ایران اور اسرائیل و امریکہ کی جنگ دراصل طوفان الاقصیٰ کی توسیع ہے جو ختم ہوگئی مگراسرائیلی جارحیت کا ہنوز خاتمہ نہیں ہوا۔طوفان الاقصیٰ کے جواب میں شروع کی جانے والی اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ نے پچھلے ہفتے اپنے ایک ہزار دن پورے کرلیے۔یہ 1000 دن بہت ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایران اور امریکہ جنگ میں چونکہ 10 دن کے اندر اسرائیل کی چولیں ہل گئیں اس لیے50 دن بعد امن مذاکرات شروع ہوگئے اور 100کے اندر جنگ رک گئی ۔ غزہ کا معاملہ مختلف ہے وہاں پچھلے 75؍سال سے اسرائیل ہلکی آنچ پر دھیرے دھیرے فلسطین کو نگلتا جارہا تھا ۔ غزہ کو صہیونیوں نے ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا تھا ۔ اس کی من مانی آسمان کو چھو رہی تھی مگر نام نہاد مہذب دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی بلکہ چپ رہ کر بلواسطہ اسرائیل کی حمایت کررہی تھی ۔ ایسے میں حماس نے اس اعلان کے ساتھ جیل کے حصار کو توڑ دیا کہ؎
ہم امن چاہتے ہیں مگر جنگ کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
طوفان الاقصیٰ اس جنگ کااعلان تھا جس نے آگے چل کر دنیا کی سوچ بدل دی ۔ اسرائیل کو بے نقاب کرکے اس کاغرور مٹی میں ملانے کا کارنامہ انجام دیا ۔ اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو نسل کشی کا جنگی مجرم قرار دے دیا ۔ ایک ہزار دن قبل جو اسرائیل مغربی ممالک سمیت امریکہ کی آنکھوں کا تارہ تھا آج پیر کا کانٹا بن گیا ہے۔ دنیا کا کوئی شریف ملک اس کے قریب جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔بیشتر یوروپی ممالک نے اس سے اپنے رشتے منقطع کرلیے ہیں۔ اس کی فوجی فراہمی پر پابندی لگا دی ہے۔ اسرائیل کی جنگی امداد کے لیے جانے والے جہازوں کو ضبط کرلیا جاتا ہے یہاں تک اس کے سب سے بڑے حلیف امریکہ میں رائے عامہ کے اندر فلسطین کے حوالے سے غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ طلبا اور نوجوانوں کے اندر اسرائیل کے تئیں نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا ایک ثبوت اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے اندر 250؍واں یوم آزادی منانے والوں نے اسرائیلی پرچم کو اپنے قدموں تلے روند کر یا جلا کر اس کی ویڈیو سوشیل میڈیا پر شیئر کی ۔ وہ لوگ زبانِ حال سے یہ شعر پڑھ رہے تھے؎
ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے
ایران نے تو اپنے سابق رہبرِ معظم کی تدفین کو جشن فتح بنا کر پوری دنیا میں اپنی برتری ثابت کردی جبکہ خوش فہمی میں مبتلا صدر ٹرمپ نے اپنے ملک کی 250؍ سالگرہ پر ایک بار پھر یہ دعویٰ کردیا کہ ’ایرانی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں۔‘ یہ معاہدہ چونکہ ابھی حال میں ہوا ہے اس لیے اس کے نشیب و فراز سب کے سامنے ہیں ۔ ٹرمپ نے جنگ کے دوسرے ہی دن جب پہلی بار ایران کی قیادت کے ساتھ گفت و شنید کی پیشکش کی تھی تو اسے ایران نے ٹھکرا کر کہا کہ ’جنگ شروع تو تم نے کی ہے مگر ختم ہم کریں گے‘۔ آگے چل کر اسرائیل اور امریکہ کا گھمنڈ خاک میں ملانے کے بعد ایران نے امریکی شرائط کو ٹھکرا کر اپنی شرطیں رکھیں اور جب تک فرق ثانی ان پر راضی نہیں ہوا وہ بات چیت کی میز پر نہیں آئے۔ اسلام آباد میں پہلے دن ایرانی وفد نے ڈیڑھ گھنٹے تک امریکی نائب صدر کو انتظار کروایا۔ دوسرے مرحلے کی گفتگو میں شرکت سے پہلےانکار کیا پھر امریکی یقین دہانی کے بعد نئی تاریخوں پر آئے۔ جینیوا میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کے سبب وفد نہیں بھیجا اور اسے جب امریکہ نے مجبورکیا تو اس کے بعد بھی گفتگو آگے بڑھائی گئی۔ یہ واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ امن کی بھیک ایران نہیں امریکہ مانگ رہا تھا کیونکہ نہ صرف دنیا کے سارے ممالک بلکہ خود امریکی کانگریس بھی جنگ کے خلاف کمربستہ ہوگئی تھی۔ اس لیے اپنی کمزوری کو دوسروں پر تھوپنے کی امریکی کوشش اب کا میاب نہیں ہوگی۔
عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کی اس رسوائی اور فلسطین و ایران کی کامیابی کے پیچھے اہلیان غزہ کی بے مثال استقامت اور قربانیاں ہیں۔ اس جنگ نے خود اسرائیل کی یہودی عوام کے سامنے بھی اپنے حکمرانوں کو بے نقاب کردیا ۔ اسرائیلی حکومت کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس جونفری جنگ میں کھیت رہے ان میں 62 فیصد ریزرو فوجی، 21 فیصد لازمی سروس کے فوجی، 10 فیصد پولیس اہلکار اور 7 فیصد مستقل سروس والے فوجی شامل ہیں۔ یہ اعداد گواہی دے رہے ہیں کہ مستقل تنخواہ دار فوجی لڑتے نہیں اس لیے زخمی بھی نہیں ہوتے ۔ ہندوستان کے اندر جاری اگنی ویر جیسے ریزرو اور لازمی سروس کے فوجیوں یعنی زبردستی کے دستوں کو زخمی ہونے کے لیے آگے رکھا جاتا ہے۔ اس سائیڈ افیکٹ یہ ہے کہ رضاکار فوجی میدانِ جنگ سے نفسیاتی امراض کے ساتھ لوٹتے ہیں۔غزہ میں فی الحال جنگ کا بازار پہلےکی طرح گرم نہیں ہے اس کے باوجود اسرائیل کی وزارت جنگ کی یہ پیشنگوئی بظاہر قابلِ فہم نہیں ہے کہ مختلف امراض سے بحالی کے شعبے میں علاج کروانے والے فوجیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 2026ء کے اختتام تک 90 ہزار سے تجاوز کر جائے گی، اور 2028ء تک ایک لاکھ کے قریب پہنچ جائے گی، جن میں سے تقریباً 50 ہزار افراد نفسیاتی امراض کا شکار ہوں گے۔ اس غیر معمولی اضافہ کی وجہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ میں متاثرین کی تعداد ہوسکتی ہے ۔
ان اعدادوشمار سے اندازہ ہوتا ہے ایرانی بمباری نے چند دنوں کے اندر اسرائیلی فوج کا کیا حال کردیا ؟ یہ جنگ اگر طول پکڑ جاتی تو ایک آدھ سال بعدنصف اسرائیلی فوج اسپتالوں یا پاگل خانوں میں ہوتی جن کا مہذب نام نفسیاتی امراض کی بحالی کے مراکز ہے۔ اسرائیلی وزارت نے اعتراف کیا کہ اس نے جنگ کے آغاز سے ہی بحالی کے شعبے کی خدمات کو وسیع کیا ہے، جس کے تحت نفسیاتی ماہرین کی تعداد چار ہزار تک کر دی گئی ہے جو جنگ سے پہلے کی نسبت چار گنا زیادہ ہے، جبکہ بحالی مراکز کی تعداد کو تین گنا بڑھا یا گیا ہے۔ اتنے سارے فوجیوں کو مصیبت میں ڈالنے کے بجائے ایک نیتن یاہو کوپاگل خانے میں بھرتی کرکے اس کا علاج کیا جاتا تو دنیا بھر کی تباہی و بربادی کو ٹالا جاسکتا تھا۔ اسرائیلی عوام کے پاس موقع ہے کہ اگلے انتخاب میں اس جنگی جنونی کو اقتدار پر فائز کرنے کے بجائے جیل بھیج د یں ۔ ایران کی جنگ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کا اندازہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے پر ان کے تبصروں سے کیا جاسکتا ہے۔ موصوف کچھ ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیرانی سے بولے کہ ان کا خیال تھا کہ لوگ ’علی خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعتراف پر کسی کو تعجب نہیں ہوا کیونکہ وہ اپنے بارے میں بے شمار خوش فہمیوں اور دوسروں کی بابت بہت ساری غلط فہمیوں کا شکار ہیں اوران کی احمقانہ توجیہات کرتے رہتے ہیں مثلاً اپنے مندرجہ بالا مشاہدے کے بعد انہوں نے کچھ سوچ کر کہا ’شاید یہ آنسو اصلی نہیں ہیں۔‘ ایک سیاستداں کا عوام کو جھانسا دینے کی خاطر گھڑیالی آنسو بہانا تو قابلِ فہم ہے مگر عام لوگوں کواس نوٹنکی کی کیا ضرورت؟ دوسروں کو خود پر قیاس کرنے والے ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ساری دنیا ان کی طرح منافق نہیں ہے۔ نرگسیت کا شکار ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے جنازے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازےسے "کہیں زیادہ بڑا ہجوم” امڈے گا۔انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ، "نام نہاد آیت اللہ، جو ایک ناکام اور انتہائی برے انسان تھے، اگر ان کے جنازے میں ایک ہزار لوگ بھی آ جائیں تو یہ ان کی خوش قسمتی ہوگی۔ اس کے برعکس، میرے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوں گے!”۔
حقیقت میں الٹا ہوگیا آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں لوگ آئے جبکہ ٹرمپ کی موت پرایک ہزار بھی نہیں ہوں گے ۔ امریکی روایت کے مطابق صدر کی آخری رسومات میں عوام کو شرکت کی اجازت دی جاتی ہے بلکہ محدود تعداد میں مخصوص لوگ شرکت کرتے ہیں شاید اس لیے کہ اگر عام لوگوں دعوت دی جائے تب کوئی آنے کی زحمت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ خامنہ ای کے جنازے کی "کسی کو پروا نہیں” جبکہ لاکھوں سوگواروں کے علاوہ تقریباً سو ممالک کے وفود نے اس میں شرکت کی۔ ٹرمپ نے اپنے جنازے میں شرکا کی تعداد سے ریکارڈ قائم کرنے دعویٰ کرنے کے بعد خود اپنے خلاف یہ کہہ دیا کہ ، "لوگ روزانہ مجھ سے کہتے ہیں کہ ‘جناب، ہمیں اس دن کا بے صبری سے انتظار ہے۔'”یعنی وہ جلد از جلد اس مصیبت سے چھٹکارہ پانے کے منتظر ہیں۔ ٹرمپ کی ذاتِ والا صفات کے انتقال پر تو غالب کا یہ شعر صادق آئےگا:
ہوئے ہم جو مرکے رسوا ہوئے کیوں نہ غرق ِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کوئی مزار ہوتا