شاعری کانزول منجانب اللہ ہے.بزرگ شاعر محمد امیرالدین امیرؔسے محمدیوسف رحیم بیدری کا تازہ ترین انٹرویو

شاعری کانزول منجانب اللہ ہے.بزرگ شاعر محمد امیرالدین امیرؔسے محمدیوسف رحیم بیدری کا تازہ ترین انٹرویو

شاعری کانزول منجانب اللہ ہے.بزرگ شاعر محمد امیرالدین امیرؔسے محمدیوسف رحیم بیدری کا تازہ ترین انٹرویو

جناب محمد امیرالدین امیرؔکے اشعار بیدر اور کرناٹک کے کئی ایک اضلاع میں مشہور ہیں۔ ان کی غزلیں بھی پسند کی جاتی ہیں۔ تاہم سخن گوئی کے ذریعہ شہرت کاحصول پیش نظر نہیں رہا۔ شہر میں رہے ، اِدھر اُدھرپہنچ کر اپنے فن کی روشنی کو بکھیرا نہیں۔ لیکن جب بھی گئے اورجہاں بھی گئے اپنااثر ضرور چھوڑا ۔ جناب امیرالدین امیرؔکے یہ دوتین اشعار بے حد مشہور ہیں ؎
مری حقیقتِ ہستی کوئی سمجھ نہ سکا
تمام عمر مرارکھ رکھاؤ ایساتھا
اونچا خیال اور ارادہ بلند ہے
یہ اور بات ہے مجھے اڑنے کوپر نہیں
صرف اس قدر طالب ِ دیدار ہوں بہت
کرناکوئی کلام نہیں آپ سے مجھے
امیر صاحب کایوم ِ پیدائش 9؍جولائی ہے، اسی مناسبت سے8؍جولائی کوان سے لیاگیاتازہ ترین انٹرویو ملاحظہ فرمائیں ۔جناب امیرؔ نے سوالات کے مختصر جوابات دئے ہیں ۔ کسی فلسفے یااگرمگر سے کام لئے بغیر صاف اور سیدھی بات کی ہے۔ محمدیوسف رحیم بیدری کے سوال اور امیرالدین امیرؔ کے جوابات ملاحظہ فرمائیں ۔
سوال :۔ غزل کیاہے ؟
جواب :۔ میرے نزدیک غزل دراصل عورتوں سے باتیں کرنا ، آج کے ماحول کو غزل میں بیان کرنا ، سماجی ومعاشرتی قدروں کونمایاں کرکے غزل میں پیش کرنے کانام غزل ہے ۔
سوال :۔ آپ نے اپنی غزل میں کن باتوں کاخیال رکھاہے ؟ اور تینوں شعری مجموعوں میں غزل سے ہٹ کر کیا کچھ بیان کیا ہے ؟
جواب :۔ کچھ غزلیں ایسی ہیں جن میں عشق اور محبت کی باتیں ہیں۔ چند غزلیں اُس دور کی جدیدیت سے متاثر ہیں۔ اصلاحی غزلیں بھی ہیں اور کچھ غزلیں معاشرتی تحفظ کے لئے کہی گئی تھیں۔
سوال :۔ غزل لکھنے یاکہنے کاخیال کس طرح ذہن میں آتاہے ؟
جواب :۔ سب سے پہلا کوئی طبع زاد مصرع ذہن میں آتاہے۔ میری عادت ہے کہ میں اس مصرع کو مطلع میں رکھ لیتاہوں ۔ نظم کے حوالے سے یہ بات ہے کہ کوئی حادثہ یاکوئی نئی چیز دیکھنے میں آتی ہے تو دل اس کوبیان کردیتاہے ۔
سوال :۔ ادب آخر کیا ہے ۔ کوئی مشغلہ یا وقت کا ضائع ہونا؟
جواب :۔ ہمارے اِردگرد کاماحول جب ہمیں مناسب نہیں لگتاتواس کے سدھار کے لئے خود بخود شعر ہونے لگتے ہیں۔ ان ہی اشعار کے ذریعہ ممکنہ معاشرتی بیداری پیدا کی جاتی ہے۔
سوال :۔ شاعر سے متعلق ایک منفی تصوریہ معاشرے میں رائج ہے کہ وہ کام نہیں کرتا۔ کام چور ہوتاہے ۔ کیایہ صحیح ہے ؟
جواب :۔ یہ تصور سراسر غلط ہے ۔ شاعری کانزول منجانب اللہ ہے۔ ذہن میں کوئی مصرع درآتاہے اور بعدازاں پورا کلام ہوجاتاہے۔ کوئی چیز نئے انداز میں دیکھنے کوملتی ہے اور نظم مکمل ہوجاتی ہے ۔ یہ شاعر ہی ہے جو اپنے قلم کے ذریعہ سماجی بیداری کا فریضہ انجام دیتاہے۔سماج کو بیدار کرنے والے کو کام چور کہنا دراصل معاشرتی خرابی کانتیجہ ہے۔ اس جانب سے اذہان کوصاف کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال :۔ AIشاعری کررہاہے ۔ نئی نسل اس سے استفادہ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اگر یہی صورتحال آئندہ بھی رہی تو پھر انسانی شاعری کا مستقبل کیاہوگا؟
جواب :۔ جب کوئی مصرع لاکرAIسے کلام تیار کرلیتاہے تو وہ شاعر نہیں کہلاتاہے۔ یہ گمراہی ہے۔ ایسے شاعر بہت سے ہیں انھیں ان کے کلام سے پہنچانا جاسکتاہے۔
سوال :۔ امیرالدین صاحب ، خواتین کی شاعری کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
جواب :۔ چند شاعرات ایسی ہیں نہ ان میںسمجھ بوجھ ہے اور نہ سخن فہمی سے آراستہ ہیں۔ بس لکھ لیتی ہیں۔ اپنی شہرت کی خاطر پڑھنا اور غزلیں شائع کرنا معمول ہے ۔ ایسی شاعرات کی شاعری، شاعری نہیں ہوتی ۔ان کاموضوع بھی غلط ہوتاہے۔ چند شاعرات البتہ موضوع پر لکھتی ہیں۔ ان کی شاعری البتہ عمدہ ہوتی ہے۔ جیساکہ شبینہ ادیب اور ریحانہ بیگم ریحانہ وغیرہ ۔
سوال :۔ شاعری میں نازک خیالی بدلتے سماج کے ساتھ کمی کاشکار ہے یا۔۔۔۔۔؟
جواب :۔ موجودہ شاعری عوام سے ، عوام کی عقل سے بعید ہے ۔ اسلئے کہ شوق کی خاطر لکھ اور پڑھ لیتے ہیں۔ نئی نسل شاعری کی طرف باضابطہ متوجہ نہیں ہورہی ہے۔
سوال :۔ نئی نسل کی توجہ کے لئے کیاکیاجائے ؟
جواب :۔ محنت کریں ، سمجھائیں ، تربیتی کلاسیس لیں ۔ اس سے شاعر کو مانجھاجاسکتاہے۔ اور ان کی توجہ حاصل کی جاسکتی ہے۔
سوال :۔ بیدراور اطراف کی شاعری کا مستقبل کیاہے ؟
جواب :۔ فی الوقت بیدر میں شاعری کامستقبل نکھرتاہوا نظر نہیں آرہاہے۔ اس لئے کہ نئی نسل ادب کوسمجھنا نہیں چاہتی ۔ ایسا معلوم ہوتاہے موبائل میں الجھ کر نئی نسل ساری ذمہ داریاں بھول گئی ہے۔ شاذونادر کوئی متوجہ ہوگا۔ نئی نسل میںوہ بھی ہیں جنہیں شاعری سے شغف ہے مگر وہ شاعری کی تہذیب سے ناواقف ہیں۔ توپھر ادب کیسے تخلیق ہوگا
سوال :۔ ایسے اشعار جو آپ کے ہیں اور آپ کے قاری کو پسندہیں ۔
جواب:۔ درج ذیل اشعارملاحظہ فرمائیں ۔جو میرے اپنے ہیں اورقاری کوپسند آتے ہیں ؎
محبوب کون، کس کی محبت کا ہے جنون
ہم جی رہے ہیں اپنے ہی شیدا بنے ہوئے

کہتا تھا چیخ چیخ کے بسمل یہ فخر سے
قاتل کی بات ہے مرے قاتل کی بات ہے

گزرتی ساعتیں قابو میں میرے آ نہ سکیں
میں لمحہ لمحہ محبت کی جستجو تھا

تمہارے وصل کی جرأت جو ہم نے کرلی ہے
نہ آسماں سے ہوئی اور نہ وہ زمیں سے ہوئی

نہ جھونپڑی کا پتہ نہ گھر ہی لکھا تھا
مرے نصیب میں شائد سفر ہی لکھا تھا

ملنے کا ڈھنگ ان کا کچھ اتنا عجیب ہے
جب بھی ملے ہیں ہم سے بہت سوچ کر ملے

حرم سے۔دیر سے۔ کعبہ سے۔بت خانہ سے کیا مطلب
تمہارے نقش پا کو کرلیا ہے آستاں اپنا

وحشتِ دل لئے دیوانہ کدھر جاتا ہے
شہر و آبادی میں جو دیکھے وہ ڈر جاتا ہے

جگہ بھی سر کو چھپانے یہاں ملے نہ ملے
یوں زندگی میں گزاروں مکاں ملے نہ ملے

تعجب ہے میں پیچھے رہ گیا تنہا ہزاروں سے
غموں سے، آنسوؤں سے، دشمنوں سے ،فتنہ کاروں سے

جناب امیرالدین امیرؔ سے9241462440پررابطہ کیاجا سکتاہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے