ظریفانہ: رام مندر کی چندہ چوری

ظریفانہ: رام مندر کی چندہ چوری

ظریفانہ: رام مندر کی چندہ چوری

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

للن سنگھ نے کلن تیواری سے پوچھا کیوں بھائی اتنے طنطنے سے کہاں جارہے ہو؟
کلن بولا میں ایودھیا جارہا ہوں ۔ کیوں تمہیں کوئی اعتراض ہے کیا؟
بھیا میں کون ہوتا ہوں اعتراض کرنے والا لیکن ذرا سنبھال کے جانا کل سرکار نے اجئے رائے سمیت سبھی کانگریسیوں کو نظر بند کردیا تھا ۔
ارے بھیا ایسی گالی نہ دو ۔ کیا میں تمہیں کانگریسی نظر آتا ہوں ۔ میں تو پیدائشی سنگھی ہوں ۔ میرا جنم شاکھا میں ہوا ہے؟
شاکھا میں جنم ؟ کیا بکتے ہو۔ اس وقت تو سنگھ نے خواتین کا شعبہ بھی قائم نہیں کیا تھا اور تمہاری ماں اسپتال کے بجائے شاکھا میں کیوں چلی گئی؟
یہ بہت اچھا سوال ہے۔ میرے والد اس وقت شاکھا میں تھےتو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا یہیں آجاو ہم دونوں ایک ساتھ اسپتال چلے جائیں گے ۔
وہ تو ٹھیک مگر تم تو کہہ رہے تھے کہ تمہاری پیدائش ہی۰۰۰۰۰۰
وہی تو جس وقت میری ماتا جی شاکھا میں پہنچی سنگھ چالک کا پروچن چل رہا تھا اس لیے پتاجی نظم و ضبط کے پیش نظر ختم ہونے تک بیٹھے رہے ۔
ارے لیکن تمہاری ماتا جی اکیلی بھی تو اسپتال جاسکتی تھیں ۔
کیسے جاتی ؟ گاوں میں اسپتال دور تھا ۔ پتاجی ان کو ڈبل سیٹ سائیکل پر لے جانے والے تھے اس لیے انتظار کرنا پڑا۔
یار تم کہانی کو الجھاتے جارہے ہو۔ یہ بتاو کہ آخر ہواکیا ؟
ارے بھیا وہ تو میں بتا چکا ہوں کہ میرا جنم شاکھا میں ہوگیا لیکن تم اسے ماننے کے بجائے الٹے سیدھے سوالات کیے جارہے ہو۔
للن گھبرا کر بولا اچھا بھیا ناراض کیوں ہوتے ہو میں تمہاری بات سمجھ گیا۔ سنگھ کی تربیت کا اثر ہے نا بات دیر سے سمجھ میں آتی ہے۔
کلن بگڑ کر بولا اپنی کم عقلی کے لیے سنگھ کو ذمہ ٹھہرانا بہت بری بات ہے۔
نہیں بھائی ایسا نہیں ہے۔ میں کالج کے زمانے تک بہت ذہین اور دلیر انسان تھا لیکن پھر سنگھ کے چکر میں جو بزدلی آئی تو اپنے آپ کند ذہن ہوگیا ۔
کلن بولا یار میں نے ایک ہمدردانہ مشورہ دیا کہ ایودھیا سنبھال کر جانا ۔ اس کے جواب میں تم اپنی جنم کنڈلی کھول بیٹھے ۔ اچھا یہ بتاو کہ کیوں جارہے ہو؟
للن نے الٹا سوال کردیا کہ یہ بھی کوئی سوال ہے ۔ لوگ آخر ایودھیا کیوں جاتے ہیں ؟
بھیا الگ الگ مقاصد کے تحت جاتے ہیں اس لیے پوچھ لیا تو اتنا بھڑک کیوں گئے؟ آج تم ہر بات میں لڑ جاتے ہو بھابی سےلڑائی تو نہیں ہوگئی؟
ارے بھیا بیوی گھر پر ہو تو جھگڑا بھی کرے وہ تو اپنے میکے چلی گئی ہے۔
اچھا تو اس بیچاری کو بھی لڑ بھڑ کر بھگا دیا کیا؟
وہ کوئی بیچاری نہیں اور میں اس سے لڑنے کی غلطی بھی نہیں کرسکتا ۔ للن شرما کر بولا تم تو جانتے ہو کہ وہی تو ہے جس میں ڈرتا ہوں۔
مجھے پتہ ہے لیکن وہ چلی کیوں گئی ؟
وہ کانگریسی کی بیٹی مجھ سے کہتی تھی رام کا چکر چھوڑ کر کوئی کام دھام کرو مگر میں اسے سمجھاتا تھا کہ میں پکاّ رام بھگت ہوں کوئی کام نہیں کروں گا۔
لیکن پھر بھی کئی سالوں سے تو تمہارا گزر بسر ہورہا تھا ۔
جی ہاں ہم دونوں ایک دوسرے کو سمجھاتے رہتے تھے لیکن اب وہ مایوس ہوکر چلی گئی ۔
کلن بولا ارے بھائی اس مایوسی کی کوئی وجہ بھی تو ہوگی؟
جی ہاں رات اس نے کا کہا کہ وہ رام مندرکے چندہ چور کی بیوی بن کرنہیں رہ سکتی اور چلی گئی ۔ میں تو برباد ہوگیا کلن میں اس کے بغیر مرجاوں گا۔
اچھا تو کیا تم نے بھی چندہ ۰۰۰۰۰۰۰۰
للن نے کلن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور بولا تم کواپنے بچپن کا دوست چندہ چور دکھائی دیتا ہے؟ میں بھوکا مرجاوں گا مگرچندہ چوری نہیں کروں گا ۔
کلن سمجھاتے ہوئے بولا مجھے معلوم ہے تم ایسا نہیں کرسکتے مگر تمہاری بیوی یہ بات کیوں نہیں سمجھتی ؟
یار کلن اس کا بھائی اپنی بہن سے ملنے آیا تو مجھ سے ٹکرا گیا اور کہنے لگا کہ اب تو عقل کے ناخون لو دیکھو تمہارے سنگھ پریوار چندہ چوری کررہاہے۔
ارے بھائی یہ بات تو ساری دنیا کہہ رہی ہے اور درست بھی ہے اس لیے برا نہیں مانتے ۔
جی ہاں مجھے یہی کرنا چاہیے تھا مگر میں نے جوش میں آکر ایک ویڈیو بناکر سوشیل میڈیا پر ڈال دی ۔
وہی جس میں تم نے کہا تھا کہ ہمارا مندر، ہمارا چندہ ، ہم چوری یا ساہوکاری جو چاہیں کریں ؟ کسی کو کیا مطلب ؟ یار وہ تو بڑی وائرل ہورہی ہے۔
جی ہاں اس میں یہی تو میں نے سمجھایا تھا کہ سچا بھگت دان دے کر بھول جاتا ہے ۔ اسے پونیہ سے مطلب اس کو چوری چکاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کلن بولا یار یہی تو مسئلہ ہے کہ لوگ ’مت دان‘(ووٹ دے )کرنہیں بھولتے بلکہ الٹا پوچھتے ہیں کہ ہم نے اپنے وعدے کیوں پورے نہیں کیے؟
میں نے بلواسطہ یہی سمجھانے کی کوشش کی مندر کا چندہ ہو یا ای وی ایم کا ووٹ ، عوام کا کام رام راجیہ کے لیے اپنا فرض نبھا کر بھول جانا چاہیے۔
یار تمہاری منطق تو گیتا کا گیان ہے جس میں کہا گیا’’کرم کیے جا پھل کی اِچھاّ(خواہش) مت کر اے انسان جیسے کرم کرے گا ویسے پھل دے گا بھگوان۔
جی ہاں مگر وہ ویڈیو کمبخت گھومتے گھومتے میری بیوی تک پہنچی تو وہ سمجھ گئی کہ میں اس کے بھائی کو جواب دے رہا ہوں اس لیے ناراض ہوکرچلی گئی۔
ارے بھیا دوچار دن میں غصہ ٹھنڈا ہوگا تو لوٹ آئے گی ۔ بیویوں کا دماغ ’ گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشا‘ہوتا ہے ۔
جی ہاں کلن میں بھی یہی سوچتا تھا لیکن جب میں نے فون کرکے پوچھا کہ لینے کے لیے آوں تو اس نے جواب دینے کے بجائے ایک ویڈیو بھیج دی۔
مجھے یقین ہے کہ کوئی رومانی فلمی نغمہ بھیجا ہوگا۔ بھارت ماتا کی بہوئیں ایسی ہی ہوتی ہیں ۔
نہیں بھائی وہ پونے کی سیا گوئل والی ویڈیو تھی جس میں اس نے اپنے منگیتر کیتن اگروال کا قتل کردیا تھا ۔ ویڈیو نے نیچے لکھا تھا مرنا ہے تو آجانا۔
کلن ہنس کر بولا یار تم بہت بھولے یہ تو بھابی کے پیار کا انوکھا اظہار ہے ۔ تم اسے لینے کے لیے جاو ۔ وہ خوشی خوشی آجائے گی۔
نہیں بھیا مجھے ڈر لگتا ہے ؟ میرے خیال میں اس کو بھی چیتن چودھری جیسا کوئی عاشق مل گیا ہے ۔
چیتن تو چل جائے گاکسی جمن چودھری کے ساتھ نکل گئی تو بہت برا ہوگا ۔ آج کل لو جہاد زوروں پر ہے ہر روز کوئی ناکوئی ویڈیو دیکھنے کو ملتی ہے۔
بھائی جمن والےتو دوسری بیوی بناکر رکھ لیتے ہیں مسئلہ چیتن والوں کا ہے جنھیں دوسری شادی کی اجازت نہیں اس لیےکام نکال کرقتل کردیتے ہیں۔
یار تم بھی عجیب آدمی ہو۔ تمہاری بیوی تمہیں مارنے کی دھمکی دے رہی ہے اور تمہیں اس کے قتل کی فکر ستا رہی ہے ؟
بھیا کیا کروں محبت چیز ہی ایسی ہے۔ تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری بھابی ٹِلن سے کتنا پیار کرتا ہوں؟ میں اس کے بغیر جی نہیں سکوں گا ۔
کلن بولا اچھا اب سمجھا کہ تم ایودھیا کیوں جارہے ہو ؟ وہاں درشن کرکے اپنی بیوی کی واپسی کے لیے پرارتھنا کروگے ؟
نہیں کلن میں درشن کے بجائےپر درشن ( احتجاج) کرنے کے لیے ایودھیا جارہا ہوں۔
احتجاج ! ایودھیا میں جاکر کون احتجاج کرتا ہے؟ اتنا ہی شوق ہے تو دہلی کے جنتر منتر چلے جاو جہاں کاکروچ جنتا پارٹی مظاہرہ کررہی ہے ۔
مجھے دھرمیندر پردھان سے کوئی شکایت نہیں ہے اس لیے میں کاکروچ پارٹی کے احتجاج میں کیوں جاوں ؟ وہ استعفیٰ دے یا نہ دے کیا فرق پڑتا ہے؟
اچھا تو تمہیں کس سے شکایت ہے؟ جو تم ایودھیا جارہے ہو؟
مجھے پردھان سیوک سے شکایت ہے ۔انہوں مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔رام کا پران پرتشٹھان کیا اور پھر مندر پر ہندوتوا کا پرچم بھی لہرایا۔
لیکن تم تو تینوں مواقع پر بہت خوش تھے ۔جشن منارہے تھے اور مٹھائی بھی بانٹ رہے تھے۔
جی ہاں میں آج بھی خوش ہوتا اگر وہ ایودھیا آکر ان چندہ چوروں کا ودھ(قتل) کرتے۔ اس کو سرِ عام پھانسی پر لٹکاتے مگر افسوس کہ وہ خاموش ہیں۔
ارے بھائی یہ ان کا کام تھوڑی نا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کی یہ ذمہ داری ہے اور یوگی جی کسی کو نہیں چھوڑیں گے ۔
یوگی جی کو اگر کچھ کرنا ہوتا تو کب کا بلڈوزر چل جاتا اور انکاونٹر ہوگیا ہوتا ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ چھوٹے موٹے کو پھنساکر بڑےمجرمین کو بچایا جارہا ہے۔
یار تم نے اتنا بڑا الزام لگا دیا۔ وہ آخر ایسا کیوں کریں گے ؟
بھیا جن کو پکڑا گیا ہے وہ اپنے آقاوں کو پھنسائیں گے لیکن اگر بڑوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو ان کے آقا پکڑے جائیں گے ۔
اچھا! ٹھیک تو ہے۔ نیچے سے شروعات ہوئی ہے وہ اوپر تک جائے گی ۔ دھیرج رکھو ۔
مجھے نہیں لگتا کہ یہ شعلے اوپر جائیں گے۔ انہیں درمیان میں بجھا کر اوپر والے خود کو بچالیں گے کیونکہ خود کو پھانسی کوئی نہیں چڑھاتا۔
چلو مان لیا ایسا ہی ہوگا مگر ہم کیا کرسکتے ہیں؟
وہی جو میں کررہا ہوں ۔ میں ایودھیا جاکر مندر کے سامنے پھانسی سے لٹک جاوں گا یا خود سوزی کرلوں گا۔
کلن نے گھبرا کر پوچھا کیا بکتے ہو للن ؟تم ان چوروں کے لیے اپنی جان کیوں داوں پر لگا رہے ہو؟
بھائی میں سمجھتا ہوں کہ مجھ جیسے اندھ بھگتوں کی آنکھیں کھولنے کا یہی ایک طریقہ بچا ہے۔ میری لاش دیکھ کرشاید ان کی انتر آتما(ضمیر )جاگ جائے۔
یہ سن کر کلن کو دل ایسا شدید دورہ پڑا کہ اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے