جمعہ نامہ: وہ ہر زمانے کا راہبر ہے،مرا پیمبر عظیم تر ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا‘‘۔کائناتِ ہستی میں کسی قوم کو نہ مستقل عروج سے نوازہ جاتا ہے اور نہ مسلسل زوال نصیب ہوتا ہے۔کتاب الٰہی اس الٹ پھیر کی وجہ یہ ہے کہ : ’’انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی‘‘ ۔ یعنی بظاہر زور آور ظالموں کو بھی ہلاکت سے دوچارکردیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں یہ شروعات ہوچکی ہے لیکن اس انجامِ بد سے قبل انہیں خبردار کیا جانے سے متعلق ارشادِ قرآنی ہے :’’ اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا‘‘۔ انبیائے کرام ؑ اور ان کی تعلیمات کو جھٹلانے والے ظالم وجابر حکمراں بذاتِ خود اپنی ہلاکت کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ فرمانِ ربانی ہے:’’ اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں‘‘ لیکن کسی قوم یا گروہ کے غلبہ سے محروم ہو جانے کے بعد نئے فرمانرواوں کو متنبہ کیا جارہا ہے:’’اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘ یعنی اقتدار کے منصب پر فائز ہونا رب کائنات کی مرضی نافذ کرکےرضائے الٰہی حاصل کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ یہ انعام ہی نہیں بلکہ آزمائش بھی ہے ۔
منکرین حق کی جانب سے الہامی ہدایات سے انکار کا طرز عمل اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :’’ جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کے سوا کوئی اور قرآن لے آئیے یا اسے بدل دیجئے‘‘۔ عصرِ حاضر کے نام نہاد روشن خیال دانشوروں کا بھی مطالبہ ہے کہ نعوذ باللہ حالات کے لحاظ سے قرآنی تعلیمات میں پھیر بدل کردیا جائے یا جو اس مطالبے کی جرأت نہیں رکھتے وہ مفہوم میں تبدیلی کی مذموم کوشش کرتے ہیں ۔ایسے لوگوں سے نہایت واضح خطاب ہے کہ :’’ (اے نبیِ مکرّم!) فرما دیں: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو فقط (اس کی) پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے ‘‘۔ یہ آیت عقیدۂ رسالت کی روح ہے۔ رسول اکرم ﷺ عالمِ انسانیت کے لیے نمونہ اس لیے تھے کیونکہ آپ ؐ کی زندگی الٰہی تعلیمات کی چلتی پھرتی تفسیر تھی اور نبیٔ پاک ؐ کی اتباع کرنے والا ہر فرد رب کائنات کا فرمانبردار بن جاتا ہے۔ آیت کے اختتام اس طرزِ حیات کا محرک یہ بتایا گیا کہ :’’ میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بیشک میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں‘‘۔ معصوم علی الخطا نبیٔ پاک کے ذریعہ عذابِ الہی سے ڈرنے کا اعلان امت کےاندر خوف آخرت کے لازمی ہونےکا پیغام ہے ۔
رسالت کے حوالے سے منکرینِ حق کے مذکورہ بالابیجا مطالبات کاقرآنی جواب یہ ہے کہ :’’فرما دیجئے: اگر اللہ چاہتا تو نہ ہی میں اس (قرآن) کو تمہارے اوپر تلاوت کرتا اور نہ وہ (خود) تمہیں اس سے باخبر فرماتا‘‘۔ یعنی دین اسلام کی یہ پیغام رسانی مشیت و توفیق الٰہی کی بدولت ہی ممکن ہے ۔ آگے ارشادِ خداوندی ہے :’’ بیشک میں اس (قرآن کے اترنے) سے قبل (بھی) تمہارے اندر عمر (کا ایک حصہ) بسر کرچکا ہوں، سو کیا تم عقل نہیں رکھتے‘‘۔ ا ٓپﷺ کی صداقت و امانتداری کو پورا مکہ مکرمہ قائل تھا ۔اسے دلیل بناکر اس بہتان طرازی کی تردید کی گئی کہ نعوذ باللہ محمد ﷺقرآن کواز خود گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں کیونکہ آپؐ نے خود کو مصنف نہیں بلکہ پیغامبر کے طور پر پیش فرمایا ۔ آپ ؐ کی چالیس سالہ پاکیزہ زندگی رہن سہن، میل جول ، لین دین ، شادی بیاہ ، غرض ہر قسم کا معاشرتی تعلق کھلی کتاب کی مانند سب کے سامنے جانی بوجھی اور دیکھی بھالی کھلی شہادت تھی ۔ داعیٔ اسلام کی زندگی بھی دین کی دعوت ہونی چاہیے۔ سیرت نبیﷺ کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہےکہ آپ ؐ نے نبوت سے پہلے کوئی ایسی تعلیم ، تربیت اور صحبت نہیں پائی جس سے وہ معلومات حاصل ہوتیں جو نبوت کے بعد آپؐ پیش فرما رہے تھے۔ قرآن پاک کی صورت میں جن موضوعات پر محمد ﷺ گفتگو فرما رہے تھے اور جن عقائد و نظریات کا اظہار ہورہا تھا وہ پہلے کبھی پیش نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے دعوت اسلامی کو آپﷺ کے دماغ کی اپج کہنا ناممکن تھا کسی اور سے کلام الٰہی کو منسوب کرنے کی بھی گنجائش نہیں تھی۔
آپ ﷺکے سچے ، بے داغ ، اور قابل اعتماد ( امین ) ہونے کا منہ بولتا ثبوت نبوت سے پانچ سال قبل تعمیر کعبہ کے وقت پیش آگیا ۔حجر اسود کو نصب کرنے کے معاملہ پرجب قریش کے مختلف خاندان لڑ پڑے تو آپس میں طے ہوا کہ اگلی صبح جو پہلا شخص حرم میں داخل ہوگا اسی کا فیصلہ مان لیا جائے گا ۔ دوسرے روز جب سب سے پہلے محمد ﷺ داخل ہوئے تو آپ کو دیکھتے ہی سارےلوگ پکار اٹھے یہ بالکل راستباز آدمی ہے ، ہم اس پر راضی ہیں ۔ یہ تو محمد ﷺ ہے“ ۔ اس طرح پورے قبیلہ قریش سے بھرے مجمع میں آپؐ کے ” امین“ ہونے کی شہادت دے دی مگر جب محمدﷺ نے پیغام ِ حق پیش کرنا شروع کیا تو لوگ اسے جھٹلانے لگے۔ ایسے لوگوں سے کہاجارہا ہے کہ عقل سے کام لے کر دیکھو ، یہ کوئی باہر سے آنے والی اجنبی شخصیت نہیں ہے۔ یہ تمہارے درمیان ایک عمر گزار نے والے محمدﷺ ہیں ۔ ان کی سابقہ زندگی کو دیکھتے ہوئے تم یہ توقع کیسےکر سکتے ہو کہ وہ خدا ئی حکم کے بغیر یہ قرآن تمہارے سامنے پیش کریں گے۔داعیٔ اعظم ﷺ کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو بندوں کو خدا ئے واحد کی معرفت کروانا اور رضائے الٰہی کی خاطر انہیں بندگیٔ رب کی ترغیب دینا ہے۔ بعثت ِ نبوی ﷺ کے اس بنیادی پیغام سےپہلوتہی کرکے سیرتِ محمد ﷺ کے تعارف ادھورا ہے ۔ اس لیےیہ خاطر خواہ توجہ کا مستحق ہے۔ مظفر وارثی کی نعت کا یہ بند اس خیال کا ترجمان ہے؎
شعور لایا کتاب لایا، وہ حشر تک کا نصاب لایا
دیا بھی کامل نظام اس نے،اور آپ ہی انقلاب لایا
وہ علم کی اور عمل کی حد بھی،ازل بھی اس کا ہے اور ابد بھی
وہ ہر زمانے کا راہبر ہے،مرا پیمبر عظیم تر ہے