چمپت رائے کے چمپت ہونے کی خبر آگئی کے ساتھ انل مشرا بھی رخصت ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انل مشرا سمیت چمپت رائے جاسکتے ہیں تو امیت شاہ کے ساتھ مودی جی کیوں نہیں ؟ وہ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’یہ زیادہ سے زیادہ میرا کیا کر لیں گے؟ ہم تو فقیر آدمی ہیں۔ جھولا اٹھا کر چل پڑیں گے‘۔ مودی جی بہت بھولے فقیر ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ جب وہ جھولا اٹھاکر چل پڑیں گے تو لوگ انہیں چھوڑ دیں گے ایسا نہیں ہوگا ۔ ان کے جانے سے پہلے جھولے کی جانچ تو ہوگی جیسے رام مندر میں چندہ چوری کی تفتیش ہورہی ہے۔ اب اگر جھولے چندہ چوری کا مال نکل آیا تو کیا انہیں چھوڑ دیا جائے گا کہ جاو عیش کرو ؟ یا اعظم خان کے پاس بھیج دیا جائے گا جن کو بے شمار جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونس دیا گیا ۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اگر اسی جیل میں سنجیو بھٹ بھی موجود ہوئے تو کیا ہوگا؟ وہ مودی جی کا کیسے استقبال کریں گے ؟ کیا مودی کے پرانے گرو آسا رام باپو ان کو جیل میں سنجیو بھٹ کے غیض و غضب سے بچا سکیں گے؟ یا انہیں بابا رام رحیم کی مدد لینی پڑے گی جن کو اس کی مرضی کے مطابق پیرول دے دی جاتی تھی ۔ انسان جب جیل کی ہوا کھاتا ہے تو رام رحیم جیسے پاکھنڈی بابا منہ پھیر لیتے ہیں۔ ایسے میں امیت شاہ کا بھی ساتھ آنا مشکل ہے کیونکہ جب وہ تہاڑ گئے تھے تو مودی جی ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔
رام مندر کی چندہ چوری کا معاملہ نقدی سے شروع ہوا۔ اس بابت زائرین کی تعداد کا موصولہ رقم سے موازنہ کیا گیا تو فی کس پانچ روپیہ نکلا جبکہ ویڈیو فوٹیج میں پانچ سواور ہزار کے نوٹ نظر آئے۔ اس مہنگائی کے زمانے میں پانچ روپیہ تو مندر کے باہر بیٹھے بھکاری کو بھی نہیں دئیے جاتے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس پیمانے پر لوٹ ہوئی ہے۔ لوگوں کے گھروں سے رقم برآمد ہورہی تھی مگر اب تو معاملہ گائے کے گوبر تک پہنچ گیا۔ اس کے باوجود مودی سرکار کےتشکیل شدہ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ دیا کہ باقاعدہ آڈٹ کا عمل جاری ہے اور اب تک کسی بڑی مالی گڑبڑی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اب تو لوگ سوچ رہے ہیں کہ آخر کتنا کھانے کے بعد یہ کہیں گے کہ یہ گڑ بڑی اب بڑی ہوگئی ہے؟ اس بابت شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے کہا کہ "رام مندر میں شِلا پوجن کے وقت سے ہی چوری ہو رہی ہے۔ جب مندر بننا شروع ہوا تو پلاٹوں کی خرید و فروخت میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات لگے تھے۔ وہاں پہلے سے ہی چمپت رائے موجود ہیں، اور چمپت کا مطلب ہی ہوتا ہے لے کر بھاگ جانا۔”اب تو رام کا ہار اور پرانی مورتی تک کے چرانے کی بات ہورہی ہے۔
ابگریزی میں ٹرسٹ اعتماد کو بھی کہتے ہیں مگررام مندر کےسرکاری ٹرسٹ پر اب کسی کو بھروسا نہیں رہا۔ اس کے سابق اکاؤنٹ انچارج مہی پال سنگھ نے دعویٰ کردیا کہ مندر میں چوری کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ روزانہ ہوتی تھی۔اس نے جب خود چوری پکڑنے کے بعد چمپت رائے اور گوپال جی سے اس کی شکایت کی تو اگلے ہی دن انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔یہ غضب رام راجیہ ہے کہ کرشن جنم بھومی میں چندہ چوری کا الزام لگانے والے پھلیرہ بابا کے خلاف ایف آئی آر ہوجاتی ہے۔ مہی پال کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے مگر چمپت رائے کا بال بیکہ نہیں ہوتا ۔ مہی پال سنگھ نے الزام لگایا کہ مندر میں نصب سی سی ٹی وی کی آٹھ ماہ پرانی فوٹیج حذف کروا دی گئی تھی ظاہر ہے یہ کام چوری چھپانے کے لیے کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چندے میں آنے والے سونے، چاندی کے زیورات اور برتنوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا اور اس کی بابت صرف چند ذمہ دار افراد ہی جانتے تھے۔
لداخ کی راجدھانی لیہہ میں کیسٹلس گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر راجو وی منوانی نے مہی پال کے الزام کی تائید میں کہا کہ پوری سندھی برادری کی جانب سے رام مندر تعمیر کے لیے 26 جنوری 2021 کو ایودھیا میں چمپت رائے کو 1-1 کلو گرام وزن والی 200 چاندی کی اینٹیں سونپی گئی تھیں مگر اس وقت عطیہ کے حوالے سے انہیں کوئی رسید نہیں دی گئی۔منوانی بتاتے ہیں کہ ’’عطیہ دینے کے وقت مندر سے وابستہ لوگوں نے کہا کہ وہ پہلے چھان بین کریں گے اور طے کرنے کے بعد بتائیں گے اس کا استعمال کہاں اور کیسے کرنا ہے اور پھر ہمیں بتائیں گے۔‘‘ اب منوانی کو فکر ہونے لگی ہے کہ ان کا عطیہ کی گئی چاندی غلط جگہ تو نہیں چلی گئی ہے؟ اسی لیےاب وہ رسید اور اس بات کی معلومات مانگ رہےہیں کہ چاندی کا استعمال کہاں ہوا؟ ایم ڈی منوانی کے مطابق اگر چاندی کا استعمال مندر کے لیے نہیں ہوا تو یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ جب وہ عطیہ دیا گیا تھا، تب چاندی کی قیمت تقریباً 1.5 سے 2 کروڑ روپئے ہوا کرتی تھی لیکن آج اس کی قیمت 6 سے 7 کروڑ روپئے ہو گئی ہے۔منوانی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یقینی طور پر اپنے دیئے گئے عطیات کے بارے میں پوچھنے کا حق ہے۔ چونکہ مودی اور یوگی کی قیادت میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، اس لیے ایس آئی ٹی تو کم از کم ان قصور واروں کو سزا ملنی دے جنہوں نے اس حق کا غلط استعمال کیا۔
یہ ناسور دن بہ دن پھیل رہا ہے۔ اس بیچ سونے کا ۲؍ کلو وزنی گدا، زیورات اور سیکڑوں طلائی اینٹوں کے بھی غائب ہونے کی اطلاعات موصول ہوگئیں۔رام کے قدموں کے چاندی کے نشان بھی غائب ہوگئے جبکہ بھرت نے کھڑاوں کو تخت پر رکھ کر چودہ سال حکومت کی تھی مگر یہ لوگ رام راجیہ کو لانے والے ان کھڑاوں کو بیچ کر کھاگئے۔ یہ لوگ رام کےنام پر نہ جانے کیا کیا کھاگئے؟ شری رام جنم بھومی ایودھیا میں رام مندر عطیہ باکس چوری کو لے کر الزامات اور جوابی الزامات کے دوران انجینئر دیناناتھ ورما نے رام کچہری چار دھام مندر میں رام مندر تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے پہلے کیمپ آفس کی تعمیر کو لے کر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ دینا ناتھ ورما نے ٹرسٹ کے رکن ڈاکٹر انل مشرا پر 40 فیصد کمیشن کے مطالبے کا الزام لگادیا۔ یعنی سب سے پہلے بابری مسجد کی زمین چوری ۔ اس کے بعد مندر کی تعمیر کے لیے آنے والی دھات کی اینٹیں چوری پھر زمین کی خریداری میں چوری اور بالآخر اس پر تعمیر میں کمیشن چوری یعنی اند چوری، باہر چوری ، اوپر چوری ، نیچے چوری ، آگے چوری ،پیچھے چوری ۔ یہ کیسا لوٹ مار کا کاروبار ہے۔ آر ایس ایس کی نگرانی میں چونکہ یہ چندے کا دھندا چل رہا ہے اس لیے کیا اسے کوئی سزا نہیں ملے گی؟ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت اور کاریہ واہک دتاتریہ ہوسا بلے تک اس آگ کی آنچ نہیں پہنچے گی ؟ کیا چمپت رائے، انل مشرا ، نریندر مودی اورامیت شاہ کی طرح ان کو قانون کے آگے جوابدہ نہیں ہونا پڑےگا؟
سنگھ پریوار سے ناراض لوگ موجودہ سرکار کا محمود غزنوی سے موازنہ کرتے ہیں کیونکہ اس نے سومنات کے مندر کو لوٹ لیا تھا لیکن ایسا کرنا غلط ہے۔ محمود غزنوی نے اقتدار میں آنے کے لیے کبھی بھی مندر مسجد کا کھیل نہیں کھیلا ۔ اس نے خود کو سومنات کے مندر کا پجاری بتا کر عقیدتمندوں کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا۔ اس نے کیمرہ بند کرکے چپ چاپ چوری نہیں کی بلکہ باقائدہ جنگ کی اور مندر کو لوٹا کیونکہ اسے پتہ تھا سرکاری خزانے سے زیادہ دھن دولت مندر کے اندر ہے۔ آج بھی ایودھیا کمشنریٹ سے کہیں زیادہ مال رام مندر کے خزانے میں ہے۔ پرانےزمانے میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہوا کرتی تھیں راجاوں کے خزانے سے زیادہ مال دولت مندروں میں ہوتا تھا ۔ راجہ مہاراجہ جو لگان وصول کرتے تھے اس میں سے کچھ رقم عوام کی فلاح وبہبود پر بھی خرچ ہوتی تھی لیکن غریب دلتوں کو تومندروں کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ پیسہ عوام کے فائدے کے لیے نہیں خرچ ہوتا تھا اسی لیے عوام کا اس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے محمود غزنوی بار بار ناکام ہوکر لوٹ رہا ہے مگر اس کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے تھے اور جب سترہویں مرتبہ لوٹنے میں کامیاب ہوکر لوٹا تو اسے کسی عوامی مزاحمت کا سامنانہیں کرنا پڑا۔ ایسا کیوں ہوا اس سوال کا جواب ایودھیا کی بدعنوانی میں پوشیدہ ہے لیکن اب یہ نیاسوال کھڑا ہوگیا ہے کہ جو لوگ ایک مندر کا انتظام و انصرام نہیں کرسکتے وہ ملک کیا چلائیں گے؟ جسٹس سی بی پانڈے کے مطابق جولوگ رام کو لائے ہیں رام ہی انہیں لے کر جائیں گے اور جب یہ ہو جائے گا تو اس کے بعد بی جے پی پر پنڈت دیا شنکر نسیم کا یہ شعر صادق آئے گا؎
گزرا جہاں سے میں تو کہا ہنس کے یار نے
قضیہ گیا فساد گیا درد سر گیا