بارش تو برس گئی، مگر عقائد بہہ گئے . ( دیہاتی کسانوں میں مروجہ عقائد کفریہ اور ان کے حقیقت)

بارش تو  برس گئی، مگر عقائد بہہ گئے . ( دیہاتی کسانوں میں مروجہ عقائد کفریہ اور ان کے حقیقت)

بارش تو برس گئی، مگر عقائد بہہ گئے .
( دیہاتی کسانوں میں مروجہ عقائد کفریہ اور ان کے حقیقت)

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ

بارش! بظاہر چند قطراتِ آب کا آسمان سے زمین کی طرف اترناہے مگر حقیقت میں قدرتِ الٰہی کی وہ خاموش مگر بلیغ نشانی ہے جس کے ہر قطرے میں ربوبیت کا اعلان، ہر بادل میں قدرت کا مظہر، ہر سبزے میں رحمت کی تجلی اور ہر سیراب زمین میں توحید کی شہادت پنہاں ہے۔ انسان اپنی سائنسی ترقی، آلات و وسائل اور دقیق مشاہدات کے باوجود اس حقیقت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا کہ پانی کے اس عظیم نظام کا خالق، مدبر اور حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ بادل انسان کے بنائے ہوئے نہیں، ہوائیں اس کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں، سمندر اس کے حکم سے آزاد نہیں، بخارات اس کے اذن کے بغیر نہیں اٹھتے، اور آسمان سے اترنے والا ایک قطرہ بھی اس کی مشیت سے بے نیاز نہیں۔

اسی لیے قرآن مجید انسان کو اس نعمت کی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ۝ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ، "بھلا تم نے اس پانی پر غور کیا جسے تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں؟” (سورۃ الواقعۃ: 68-69)۔ گویا انسان کے سامنے پانی رکھ کر سوال کیا جارہا ہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھانے والے ضرور ہو، مگر اسے آسمان سے زمین تک پہنچانے والا کون ہے؟ تمہارے پاس اس کا استعمال ہے، تخلیق و تدبیر نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ بارش کو محض ایک طبعی مظہر نہیں بلکہ اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے: وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ، "اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے۔” (سورۃ الشوریٰ: 28)۔ خشک زمین کا زندہ ہونا، بیج کا پھوٹنا، کھیتوں کا لہلہانا، مویشیوں کا سیراب ہونا، انسانوں کا پانی پینا اور چشموں و ندیوں کا جاری ہونا، سب اسی رب کی نعمتیں ہیں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔

لیکن انسانی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جب توحید کی روشنی مدھم پڑتی ہے تو انسان نعمت کے اصل منعم کو چھوڑ کر ظاہری اسباب، موہوم طاقتوں اور خود ساختہ رسوم کے سامنے سر جھکانے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام اور جاہلیت کے درمیان بنیادی امتیاز نمایاں ہوتا ہے عرب جاہلیت میں بعض لوگ بارش کو اَنواء یعنی ستاروں کی مخصوص منازل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اس باطل نسبت کی اصلاح فرمائی۔ حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بارش کے بعد صحابہ سے فرمایا کہ جس نے کہا: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، "ہمیں اللہ کے فضل و رحمت سے بارش ملی”، وہ اللہ پر ایمان رکھنے والا ہے، اور جس نے کہا: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، "ہمیں فلاں نوء کی وجہ سے بارش ملی”، اس نے ستارے کی طرف نسبت کی۔ (صحیح البخاری، حدیث: 846؛ صحیح مسلم، حدیث: 71)۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام اسباب کا انکار نہیں کرتا۔ بادل سبب ہوسکتا ہے، ہوا سبب ہوسکتی ہے، بخارات اور موسمی عوامل اپنے درجہ میں سبب ہوسکتے ہیں؛ مگر سبب خالق نہیں، ذریعہ مدبر نہیں، اور کسی سبب میں مستقل تاثیر نہیں۔ مسلمان اسباب اختیار کرتا ہے لیکن مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتا ہے۔

اسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے غزوۂ حنین کا واقعہ نہایت اہم ہے۔ بعض نو مسلم صحابہ نے مشرکین کا ایک درخت دیکھا جسے وہ ذاتِ انواط کہتے تھے اور اس پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ
"اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذاتِ انواط مقرر کردیجیے جیسے ان کے لیے ذاتِ انواط ہے۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللَّهُ أَكْبَرُ، إِنَّهَا السُّنَنُ
"اللہ اکبر! یہ تو وہی طریقے ہیں پھر آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کی مثال دی کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کردیجیے جیسے ان کے معبود ہیں۔ (جامع الترمذی، کتاب الفتن، حدیث: 2180؛ مسند احمد)
یہاں ذرا غور کیجیے! ان صحابہ نے درخت کو خالق نہیں کہا تھا، نہ یہ کہا تھا کہ وہ آسمان سے بارش برساتا ہے، لیکن چونکہ انہوں نے ایک غیر اسلامی قوم کی مذہبی علامت اور رسم کو دیکھ کر اسی نوعیت کی چیز اپنے لیے اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی، رسول اللہ ﷺ نے اس کے خطرناک فکری انجام کی طرف فوراً متوجہ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ باطل عقیدہ ہمیشہ بت کی صورت میں نہیں آتا؛ کبھی رسم بن کر، کبھی ثقافت کے نام پر، کبھی آبائی روایت کے عنوان سے اور کبھی "لوگ تو ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں” کے پردے میں دل و دماغ میں جگہ بناتا ہے۔

یہ حدیث ہمارے موجودہ معاشرے کے لیے بھی آئینہ ہے۔ بارش کے موقع پر اگر کوئی رسم سامنے آئے تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "یہ رسم عجیب کیوں ہے؟” اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس رسم کے پیچھے عقیدہ کیا ہے؟ کیا اسے بارش کا مؤثر سبب سمجھا جارہا ہے؟ کیا کسی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں شریک کیا جارہا ہے؟ کیا کسی ایسے سبب کو مؤثر مانا جارہا ہے جسے شریعت نے سبب قرار نہیں دیا؟ یا یہ محض ثقافتی حرکت ہے جس میں کوئی مذہبی عقیدہ شامل نہیں؟ ہر صورت کا حکم الگ ہوسکتا ہے، مگر مسلمان کا میزان قرآن و سنت ہی رہے گا۔
قرآن مجید نے بارش کے نزول کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وابستہ کرتے ہوئے فرمایا: وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا ۝ لِنُحْيِيَ بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا، "ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کریں۔” (سورۃ الفرقان: 48-49)۔ دوسری جگہ فرمایا: وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ، "ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی اتارا۔” (سورۃ المؤمنون: 18)۔ یعنی پانی کی مقدار، اس کا نزول، زمین میں اس کا ٹھہرنا اور اس سے زندگی کا قائم ہونا، سب اللہ تعالیٰ کی تقدیر و تدبیر کے تحت ہے۔
پھر قرآن نے قحط اور بارش کی کمی کے موقع پر ایک اور راستہ بتایا: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا، "میں نے کہا: اپنے رب سے استغفار کرو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے، وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا۔” (سورۃ نوح: 10-11)۔
غور کیجیے! قحط کے وقت قرآن انسان کو کسی ستارے، جانور، درخت، کاہن، جادوگر یا خود ساختہ رسم کے دروازے پر نہیں بھیجتا؛ استغفار کے دروازے پر بھیجتا ہے۔ یہی توحید کا حسن ہے کہ انسان کی حاجت براہِ راست رب العالمین سے وابستہ کردی جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بارش طلب کرنے کے لیے نمازِ استسقاء، دعا، استغفار اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا طریقہ سکھایا۔ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بارش طلب کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے، قبلہ رخ ہوئے، دعا فرمائی اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ (صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، حدیث: 1025؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة الاستسقاء)اور جب بارش برستی تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے اس کے نفع کی دعا فرماتے: اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا، "اے اللہ! اسے نفع بخش بارش بنا۔” (صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، حدیث: 1032)۔

یہ ہے اسلام کا مزاج: بارش آئے تو شکر، بارش نہ آئے تو استغفار، قحط ہو تو استسقاء، بادل آئیں تو دعا، اور ہر حال میں دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے۔اسلام اسباب سے منع نہیں کرتا۔ مسلمان موسم کا علم حاصل کرسکتا ہے، بادلوں کی حرکت سمجھ سکتا ہے، موسمی نقشوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، آب پاشی اور ذخیرۂ آب کا انتظام کرسکتا ہے؛ لیکن قلبی عقیدہ یہ رہے کہ سبب سبب ہے، خالق نہیں؛ ذریعہ ذریعہ ہے، مدبر نہیں؛ قانونِ فطرت قانونِ الٰہی کا مظہر ہے، اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں۔
پس بارش کے معاملے میں اصل معرکہ بادل اور مینڈک کے درمیان نہیں، بلکہ توحید اور توہم کے درمیان ہے۔ جب بندہ یہ جان لے کہ آسمان کے خزانے کسی رسم، کسی ستارے، کسی جانور، کسی درخت، کسی کنویں یا کسی انسان کے قبضے میں نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کے قبضۂ قدرت میں ہیں، تو پھر جاہلیت کی رسوم خواہ کتنی ہی پرانی، مقبول یا دلچسپ کیوں نہ ہوں، اس کے عقیدے میں ان کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔
توحید سے انحراف کی یہی ذہنیت مختلف اقوام میں بارش کے لیے عجیب و غریب رسوم کا سبب بنتی رہی ہے۔ ہندوستان کے بعض علاقوں میں خشک سالی کے وقت مینڈکوں کی شادی کرانے کی رسم پائی جاتی ہے۔ نر و مادہ مینڈکوں کو دلہا دلہن بناکر سجایا جاتا، انسانی شادی کی طرح مراسم ادا کیے جاتے، جلوس نکالا جاتا اور اس رسم سے بارش کی امید وابستہ کی جاتی ہے۔ آسام میں یہ رسم بھی کولی بیا (Bhekuli Biya) کے نام سے معروف بتائی جاتی ہے، جبکہ ہندوستان کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی اس کی مختلف شکلیں ملتی ہیں۔
یہ صرف ایک رسم نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود تصور اصل توجہ کا مستحق ہے۔ اگر کسی رسم کو یہ سمجھ کر کیا جائے کہ اس سے بارش آئے گی، بارش کے خدا خوش ہوں گے یا قدرت کا نظام اس عمل سے متاثر ہوگا تو یہ محض ثقافتی سرگرمی نہیں رہتی بلکہ ایک باطل تصور بن جاتی ہے۔ مسلمان کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے بارش کے حصول کے لیے اس رسم کو کوئی شرعی یا حقیقی مؤثر سبب بنایا ہے؟ اگر نہیں تو اسے بارش کا مجرب یا مؤثر ذریعہ سمجھنا بے دلیل ہے۔
بعض علاقوں میں معاملہ مینڈکوں تک محدود نہیں؛ کہیں جانوروں کی شادی، درختوں کی شادی یا علامتی شادی کی رسوم بھی ملتی ہیں۔ کہیں بارش کے لیے مخصوص خداؤں کے سامنے پ مخصوص عبادت اور نذریں پیش کی جاتی ہیں، کہیں مٹی کے مجسمے بنائے جاتے ہیں، کہیں مخصوص درختوں کے گرد مراسم ادا کیے جاتے ہیں اور کہیں کسی مقدس مقام یا قدرتی چیز کو بارش کے حصول کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔
ہندوستانی معاشرے میں بعض علاقوں میں بارش کی کمی کے وقت جنگل، ندی، تالاب یا مخصوص کنویں کے پاس جاکر اجتماعی اعمال کرنے، کھانا پکانے، منتیں ماننے یا مخصوص رسوم ادا کرنے کی روایات بھی ملتی ہیں۔ اگر وہاں صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو وہ الگ معاملہ ہے، مگر کسی مخصوص جگہ، کنویں، درخت یا پانی میں یہ اعتقاد رکھنا کہ اس میں بذاتِ خود بارش لانے کی غیبی تاثیر ہے، شرعی دلیل کا محتاج ہے۔

اسی طرح ساون کے موسم میں برصغیر کے بعض علاقوں میں موسمی خوشیوں، میلوں، جھولوں اور گیتوں کے ساتھ بعض غیر اسلامی رسوم اور توہمات بھی جڑ جاتے ہیں۔ مخصوص دنوں کو بارش یا خوش بختی کے لیے مؤثر سمجھنا، شگون لینا، فال نکالنا یا کسی علامتی عمل کو بارش کے ساتھ جوڑ دینا اسی توہم پرستی کی مختلف صورتیں ہیں۔ ساون اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ موسمی کیفیت ہے؛ نہ وہ بذاتِ خود بارش کا مالک ہے نہ کسی مخصوص دن میں غیبی تاثیر رکھتا ہے۔
بارش کے متعلق ایک اور خطرناک چیز شگون اور فال ہے۔ کسی جانور کے مخصوص انداز میں بولنے، پرندے کی آواز، بادل کی خاص شکل، کسی خواب، کسی دن یا اتفاقی واقعہ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اب بارش ضرور ہوگی یا فلاں عمل نہ کیا تو بارش رک جائے گی، انسان کو رفتہ رفتہ توہمات کے جال میں گرفتار کردیتا ہے۔ موسم کے طبعی اسباب کا مشاہدہ اور سائنسی پیش گوئی اپنی جگہ درست ہے، مگر بے دلیل غیبی دعوے اس سے بالکل مختلف ہیں۔
قدیم مصر میں دریائے نیل کے ساتھ بھی مذہبی تصورات اور رسوم وابستہ رہی ہیں۔ عروس النیل یعنی "نیل کی دلہن” کا قصہ اسی سلسلے میں مشہور ہے۔ بعض تاریخی مصادر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کا ایک واقعہ بھی نقل ہوا ہے کہ اہلِ مصر نیل کے جاری ہونے کے لیے ایک لڑکی کو دریا میں ڈالنے کی رسم ادا کرتے تھے، جسے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے روک دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ایک تحریر بھی منسوب ہے (یہ واقعہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالحکم کی فتوح مصر وأخبارها اور یاقوت حموی کی معجم البلدان میں منقول ہے، اگرچہ اس کی سند پر اہلِ علم نے کلام کیا ہے)
دنیا کے دوسرے معاشروں میں بھی بارش کے لیے مختلف تصورات پائے گئے۔ کہیں مخصوص بارش برسانے والے افراد کا تصور پیدا ہوا، کہیں مذہبی پیشواؤں کو بارش روکنے یا برسانے کی روحانی طاقت کا حامل سمجھا گیا، کہیں قربانیاں پیش کی گئیں، کہیں مقدس اشیاء اور مخصوص رسوم اختیار کی گئیں۔ افریقہ کے بعض علاقوں میں بھی بارش کے لیے مخصوص مذہبی مراسم اور بارش کے ماہرین کا تصور تاریخی و بشریاتی مطالعات میں ملتا ہے۔

صورتیں مختلف مگر بنیادی مغالطہ اکثر ایک ہی ہے: اللہ کی مخلوق کو اللہ کے اختیار میں شریک کردینا۔ اسلام نے اسی جاہلی ذہنیت کی اصلاح کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِه اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے لیے بھلائی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں(سورۃ یونس: 107)

اس لیے اگر کسی مسلمان معاشرے میں بارش کے لیے غیر اللہ کے نام کی منت و نیاز، کسی مزار یا درخت کی غیبی تاثیر، کسی کنویں یا ندی کی برکت، کسی مخصوص جانور کی رسم، یا کسی شخص کے مستقل تصرف کا عقیدہ پیدا ہوجائے تو اس کی اصلاح ضروری ہے۔ صالحین سے دعا کی درخواست الگ مسئلہ ہے، لیکن کسی مخلوق کو بارش کے نظام میں مستقل مؤثر سمجھنا توحید کے منافی ہے۔
بارش نہ ہونے کی صورت میں اسلام نے واضح متبادل بھی دیا ہے۔ توبہ، استغفار، صدقہ، نمازِ استسقاء اور دعا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قحط کے موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعہ بارش طلب کرنے کا واقعہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی:اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا

"اے اللہ! ہم پہلے اپنے نبی کے ذریعے تجھ سے بارش طلب کرتے تھے تو تو ہمیں بارش عطا فرماتا تھا، اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعے تجھ سے بارش طلب کرتے ہیں، پس ہمیں بارش عطا فرما۔” (صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، حدیث: 1010)یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قحط کے وقت امت کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ خود ساختہ رسوم کی طرف۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی نمازِ استسقاء کے ذریعہ یہی تعلیم دی۔ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ بارش طلب کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے، قبلہ رخ ہوئے، دعا کی اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ (صحیح البخاری: 1025؛ صحیح مسلم)۔ اور قرآن نے استغفار کو بارش کے حصول سے جوڑتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کیا: اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ… يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (سورۃ نوح: 10-11)۔
یہاں اسلام کا طریقہ اور جاہلیت کا طریقہ ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے نظر آتے ہیں: جاہلیت میں ستارے، جانور، درخت، رسمیں اور توہمات؛ اسلام میں استغفار، دعا، استسقاء اور اللہ تعالیٰ پر توکل۔

البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان طبعی اسباب اختیار نہ کرے۔ موسم کی پیش گوئی، بادلوں کا مطالعہ، آب پاشی، پانی کا ذخیرہ اور دیگر سائنسی وسائل اختیار کرنا جائز بلکہ انسانی ضرورت ہے۔ فرق صرف عقیدے کا ہے: سائنس سبب کو بیان کرتی ہے، اسلام بتاتا ہے کہ اس سبب کو وجود دینے والا اور اس میں تاثیر پیدا کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا بادل کو بادل ہی سمجھا جائے، خدا نہ بنایا جائے؛ موسم کے قانون کو قانونِ فطرت سمجھا جائے، اللہ کا شریک نہ بنایا جائے۔

علماء اور ائمہ کی ذمہ داری بھی یہاں بڑھ جاتی ہے۔ بارش کے موسم میں مساجد اور دینی مجالس میں صرف بارش کی دعا بیان کرنا کافی نہیں؛ عوام کو یہ بھی سمجھایا جائے کہ نذر عبادت ہے، دعا عبادت ہے، غیبی مدد کا عقیدہ عقیدے کا مسئلہ ہے، اور کسی غیر ثابت سبب کو مؤثر سمجھنا معمولی بات نہیں۔ البتہ اصلاح حکمت کے ساتھ ہو؛ محض لوگوں کا مذاق اڑانا یا ان کی رسوم کی تضحیک کرنا مقصود نہیں، بلکہ انہیں جاہلیت سے سنت کی طرف منتقل کرنا مقصود ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ قدیم ہونا کسی رسم کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں، عوام میں مشہور ہونا اس کے شرعی ہونے کی دلیل نہیں، اور کسی رسم کے بعد اتفاقاً بارش ہوجانا اس کی تاثیر کا ثبوت نہیں۔ مسلمان کا میزان قرآن و سنت ہے۔ جو عمل شریعت سے ثابت ہو اسے اختیار کرے، جو محض ثقافتی ہو اسے عقیدے کا درجہ نہ دے، اور جو غیر اللہ کے لیے عبادت یا غیبی تاثیر کا عقیدہ رکھتا ہو اس سے اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔
خلاصہ
بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت کی نشانی ہے؛ مگر جب توحید کمزور ہوتی ہے تو انسان اسی رحمت کے لیے مخلوق، رسوم اور توہمات کے دروازے کھٹکھٹانے لگتا ہے۔ عرب کی جاہلیت نے بارش کو ستاروں سے جوڑا، دوسری اقوام نے درختوں، دریاؤں، دیگر خداؤں اور مخصوص اشخاص سے، اور آج بھی بعض معاشروں میں مینڈکوں کی شادی، جانوروں کی رسوم، ساون کے توہمات، مخصوص دنوں کے شگون، جنگل، کنویں اور ندی کے کنارے خود ساختہ مراسم، منت و نیاز اور غیر ثابت اسباب بارش کے حصول سے جوڑے جاتے ہیں۔
حدیثِ ذاتِ انواط ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ باطل صرف معبود کی صورت میں نہیں آتا؛ کبھی رسم، ثقافت اور آبائی روایت کے پردے میں بھی داخل ہوتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو ہر رسم سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ اس کے پیچھے عقیدہ کیا ہے۔قرآن نے فرمایا: اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ… يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا؛ نبی ﷺ نے نمازِ استسقاء، دعا اور استغفار سکھایا۔ پس قحط ہو تو اللہ سے رجوع ہو، توبہ و استغفار ہو، صدقہ ہو، استسقاء ہو؛ نہ ستاروں سے امید، نہ مینڈکوں کی شادی، نہ کسی درخت یا کنویں کی غیبی تاثیر اس لیے کہ اس کے اندر ایمان پر زد پڑتی ہے ایسے عقائد پھر آگے لے جا کر آدمی کو مشرک بنا دیتے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: «إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ»، یعنی "جب سوال کرو تو اللہ سے کرو، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔” (جامع الترمذی: 2516)۔ یہ مختصر مگر عظیم فرمان بندۂ مؤمن کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس کی اصل وابستگی اور قلبی اعتماد کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ ہونا چاہیے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مومن کا توکل یہ ہے کہ وہ اللہ پر اعتماد کرے اور اس کے وعدے پر یقین رکھے۔” یعنی دل کا اطمینان ظاہری حالات کے اتار چڑھاؤ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدۂ حق پر یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول منقول ہے: "التوكل صدق القلب مع الله”، یعنی "توکل اللہ کے ساتھ دل کی سچائی کا نام ہے۔” یہ سچائی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان کا باطن بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرے جس کا وہ زبان سے اقرار کرتا ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے توحید کی عظمت واضح کرتے ہوئے فرمایا: "التوحيد هو أعظم العدل، والشرك أعظم الظلم”، یعنی "توحید سب سے بڑا عدل ہے اور شرک سب سے بڑا ظلم۔” اس لیے کہ توحید اللہ تعالیٰ کا حق اللہ ہی کے لیے ثابت کرتی ہے، جبکہ شرک اس حق میں غیر کو شریک کرتا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دل کی اصلاح، فلاح، لذت، خوشی اور اطمینان اپنے رب کی عبادت، اس کی محبت اور اسی کی طرف رجوع کے بغیر ممکن نہیں۔ (مجموع الفتاوى)

امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ توحید کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس شخص نے توحید کو حقیقتاً مضبوطی کے ساتھ قائم کیا، اس کے لیے عظیم بشارت ہے۔ اور حضرت وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا: "کیا لا إله إلا الله جنت کی کنجی نہیں؟” تو فرمایا: "کیوں نہیں، مگر ہر کنجی کے دندانے ہوتے ہیں؛ اگر تم ایسی کنجی لاؤ جس کے دندانے ہوں تو دروازہ کھلے گا۔” (صحیح البخاری، کتاب الجنائز، معلقاً)۔ یعنی محض الفاظ کا اقرار کافی نہیں، بلکہ اس اقرار کے تقاضوں کو زندگی میں جگہ دینا ضروری ہے۔
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے علمِ دین کے باب میں نہایت عمدہ بات ذکر کی ہے : «إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ»، "یہ علم دین ہے، پس دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو۔” (مقدمہ صحیح مسلم)۔ یہ قول ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ عقیدہ جذبات، قصوں اور عوامی مشہورات سے نہیں بلکہ معتبر علم اور صحیح رہنمائی سے حاصل کیا جائے۔

پس توحید کی پختگی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط کرے، اپنے دین کو معتبر علم سے حاصل کرے، ہر بے بنیاد تصور کو دلیل کے ترازو میں تولے، اور حق واضح ہوجانے کے بعد محض معاشرتی دباؤ یا آبائی روایت کی وجہ سے باطل پر اصرار نہ کرے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت راسخ ہوجاتی ہے، وہاں خوف کی سمت درست ہوجاتی ہے، امید کا مرکز درست ہوجاتا ہے، اعتماد کی بنیاد درست ہوجاتی ہے اور زندگی کے فیصلوں میں بھی ایک واضح ایمانی میزان پیدا ہوجاتا ہے۔

یاد رکھنا چاہیے: کسی رسم کے بعد بارش ہوجانا اس رسم کے مؤثر ہونے کی دلیل نہیں؛ بادل رسموں سے نہیں، رب العالمین کے حکم سے برستے ہیں۔ اسباب اختیار کرنا جائز ہے، مگر سبب کو مؤثرِ مستقل سمجھنا درست نہیں۔ یہ مسئلہ توحید اور توہم کا ہے۔ جس دل میں توحید زندہ ہو وہ بارش کے لیے مخلوق کے سامنے نہیں جھکتا؛ اس کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھتے ہیں، زبان پر استغفار ہوتا ہے، دل میں یقین ہوتا ہے کہ آسمان کے خزانے کسی رسم، ستارے، جانور، درخت، کنویں یا انسان کے قبضہ میں نہیں؛ صرف اللہ رب العالمین کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔بارش کے لیے ہاتھ اٹھاؤ تو صرف اسی رب کے حضور، جو بادلوں کا مالک اور قطروں کا نازل فرمانے والا ہے
توحید ہی انسان کو ہر باطل سہارے سے نکال کر ایک حقیقی سہارا عطا کرتی ہے۔ لہٰذا اپنے عقیدے کو علم سے مضبوط کیجیے، اپنے دل کو اللہ سے جوڑۓ، اور ہر اس تصور سے دامن بچائیے جو یقین کو وہم، دلیل کو روایت اور توحید کو رسم کے نیچے دفن کردے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایمان محض زبان کا دعویٰ نہیں رہتا بلکہ انسان کی پوری زندگی کا شعوری یقین بن جاتا ہے
لہذا ۔۔۔۔توحید کو تھام لو؛ کیونکہ بارش کا ایک قطرہ بھی کسی رسم، ستارے یا مخلوق کے اختیار میں نہیں، صرف اور صرف اللہ کے حکم سے ہی اترتا ہے۔اللہ رب العزت ہم سب کو باطل عقیدوں سے بچا کر توحید خالص پر جمع ہے آمین ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے