کیا ہم سچ میں حسینی ہیں ؟

کیا ہم سچ میں حسینی ہیں ؟

کیا ہم سچ میں حسینی ہیں ؟

تحریر : جاوید اختر بھارتی

سب سے پہلے آغاز اپنے نظرئیے سے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قدموں کی جوتیاں راقم الحروف کے سر کا تاج ہیں امام عالی مقام کے قدموں کی دھول راقم الحروف کی آنکھوں کا سرمہ ہے لعنت ہو ان بدبختوں پر جنہوں نے باغ گل زہرہ کے پھول کو شہید کیا فرزند بتول پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے رسول کائنات کے نواسے کی گردن پر تلوار چلائی ،، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسین منی وانا من الحسین حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں مطلب یہ ہوا کہ حسین سے جس نے محبت کی اس نے نبی سے محبت کی جس نے نبی سے محبت کی اس نے حسین سے محبت کی امام علی مقام کے رتبے کا کیا کہنا کہ ممبر رسول پر اپنے نانا کے ساتھ بیٹھے کائنات کے ذرے ذرے کا نبی جب سجدے میں جائیں تو امام علی مقام پشت پر سوار ہو جائیں تو محبت پیار شفقت کا یہ عالم کہ نبی سید الکونین اپنے سجدے کو طول دے دیں اس سے امام حسین کے مقام و مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ امام حسین سے بغض رکھنا دنیا و اخرت کے لیے ذلت و رسوائی اور تباہی کا ذریعہ ہے،، ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے سچی محبت رکھے-

« محبت کی دلیل » زندگی کے بہت سے موقع پر ثبوت مانگا جاتا ہے اور وہ ثبوت اسی شعبے میں پیش کرنا ہوتا ہے جس شعبے سے وہ موقع مناسبت رکھتا ہو یعنی محبت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جو جس سے محبت کرتا ہے وہ اس کی ادا کو پسند کرتا ہے، اس کا تذکرہ خوب کرتا ہے اور اپنے محبوب کی ادا کو اپنانے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے اور یہ چیز دنیا میں ہمیں دکھائی بھی دیتی ہے پھر ایک دوست اپنے دوسرے دوست کے من مطابق کپڑے سلواتا ہے اور اس کی ہر بات پر لبیک کہتا ہے تو جب دین کی بات آتی ہے یا پیغمبر اخر الزماں کی بات آتی ہے اور اہل بیت اطہار کی بات آتی ہے اور ان سے محبت کا سوال آتا ہے تو ہم ان کی اداؤں پر عمل کیوں نہیں کرتے ان کے پیغامات پر عمل کیوں نہیں کرتے ان کی سیرت کو ہم اپنی زندگی میں کیوں نہیں لاتے؟؟؟ جہاں دنیاوی محبت کی بات آتی ہے تو ہم دن اور رات ایک کر دیتے ہیں اور جہاں رب کے قران اور نبی کے فرمان سے محبت کی بات آتی ہے تو ہم زبانی جمع خرچی سے کام چلاتے ہیں روایات اختلافات اور بے جا ناقص خرافاتی رسم و رواج کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں وہاں ہمیں محبت کا اصل معیار اور اصل پیمانہ کیوں یاد نہیں اتا؟

فجر کی نماز کا وقت ہے امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم مصلے پر ہیں امامت فرما رہے ہیں ابھی ایک رکعت ہوئی ہے ابو لولو فیروز بدبخت نیزہ مارا پیٹ پھٹ گیا امیر المومنین بے ہوش ہو گئے جب ہوش آیا تو نماز کے بارے میں پوچھا جب معلوم ہوا کہ ابھی ایک رکعت باقی تھی تو امیر المومنین نے نماز ادا کی یعنی زخمی حالت میں بھی فاروق اعظم نے اعلان کیا کہ نماز میرے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ چالیس دن تک دشمنوں کے محاصرے میں رہ کر اعلان کیا کہ نماز میرے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نو صاحبزادوں نے کربلا میں شہادت دے کر اعلان کیا کہ نماز حسنین کریمین کے نانا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے،، تمام شہدائے کربلا کا ایک اعلان کہ نماز دین کا ستون ہے، نماز مومن کی معراج ہے اور نماز کبھی کسی حال میں بھی معاف نہیں –

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجلسوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ سیدنا امام حسین نے سر کٹا کر نماز بچائی یعنی ایک طرف ہمیں حضرت امام حسین کی عظمت کا اعتراف ہے پھر بھی ہم ان کے مشن اور ان کے پیغام پر عمل سے کوسوں دور ہیں،، یقیناً امام عالی مقام کے نام سے سبیلووں کا اہتمام اچھی بات ہے لیکن سبیلوں کے اہتمام میں نماز چھوٹ جائے تو ایسی سبیل سے کوئی فائدہ نہیں، یقیناً امام عالی مقام کے نام کی مجلس کا اہتمام اچھی بات ہے لیکن اس مجلس کے انتظام میں نماز چھوٹ جائے تو ایسی مجلس کا کوئی فائدہ نہیں،، یقیناً جلسہ سیرۃ النبی و میلادالنبی کا اہتمام اچھی بات ہے لیکن اس کے انتظام میں، اسٹیج کی سجاوٹ میں، ٹینٹ و شامیانا لگانے میں نماز چھوٹ جائے تو ایسے جلسوں اور جلوسوں اور اسٹیج کا کوئی فائدہ نہیں

حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں ظلم، جبر، بھوک، پیاس، شہادتِ عزیزان اور ہر قسم کی آزمائش کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ترک نہیں کیا۔ جب نماز کا وقت آیا تو تلواروں اور تیروں کی بارش میں بھی نماز قائم کی گئی، کیونکہ ان کے نزدیک اللہ کی رضا ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔

آج ہم خود کو امام حسینؓ کا ماننے والا کہتے ہیں، ان سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، ان کے غم میں مجالس اور جلوسوں میں شریک بھی ہوتے ہیں، لیکن اگر انہی دنوں میں ہماری اپنی نمازیں قضا ہو جائیں، فجر سو کر گزر جائے، ظہر و عصر کاروبار میں رہ جائیں، مغرب و عشاء غفلت کی نذر ہو جائیں، تو ہمیں اپنے دل سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہماری محبت صرف دعووں تک محدود ہے؟

امام حسینؓ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیتؓ اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دے کر یہ پیغام دیا کہ اللہ تعالیٰ کے دین پر ثابت قدم رہنا ہی کامیابی ہے۔ اگر ہم واقعی حسینی ہیں تو ہماری پہچان بھی سچائی، تقویٰ، عدل، صبر، حسنِ اخلاق اور سب سے بڑھ کر نماز کی پابندی ہونی چاہیے۔

محرم کا اصل پیغام یہ نہیں کہ صرف آنسو بہائے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالا جائے۔ جو شخص امام حسینؓ سے محبت کرتا ہے، وہ ان کے کردار، ان کی قربانی اور ان کی عبادت سے بھی محبت کرے۔

آئیے عہد کریں کہ اس محرم کے مہینے میں ہم صرف امام حسینؓ کو صرف نمائشی طور پر یاد نہیں کریں گے بلکہ ان کے پیغام پر عمل بھی کریں گے۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے، گناہوں سے بچیں گے، حق کا ساتھ دیں گے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں گے۔ یہی امام حسینؓ سے سچی محبت اور حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
ملک عرب کے تپتے ہوئے صحرا و جنگل ، میدان و بیابان میں بھوک و پیاس سے نڈھال ہوکر ، ظلم و ستم کے پہاڑ سہ کر نماز قضا نہیں کی کیوں ؟ اس لئے کہ نماز میرے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور امام حسین میرے آقا کے نواسے ہیں ،، یعنی نواسے نے ظلم و جبر کے میدان میں بھی اعلان کردیا کہ او میرے نانا کا کلمہ پڑھنے والوں یاد رکھنا نماز میرے نانا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے –
افسوس صد افسوس آج کے دور میں اکثریت میں دیکھا جاتا ہے کہ علماء، خطباء، شعراء وغیرہ ہر چیز کو تجارت کا رنگ دینے میں پیچھے نہیں ہیں،، امام عالی مقام نے کربلا کی سرزمین پر مصائب کو برداشت کیا اور صبر کا دامن تھامے رکھا اور آج کا خطیب اسی مصائپ کو بیان کرنے کا منہ مانگی قیمت وصول کرنے میں لگا رہتا ہے اور اپنی تقریر جمانے کے لئے ابو مخنف لوط بن یحیی کی غیر معتبر و غیر مستند تحریر و روایات کا سہارا لیتا ہے اور ایسی ایسی فرضی و من گھڑت روایات بیان کرتا ہے کہ خود امام عالی مقام کی توہین تک کر بیٹھتا ہے اور ایسے خطیبوں کے روئیے سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد صرف رونا رلانا ہوتا ہے یقیناً ایسے خطباء بھی لعنت کے ہی مستحق ہیں ،، ان میں بعض خطباء ایسے ہیں کہ وہ اپنی چرب زبانی کے آگے ادب لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں امام عالی مقام کی شان میں پچپن سال کا بوڑھا کہنا کیا یہ ادب کے خلاف نہیں ہے،، بالکل ادب کے خلاف ہے،، چرب زبانی کا حال تو یہ ہے کہ ایک خطیب نے جذباتی انداز میں بولتے ہوئے کہتا ہے کہ امام عالی مقام کا گھوڑا پوری رات دھوپ میں کھڑا رہا،، یہ حال ہے آج کے دور کے بعض خطباء و مقررین کا انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہماری بات دلائل پر مبنی ہے یا ہوائی ریومر ہے-

ایک اور انتہائی اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسا طبقہ بھی ہے جو یزید کو لعن و طعن کرتا ہے، ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو سکوت اختیار کرتا ہے یہ دونوں نظریہ تو سمجھ میں آتا ہے لیکن آج کچھ لوگ یزید کو امیرالمومنین بھی کہنے لگے یہ بات تو سمجھ میں نہیں آتی آخر کس بنیاد پر امیرالمؤمنین کہا جاسکتا ہے جبکہ امیرالمومنین تو حضرت امیر معاویہ کو بھی نہیں کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے خلافت کو ملوکیت ( بادشاہت)میں تبدیل کیا ہے،، یاد رکھیں یزید کو امیرالمومنین کہنا، رضی اللہ تعالی عنہ کہنا یہ یزید کے ساتھ ہمدردی و محبت ہے لیکن یہ اتنی خطرناک محبت ہے کہ امام عالی مقام کے ساتھ بغض و حسد سے تعبیر ہوتی ہے یعنی یزید سے محبت رکھنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بغض کا اظہار ہے کیونکہ ایک ہی سینے میں امام حسین کی محبت اور یزید کی بھی محبت ایسا نہیں ہوسکتا-

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں حضرت سیدنا امام حُسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سچی محبت کرنے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے اور نماز کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
+++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے