’’رجوع الی اللہ ‘‘ حالات کے بدلنے کا واحد راستہ

’’رجوع الی اللہ ‘‘ حالات کے بدلنے کا واحد راستہ

’’رجوع الی اللہ ‘‘ حالات کے بدلنے کا واحد راستہ

ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْئٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ 0الَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْا إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّـا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ (البقرہ: ۱۵۵)’’اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور تھوڑی سی بھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے اور خوشخبری دیجئے ان صبر کرنے والوں کو کہ جب پہنچے ان کو کچھ مصیبت تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں‘‘، سیدنا ابوسعید خدری ؓ اور سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا:مسلمان کو جو کچھ تکلیف ،رنج ،ملال اور اذیت وغم پہنچے یہاں تک کہ اس کے پیر میں کوئی کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتے ہیں ( بخاری: ۵۶۴۱) ،سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس (مسلمان بندے) کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتے ہیں( بخاری: ۵۶۴۶)،سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: مسلمان مرد وعورت کے جان ومال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا(ترمذی: ۲۴۰۷)،زندگی راحت وغم کے مجموعے کا نام ہے ،انسان کبھی راحتوں کے باغات سے گزرتا ہے تو کبھی مصیبتوں کے پُر خطر راستے سے اسے گزرنا پڑتا ہے،دنیا میں اب تک جتنے انسان آئے ہیں انہیں ان دونوں راستوں سے گزرتے ہوئے زندگی گزارنا پڑا ہے اور روز قیامت تک جتنے انسان آتے رہیں گے انہیں بھی ان دونوں راستوں گزرکر زندگی گزارنا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ بعض عقلمندوں نے انسانی زندگی کو ’’ دھوپ چھاؤں ‘‘ کا نام دیا ہے،خاص طور سے اہل ایمان کی زندگیوں میں قدم قدم پر آزمائشیں آتی رہتی ہیں اور انہیں سخت ترین حالات سے گزرنا پڑتا ہے ،مذکورہ آیت مبارکہ میں اسی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ،اس لئے کہ اہل ایمان کی دنیوی زندگی آزمائشوں سے گھری ہوتی ہے اور انہیں طرح طرح کے امتحانات سے گزرا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ انہیں جانچا وپرکھا جاتا ہے کہ وہ جس ذات پر ایمان لائے ہیں اس کی فرماں برداری میں کتنے کھرے اتر تے ہیں اور ناموافق حالات کے باوجود کس قدر ثابت قدم رہتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہر زمانے میں اپنے ماننے والوں کے ساتھ رہی ہے اور ناموافق حالات کے ذریعہ وہ اپنے ماننے والوں کو آزماتے رہے ہیں ، وہ اپنے بندوں میں سے بعض کو دنیا میں سے کچھ دے کر آزماتے ہیں تو بعض کو نہ دے کر آزماتے ہیں ، اس کے فرماں بردار بندوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں اس سے راضی وخوش رہتے ہیں اور اس کے ذریعہ انہیں اپنے رب سے تقرب کا پروانہ حاصل ہوتا ہے اور جو نافرمان بندے ہوتے ہیں تو وہ دنیا کا کچھ حصہ ملنے پر دینے والے کو بھول جاتے ہیں اور نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہوکر شکوہ وشکایت سے اپنی زبان کو آلودہ کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کی حالت سے واقف ہے ،فرماں بردار اور نافرمان ہر ایک کا طرز عمل اس کے سامنے ہے بلکہ وہ تو ہر ایک کے دلوں کی حالت سے بھی بخوبی واقف ہے ،یقینا فرماں برداروں کے لئے ہر حالت میں اجر ہے اور نافرمانوں کے لئے ہر حالت میں زَجر(ڈانٹ ڈپٹ اور سزا) ہے ،بے ایمان چاہے جس حالت میں ہوں انجام تباہی وبربادی ہے اور اہل ایمان جس حالت میں بھی ہوں آخر کار کامیابی ان کا مقدر ہے۔
اہل ایمان سے جب کبھی بشری تقاضوں کی وجہ سے گناہ ومعصیت کا صدور ہوتا ہے تو رحمت الٰہی ان سے دور ہو جاتی ہے اور دست رحمت وعنایت ان پر سے اٹھالیا جاتا ہے ،کبھی گناہوں کی نحوست انہیں گھیر لیتی ہے اور کبھی مصائب وآلام ان پر اپنا شکنجہ کس لیتے ہیں اور کبھی سخت دل اور بے انصاف حکمران ان پر مسط کر دئے جاتے ہیں مگر یہ حالات ان کے لئے وقتی اور عارضی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ایسے مواقع ان کے لئے فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعہ وہ ناموافق حالات کے خول سے آسانی کے ساتھ باہر نکل سکتے ہیں اور پھر سے رحمت الٰہی کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں اور ناموافق حالات کو اپنے لئے موافق اور سازگار بنا سکتے ہیں ،یقینا وہ لوگ جن کے دلوں پر ماحول کی گرد پڑجاتی ہے مگر اندر سے ایمانی چنگاری برقرار رہتی ہے تو وہ ان مواقع سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس کے ذریعہ اپنے روٹھے رب کو مناکر اس کی رحمت کو اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں مگر جن کے قلوب زنگ آلود ہوجاتے ہیں ،دنیا ان میں بس جاتی ہے اور عبادات کی دوری انہیں زنگ آلود کر دیتی ہے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے موقع پر موقع دئے جانے کے باوجود محروم رہتے ہیں ،اگر کوئی شخص مواقع ملنے کے باوجود اسے نظر انداز کرتا رہتا ہے تو ایک وقت گزرنے کے بعد اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے پھر وہ سیاہ کاریوں کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جو ہدایت کی جستجو کرتا ہے اور اپنے احوال کی درستگی چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہدایت کا راستہ فراہم کرتے ہیں اور اس راستے میں اس کی رہنمائی فرماتے ہیں اور اس کے لئے اس راستے کو آسان بنادیتے ہیں اور جو ہدایت کا طلبگار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے دل میں ہدایت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ بے پرواہ ہوکر زندگی گزارتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے غافل دل کی طرف متوجہ نہیں فرماتے اور نہ ہی ایسے غافل اور بے پرواہ دل کو ہدایت سے سرفراز فرماتے ہیں ،بے توجہی کے نتیجہ میں وہ گمراہی کی خاردار کانٹوں میں الجھ کر راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے اس کے بعد گمراہی اسے گھیر لیتی ہے جس کے بعد اس کے دل پر غفلت کی تہہ بہ تہہ جم جاتی ہے۔
دنیا اور دنیا کا خوبصورت ومضبوط نظام اور یہاں کے ذرہ سے لے کر آفتاب تک اور اس کائنات میں موجود ہر ایک شئے انسان کو اپنے خالق ومالک کی طرف بلا نے میں اس کی رہنمائی کرتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ تم بھی اسی خالق کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلو جس کے ہم فرماں بردار ہیں ،امام الامہ سیدنا امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ انسانوں کو اپنے حقیقی مالک کی پہچان کرانے کے لئے اور اطاعت کی طرف انہیں پھیر نے کے لئے ایک شہتوت کا پتا کافی ہے ،اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی خصوصیات رکھی ہیں ،اسے جب ہرن اپنی غذا بناتا ہے تو اس سے مشک بنتا ہے، جب ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو اس سے ریشم وجود میں آتا ہے ، بکری جب اسے کھاتی ہے تو اس سے دودھ بنتا ہے اور دیگر جانور کھاتے ہیں تو انہیں اس سے طاقت وقوت حاصل ہوتی ہےمگر افسوس ہے انسانوں پر ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے والی بے شمار چیزوں کو دیکھنے کے باوجود گمراہی پر جما رہتا ہے اور ہدایت کی جانب قدم بڑھانے کے لئے تیار نہیں ہوتا،اہل علم فرماتے ہیں کہ جب بھی انسان ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لئے نازل کردہ ہدایت نامہ اسے آواز دیتا ہے اور کامیابی کے زینہ پر چڑھ جانے کی اسے دعوت دیتا ہے اور خصوصا یہ آیت کریمہ أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ(الحدید:۱۶) اسے مسلسل آواز دیتی رہتی ہے اور گمراہی چھوڑ کر ہدایت کی طرف واپس آنے کی اسے ترغیب دلاتی رہتی ہے ،اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے گناہگار اور نافرمان بندوں سے فرمارہے ہیں کہ ’’کیا ایمان والوں کے لئے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں ‘‘ ، مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانیؒ معارف القرآن میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’یہ عتاب وتنبیہ مومنین کو ہے،حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مومنین کے قلوب میں عمل کے اعتبار سے کچھ سستی معلوم کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی(ابن کثیر) امام اعمشؒ نے فرمایا کہ مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد صحابہ کرامؓ کو کچھ معاشی سہولتیں اور آرام ملا تو بعض حضرات میں عمل کی جدجہد جو ان کی عادت تھی اس میں کچھ کمی اور سستی پائی گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( روح المعانی) (معارف القرآن ،سورہ الحدید آیت ۱۶)،آخر میں مفتی محمد شفیع عثمانیؒ لکھتے ہیں کہ بہر حال حاصل اس عتاب وتنبیہ کا مومنین کو مکمل خشوع اور عمل صالح کے لئے مستعد رہنے کی تعلیم ہے اور (یقینا) خشوع قلب ہی پر تمام اعمال کا مدار ہے۔
قرآن مجید کی ہر ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی انقلابی تاثیر رکھی ہے جس کی مثالوں سے تاریخ کے صفحات بھرے ہوئے ہیں،اسی قرآن نے پستی میں گھری ہوئی قوموں کو آسمان کی بلندی پر پہنچادیا،اسی قرآن نے جہالت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو علم کی چوٹی پر پہنچادیا ، اسی قرآن نے منتشر قوموں کو گوندے ہوئے آٹے کی طرح متحد کردیا اور اسی قرآن نے زمانے کی نظروں سے گری ہوئی قوم کو پورے انسانوں کا نور نظر بنادیا،حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک ایک آیت نے گمراہی میں ڈوبے ہوئے انسانوں کے دلوں کو پلٹ کر رکھ دیا چنانچہ تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ،سلسلہ چشتیہ کے مشہور بزرگ سیدنا فضیل بن عیاض ؒ کی زندگی بھی صرف مذکورہ آیت سن کر بدل گئی ،تاریخ نگاروں نے لکھا ہے کہ فضیل بن عیاض ؒ گرچہ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے مگر سازگار ماحول نہ ملنے کی وجہ سے ان کی عادتیں بگڑ گئیں اور آگے چل کر وہ خراسان کے ایک مشہور ڈاکو کی حیثیت سے شہرت حاصل کرلی تھی،ان کی ڈاکہ زنی کا اتنا چرچا تھا اور قافلوں میں اس قدر ہیبت بیٹھی ہوئی تھی کہ خراسان کے آس پاس سے قافلے گزرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے،انہیں ڈکیتی کے دوران کسی لڑکی سے عشق ہو گیا تھا مگر خواہش نفس کی تکمیل کی کوئی سبیل پیدا نہیں ہورہی تھی ،ایک دن موقع پاکر اس کے گھر کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہونا چاہتے تھے کہ کسی خدا کے بندے نے یہ آیت تلاوت کی: أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ(الحدید:۱۶)جو لوگ ایمان لے آئے ہیں کیا ان کے لئے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے اور جو حق اترا ہے اس کے لئے پسیج جائیں؟ ، کلام الٰہی کی یہ دل کو چھونی والی آواز ان کے کانوں کے ذریعہ دل میں اتر گئی ،ایمان کی دبی ہوئی چنگاری بھڑک اٹھی،ہدایت کی طلب نے انگڑائی لی اور دل ودماغ لرز اٹھا ،بے اختیار بول اٹھے ،اے رب! یقینا وقت آگیا ہے کہ میں بحر معاصی سے نکل کر تیرے دامن رحمت میں پناہ لوں چنانچہ دیوار سے اترے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں جاکر بیٹھ گئے ،اتفاق سے وہاں ایک قافلہ موجود تھا اور شُرکائے قافلہ میں سے بعض کہہ رہے تھے کہ ہم سفر جاری رکھیں گے اور بعض نے کہا کہ صبح تک یہیں رج جاؤ کیونکہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اَطراف میں رہتا ہے کہیں وہ ہم پر حملہ نہ کردے ،آپ نے قافلے والوں کی باتیں سنیں تو غور کرنے لگے اور کہا(افسوس) میں رات کے وقت بھی گناہ کرتا ہوں اور (میرے گناہوں کی وجہ سے ) مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ یہاں مجھ سے خوف زدہ ہو رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ مجھے ان کے پاس اس حال میں لایا ہے کہ میں اب اپنے جرم سے رجوع کر چکا ہوں (پھر بارگاہ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے کہا) اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور اب میں پوری زندگی تیرے گھر (کعبۃ اللہ) اور تیرے گھر کی طرف آنے والوں کی خدمت میں گزار دوں گا ۔
موجودہ دور میں ہر شخص کے شخصی حالات ،خاندانی احوال، ملکی اور عالمی منظر نامہ بتارہا ہے کہ مسلمان چوطرف سے حالات کا شکار ہیں ، ظلم وجبر کی کر سی پر بیٹھے حکمران مسلمانوں کے سر کچلنے کی پلانگ کر رہے ہیں ،وسائل پر قبضہ کرکے وہ خود کو ناقابل شکست بتارہے ہیں ،غرور وتکبر میں آکر وہ مسلمانوں کو بے حیثیت سمجھ بیٹھے ہیں ،وہ ظلم کرنے کے باوجود معصوم ہیں اور مسلمان مظلوم ہونے کے باوجود ظالم ہیں ،اُن کے نزدیک جانور کی جان تو عزیز ہے لیکن انسان کی جان بے قیمت ہے، خصوصا اس وقت ہندستانی مسلمان مصیبت وپریشانی سے دوچار ہیں،شدت پسند عناصر ان پر پوری طرف قابو پانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ،ان کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، ان پر طرح طرح سے ظلم وستم کیا جارہا ہے، مختلف علاقوں میں ان کا سوشل بائکاٹ کیا جارہا ہے ،انہیں اچھوت سمجھاجارہا ہے ، انہیں مذہبی تشخص کے ساتھ نہ جینے دینے کی تدبیریں کی جارہی ہیں ،مسلم پر سنل لاء پر حملہ کا جارہا ہے،قوانین میں تبدیلی لاتے ہوئے مسلم پر سنل لاء کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ،ان کے جائداد واملاک پر بری نظر ڈالی جارہی ہے ،حد تو یہ ہے کہ جدید سخت سے سخت قوانین لاکر انہیں شہریت سے محروم کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں ،موجودہ حالات مسلمانوں کو رجوع الیٰ اللہ کی دعوت دے رہے ہیں اور بزبان حال وقال کہہ رہے ہیں کہ ناموافق حالات کو موافقت میں تبدیل کرنے کا واحد حل اور اصل راستہ رجوع الی اللہ ہے ، حکم الٰہی کی پابندی ،صبر وتحمل اور جائز وسائل اور تدبر کے ساتھ تدبیریں اختیار کرتے ہوئے رجوع الیٰ اللہ نہایت ضروری ہے ،اہل ایمان کا اس بات پر ایمان ہے کہ حقیقی طاقت تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ،وہی ذات مسبب الاسباب ہے ،اس کے حکم کے بغیر ہر چیز بے جان ہے ، بندوں کو چاہئے کہ وہ ان حالات سے مایوس نہ ہوں بلکہ اپنے دل سے بندوں کا ڈرو خوف نکال کر اللہ تعالیٰ کا ڈر اپنے اندر پیداکریں ، دنیا والوں سے امید لگانے کے بجائے اس ذات سے امید لگائیں جو دنیا کا حقیقی بادشاہ اور مالک ہے،یقینا جب ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی جاتی ہے تو ضرور حالات بدلتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف رجوع ہونے والوں سے خوش ہوتے ہیں اور اس سے تعلق پیدا کرنے والوں کے لئے ابتر سے ابتر حالات کو بہتر سے بہتر بناتے ہیں ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے