رام مندر چندہ چوری اسکینڈل: عقیدت اور غبن کاری کا دردناک سفر
(چمپت رائے کا استعفیٰ: اخلاقی ذمہ داری یا سیاسی مجبوری؟)
ازقلم: اسماء جبین فلک
ایک ایسا مندر جو کروڑوں ہندوؤں کی آستھا کا مرکز بن کر ابھرا، جسے سام، دام، دنڈ، بھید کے فلسفے کے تحت حاصل کیا گیا۔ جہاں ملک بھر سے عقیدت مندوں نے اپنی جان، مال اور وقت کی قربانیاں دے کر اس کی تعمیر کو ممکن بنایا، آج اسی مندر کے انتظامی ڈھانچے میں پنپنے والے کرپشن اور بدعنوانی کے اسکینڈل نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ اس پورے سیاسی و مذہبی نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو اس مندر کی تعمیر اور انتظام کے دعویدار تھے۔ ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر کے چندے میں خیانت کا یہ معاملہ صرف مالی بے ایمانی کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے عقیدت کو غبن کاری میں بدلنے کا دردناک سفر طے کیا ہے۔
یہ معاملہ جون 2026 میں اس وقت سامنے آیا جب سماجوادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی پون پانڈے نے الزام لگایا کہ رام مندر میں عقیدت مندوں کے چندے سے تقریباً سات کروڑ روپے کی رقم غبن کی گئی ہے۔ اس الزام کے بعد پورے ملک میں ہلچل مچ گئی اور لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اگر رام مندر جیسے مقدس مقام پر ایسی بے ایمانی ہو سکتی ہے، تو پھر عام اداروں کا کیا حال ہوگا۔ اس الزام کے فوری بعد اتر پردیش حکومت نے رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کی درخواست پر 14 جون 2026 کو ایک تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی اور اس ٹیم کو پندرہ دنوں کے اندر اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
ایس آئی ٹی کی تحقیقات نے ایسے حقائق سامنے لائے جنہوں نے ہر سنجیدہ شہری کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے دیکھا کہ مندر کے چندے کی گنتی، نقل و حمل اور اسے محفوظ رکھنے کے عمل میں سنگین خامیاں اور غفلت موجود تھی۔ نگرانی کا نظام انتہائی کمزور تھا، سی سی ٹی وی کی مانیٹرنگ میں بڑے پیمانے پر جھول پایا گیا اور ریکارڈ رکھنے کے طریقے میں بھی بڑی غلطیاں سامنے آئیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ مندر میں آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد میں تو مسلسل اضافہ ہو رہا تھا لیکن ریکارڈ میں درج ہونے والے چندے میں اس تناسب سے اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ اگرچہ انتظامیہ نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ زیادہ تر عقیدت مند سکے چڑھاتے ہیں، لیکن یہ وضاحت تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کے آگے انتہائی کمزور ثابت ہوئی۔
اسی بنیاد پر 25 جون 2026 کو ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ پر ایک ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ان آٹھ افراد کے نام شامل تھے جو مندر کے چندے کی گنتی اور نقل و حمل کے عمل سے براہِ راست وابستہ تھے۔ ان افراد میں لوکُش مشرا، انوکلپ مشرا، اویناش شکلا، منیش یادو، رام شنکر یادو عرف ٹنّو، سبھاش چندر شریواستو اور کرنیش پانڈے شامل تھے۔ ان پر چوری، امانت میں خیانت، دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے گئے اور 26 جون 2026 کو پولیس نے ان تمام آٹھ افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں 29 جون تک عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔
ان گرفتاریوں میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا نام رام شنکر یادو عرف ٹنّو کا تھا، جو رام جنم بھومی ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے کا قریبی ساتھی اور سابق ڈرائیور تھا۔ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ایک ایسا شخص جو ٹرسٹ کے سب سے اہم عہدیدار کا قریبی رہا ہو، وہ خود چندے کی نقل و حمل کی نگرانی کر رہا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ٹنّو یادو پر چندے کی رقم غبن کرنے کے علاوہ ایودھیا اور آس پاس کے اضلاع میں جائیدادیں خریدنے کا بھی الزام ہے۔ اگرچہ اس کی بیوی پونم یادو نے ان الزامات کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کو ذہنی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، لیکن تحقیقات میں سامنے آنے والے ٹھوس شواہد ان دعوؤں کے برعکس نظر آتے ہیں۔
دوسری طرف چندے کی گنتی کے عمل میں ملوث ملازم لوکُش مشرا کے گھر سے تقریباً بارہ لاکھ روپے برآمد ہوئے جبکہ ایک اور ملازم کے گھر سے بھی دس لاکھ روپے کی نقدی ملی جو اس نے گائے کے گوبر کے ڈھیر کے نیچے چھپا رکھی تھی۔ یہ منظر کسی فلمی منظر سے کم دلخراش نہیں تھا کہ ایک مقدس مندر کے چندے کی وہ رقم، جو عقیدت مندوں نے اپنی عقیدت اور محبت سے دی تھی، اسے گائے کے گوبر کے ڈھیر کے نیچے چھپایا جا رہا تھا۔ اس سے بڑھ کر شرمندگی کی بات اور کچھ نہیں ہو سکتی۔
لیکن سب سے زیادہ حیران کن انکشاف یہ ہوا کہ یہ ملازمین، جن کی ماہانہ تنخواہ صرف اٹھارہ سے بیس ہزار روپے تھی، انہوں نے حالیہ مہینوں میں کروڑوں روپے کی جائیدادیں خریدیں۔ ان میں سے ایک ملازم نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی زمین خریدی جبکہ دوسرے نے چالیس لاکھ روپے کا ایک نیا فلیٹ حاصل کیا۔ ان کی آمدنی اور اثاثوں میں یہ غیر معمولی تضاد ہی ایس آئی ٹی کی تحقیقات کا مرکزی نقطہ بن گیا۔ اگرچہ لوکُش مشرا کے والد بچو لال نے اپنے بیٹے کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمد شدہ رقم گھر کی تعمیر کے لیے آبائی زمین گروی رکھ کر جمع کی گئی تھی، لیکن یہ وضاحت بھی دیگر شواہد کے سامنے ٹک نہ سکی۔
ان گرفتاریوں کے بعد، 27 جون 2026 کو چمپت رائے اور ٹرسٹ کے رکن انیل مشرا نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ 79 سالہ چمپت رائے، جو آر ایس ایس کے پرچارک اور وی ایچ پی کے سینئر عہدیدار ہیں، انہوں نے دہائیوں تک رام جنم بھومی تحریک کو تنظیمی، قانونی اور انتظامی چیلنجوں سے نکالا تھا اور 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مندر کی تعمیر اور انتظام کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی تھی، لیکن آج، صرف ڈھائی سال بعد، وہ اسی تحریک کے سب سے بڑے اسکینڈل کے مرکز میں کھڑے ہیں۔ وی ایچ پی کے قومی ترجمان وجے شنکر تیواری نے ان استعفوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ ٹرسٹ کے خزانچی گووند گری نے کہا کہ ٹرسٹ اگلی میٹنگ میں ان استعفوں پر حتمی فیصلہ کرے گا۔
چمپت رائے کے استعفے کے بعد وی ایچ پی کے چیف الوک کمار کا بیان انتہائی اہم تھا جنہوں نے ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ کسی کو بخشا نہیں جائے گا اور پولیس چمپت رائے، انیل مشرا اور گوپال راؤ کے خلاف الزامات کی بھی تحقیقات کرے گی کیونکہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ یہ بیان اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ پہلی بار آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے کسی سینئر عہدیدار نے براہِ راست چمپت رائے کے خلاف تحقیقات کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سب اس واقعے سے شدید تکلیف میں ہیں اور یہ ان کے لیے باعثِ شرمندگی ہے، جس کے ساتھ ہی انہوں نے مندر کے انتظام کے لیے ایک پیشہ ور سی ای او مقرر کرنے اور جدید ترین نگرانی کا نظام نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
اس پورے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے ردِعمل نے اسے ایک سیاسی طوفان میں بدل دیا۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ یہ ایف آئی آر صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے اور بی جے پی کی حکومت میں یہی ظلم ہوگا کہ درخت کی ٹہنی کو پھانسی دی جائے گی جبکہ بڑی شاخوں کو معاف کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ پہلے سے تیار شدہ تھی اور تحقیقات اسی کے مطابق کی گئیں۔ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے بھی اسی لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایف آئی آر محض ایک خانہ پُری ہے جس میں صرف چھوٹے ملازمین کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان بڑے لوگوں کے نام غائب ہیں جن کی نگرانی میں پورا مندر اور ٹرسٹ کام کرتا تھا۔ اس لیے انہوں نے نرپیندر مشرا، چمپت رائے، گوپال راؤ اور انیل مشرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ سنسنی خیز الزام بھی لگایا کہ مندر سے وابستہ کارکنوں سے 40 فیصد تک کمیشن مانگا جاتا تھا۔
عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال نے اس کارروائی کو محض "آئی واش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے بااثر لوگوں کو بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی خیانت صرف نچلے درجے کے ملازمین اکیلے کیسے کر سکتے ہیں؟ جبکہ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ چندے کا غلط استعمال کروڑوں عقیدت مندوں کی آستھا کی توہین ہے۔ دوسری طرف، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی آستھا سے کھلواڑ کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا اور جیسے ہی ایس آئی ٹی کی رپورٹ موصول ہوئی، فوری کارروائی شروع کر دی گئی۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کبھی رام کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے تھے، آج وہ ایودھیا پر الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ ایس آئی ٹی کے سامنے پیش کرے کیونکہ حکومت تحقیقاتی ٹیم کی سفارشات کے مطابق سخت کارروائی کر رہی ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک ایسا مندر جو عقیدت کا سب سے بڑا مرکز ہے، اس کے انتظامی ڈھانچے میں اتنی بڑی خامیاں کیسے پیدا ہوئیں؟ ایس آئی ٹی کی رپورٹ نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے، وہ ایک منظم اور وسیع پیمانے پر ہونے والی غبن کاری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ چندے کی گنتی، نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی میں نگرانی کا فقدان، سی سی ٹی وی کی ناقص کارکردگی اور ریکارڈ کیپنگ میں غلطیاں؛ یہ سب کسی ایک یا دو افراد کا کام نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، جس سے یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ اگر چمپت رائے جیسے تجربہ کار اور سینئر عہدیدار اس ٹرسٹ کی قیادت کر رہے تھے، تو پھر یہ غفلت کیسے ممکن ہوئی اور کیا یہ صرف لاپروائی تھی یا کسی بڑی سازش کا حصہ تھی۔
اگرچہ وی ایچ پی چیف الوک کمار کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی بری الذمہ نہیں ہوگا، لیکن اپوزیشن کا الزام اپنی جگہ قائم ہے کہ صرف چھوٹی مچھلیوں کو پھنسایا جا رہا ہے جبکہ بڑی مچھلیوں کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس واقعے نے بھارتی معاشرے اور ہندو سماج کے ایک بڑے حصے کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رام مندر کی تعمیر کے لیے اپنی محنت کی کمائی سے رقم دی، اور وی ایچ پی کی اس 40 روزہ چندہ مہم کا حصہ بنے جو 12.5 کروڑ گھروں تک پہنچی تھی اور جس کے ذریعے 65 کروڑ لوگوں سے 3,300 کروڑ روپے جمع کیے گئے تھے۔ اس لیے آج وہ سب سوال کر رہے ہیں کہ کیا ان کے چندے کی حفاظت ہو سکی؟ اور اگر وی ایچ پی نے مہم کے دوران چیک کے ذریعے چندہ جمع کیا اور ایک ایک روپے کا حساب رکھا، تو مندر کے اندر چندہ بکسوں میں جمع ہونے والی نقد رقم کا کیا ہوا۔
اس معاملے کی سیاسی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ 2027 میں اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں اور یہ اسکینڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی اور اپوزیشن دونوں انتخابی تیاریوں میں مصروف ہیں، اور چونکہ رام مندر بی جے پی کے لیے صرف ایک مذہبی علامت نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کا بھی ایک بڑا مرکز ہے، اس لحاظ سے یہ اسکینڈل بی جے پی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گیا ہے، جسے اپوزیشن حکومت کے شفاف حکمرانی کے دعوئوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ 29 جون 2026 کو سپریم کورٹ میں اس معاملے پر ایک علیحدہ عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ایک آزاد اور وقت کے پابند اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی خصوصی عدالت میں بھی سماعت متوقع ہے جہاں گرفتار ملزمان کو پیش کیا جائے گا۔ اس لیے اب سب کی نظریں ایس آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر ہیں، جو یہ طے کرے گی کہ یہ معاملہ صرف انتظامی خامیوں تک محدود تھا یا پھر ایک وسیع تر مجرمانہ اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کرے گا۔
اس پورے واقعے سے چند اہم سبق ملتے ہیں جن میں اول یہ کہ عقیدت اور انتظام کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے کیونکہ کسی بھی مقدس مقام کا تقدس اس کے انتظامی ڈھانچے کی شفافیت پر منحصر ہوتا ہے؛ دوم یہ کہ شفافیت اور احتساب کسی بھی ادارے کے لیے ناگزیر ہیں چاہے وہ کتنا ہی بڑا مذہبی ادارہ کیوں نہ ہو؛ اور سوم یہ کہ سیاسی جماعتوں کو مذہبی علامتوں کا استعمال انتخابی فائدے کے لیے کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ جب ایسے اسٹرکچر داغدار ہوتے ہیں تو اس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ رام مندر کے چندے میں خیانت کا یہ معاملہ صرف مالی اسکینڈل نہیں ہے، بلکہ یہ آستھا کا المیہ، انتظامی ناکامی، سیاسی چیلنج اور ایک گہرا سماجی سوال ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جب عقیدت کو انتظامی غفلت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، تو نتائج کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایودھیا کے اس مندر کی اور اس میں آنے والے چندے کی حفاظت اب ایک بڑا امتحانی نشان ہے، جس کا جواب صرف ایک شفاف مانیٹرنگ، سخت احتساب اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کے قیام سے ہی ممکن ہے۔