم نہیں ہوتیں، بلکہ اس وقت کمزور پڑتی ہیں جب بااثر لوگ ان سے عملاً کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے جہیز کے خلاف کتنی تقریریں کیں یا کتنے مضامین لکھے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب ہماری اپنی باری آئی تو ہم نے کیا کیا؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارے عمل میں موجود ہو تو ہماری زبان کو زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ ایک سچا نمونہ، سو خطبوں سے زیادہ مؤثر، اور ایک عملی فیصلہ، ہزار قراردادوں سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے۔

دینی تحریکوں اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان اور ذمّہ داران محض ایک تنظیم کے نمائندے نہیں ہوتے، بلکہ وہ معاشرے کے لیے مینارۂ نور اور عملی نمونہ سمجھے جاتے ہیں۔ لوگ ان کے اقوال سے پہلے ان کے افعال کو دیکھتے ہیں، ان کی تقریروں سے پہلے ان کے طرزِ عمل کو پرکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کا ہر فیصلہ صرف ایک ذاتی فیصلہ نہیں رہتا، بلکہ ایک سماجی پیغام بن جاتا ہے۔ اگر یہ طبقہ جہیز جیسی معاشرتی برائی کے مقابلے میں حقیقی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے، اپنی اور اپنی اولاد کی شادیوں میں ہر اس چیز سے اجتناب کرے جو بیٹی والوں پر مالی یا سماجی دباؤ کا سبب بنتی ہے، تو اس کا اثر ہزاروں تقریروں سے کہیں زیادہ ہوگا۔ ایک خاندان کا عملی اقدام بے شمار خاندانوں کے لیے حوصلہ بن سکتا ہے، اور ایک صحیح مثال ایسی روایت کو جنم دے سکتی ہے جو آنے والی نسلوں کا بوجھ ہلکا کردے۔

جہیز کے خلاف سب سے مؤثر تقریر وہ نہیں جو منبر سے کی جائے، نہ وہ قرارداد جو کسی اجلاس میں منظور ہو، بلکہ وہ ہے جو شادی کے دن خاموشی سے اپنے عمل کے ذریعے یہ اعلان کرے: "ہمیں آپ کی بیٹی چاہیے، آپ کا سامان نہیں”۔ یہی وہ جملہ ہے جو اگر کردار کی زبان سے ادا ہو تو ہزاروں بیٹیوں کی عزّت، ہزاروں باپوں کا سکون اور ہزاروں گھروں کی خوشی بن سکتا ہے۔ شاید یہی وہ خاموشی ہے جو سب سے بلند آواز رکھتی ہے؛ ایسی خاموشی جو تقریروں کی محتاج نہیں ہوتی، کیونکہ اس کا ہر عمل خود ایک دعوت، ہر انکار خود ایک اصلاح، اور ہر سادہ نکاح خود ایک زندہ خطبہ بن جاتا ہے۔
🗓️ (28.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے