جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ایوان پارلیمان میں جعلی پجاری پپو یادو کی آمد نے اصلی کھلاڑی امیت شاہ کو فراری بنا دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی تو ایوان کی کارروائی کو سن کر اپنی بات رکھنےکو کسرِ شان سمجھتےہیں ۔ دوسروں کی سن کر ان کے سوالات کا جواب تیار کرنے والی فوج ان کے پاس ہے۔موصوف حسبِ ضرورت اداکار کی مانند اسے پیش کرکے داد وصول کرلیتے ہیں کیونکہ ایوان کے اندر بھی بہرے بھگت بغیر سنے اور سمجھے تالیاں پیٹنے کی خدمت پر مامور ہیں ۔ حزب مخالف کے سوالات کا فی البدیہہ جواب دینے کی ذمہ داری وزیر داخلہ امیت شاہ ادا کرتے تھے مگر ان سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوگئی کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ۔ انہوں نے کاکروچ کو کچلنے کے لیے اصلی اور نقلی دستوں کو ان پر چھوڑ تو دیا مگر بھول گئے کہ اس نئی نسل کے ہر ہاتھ میں موبائل نام کی توپ ہے۔ اس کی مدد سے وہ سرکاری مظالم کو اپنے کیمرے میں قید کرکے فوراً سے پیشتر ایسے شواہد داغ دیتے ہیں جن کا انکار ناممکن ہے۔دہلی میں وزیر داخلہ کی ناک کے نیچے ہوئے ان مظالم کا ارتکاب بغیر اجازت ان کی نااہلی کاثبوت اور اس کے حکم دینے کا اعتراف باعثِ رسوائی ہے۔ وزیر داخلہ کے پیروں میں یہ بیڑی تو پہلے سے پڑی تھی مگر اس کریلے پر نیم چڑھے چندہ چوری کے الزام نے چار چاند لگا دئیے۔ پپو یادو نے ایوانِ پارلیمان کے احاطے میں چندہ چوری کا ڈرامہ کھیل کر رہی سہی کمی پوری کردی۔ اس ناٹک نے دوسروں کے مائک بند کرنے والوں کی بولتی بند کردی ہے اور ان پر احمد سلمان کا یہ شعر ایک معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آگیا ؎

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی حماقتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے

پپو یادو کی رام لیلا کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایک رکن پارلیمان کے پجاری کے لباس پہن کرایوان میں داخل ہونے پر اعتراض جتایا۔ برلا نے یادو کا نام لیے بغیر اراکین کو اس طرح کے اقدامات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔یہ عجب معاملہ ہے کہ یوگی کے بھگوا پہننے سے اسمبلی اور ایوان پارلیمان کا وقار بلند ہوتا ہے مگر راجیش رنجن عرف پپویادو ایسا کریں تو مجروح ہوجاتا ہے۔ ویسے اوم برلا میں ہمت ہوتی تو پپو پر کوئی کارروائی کرتے لیکن انہوں نے گریز کیا مگر وزیر اعظم مودی کے حلقۂ انتخاب وارانسی کے سادھووں سے ضبط نہ ہوسکا اس لیے انہوں نے قائدحزب اختلاف راہل گاندھی،ا رکان پارلیمان پپو یادو اور اودھیش پرساد کے خلاف پولیس میں ایک ایف آئی ار درج کروائی ۔ ان کی شکایت ہے کہ اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں رام مندر چندہ چوری کا ایک منظر پیش کرنے کی کوشش کرکے سادھووں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی ہے۔ یہ عجیب بات ہے چندے کی چوری سے ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی اور نہ وہ کوئی شکایت درج کرواتے ہیں لیکن اگر اسے روکنے کی خاطر احتجاج کیا جائے تو پریشان ہوجاتے ہیں ۔ عام آدمی ایف آئی آر درج کروانے جاتا ہے تو اس کی حوصلہ شکنی ہوتی مگر پپو یادو ‘ راہل گاندھی اور اودیش پرساد کے خلاف ایف آئی آر فوراً درج ہوجاتی ہے ۔

وارانسی میں واقع پتال پوری پیٹھ آدیشور جگت گرو بالک دیواچاریہ کو شکایت ہے چونکہ بھگوا کپڑوں کی توہین کرتے ہوئے یہ حرکت کی گئی تھی اس لیے سادھووں کے جذبات کو ٹھیس پہونچی ہے ۔ سادھو برادری اس رنگ کو سناتن روایات کے تحت مقدس مانتی ہے ۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ پپو یادو نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں ایک ڈرامہ پیش کرنے کیلئے بھگوا کپڑے پہنے تھے ۔ سوال یہ ہے اس نکڑ ناٹک میں پپو یادو کو کیا کالا کوٹ پہن کر چندہ چور سادھو کا کردار نبھانا چاہیے تھا ؟ ویسے راہل اور اودھیش پرساد نے تو بھگوا لباس پہنا ہی نہیں تھا انہوں نے تو صرف بکس میں عطیہ دینے کی جرأت کی تھی تو کیاایسا کرنا جرم ہے؟ دیواچاریہ کے مطابق ان لوگوں نے سیاسی مظاہرہ کیلئے بھگوا کا استعمال کرکے سناتن روایات کا مذاق بنایا تھا ۔ سوال یہ ہے ماضی میں یوگی جی نے کون سے رنگ کا لباس پہن کر احتجاج کیا؟ پچھلے دنوں بی جے پی نومنتخب صدر نتن نبین نے اتر پردیش کا اپنا پہلا دورہ کیا ۔ اس میں وہ ایک کھلی گاڑی میں سوار تھے جس کے آگے ایک شخص ہنومان بنا گدا لہرا کر ناچ رہا تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر کسی ہندوتوانواز کا خون کیوں نہیں کھولا۔ ایک کا ایسا کرنا کارِثواب اور دوسرے کی وہی حرکت باعثِ عذاب کیسے ہوسکتی ہے؟ اور اس کے نتیجہ میں کروڑوں ہندووں کے جذبات کو ٹھیس کیونکر پہونچتی ہے؟

دیو اچاریہ کو اس احتجاج میں منصوبہ بند سناتن اوربھگوا کا مذاق نظر آتا ہے مگر اسی میں ملبوس لوگوں کی چندہ چوری پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔ ڈی سی پی بنسل نے اس معاملے میں کیا تحقیقات کررہے ہیں وہی جانتے ہیں۔دیواچاریہ کے مطابق سوشیل میڈیا پر ثبوت موجود ہونے کے باوجود اگرکوئی کارروائی نہیں کی گئی تو سادھووں کی جانب سے احتجاج شروع کیا جائے گا ۔ وارانسی والے کب احتجاج کریں گے یہ کوئی نہیں جانتا مگرایودھیا کے سادھو سنتوں اور جگت گرو پرمہنس آچاریہ نے اس ڈرامے کو سناتن دھرم، بھگوا لباس اور شری رام کی توہین قرار دے کر احتجاج کردیا۔ انہوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایودھیا میں راہل گاندھی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اس فوٹو جلا نہیں سکے ۔ بار بار کی کوشش کے بعد وہ اسے پھاڑ کر پھینک سکتے تھے مگریہ خیال بھی ان کو نہیں آیا اس طرح وہ احتجاج بھی ایک کامیڈی شو بن گیا۔ ایک سوال یہ ہے کہ فی الحال اترپردیش میں شنکر اچاریہ اویمکتیشور انند اپنی یاترا پر چندہ چوری کے خلاف بھگوا لباس پہن کر دھرم یدھ(مقدس مذہبی جنگ) چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ سرکاری سادھو نہ تو شنکراچاریہ مخالفت اور نہ حمایت کرتے ہیں۔

پپو یادو کے خلاف ہندوتوا نوازوں کا غم و غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اتوار 2؍ مئی کو دہلی میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران چند افراد نے مبینہ طور پر ان کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر پپو یادو کے حامیوں کی ان سے ہاتھا پائی اور دھکم پیل ہوگئی یہاں تک کے حالت کو قابو میں کرنے کے لیےسکیورٹی اہلکاروں کو مداخلت کرنی پڑی ۔ پریس کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پپو یادو نے الزام لگایا کہ یہ محض احتجاج نہیں بلکہ ان کے قتل کی سازش تھی۔ ان کے مطابق ایک ایسے شخص کو موقع پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا، جس کے پاس مبینہ طور پر چاقو بھی موجود تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی دنوں سے انہیں مسلسل جان سے مارنے اور زندہ جلانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پپو یادو کے مطابق "کچھ بابا روزانہ کہتے ہیں کہ مجھے قتل کر دو، مجھے زندہ جلا دو، اس کے لیے 51 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔ آج بھی ایک منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن میں محفوظ رہا۔”

پپو یادو نے الزام لگایا کہ ان پر تنقید کرنے والے اصل معاملے سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر چندے کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات پر کسی سے سوال نہیں کیا جا رہا، جبکہ ان پر حملے اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ "جو لوگ رام مندر کے چندہ چوری پر سوال اٹھانے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، وہ اصل الزامات پر خاموش ہیں۔ اگر مجھے مار بھی دیا جائے یا زندہ جلا دیا جائے تو اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔” پپو یادو نے اس معاملے میں راہل گاندھی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل سناتن دھرم اور عوامی مسائل سے متعلق اپنی رائے پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، سیاسی اختلافات کو تشدد یا دھمکیوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ادھر اس معاملے نے قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔ اس تصادم کے حوالے سے پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر موجود افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعہ کس طرح پیش آیا اور آیا واقعی کسی حملے یا سازش کے شواہد موجود ہیں یا نہیں؟پپو یادو کےدعوؤں کی آزادانہ تصدیق پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے یا عدالتی توثیق کے بعد ہی ہو سکے گی لیکن کل تک اپنے مخالفین کو ڈرانے دھماکنے والے امیت شاہ پر فی الحال اسی غزل کا ایک اور شعر بھی صادق آتا ہے کیونکہ موسم کا رخ بدل چکا ہے؎

وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے