تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر. اینومریشن فارم۔ امید و اندیشوں کے درمیان رائے دہندے

تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر.   اینومریشن فارم۔ امید و اندیشوں کے درمیان  رائے دہندے

تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر.
اینومریشن فارم۔ امید و اندیشوں کے درمیان رائے دہندے

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

ایس آئی آر کااینومریشن فارم اب محض انتخابی فہرست میں نام برقرار رکھنے کی ایک رسمی کارروائی نہیں رہا، بلکہ بہت سے شہری اسے اپنے جمہوری تشخص، حقِ رائے دہی اور ریاستی ریکارڈ میں اپنی موجودگی کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے رائے دہندے اس عمل کو غیر معمولی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ فارم کے ہر خانے، ہر اندراج اور ہر تفصیل کو باریک بینی سے جانچا جا رہا ہے تاکہ کسی غلطی، کمی یا ابہام کے باعث بعد میں اضافی جانچ یا وضاحت کی ضرورت پیش نہ آئے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف ریاستوں میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن سے متعلق ہونے والی بحثوں اور خبروں نے بھی عوام میں احتیاط کا رجحان بڑھا دیا ہے۔ نتیجتاً شہری پرانے انتخابی ریکارڈ سے موازنہ کر رہے ہیں، ناموں کے ہجے دوبارہ دیکھ رہے ہیں اور فارم جمع کرانے سے پہلے مکمل اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابی فہرست میں نام کا اندراج اب صرف ایک انتظامی مرحلہ نہیں بلکہ عوام کے لیے اعتماد اور جمہوری حق سے وابستہ حساس معاملہ بن چکا ہے۔
تلنگانہ میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن کا بنیادی مقصد انتخابی فہرستوں کو زیادہ درست، شفاف اور جامع بنانا ہے۔ تاہم جیسے جیسے اینومریشن فارم عوام تک پہنچ رہے ہیں، ان کے مختلف خانوں سے متعلق سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فارم کے ہر خانے کے پیچھے یقیناً ایک انتظامی منطق موجود ہے، مگر اس کی مکمل وضاحت عام رائے دہندے تک نہیں پہنچ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر معمولی نوعیت کے سوالات بھی کئی مقامات پر الجھن کا باعث بن رہے ہیں۔
حیدرآباد سمیت مختلف اضلاع میں بوتھ لیول افسران گھر گھر جا کر فارم تقسیم کر رہے ہیں، معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور شہری بھی اس عمل میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایک سوال تقریباً ہر جگہ مشترک ہے۔اینومریشن فارم درست طریقے سے کیسے پُر کیا جائے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بڑی تعداد میں رائے دہندے پہلی مرتبہ اس نوعیت کے فارم سے سابقہ رکھ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی سمجھ کے مطابق معلومات درج کر رہے ہیں، کچھ اہلکاروں یا جاننے والوں سے رہنمائی لے رہے ہیں، جبکہ بعض شہری مکمل اطمینان حاصل ہونے تک فارم جمع کرانے میں احتیاط برت رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر واضح اور یکساں رہنمائی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
اینومریشن فارم کے اہم ابہامات :عمل کے ابتدائی مرحلے ہی سے یہ واضح ہونے لگا کہ اینومریشن فارم کے چند خانے رائے دہندوں کے لیے زیادہ وضاحت کے متقاضی ہیں۔ مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے سوالات تقریباً ایک جیسے ہیں، جن کا تعلق پرانے انتخابی ریکارڈ، خاندانی معلومات، ریاست کے اندراج اور اسمبلی حلقے کی تفصیلات سے ہے۔ بظاہر یہ معمولی نکات ہیں، لیکن عملی طور پر یہی سوالات رائے دہندےوں کو سب سے زیادہ پریشان کر رہے ہیں۔
سب سے زیادہ الجھن ان رائے دہندوں میں دیکھی جا رہی ہے جن کے نام یا ان کے والدین، دادا، دادی، نانا یا نانی کے نام گزشتہ انتخابی فہرستوں، خصوصاً ۲۰۰۲کے ریکارڈ میں غلط ہجوں کے ساتھ درج ہیں۔ برسوں پہلے کی معمولی املا کی غلطی آج ایک نئے سوال کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ بہت سے شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا پرانے ریکارڈ کے مطابق وہی املا درج کی جائے تاکہ تسلسل برقرار رہے یا موجودہ درست املا لکھی جائے تاکہ آئندہ کے لیے غلطی دور ہو جائے۔ انتخابی حکام کی رہنمائی کے مطابق اس خانے میں پرانے ریکارڈ کے مطابق ہی معلومات درج کرنا مناسب ہے تاکہ ریکارڈ کا تسلسل برقرار رہے۔
اسی طرح فارم میں موجود رشتہ کا خانہ بھی کافی بحث کا باعث بنا۔ بہت سے رائے دہندے یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ یہاں والد، شوہر یا سرپرست کا رشتہ کس انداز میں لکھا جائے۔ بعض لوگوں نے والدیا شوہرلکھنے کی کوشش کی، جبکہ بعض نے بیٹا یا بیٹی درج کیا۔ بعد ازاں چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے وضاحت کی کہ اس خانے میں فارم بھرنے والے شخص کا اس درج کیے جانے والے فرد سے تعلق لکھا جائے، جس کے بعد اس ابہام میں کافی حد تک کمی آئی۔
ریاست کے اندراج سے متعلق بھی متعدد سوالات سامنے آئے۔ چونکہ تلنگانہ کی تشکیل سے پہلے کے انتخابی ریکارڈ متحدہ آندھرا پردیش کے دور کے ہیں، اس لیے بعض رائے دہندے یہ جاننا چاہتے تھے کہ فارم میں آندھرا پردیش لکھا جائے یا موجودہ ریاست تلنگانہ۔ اسی طرح اسمبلی حلقے کے اندراج کے بارے میں بھی مختلف آراء سامنے آئیں کہ سابقہ حلقہ لکھا جائے یا موجودہ حلقہ۔دو دن قبل چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی جانب سے جاری معلوماتی ویڈیو میں اس کی وضاحت کی گئی کہ اگر فارم میں پرانے انتخابی ریکارڈ کی تفصیلات درج کی جا رہی ہیں تو اس وقت کی ریاست یعنی آندھرا پردیش اور اسی دور کے اسمبلی حلقے کا اندراج کیا جائے۔البتہ آن لائن اندراج کا طریقہ اس سے مختلف ہے۔ آن لائن فارم میں درخواست گزار کو پہلے موجودہ ریاست منتخب کرنا ہوتی ہے، اور موجودہ انتخابی نظام کے مطابق یہ انتخاب تلنگانہ ہے۔ اگر یہاں غلط ریاست منتخب کر لی جائے تو ایپک نمبر متعلقہ ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، جس سے اندراج کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بوتھ لیول افسران بھی موبائل ایپ کے ذریعے معلومات درج کرتے وقت موجودہ ریاست، یعنی تلنگانہ، ہی منتخب کرتے ہیں۔ یہی فرق بعض رائے دہندوں کے لیے مزید الجھن کا باعث بنا۔اگر کاغذی فارم کے ساتھ ہی ان نکات کی واضح وضاحت، نمونہ فارم اور مرحلہ وار ہدایات فراہم کر دی جاتیں تو غالب امکان تھا کہ اس نوعیت کے بہت سے سوالات ابتدا ہی میں ختم ہو جاتے۔ اس سے نہ صرف رائے دہندوں کی تشویش کم ہوتی بلکہ بوتھ لیول افسران کو بھی ہر مقام پر الگ الگ وضاحتیں دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
بوتھ لیول افسران، افواہیں اور مؤثر رہنمائی کی ضرورت
اینومریشن فارم کے اس پورے عمل میں سب سے زیادہ ذمہ داری بوتھ لیول افسران کے کندھوں پر ہے۔ وہ گھر گھر جا کر فارم تقسیم کر رہے ہیں، شہریوں سے معلومات حاصل کر رہے ہیں، سوالات کے جواب دے رہے ہیں اور انتخابی نظرثانی کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ عمل منظم انداز میں جاری ہے، تاہم مختلف علاقوں سے یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ بعض عملی سوالات کے جواب کے لیے خود اہلکاروں کو بھی اعلیٰ حکام سے رہنمائی حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اہلکاروں کو تربیت نہیں دی گئی، البتہ یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ عمل کے آغاز سے پہلے ایسے تمام ممکنہ سوالات کا احاطہ نہیں کیا جا سکا جو زمینی سطح پر سامنے آ سکتے تھے۔ اسی وجہ سے بعض مقامات پر معمولی غلطی کاٹ کر درست کرنے کی اجازت دی گئی، کہیں نیا فارم بھرنے کا مشورہ دیا گیا، جبکہ بعض معاملات میں حتمی وضاحت بعد میں جاری کی گئی۔ اگر ہر اہلکار کے پاس یکساں عملی ہدایات ہوتیں تو مختلف مقامات پر مختلف آراء سامنے نہ آتیں۔
اس دوران سوشل میڈیا نے بھی عوامی الجھن میں اپنا کردار ادا کیا۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اینومریشن فارم سے متعلق غیر مصدقہ مشورے، نامکمل تشریحات اور ذاتی آراء تیزی سے گردش کرتی رہیں، جنہیں بعض لوگوں نے سرکاری ہدایات سمجھ لیا۔ اس کے نتیجے میں کئی رائے دہندے اصل رہنمائی کے بجائے غیر مستند معلومات پر انحصار کرنے لگے۔
ایسا ہی ایک معاملہ خواتین کی تصاویر کے حوالے سے بھی سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیلایا گیا کہ حجاب یا اسکارف پہننے والی خواتین کی تصویر اسی صورت قبول ہوگی جب ان کے کان واضح طور پر نظر آئیں۔ اس اطلاع سے کئی خواتین تشویش میں مبتلا ہوئیں، تاہم بعد میں انتخابی حکام نے وضاحت کی کہ ایسی کوئی شرط موجود نہیں ہے اور صرف چہرے کا واضح اور قابلِ شناخت ہونا ضروری ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جب مستند معلومات بروقت عوام تک نہ پہنچیں تو افواہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔
اسی تناظر میں زبان کا مسئلہ بھی اہمیت اختیار کر گیا۔ تلنگانہ ایک کثیر لسانی ریاست ہے جہاں تلگو کے ساتھ اردو، ہندی اور انگریزی جاننے و بولنے والوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ اگرچہ بعد میں مختلف ذرائع سے معلومات فراہم کی گئیں، لیکن ابتدائی مرحلے میں رہنما مواد زیادہ تر تلگو میں نظر آیا۔ بہت سے شہریوں کی خواہش تھی کہ فارم بھرنے کا طریقۂ کار، عام سوالات اور ضروری وضاحتیں تمام اہم زبانوں میں بآسانی دستیاب ہوں تاکہ ہر رائے دہندے بلا جھجھک اور درست انداز میں فارم مکمل کر سکے۔
انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران مختلف حلقوں میں یہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ کئی علاقوں میں بوتھ لیول افسران گھروں تک نہیں پہنچ سکے، جس کی وجہ سے عوام میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ان کے ووٹ بلاجواز انتخابی فہرستوں سے خارج نہ کر دیے جائیں۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں یہ شکایات زیادہ سامنے آئی ہیں، جہاں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا گیا۔انتخابی حکام کا مؤقف ہے کہ اس نظرثانی مہم کا مقصد کسی بھی حقیقی ووٹر کا نام حذف کرنا نہیں بلکہ انتخابی فہرستوں کو درست، شفاف اور تازہ ترین بنانا ہے تاکہ دوہری رجسٹریشن، انتقال کر جانے والے افراد اور مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہو جانے والے رائے دہندوں کے ناموں کی نشاندہی کی جا سکے۔ ان کے مطابق ہر معاملے میں قانونی طریقۂ کار پر عمل کیا جائے گا اور کسی بھی نام کو حذف کرنے سے پہلے نوٹس جاری کیا جائے گا، موقع پر تصدیق ہوگی اور متعلقہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہوگا۔شہری علاقوں میں اس عمل کو درپیش مشکلات کی ایک بڑی وجہ غلط یا نامکمل پتے، نئی تعمیرات کے باعث گھروں کے نمبروں میں تبدیلی، اپارٹمنٹ کلچر اور مسلسل نقل مکانی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ نئے تعینات کیے گئے بوتھ لیول افسران کے لیے بھی اپنے علاقوں سے مکمل واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ہر گھر تک بروقت پہنچنا آسان نہیں رہا۔
رائے دہندوں کو یہ سہولت بھی فراہم کی گئی ہے کہ اگر انہیں مردم شماری یا تصدیقی فارم موصول نہ ہو تو وہ آن لائن اپنی معلومات جمع کرا سکتے ہیں اور ان کو آف لائین یا فزیکل فارم دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اہل شہری صرف اس وجہ سے اپنے ووٹ کے حق سے محروم نہ رہ جائے کہ اس تک فارم نہیں پہنچ سکا۔
اسی طرح نئے رائے دہندوں کے لیے الگ درخواست کا طریقہ کار مقرر ہے، جبکہ وہ افراد جو اپنا مستقل پتہ تبدیل کر چکے ہیں، انہیں اپنے ووٹ کی منتقلی کے لیے مخصوص فارم جمع کرانا ہوگا تاکہ ان کا نام نئے حلقے کی انتخابی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔انتخابی عمل کے دوران ایسے علاقوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں شناخت یا شہریت سے متعلق سوالات موجود ہیں۔ ایسے تمام معاملات میں فوری فیصلہ کرنے کے بجائے مکمل جانچ، نوٹس اور فیلڈ انکوائری کے بعد ہی کارروائی کی جائے گی تاکہ کسی بے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔حکام نے اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی ہے کہ ایک ہی شخص کا دو مختلف حلقوں یا دو ریاستوں میں رائے دہندے کے طور پر رجسٹر ہونا قانوناً جرم ہے۔ جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے ایسے دوہرے اندراجات کی نشاندہی کی جاتی ہے، جس کے بعد متعلقہ فرد کو ایک حلقہ منتخب کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور باقی اندراجات حذف کر دیے جاتے ہیں۔ جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرنے یا دوہری رجسٹریشن برقرار رکھنے کی صورت میں قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
مجموعی طور پر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد انتخابی نظام کو زیادہ شفاف، درست اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انتظامی خامیوں کو دور کرنے، نگرانی بہتر بنانے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ ہر اہل رائہ دہندےکا حقِ رائے دہی محفوظ رہے اور کوئی شہری محض انتظامی کوتاہی کی وجہ سے انتخابی عمل سے محروم نہ ہو۔کسی بھی بڑے انتخابی عمل میں صرف انتظامی ہدایات کافی نہیں ہوتیں۔ ان کے ساتھ جامع تربیت، عام سوالات ،نمونہ فارم، مرحلہ وار رہنمائی اور تمام زبانوں میں مستند معلومات کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ جب ہر بوتھ لیول افسر ایک ہی سوال کا ایک ہی جواب دے اور ہر رائے دہندے کو اپنی زبان میں واضح رہنمائی میسر آئے تو نہ صرف ابہام کم ہوتا ہے بلکہ انتخابی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوتا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے