ایس آئی آر کے آئینے میں تلنگانہ. کیا مسودہ فہرستِ رائےدہندگان بدلتے انتخابی منظرنامے کی عکاس ہے؟

ایس آئی آر کے آئینے میں تلنگانہ.   کیا مسودہ فہرستِ رائےدہندگان بدلتے انتخابی منظرنامے کی عکاس ہے؟

ایس آئی آر کے آئینے میں تلنگانہ.
کیا مسودہ فہرستِ رائےدہندگان بدلتے انتخابی منظرنامے کی عکاس ہے؟

مضمون نگار: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

تلنگانہ میں خصوصی نظرثای فہرستِ رائے دہندگان، یعنی ایس آئی آر، کا عمل بظاہر انتخابی فہرستوں کی تطہیر اور ریکارڈ کی درستگی کی ایک انتظامی کارروائی ہے، مگر اس کے تحت سامنے آنے والے اعداد و شمار نے ریاست کے بدلتے ہوئے آبادیاتی اور سیاسی منظرنامے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سترہ اگست کو جاری ہونے والی مسودہ فہرستِ رائے دہندگان میں تہتر لاکھ سے زائد نام شامل نہ کیے جانے اور بیانوے لاکھ سے زیادہ ریکارڈز میں کسی نہ کسی نوعیت کی عدم مطابقت یا عدم ربط کی نشاندہی نے معاملے کو محض انتخابی فہرستوں کی درستی تک محدود نہیں رہنے دیا۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ دعووں اور اعتراضات کے مرحلے سے گزرنے کے بعد حتمی فہرستِ رائے دہندگان تلنگانہ کے انتخابی نقشے کی کیا تصویر پیش کرتی ہے۔ دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے سولہ ستمبر تک مہلت مقرر ہے، جبکہ حتمی فہرست انیس اکتوبر کو جاری کی جانی ہے۔
حیدرآباد اور اس کے مضافاتی علاقوں سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ بعض شہری اسمبلی حلقے، جو برسوں سے ریاست کے بڑے انتخابی حلقوں میں شمار ہوتے رہے ہیں، اب رائے دہندگان کی تعداد کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹے حلقوں کی صف میں دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب غیر موجود، منتقل شدہ، متوفی یا دوہرے اندراج والے رائے دہندگان کے ناموں کے اخراج نے کئی حلقوں کے انتخابی حجم کو یکسر بدل دیا ہے۔لیکن اس مرحلے پر مسودہ فہرست کو آخری حقیقت سمجھ لینا بھی درست نہیں ہوگا۔ کسی ریکارڈ میں اناملی کی نشاندہی لازماً جعلی رائے دہندہ ہونے کا ثبوت نہیں، اسی طرح نو میاپنگ کا مطلب بھی یہ نہیں کہ متعلقہ شہری رائے دہی کا اہل نہیں۔ بہت سے معاملات میں مسئلہ محض ریکارڈ کے باہمی عدم مطابقت، سابقہ فہرست سے ربط قائم نہ ہونے یا نام، عمر، پتہ اور خاندانی کوائف میں فرق کا ہوسکتا ہے۔
یوں ایس آئی آر کے آئینے میں تلنگانہ کی جو تصویر ابھر رہی ہے، وہ بیک وقت تبدیلی، تطہیر اور سوال تینوں کا استعارہ ہے۔ کیا یہ اعداد ریاست کی بدلتی آبادی، شہری نقل مکانی اور انتخابی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں؟ کیا شہری حلقوں میں رائے دہندگان کی غیر معمولی کمی صرف پرانی فہرستوں کی اصلاح کا نتیجہ ہے یا اس کے پس پردہ وسیع تر آبادیاتی تبدیلیاں بھی کارفرما ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا حتمی فہرست سامنے آنے تک یہ منظرنامہ ایک بار پھر نئی کروٹ لے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جو ایس آئی آر کو محض انتخابی اعداد و شمار کی مشق نہیں رہنے دیتے بلکہ تلنگانہ کے بدلتے سماجی، آبادیاتی اور سیاسی منظرنامے کو سمجھنے کا ایک اہم وسیلہ بنا دیتے ہیں۔
حیدرآباد میں تقریباً بارہ لاکھ ترپن ہزار رائے دہندگان کے ریکارڈ کی جانچ
حیدرآباد ضلع کی مسودہ فہرستِ رائے دہندگان کے مطابق ضلع میں تقریباً ستائیس لاکھ پچانوے ہزار رائے دہندگان درج ہیں۔ ان میں تقریباً پانچ لاکھ اسی ہزار نو سو آٹھ رائے دہندگان نو میاپنگ کے زمرے میں شامل ہیں، جبکہ تقریباً چھ لاکھ بہتر ہزار سات سو ریکارڈز میں مختلف نوعیت کی خامیوں، عدم مطابقت یا تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔دونوں زمروں کو یکجا کیا جائے تو تقریباً بارہ لاکھ ترپن ہزار چھ سو رائے دہندگان ایسے بنتے ہیں جن کے ریکارڈ سے متعلق وضاحت طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہ تعداد معمولی نہیں۔ حیدرآباد جیسے گنجان آباد شہری ضلع میں اتنے بڑے پیمانے پر ریکارڈ کی جانچ کا مطلب ہے کہ لاکھوں شہریوں کو نوٹس جاری کیے جائیں، ان سے مطلوبہ دستاویزات حاصل کی جائیں، ریکارڈ کی جانچ ہو، اعتراضات سنے جائیں اور پھر ہر معاملے پر فیصلہ کیا جائے۔ اس کے لیے محض سرکاری اعلانات کافی نہیں ہوں گے؛ ایک وسیع، مربوط اور مؤثر انتظامی نظام درکار ہوگا۔
یہاں سب سے بڑا سوال وقت کا ہے۔ اگر نوٹس کی طباعت ہی بروقت مکمل نہ ہو تو ان کی تقسیم، شہریوں کی حاضری، دستاویزات کی تیاری، سماعت اور فیصلے کے تمام مراحل مقررہ مدت میں کیسے مکمل ہوں گے؟ یہی سوال اب سیاسی حلقوں سے نکل کر لاکھوں شہریوں کی عملی تشویش بن چکا ہے۔
نوٹس میں تاخیر، اصل تشویش کہاں ہے؟
فہرستِ رائے دہندگان کی نظرثانی کا مقصد اگر فہرست کو زیادہ درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے تو اس عمل میں شہری کی شرکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جس رائے دہندہ کے ریکارڈ پر سوال اٹھایا گیا ہے، اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے کوائف میں کیا خرابی پائی گئی ہے، اسے کون سی دستاویز پیش کرنی ہے، کہاں پیش کرنی ہے اور وضاحت کے لیے اسے کتنا وقت دیا گیا ہے۔اگر نوٹس بروقت جاری نہ ہوں تو پورا انتظامی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ نوٹس کی تاخیر محض ایک کاغذ کے دیر سے پہنچنے کا معاملہ نہیں؛ اس کے بعد دستاویزات کی فراہمی، سماعت، جانچ اور فیصلے کا ہر مرحلہ وقت کے دباؤ میں آجاتا ہے۔عوام کا بنیادی مطالبہ یہ نہیں کہ فہرستِ رائے دہندگان کی جانچ نہ کی جائے۔ مطالبہ صرف یہ ہے کہ یہ عمل اس رفتار اور طریقے سے ہو جس میں درستگی کے ساتھ انصاف بھی برقرار رہے۔ کسی حقیقی اور اہل رائے دہندہ کو محض انتظامی تاخیر یا تکنیکی پیچیدگی کے باعث اپنے حقِ رائے دہی کے دفاع میں دشواری پیش نہ آئے۔
پندرہ افسران اور روزانہ تقریباً چالیس ہزار سماعتیں؟
ذرائع کے مطابق سماعت کے عمل کے لیے صرف پندرہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران دستیاب ہیں۔ اگر بارہ لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ معاملات کو محدود مدت میں نمٹانا ہو تو روزانہ ہزاروں کیسوں کی سماعت درکار ہوگی۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد روزانہ تقریباً چالیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ عدد خود اس عمل کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔ ایک طرف نوٹسوں کی طباعت اور تقسیم ہے، دوسری جانب شہریوں سے دستاویزات کی وصولی، ریکارڈ کی جانچ، اعتراضات کی سماعت اور فیصلے۔ اگر یہ تمام مراحل ایک محدود مدت میں مکمل کرنے ہیں تو انتظامیہ کو غیر معمولی سطح کی تیاری کرنا ہوگی۔اتنے بڑے پیمانے کی نظرثانی کے لیے اضافی عملہ، زیادہ سماعت مراکز، واضح رہنمائی اور مؤثر شکایتی نظام ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ جس کارروائی کا مقصد فہرستِ رائے دہندگان کو زیادہ شفاف اور درست بنانا ہے، وہی شہریوں کے لیے غیر ضروری پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
اناملی کا مطلب جعلی رائے دہندہ نہیں
اس پورے معاملے میں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی رائے دہندہ کا نام اناملی کے زمرے میں شامل ہونا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ جعلی رائے دہندہ ہے۔ اناملی سے مراد فہرستِ رائے دہندگان کے ریکارڈ میں کسی قسم کی عدم مطابقت، تضاد یا مشکوک تفصیل ہوسکتی ہے۔مثال کے طور پر نام، خاندانی نام، والد یا والدہ کے نام، عمر، پتہ یا دوسری تفصیلات میں فرق؛ موجودہ فہرستِ رائے دہندگان کا سابقہ فہرست سے مطابقت نہ رکھنا یا خاندانی رشتوں کی تفصیلات میں عدم یکسانیت اس زمرے میں آسکتی ہے۔ اسی طرح والدین اور بچوں کی عمروں میں غیر معمولی فرق، ایک ہی والدین کے بچوں کی عمروں میں غیر معمولی قربت یا رشتہ داری سے متعلق معلومات کا غلط درج ہونا بھی ریکارڈ کو اناملی کے طور پر نشان زد کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔لہٰذا کسی شہری کا نام اس زمرے میں آنے کے بعد اسے فوری طور پر جعلی یا نااہل قرار دینا نہ منطقی ہوگا اور نہ منصفانہ۔ اصل اہمیت اس مرحلے کی ہے جب شہری کو نوٹس ملے، وہ اپنی دستاویزات پیش کرے، وضاحت دے اور متعلقہ حکام اس وضاحت کو دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں جانچیں۔
نوٹس ملنے کے بعد رائے دہندہ کو کیا کرنا ہوگا؟
اطلاعات کے مطابق جن رائے دہندگان کو نوٹس جاری کیے جائیں گے، انہیں اپنی شناخت، رہائش اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ عمر اور تاریخِ پیدائش کے اعتبار سے دستاویزات کی ضرورت مختلف ہوسکتی ہے۔دستیاب ہدایات کے مطابق اٹھارہ جولائی انیس سو ستاسی سے پہلے پیدا ہونے والے افراد کو مقررہ دستاویزات میں سے کوئی ایک پیش کرنا ہوگا۔
معاملہ صرف حیدرآباد ضلع تک محدود نہیں
یہ صورتِ حال صرف حیدرآباد ضلع تک محدود نہیں۔ حیدرآباد ضلع کے اعداد و شمار سے الگ، اطلاعات کے مطابق گریٹر حیدرآباد کی پندرہ شہری اور سات مضافاتی اسمبلی نشستوں کو ملا کر اناملی اور نو میاپنگ کے زمرے میں شامل رائے دہندگان کی مجموعی تعداد تقریباً اکتیس لاکھ اکیاون ہزار بتائی گئی ہے۔ان میں تقریباً انیس لاکھ ترانوے ہزار رائے دہندگان نو میاپنگ کے زمرے میں جبکہ تقریباً گیارہ لاکھ اٹھاون ہزار رائے دہندگان اناملی کے زمرے میں شامل ہیں۔ مضافاتی حلقوں میں میڑچل، اپل، ملکاجگیری، قطب اللہ پور، کوکٹ پلی، شیر لنگم پلی اور راجندر نگر شامل ہیں۔ ان حلقوں میں بھی بڑی تعداد میں فہرستِ رائے دہندگان کی مزید جانچ کی ضرورت بتائی جارہی ہے۔یہ اعداد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایس آئی آر کا اثر صرف پرانے شہر یا مرکزی حیدرآباد تک محدود نہیں بلکہ گریٹر حیدرآباد کے پورے شہری اور مضافاتی انتخابی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔
کیا فہرستِ رائے دہندگان نے انتخابی نقشہ بھی بدل دیا؟
ایس آئی آر کے تحت تیار ہونے والی مسودہ فہرستِ رائے دہندگان نے تلنگانہ کے انتخابی منظرنامے میں ایک نمایاں تبدیلی ضرور سامنے رکھی ہے۔ شیر لنگم پلی اب ریاست کا سب سے زیادہ رائے دہندگان رکھنے والا اسمبلی حلقہ نہیں رہا، جبکہ حیدرآباد اور سکندرآباد کی لوک سبھا نشستوں کی درجہ بندی میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔غیر موجود، منتقل شدہ، متوفی اور دوہرے اندراج والے رائے دہندگان، یعنی اے ایس ڈی ڈی، کے بڑے پیمانے پر اخراج نے اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی سابقہ درجہ بندی کو بدل دیا ہے۔تاہم موجودہ اعداد و شمار کو حتمی تصویر سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ بڑی تعداد میں رائے دہندگان کی ابھی تصدیق باقی ہے، کیونکہ ان کے نام سابقہ فہرستوں سے مربوط یا میپ نہیں کیے جاسکے۔ تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد حتمی فہرستِ رائے دہندگان میں مزید تبدیلیاں ممکن ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتِ حال کو تلنگانہ کے انتخابی نقشے کا حتمی نقشہ نہیں بلکہ ایک عبوری منظرنامہ سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
حیدرآباد کے چھ حلقے ریاست کے کم ترین رائے دہندگان والے حلقوں میں
سترہ اگست کو جاری ہونے والی مسودہ فہرستِ رائے دہندگان نے ریاست کے کم رائے دہندگان والے اسمبلی حلقوں کی سابقہ ترتیب بھی بدل دی ہے۔ ایس آئی آر سے قبل پانچ سب سے کم رائے دہندگان والے حلقوں میں بھدراچلم، اشواراؤ پیٹ، بیلم پلی، بانسواڑہ اور چنور شامل تھے۔ اب صورتِ حال بدل چکی ہے۔بھدراچلم تقریباً ایک لاکھ تینتیس ہزار رائے دہندگان کے ساتھ اب بھی سب سے کم رائے دہندگان والا حلقہ ہے، لیکن صنعت نگر تقریباً ایک لاکھ انتالیس ہزار کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ سکندرآباد کینٹونمنٹ میں تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار، چارمینار میں تقریباً ایک لاکھ تینتالیس ہزار اور اشواراؤ پیٹ میں تقریباً ایک لاکھ چوالیس ہزار رائے دہندگان رہ گئے ہیں۔
ریاست کے دس کم ترین رائے دہندگان والے حلقوں کی ترتیب یوں بنتی ہے
بھدراچلم، تقریباً ایک لاکھ تینتیس ہزار۔صنعت نگر، تقریباً ایک لاکھ انتالیس ہزار۔سکندرآباد کینٹونمنٹ، تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار۔
چارمینار، تقریباً ایک لاکھ تینتالیس ہزار۔اشواراؤ پیٹ، تقریباً ایک لاکھ چوالیس ہزار۔بیلم پلی، تقریباً ایک لاکھ انسٹھ ہزار۔
عنبر پیٹ، تقریباً ایک لاکھ باسٹھ ہزار۔گوشہ محل، تقریباً ایک لاکھ پینسٹھ ہزار۔سکندرآباد، تقریباً ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار۔چنور، تقریباً ایک لاکھ انہتر ہزار۔
یوں حیدرآباد ضلع کے چھ اسمبلی حلقے، یعنی صنعت نگر، سکندرآباد کینٹونمنٹ، چارمینار، عنبرپیٹ، گوشہ محل اور سکندرآباد، ریاست کے دس کم ترین رائے دہندگان والے حلقوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ یہ تبدیلی اس لیے غیر معمولی ہے کہ ایس آئی آر سے قبل حیدرآباد کا کوئی بھی اسمبلی حلقہ ریاست کے پانچ کم ترین رائے دہندگان والے حلقوں میں شامل نہیں تھا۔
شہری حلقوں میں غیر معمولی کمی
اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ان حلقوں سے بڑی تعداد میں رائے دہندگان کے ناموں کا اخراج ہے۔ صنعت نگر میں رائے دہندگان کی تعداد تقریباً دو لاکھ ترپن ہزار سے گھٹ کر تقریباً ایک لاکھ انتالیس ہزار رہ گئی، یعنی تقریباً ایک لاکھ چودہ ہزار کی کمی ہوئی۔ دستیاب اعداد کی بنیاد پر یہ کمی تقریباً پینتالیس فیصد بنتی ہے۔
سکندرآباد کینٹونمنٹ میں تعداد تقریباً دو لاکھ پینتالیس ہزار سے کم ہوکر تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار رہ گئی، جبکہ چارمینار میں تقریباً دو لاکھ اڑتیس ہزار سے گھٹ کر تقریباً ایک لاکھ تینتالیس ہزار رہ گئی۔ چارمینار میں تقریباً چورانوے ہزار رائے دہندگان کم ہوئے، جو تقریباً چالیس فیصد کے قریب کمی بنتی ہے۔
اسی طرح عنبرپیٹ میں تعداد تقریباً دو لاکھ بیاسی ہزار سے کم ہوکر تقریباً ایک لاکھ باسٹھ ہزار، گوشہ محل میں تقریباً دو لاکھ پچھتر ہزار سے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار اور سکندرآباد میں تقریباً دو لاکھ انہتر ہزار سے کم ہوکر تقریباً ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار رہ گئی۔
ان چھ حیدرآبادی حلقوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تقریباً چھ لاکھ چھیالیس ہزار رائے دہندگان کی کمی سامنے آتی ہے۔ یہی غیر معمولی کمی ان شہری حلقوں کو ریاست کے کم ترین رائے دہندگان والے حلقوں کی صف میں لے آئی ہے۔
اس کے برعکس بھدراچلم میں رائے دہندگان کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ترپن ہزار سے گھٹ کر تقریباً ایک لاکھ تینتیس ہزار ہوئی، یعنی تقریباً تیرہ فیصد کمی۔ اشواراؤ پیٹ میں یہ تعداد تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے کم ہوکر تقریباً ایک لاکھ چوالیس ہزار رہ گئی، جو تقریباً دس فیصد کمی بنتی ہے۔
یوں ایس آئی آر کے بعد سامنے آنے والی مسودہ فہرستِ رائے دہندگان نے تلنگانہ کے اسمبلی حلقوں کے حجم کا ایک نیا نقشہ پیش کیا ہے۔ حیدرآباد کے وہ شہری حلقے جو کبھی ریاست کے نسبتاً بڑے انتخابی حلقوں میں شمار ہوتے تھے، اب روایتی طور پر کم رائے دہندگان رکھنے والے دیہی اور قبائلی حلقوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
کم شرحِ رائے دہی اور اے ایس ڈی ڈی اخراج کا ممکنہ تعلق
حیدرآباد میں مسلسل کم شرحِ رائے دہی ایک عرصے سے انتخابی تجزیہ کاروں کے لیے سوال بنی ہوئی ہے۔ کیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فہرستِ رائے دہندگان میں ایسے افراد کے نام موجود تھے جو شہر چھوڑ چکے تھے، وفات پاچکے تھے یا جن کا سراغ نہیں مل رہا تھا؟
ایس آئی آر کے تازہ اعداد و شمار اس سوال کی طرف ایک اہم اشارہ ضرور کرتے ہیں۔ تلنگانہ کے بعض شہری اسمبلی حلقوں میں اے ایس ڈی ڈی کے اخراج کی شرح خاصی زیادہ رہی، اور ان میں کئی حلقوں میں دو ہزار تئیس کے اسمبلی انتخابات کے دوران شرحِ رائے دہی پچاس فیصد سے کم تھی۔
مشیرآباد میں اے ایس ڈی ڈی اخراج کی شرح تقریباً پینتالیس اعشاریہ ایک فیصد رہی، جبکہ دو ہزار تئیس میں شرحِ رائے دہی تقریباً پچاس اعشاریہ آٹھ فیصد تھی۔ ملک پیٹ میں اخراج تقریباً چوالیس اعشاریہ سات فیصد اور شرحِ رائے دہی تقریباً اکتالیس اعشاریہ پانچ فیصد رہی۔ ایل بی نگر میں تقریباً چوالیس اعشاریہ چار فیصد نام کم ہوئے جبکہ شرحِ رائے دہی تقریباً انچاس اعشاریہ سات فیصد تھی۔ جوبلی ہلز میں اخراج تقریباً چوالیس اعشاریہ ایک فیصد اور رائے دہی تقریباً سینتالیس اعشاریہ پانچ فیصد رہی، جبکہ سکندرآباد کینٹونمنٹ میں اخراج تقریباً بیالیس اعشاریہ سات فیصد اور رائے دہی تقریباً انچاس اعشاریہ چھ فیصد رہی۔
یاقوت پورہ میں دو ہزار تئیس کی شرحِ رائے دہی صرف تقریباً انتالیس اعشاریہ سات فیصد تھی، جبکہ ایس آئی آر کے دوران تقریباً اکتالیس اعشاریہ تین فیصد نام اے ایس ڈی ڈی زمرے میں خارج ہوئے۔ شیر لنگم پلی میں رائے دہی تقریباً اڑتالیس اعشاریہ نو فیصد رہی تھی، جبکہ اخراج کی شرح تقریباً بیالیس اعشاریہ چھ فیصد سامنے آئی ہے۔
گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر آر وی کرنن بھی اس امکان کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ غیر موجود، منتقل شدہ، متوفی اور دیگر افراد کے نام فہرستِ رائے دہندگان میں برقرار رہنے سے شرحِ رائے دہی متاثر ہوئی ہو۔حیدرآباد میں دو ہزار تئیس کے اسمبلی انتخابات میں شرحِ رائے دہی تقریباً اڑتالیس فیصد تھی، جبکہ موجودہ ایس آئی آر میں اے ایس ڈی ڈی اخراج کی شرح تقریباً چالیس اعشاریہ نو فیصد ہے۔ یہ اعداد ایک ممکنہ تعلق ضرور ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان کی تعبیر کرتے وقت آبادیاتی تبدیلی، نقل مکانی اور دونوں اعداد و شمار کے درمیان زمانی فرق کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔یہاں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ دو ہزار چھبیس میں جن ناموں کو حذف کیا گیا، ضروری نہیں کہ وہ افراد دو ہزار تئیس کے انتخابات کے وقت بھی غیر موجود یا نااہل رہے ہوں۔ جس شخص کو آج منتقل شدہ قرار دیا گیا ہے، ممکن ہے وہ دو ہزار تئیس میں اسی حلقے کا مستقل رہائشی اور ووٹ ڈالنے کا اہل ہو۔ اسی طرح موجودہ اخراج کو ماضی کے انتخابات میں فرضی یا ’’گھوسٹ رائے دہندگان‘‘ کی موجودگی کا براہِ راست ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
البتہ یہ اعداد ایک ممکنہ توضیح ضرور پیش کرتے ہیں کہ حیدرآباد کے بعض حلقوں میں ایسے نام بڑی تعداد میں موجود رہے ہوں گے جو بعد کے برسوں میں منتقل ہوگئے، وفات پاگئے یا کسی اور وجہ سے قابلِ رسائی نہیں رہے۔ اس صورت میں فہرستِ رائے دہندگان کے حجم اور حقیقی طور پر قابلِ رائے دہندگی آبادی کے درمیان فرق پیدا ہونا بعید نہیں۔ لہٰذا محتاط اور درست نتیجہ یہی ہے کہ یہ اعداد سوال کو ضرور مضبوط بناتے ہیں، لیکن ابھی اس کا حتمی جواب فراہم نہیں کرتے۔
اصل امتحان انتظامیہ کا
ایس آئی آر کا بنیادی مقصد فہرستِ رائے دہندگان کو درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ غلط، دوہرے، منتقل شدہ یا متوفی افراد کے ناموں کی نشاندہی ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ یہ ضمانت بھی لازم ہے کہ کوئی حقیقی اور اہل رائے دہندہ محض تکنیکی خامی، ریکارڈ کے تضاد یا دستاویز کی عدم دستیابی کے باعث اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ اناملی اور نو میاپنگ میں شامل ہر شہری کو نوٹس، وضاحت، دستاویز پیش کرنے اور منصفانہ سماعت کا پورا موقع ملنا چاہیے۔اب اصل امتحان انتظامیہ کا ہے۔ لاکھوں معاملات، محدود مدت اور بڑے پیمانے پر سماعتوں کے باوجود کیا یہ عمل مقررہ وقت میں انصاف اور شفافیت کے تقاضوں کے ساتھ مکمل ہوسکے گا؟ یہی فیصلہ کرے گا کہ ایس آئی آر محض فہرستوں کی تطہیر ہے یا ایک زیادہ معتبر انتخابی نظام کی بنیاد۔تلنگانہ میں ایس آئی آر نے انتخابی منظرنامے کو ضرور بدل دیا ہے۔ حیدرآباد کے چھ اسمبلی حلقوں کا ریاست کے دس کم ترین رائے دہندگان والے حلقوں میں شامل ہونا اور ان حلقوں سے تقریباً چھ لاکھ چھیالیس ہزار رائے دہندگان کی کمی معمولی تبدیلی نہیں۔ تاہم مسودہ فہرست ابھی حتمی فیصلہ نہیں۔ دعووں، اعتراضات اور تصدیق کے بعد تصویر مزید بدل سکتی ہے۔اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ کتنے نام حذف ہوئے، بلکہ اس سے کہ کتنے حقیقی رائے دہندگان کو اپنی بات رکھنے کا موقع ملا، کتنے ریکارڈ درست ہوئے اور کتنے فیصلے شفاف و منصفانہ طریقے سے کیے گئے۔
فہرستِ رائے دہندگان کی صحت جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے، مگر اس فہرست میں شامل ہر اہل شہری کا حقِ رائے دہی بھی اتنا ہی مقدس ہے۔ ایس آئی آر کی کامیابی اسی وقت ہوگی جب فہرست کی درستی اور شہری کے جمہوری حق کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کا محافظ بنایا جائے۔ایس آئی آر کے آئینے میں تلنگانہ کی تصویر ابھی مکمل نہیں، لیکن اتنی ضرور واضح ہے کہ ریاست کے بدلتے سماجی، آبادیاتی اور سیاسی منظرنامے پر سنجیدہ غور کا وقت آچکا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے