اسپیشل انٹین سیو رویژن یا الجھنوں کا بازار؟
بی ایل اوز اور عوام دونوں پریشان!
تحریر: ایڈوکیٹ طاہر حُسین
کرناٹک میں ان دنوں ووٹر لسٹوں کی درستی اور تجدید کے نام پر جاری ‘اسپیشل انٹینسیو رویژن’ (خصوصی گہری نظرِ ثانی مہم) ایک عام انتخابی مشق کے بجائے ایک سنگین بحران اور انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ الیکشن کمیشن کا مقصد ووٹر لسٹ کو خامیوں سے پاک کرناہوسکتا ہے، لیکن جس انداز اور جن شرائط کے ساتھ یہ مہم تھوپی گئی ہے، اس نے زمینی سطح پر کام کرنے والے بی ایل او (BLO) برادری کو موت کے منہ میں دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔ ابھی اس مہم کو شروع ہوئے چند ہی دن ہوے ہیں،اس دوران اب تک تین بی ایل او کی اچانک موت نے جہاں ملازمین کو خوفزدہ کر دیا ہے، وہیں کمیشن کی ناقص منصوبہ بندی اور رہنمائی کے فقدان نے عام عوام کو شدید الجھن اور ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے اس پیچیدہ مہم کے لیے عوام کی کوئی ٹھوس رہنمائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے فارم پُر کرنے کو لے کر عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ عوام کے سامنے کئی ایسے تکنیکی اور انتظامی سوالات کھڑے ہیں جن کا جواب دینے والا کوئی نہیں:’پروجینی’ (Progeny) کالم کا معمہ:فارم میں موجود پروجینی کالم نے شہریوں کو چکرادیا ہے۔ عوام الجھن کا شکار ہیں کہ اس کالم میں رِشتہ کس کے ساتھ جوڑنا ہے؟ شجرہ نسب یا خاندانی تعلق کو کس بنیاد پر واضح کرنا ہے، اس پر کوئی گائیڈ لائن موجود نہیں ہے۔ بہو (Daughter-in-law) کو کس کے ساتھ میاپ کریں؟ گھر میں آنے والی نئی بہو کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرتے وقت یا میاپنگ (Mapping) کرتے وقت اسے سسرال میں کس کے ساتھ جوڑا جائے؟ اس عام مگر اہم سوال پر بھی کمیشن کی خاموشی برقرار ہے۔ گھر تبدیل کرنے والے ‘انموریشن فارم’ کو ترس گئے:وہ شہری جو حال ہی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل (Shift) ہوئے ہیں، انہیں اپنے ناموں کے اندراج کے لیے ‘انموریشن فارم’ (Enumeration Form) ہی دستیاب نہیں ہو رہے ہیں، اکثر مقامات پر بی ایل او یہ کہہ رہے کہ ہم کو تو ہدایت ملی ہے کہ اگر کوئی گھر تبدیل کرچکا ہے تو اس کو منتقل لکھ کر ڈیلیٹ کیا جائے۔۔بیچارہ ووٹر کیا کرے؟۔۔۔پرانے پتہ پر بھی فارم نہیں مل رہا ہے اور نہ ہی نیا پتہ اپڈیٹ ہوا ہے۔!جس کی وجہ سے وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
2002 کی ووٹر لسٹ کا ریکارڈ غائب:۔( ایک نیا بحران):مہم کے دوران عوام سے پرانا ریکارڈ یا 2002 کی ووٹر لسٹ کے حوالے مانگے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ووٹر لسٹ سے کئی کئی صفحات غائب ہیں،جب شہری 2002 کی ووٹر فہرستوں کا ریکارڈ دیکھنے یا نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو معلوم ہو رہا ہے کہ کمیشن کی ویب سائٹ پر ان لسٹوں کے کئی کئی صفحات ہی غائب ہیں۔مثال کے طور پر کمٹا اسمبلی حلقے کے پارٹ نمبر 139 (ہونّاور تعلقہ کیکرکی گاؤں) کی 2002 کی ووٹر لسٹ میں 228 سے319 صفحات غائب ہیں،اسی طرح 411 تا 501 صفحات غائب ہیں۔
نام نہ ملنے پر کیا کریں؟ :۔ اگر کسی شہری کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہے یا اس کا صفحہ غائب ہے، تو متبادل کے طور پر اسے کیا کرنا چاہیے؟ الیکشن کمیشن نے اس کا کوئی واضح متبادل یا حل عوام کے سامنے نہیں رکھا، جس سے شہریوں میں اپنا حقِ رائے دہی کھو دینے کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ”ہمیں فارم تو دے دیے گئے ہیں، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کالمز کو کیسے پُر کرنا ہے۔ 2002 کی لسٹ کے صفحات غائب ہیں، اب ہم اپنا پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں؟ کوئی ہماری سننے والا نہیں ہے۔”
بی ایل او پریشان:( دباؤ کا ہولناک نتیجہ):۔ ایک طرف عوام ان پیچیدہ سوالات کے جوابات کے لیے بی ایل اوز کا گھیراؤ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف خود بی ایل اوز (جو بنیادی طور پر اسکول اساتذہ کم تکنیکی درجے کے سرکاری ملازمین ہیں) شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
تین اموات کا المیہ: ۔کام کا بے پناہ بوجھ، اعلیٰ حکام کے غیر حقیقت پسندانہ اہداف (Targets) اور پورٹل کا سرور ڈاؤن ہونا ان ملازمین کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ حال ہی میں تین بی ایل اوز کی موت اسی ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
تکنیکی خرابیاں:۔ جب بی ایل اوز عوام کا ڈیٹا لے کر پورٹل پر اپ لوڈ کرنے بیٹھتے ہیں، تو ایپ کام نہیں کرتی۔ اس تکنیکی خرابی کا خمیازہ انہیں افسران کی ڈانٹ اور معطلی کی دھمکیوں کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کرناٹک کی موجودہ صورتِ حال اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔کرناٹک کی موجودہ صورتِ حال یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ انتخابی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے نام پر انسانی جانوں اور عوامی سکون کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت کو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
٭پہلا اقدام :۔ عوامی رہنمائی کے لیے ہیلپ ڈیسک، ہر وارڈ اور گاؤں کی سطح پر گائیڈ لائنز جاری کی جائیں اور ‘پروجینی کالم’، ‘بہو کی میاپنگ’ جیسے مسائل پر واضح ہدایات دی جائیں۔٭دوسرا اقدام :۔ اس مہم کی مدت میں اضافہ کیا جائے تاکہ افرا تفری ختم ہو۔٭تیسرااقدام۔( 2002 کی لسٹ کا متبادل)جن علاقوں میں 2002 کی لسٹ کے صفحات غائب ہیں، وہاں متبادل دستاویزات (جیسے پرانا راشن کارڈ یا آدھار کارڈ) کو قبول کرنے کا فوری حکم جاری کیا جائے۔ووٹر لسٹوں کو شفاف بنانا جمہوریت کے لیے ضروری ہے، لیکن اگر اس عمل کا طریقہ کار ہی عوام کے لیے الجھن اور ملازمین کے لیے موت کا پروانہ بن جائے، تو پورے نظام پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کو اپنی ضد چھوڑ کر فوری طور پر ان خامیوں کو دور کرنا چاہیے تاکہ یہ مہم کسی بحران کے بجائے ایک سہولت بن سکے۔