پیر. جولائی 13th, 2026

روس اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ناٹو اجلاس

روس اور یوکرین جنگ کے تناظر میں  ناٹو اجلاس

روس اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ناٹو اجلاس

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

امریکہ کے علاوہ ناٹو کے سارے ارکان یوروپی ممالک ہیں ۔ ان سب کے لیے ترکیہ کے دارالخلافہ کے اندر منعقدہ اجلاس میں سب سے اہم مسئلہ یوکرین اور روس کی جنگ تھا اس لیے اس نے یوروپ کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کے سربراہ ولادیمیر پوتن کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں تاکہ انہیں چین سے دور کرسکیں ناٹو کے اجلاس میں امریکی صدر کی شرکت غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ ٹرمپ کا شریک ہونا اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ اول تو وہ سوویت یونین کے خلاف قائم ہونے والے اس وفاق کے فی زمانہ وجود ہی کے خلاف ہیں اور امریکہ کا ناٹو پر خرچ بھی ان کی سمجھ سے پرے ہے۔ اس لحاظ سے ناٹو کے مستقبل کی تشکیلِ نو کے لیےمنعقد ہونے والے اجلاس میں اس کی افادیت پر سوال اٹھانے والے اور امریکی عسکری صلاحیتوں پر یورپی انحصار کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ٹرمپ کا بذاتِ خود ں شریک ہونا باعثِ حیرت تھا ۔ اس کے باوجود روس یوکرین جنگ کواجلاس میں سب سے زیادہ حساس مان کر واضح الفاظ میں روس کو یورپی اٹلانٹک سکیورٹی کے لیے بنیادی خطرہ قرار دیا گیاکیونکہ اس جنگ کا نقصان جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ ہے۔اور یوکرینی صدر کو شرکت کی دعوت دے کر انہیں بڑی عسکری امداد کے پیکیج سے بھی نوازہ گیا۔
سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS) کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق اس جنگ میں گزشتہ تین سال کے اندر روس کو تقریباً 4لاکھ50 ہزار جانوں کا نقصان ہوا اور یوکرین کے ڈیڑھ لاکھ فوجی و شہری لقمۂ اجل بنے ۔ اس رپورٹ نے انکشاف کیا کہ روس کےجملہ 14 لاکھ افراد کے زخمی و ہلاک ہوئے اور یوکرین میں ایسے لوگوں کی تعداد 6 لاکھ یعنی کل ملاکر دونوں جانب متاثرین کی کل تعداد 0 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ وجوہات سے قطع نظر یہ اعداد و شمارجنگ کا نہایت ہولناک منظر پیش کرتے ہیں۔ ممکنہ طور پر 2 ملین انسانوں کے زخمی یا ہلاک ہوجانا یوکرین کی جنگ کو بڑے پیمانے پرخونریزی کے لیے مشہور تاریخ کے سب سے زیادہ جانی نقصان والی سٹالن گراڈ کی جنگ کو پیچھے چھوڑ چکاہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ جنگی نقصانات پورے روس میں یکساں طور پر نہیں ہوئے بلکہ غریب علاقوں اور نسلی اقلیتوں کی بستیوں میں یوکرین جنگ کے سبب ہلاکتوں کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ چھوٹے دور دراز دیہاتوں میں ا موات کی کہانیاں روسی اپوزیشن میڈیا میں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ عصر حاضر میں جنگی تباہی کا یہ منظرنامہ ساحر لدھیانوی کی یہ شعر یاد دلاتا ہے؎
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے،
جنگ کیا مسئلوں كا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی،
بھوک اور احتیاج کل دے گی
طوفان الاقصیٰ کے پہلے سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے ۔ اس میں بھی بھاری جانی و مالی نقصان ہورہا ہے ۔ حماس اسرائیلی مظالم کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے والے روشن خیال حضرات پوتن یا زیلنسکی کو اس تباہی کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہراتے ۔ان دونوں کے تقابل میں سب سے اہم مسئلہ تصادم کے مقصد کا فرق ہے ۔ ایک طرف فلسطینی اپنی سرزمین پر آزادی کی خاطر ایک سفاک و ظالم حکمراں سے برسرِ پیکار ہیں اور دوسری جانب قوم پرستی کی بنیاد پر علاقائی برتری کے لیے لوگوں کو بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان حالیہ تنازع 2014؍ میں شروع ہوا جب یوکرین کے لوگوں نے روس نواز صدر کو انتخاب میں شکست دے کر اقتدار سے محروم کردیا ۔ یوکرین چونکہ مشرقی یوروپ کی ایک کمزور معیشت ہے اس لیے وہاں کی سیاست میں روس کے حامی اور مغربی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی حمایت کرنے والے گروہوں میں کشمکش جاری رہتی ہے۔ صدر وکٹور یانوکووچ جھکاو روس کی جانب تھا اس لیے انہوں نے 2014 میں ماسکو سے تعلقات بڑھانے کے لیے یورپی یونین سے منسلک ہونے کا معاہدہ مسترد کر دیا تھا ۔ اس فیصلے کے خلاف یوکرین میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔اس احتجاجی لہر کے نتیجے میں یانوکووچ الیکشن ہار کر اقتدار کھو بیٹھے۔
یوکرین کے لوگوں کا یہ فیصلہ روسی صدر پوتن کو ناگوار گزرا۔ انہوں نے اسے علاقائی سیاست میں روس کی پسپائی تصور کرکے 2014 میں یوکرین کے علاقے کرائمیا پر حملہ کردیا۔روس کے سرحدی علاقہ کرائمیا پر جب روس نے قبضہ کرلیا تو اس کی شئے پر علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین میں یوکرین کے مشرقی صنعتی مرکز ڈونباس کی جانب پیش قدمی کی۔ روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فوج کے درمیان تصادم میں 8؍ سالوں کے اندر 14 ہزار سے زائدلوگ لقمۂ اجل بنے۔ اس لڑائی میں جب یوکرین کے مقابلے میں علیحدگی پسندوں کو پسپائی ہونے لگی تو 2022میں روس نے ان کی مدد کے لیے مشرقی یوکرین پر حملہ کر دیا۔ اس زمینی، سمندری اور ہوائی راستوں سے کیے جانے والے تباہ کن حملے میں روسی افواج دارالحکومت کیئو کے مضافات تک پہنچ گئیں۔ صدر پوتن نے اس فوجی کارروائی کا جواز امن کی بحالی بتایاجبکہ مخالفین کے مطابق انہوں نے یورپ کے امن کو تباہ کر دیا ہے ۔کیاروسی صدرکا یہ دعویٰ کہ یوکرین کی جانب سے آنے والے مسلسل خطرات کی وجہ سے روس خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا ، جنگ کا جواز بن سکتا ہے ؟ ولادی میر پوتن کےمطابق یوکرین میں فوج بھیجنے کا مقصدوہاں نازی نظریے کے تحت جاری قتل عام کو روکنا تھا جبکہ یوکرین میں کوئی قتل عام نہیں ہو رہا تھا ۔ وہاں زیلنسکی نامی ایک یہودی صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز ہے۔
یوکرین کےیہودی رابی نے ہی جب صدر پوتن کے الزامات کو رد کردیا تو نازی جرمنی سے موازنہ ازخود ختم ہو گیا۔ اس لیے یہ سوال تو بنتا ہی ہے کہ آخر روس کو اس فوجی کارروائی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ روس کو یوکرین کی یورپی تنظیموںمثلاً ناٹو اور یورپی یونین سے قربتوں پر اعتراض ہے۔ روسی صدر پوتن نے جولائی 2021 میں یوکرین کی ناٹو میں شمولیت کو ریڈ لائن قرار دیاتھا۔انہیں خدشہ ہے کہ مغربی ممالک سے بڑھتے ہوئے تعاون کے سبب یوکرین آگے چل کر روس کے خلاف ناٹو کے میزائلز کا لانچ پیڈ بن جائے گا۔ اس لیے پوتن نے مغربی ممالک سے ضمانت طلب کی کہ یوکرین 30 ممالک کے اتحاد ناٹو کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ ایک غیرجانبدار ریاست بنا رہے گا۔ اس مطالبے کے حق میں اشتراکی دانشور کیوبا کے اندر سوویت یونین کی موجودگی پر امریکی مخالفت کا حوالہ دیتاہے لیکن اگر امریکہ کا وہ اعتراض غلط تھا تو روس کا یہ اندیشہ کیونکر درست ہوگیا؟ پوتن چونکہ داخلی سطح پر مخالفت برداشت نہیں کرتے اس لیے انہیں اس لیے انہیں اندیشہ ہے کہ پڑوسی ممالک میں برپا ہونے والی تبدیلیاں روس میں احتجاج کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں گی اوران کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوجائےگا۔روسی صدر کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ یوکرین مغربی ممالک کی ’کٹھ پتلی‘ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 16؍جون ((2026)کوجی ۷ ؍اجلاس کے موقع پر فرانس کے شہر ایوین میں روس اور یوکرین سے کہا کہ دونوں فریقین کو سمجھوتہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ان کے درمیان مصالحت کرانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ بولے روس اور یوکرین نے بہت سے لوگ کھوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ دونوں طرف کے کل 35000 فوجی مارے گئے تھے۔ یہ ہر ماہ ہو رہا ہے۔ اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاگل پن ہے۔ اس اجلاس میں چونکہ زیلنسکی بھی موجود تھے اس لیے ٹرمپ نے کہا کہ ’’ ہماری ملاقات ہوئی، اور میں نے اتوار کو صدر پوتن سے بات کی اور یہ ایک ہی چیز ہے۔ میرا مطلب ہے، وہ صرف لڑتے رہتے ہیں اور فوجی ہارتے رہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسا کچھ نہیں ہوا‘‘۔ ایک زمانے قصر ابیض کے اندر زیلنسکی کو پھٹکار لگانے والے ٹرمپ نے اس بار تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یوکرین میں روس کی جنگ کے اثرات کو کم کیا لیکن ہلاکتوں کی تعداد افسوسناک ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ، "یہ سب بہت عجیب ہے، اس لیے، ہاں، میں جو بھی کر سکتا ہوں، کروں گا۔” ٹرمپ اس کے لیے بار بار پوتن سے بات چیت کرتے ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔فرانس میں جی ۷ اجلاس کے دوران بھی ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ اتوار کو ان کی پوتن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی لیکن اس کے بعد بھی تین ہفتے گزر گئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔ حلف برداری کے بعد ایک ہفتے میں جنگ رکوانے کی ڈینگ مارنے والے ٹرمپ ڈیڑھ سال بعد کہہ رہے تھے ’’میں نے آٹھ جنگیں حل کیں۔ میں نے سوچا کہ یہ حل کرنا سب سے آسان ہوگا۔ دونوں لیڈروں کے درمیان کافی کشمکش ہے‘‘۔ یہ کشمکش کب تک جاری رہے گی اور قوم پرستی کے نام پر بے قصور لوگوں کا ناحق خون بہتا رہے گا یہ کوئی نہیں جانتا ۔ اس لیے حماس کو غزہ کی تباہی کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے والوں کو اس جانب توجہ کرکے وطن پرستی کے زہریلے نظریہ کا کھلی آنکھ سے جائزہ لینا چاہیے جس کے متعلق علامہ اقبال نے فرمایا تھا؎
اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے
تسخير ہے مقصود تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے