امریکہ اور ایران کی جنگ طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ امریکہ بہادر اس کی کیا قیمت چکا رہا ہے اس کی منہ بولتی مثال یو ایس ایس ابراہم لنکن نامی بحری بیڑے پر تعینات ایک فوجی اہلکار کی خودکشی کی کوشش تھی۔ اس خبر کا انکشاف خود فوجی کی اہلیہ نے اخبار کو دی۔ اس نے بتایا کہ طویل اور مسلسل ڈیوٹی کے سبب اس کے شوہر نے جہاز سے کودنے کی کوشش کی جبکہ بیڑے کے عملے نے کئی دیگر اہلکاروں کو بھی ایسا کرنے سے روکا۔ اس اہلکار کو مسلسل 250 دنوں سے زائد عرصہ جہاز پر تعینات رہنا پڑا ۔ اس 9 ماہ کی تعیناتی سے جہاز پر خوراک، گرم پانی، نکاسی اور صفائی کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ مثل مشہور ہے ’جیسا مالک ویسا گھوڑا کچھ نہیں تو تھوڑا تھوڑا‘ کی مصداق اپنے صدر کی تقلید میں امریکی بحریہ نے بھی اہلکاروں کے ذریعہ خودکشی کی کوششوں یا ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کی تردید کی ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ایسے واقعات میں اضافہ نہیں دیکھا گیا یعنی خود کشی کی کوششیں جیسے پہلے ہوتی تھیں اسی رفتار سےاب ہو رہی ہیں اس لیے اضافہ جیسی کوئی چیز نہیں ہوئی گویا یہ توقع کے مطابق ہے اس لیے امریکی نیوی نے اہلکاروں کو کونسلنگ فراہم کرنے والی مذہبی اور طبی ماہرین کی ٹیمیں بیڑے پر مہیا کررکھی ہیں ۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ ایسی پژمردہ فوج دشمن کا مقابلہ کیسے کرے گی اور اسے کامیابی کیسے ملے گی؟ ویتنام سے لے کر افغانستان اور اب ایران تک امریکی ناکامی کی بنیادی وجہ یہی فوجیوں کی پسپائی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہیں عالمی سیاست سے زیادہ دلچسپی ذاتی تجارت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نیٹو سے اپنی بیزاری ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں سوویت یونین منتشر ہوجانے کے بعد اس کے خلاف قائم کیے جانے والے فوجی اتحاد کا کوئی جواز نہیں رہتا اور اس پر وسائل نہیں خرچ ہونے چاہئیں نیز امریکہ کے بجائے یوروپی ممالک کی حصہ داری میں اضافہ ہونا چاہیے۔ انہیں دنیا کا بڑابھائی (بِگ بردر) بنے رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہےمگر اپنا تجارتی مفاد بہت عزیز ہے۔سال 2025 کے ایک سال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے ذریعے ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم کمائی جبکہ ماضی میں انہوں نے کرپٹو کرنسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور 2021 میں بٹ کوائن کو ’دھوکہ‘ اور ’ آفت ‘ قرار دیا تھا لیکن تین سال بعد صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کو ’دنیا کا کرپٹو دارالحکومت‘ بنانا چاہتے ہیں اور اب تو خود کو اس کا بے تاج بادشاہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی تردید کرتا ہے۔ یہ اس کی مجبوری ہے کیونکہ ٹرمپ کے مطابق حصص بازار (سٹاک مارکٹ) میں بہتر رجحانات سے ’ہر کوئی‘ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کادعویٰ ہے کہ وہ اپنے ذاتی مالی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اس کے باوجود ان کی آمدنی کم از کم 2.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ 2024 کی مالیاتی رپورٹ سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اس وقت ٹرمپ نے 600 ملین ڈالر سے کچھ زیادہ آمدن ظاہر کی تھی۔وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکریٹری اینا کیلی کو نازہے کہ صدر نے امریکہ کو ’دنیا کا کرپٹو دارالحکومت‘ بنادیا ہے۔ٹرمپ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ’میں صدر بننے سے پہلے بہت پیسہ کما چکا تھا اور وہ (ٹرسٹ) میری دولت سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں۔ میں ان سے اس بارے میں بات نہیں کرتا۔‘ حالانکہ ان کے ایک اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کو کروڑوں کا منافع ہوجاتا ہے۔ جارج ڈبلیو بش کے دور میں وائٹ ہاؤس کے سابق وکیل رچرڈ پینٹر کے مطابق ٹرمپ کا کرپٹو سے ایک ارب ڈالر کمانا ’غیر معمولی‘ یعنی مشکوک ہے رچرڈ کے مطابق ’یقیناً یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔‘دیگر ماہرین بھی ان کے دولت کمانے کے طریقۂ کار کو سابق صدور سے مختلف مانتےہیں۔ٹرمپ نےگولف کلب سے بھی تقریباً 300 ملین ڈالر کمائے۔صدرکو مختلف قانونی کارروائیوں میں تصفیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی تقریباً 86.5 ملین ڈالرہے۔ان میں اے بی سی کے خلاف مقدمے سے 16 ملین ڈالر، سی بی ایس براڈکاسٹنگ اور سی بی ایس انٹرر ایکٹو سے 16 ملین ڈالر، میٹا سے 24.5 ملین ڈالر، یوٹیوب سے 22 ملین ڈالر اور ایکس سے آٹھ ملین ڈالر شامل تھے۔
امریکہ کے اندر جاری اس لوٹ مار میں ٹرمپ کی اہلیہ اور بچے بھی شامل ہوگئے ہیں ۔ اس طرح ٹرمپ کا اصل ہدف تو اپنا خزانہ بھرنا ہے ساتھ ہی امریکی خزانے کا بھلا کرنے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ نیٹو کی گزشتہ اجلاس میں ان کی شرکت کا ہدف ترکیہ کو ایف 35؍ فروخت کرنا تھا ۔ اسی لیے انہوں نے کہا میں اپنے میزبان دوست رجب طیب اردوان کی وجہ سے آیا ہوں اور اسرائیل کی ناراضی کو خاطر میں لائے بغیروہ سودہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے تناظر میں ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی مخالفت پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کا اعتراض اور تنقید سختی سے مسترد کر دیا۔ ٹرمپ نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ کوئی دوسرا ملک امریکہ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ اسے اپنے ہتھیار کس کو فروخت کرنے چاہئیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ترکیہ کو جدید ایف-35 اسٹیلتھ طیارے دینے کی شدید مخالفت کی تھی۔ اس کے جواب میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ دفاعی سودوں کے معاملے میں مکمل خود مختار ہیں اور اسرائیل کی تنقید سے بالاتر ہو کر خود فیصلہ کریں گےاسرائیل کی پروا کیے بغیر ترکیہ کو دفاعی سامان کی فراہمی ہوگی ۔ موجودہ ایران اور امریکی جنگ کا سب سے انقلابی اثر یہی ہے کہ اب امریکہ کے لیے اسرائیل ایک سرمایہ نہیں بلکہ بوجھ بن چکا ہے۔ اس کا اظہار نائب جے ڈی وینس بھی کھلے عام کرچکے ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی خود کفالت کا اراگ الاپنا شروع کردیا ہے اور سابق و زیر اعظم بینٹ نفتالی بھی امریکہ کے ذریعہ بلا مشورہ فیصلے کرکے فون کے ذریعہ عمل کروانے کی صورتحال پر شرمندگی کا اظہار کرچکے ہیں۔
نیٹو کانفرنس سے صدر ٹرمپ کی پر اسرار واپسی اس ہفتے ذرائع ابلاغ میں بحث کا موضوع بن گئی۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ امریکی صدر اور خفیہ ایجنسیاں ایرانی حملے سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔ نیٹو اجلاس سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے ممکنہ ایرانی خطرے کے پیشِ نظر اپنا طیارہ تبدیل کرکے اس کا حقیقت کااعتراف بھی کرلیا۔ ٹرمپ نےصحافیوں سے صاف کہا کہ ’میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں‘‘۔ ان کے مطابق چونکہ وہ چاہتے تھے کہ دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کیا جائےمگر اس منصوبے کو نہایت مضحکہ خیز انداز میں عملی جامہ پہنایا گیا۔ امریکی صدر کو پہلے ٹی وی کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون میں سوار ہونے اور بعد میں خاموشی سے ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک فوجی طیارے تک پہنچانے مطلق ضرورت نہیں تھی۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے دنیا بھر کے مندوبین کیسے لوٹے یہ کوئی نہیں جانتا وہی معاملہ ٹرمپ کے ساتھ بھی ہوسکتا تھا مگر اِدھر اُدھر ہونے نے اسے موضوعِ بحث بنادیا ۔ان کی خفیہ طور پر دوسرے طیارے میں منتقلی سے ایئر فورس ون میں موجود صحافی اور حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے بعض عملے کے ارکان بھی لاعلم رکھے گئے تھے۔ کوئی خطرہ اگر تھا تو وہ صرف ایک فرد کی ذات تک محدود نہیں تھا بلکہ یکساں طور پر اس جہاز میں موجود دیگر لوگوں کو لاحق تھا۔
ہوائی جہاز ’ایئر فورس ون‘ پر اگرخدا نخواستہ حملہ ہوجاتا اس میں موجود وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جان کو خطرہ لاحق تھا تو انہیں کیسے بچایا جاتا؟ کیونکہ ان لوگوں نے تواسی پر واپسی کا سفر کیا تھا۔ ہوائی سفر کا جو خطرہ واپسی میں محسوس کیا گیا وہ انقرہ جاتے ہوئے بھی تو تھا ۔ اس لیے خفیہ ایجنسی کو انہیں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئے بوئنگ طیارے 747-8 کے بجائے کسی اور جہاز میں ترکی لے کر جانا چاہیے تھے۔ ٹرمپ کبھی خطرات کا حوالہ دیتے ہیں اور کبھی ’پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے‘ اپنے پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کرنے کی گل افشانی کرتےہیں۔ صدر ٹرمپ کو انقرہ سےواپسی کے دوران چھوٹے طیارے میں ان کے ساتھ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے علاوہ ٹرمپ کی ایگزیکٹیو اسسٹنٹ نتالی ہارپ، وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف سٹاف ڈین سکاوینو اور اوول آفس آپریشنز کے ڈائریکٹر والٹ ناؤٹاتو موجود تھے مگر وزیر خزانہ اور خارجہ کیوں نہیں تھے ؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔امریکی صدر کا یہ غیر معمولی احتیاط ان کے دبدبہ کی کمی کا غماز ہے اور یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی تبدیلی کا شاخسانہ ہے ۔ یہ صورتحال چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مداری نما امریکی صدر کا چل چلاو ہے اور اس کے ساتھ ہی امریکہ سامراج کا جہاز ڈوبنے کے کگار پر پہنچ گیا ہے؎
گیا دورِ سرمایہ داری گیا تماشا دکھا کر مداری گیا