مخلوط معاشرہ میں اقلیتوں کے مختلف فقہی و سماجی اور سیاسی مسائل کے حل میں مقاصدِ شریعت کو سمجھنے کی ضرورت. المعہد العالی الاسلامی میں اسلامک فقہ اکیڈمی کا تربیتی پروگرام، ممتاز اہل علم کا اظہار خیال

مخلوط معاشرہ میں اقلیتوں کے مختلف فقہی و سماجی اور  سیاسی مسائل کے حل میں مقاصدِ شریعت کو سمجھنے کی ضرورت. المعہد العالی الاسلامی میں اسلامک فقہ اکیڈمی کا تربیتی پروگرام، ممتاز اہل علم کا اظہار خیال

مخلوط معاشرہ میں اقلیتوں کے مختلف فقہی و سماجی اور سیاسی مسائل کے حل میں مقاصدِ شریعت کو سمجھنے کی ضرورت.
المعہد العالی الاسلامی میں اسلامک فقہ اکیڈمی کا تربیتی پروگرام، ممتاز اہل علم کا اظہار خیال

حیدرآباد،22اگسٹ (پریس نوٹ) اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا)، نئی دہلی کے زیر اہتمام اور المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے اشتراک و تعاون سے معہد میں ’’مقاصدی قواعد اور اقلیتوں کے مسائل پر ان کی تطبیق‘‘ کے عنوان سے علمی و تربیتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں معاصر دور میں مقاصدِ شریعت کی معنویت، مخلوط معاشرے کے مسائل، اقلیتوں کے فقہی مسائل اور مختلف سماجی و سیاسی حالات میں شرعی اصولوں کی عملی تطبیق کے متعدد پہلوؤں پر ممتاز اہلِ علم نے اظہار خیال کیا پروگرام کے آغاز میں مفتی شاہد علی قاسمی نے مقاصدِ شریعت کی بنیادی اہمیت اور مخلوط معاشرے میں بقائے باہم کے اصولوں پر روشنی ڈالی اور کہا : حفظِ دین، حفظِ جان، حفظِ عقل، حفظِ نسل اور حفظِ مال شریعت کے بنیادی مقاصد ہیں اور واضح کیا کہ ان مقاصد سے واقفیت پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے میں دینی بصیرت اور اجتہادی صلاحیت پیدا کرتی ہے، انھوں نے کہا : مذہبی آزادی، عدل و انصاف، انسانی جان و مال کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق اور باہمی احترام مخلوط معاشرہ اور پُرامن بقائے باہم کے بنیادی اصول ہیں ۔جامعہ عائشہ نسواں کے استاذِ حدیث مفتی عارف باللہ قاسمی نے ’’مسلم مصالح کے لیے سیاسی پارٹیوں یا غیر مسلم تنظیموں کے ساتھ تعلقات‘‘ کے موضوع پر موجودہ جمہوری و دستوری ماحول میں مسلمانوں کے سیاسی و سماجی تعامل کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مکمل کنارہ کشی اور مفاد پرستانہ وابستگی، دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے دینی اصولوں اور اسلامی تشخص کی حفاظت کے ساتھ جائز حقوق اور اجتماعی مفادات کے لیے مؤثر سیاسی و سماجی کردار کی ضرورت پر زور دیا۔اسی نشست میں معہد کے نائب ناظم مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے مقاصدِ شریعت کی علمی بنیادوں اور عصر حاضر میں اس کی معنویت پر گفتگو کی اور کہا: شریعت کی بنیاد عدل، رحمت، حکمت اور مصلحت پر قائم ہے ۔ انہوں نے ابن تیمیہ، ابن قیم، امام شاطبی، علامہ قرافی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہم اللہ کی علمی خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ مقاصدِ شریعت فقہی روایت کا بنیادی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا ہندوستانی حالات کے تناظر میں ، میثاقِ مدینہ کو پیش نظر رکھنا اور نئے مسائل کے حل میں عرف اور مصالح کی رعایت کرنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنے اسلامی تشخص کی حفاظت کے ساتھ مشترکہ انسانی مفادات کو پورا کرنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکیں۔دوسری نشست میں ڈاکٹر مولانا مفتی تنظیم عالم قاسمی، استاذِ حدیث دارالعلوم سبیل السلام نے ’’تبدیلیِ مذہب کے بعد کسی مسلمان کا اپنے غیر مسلم رشتہ دار کا وارث ہونا‘‘ کے مسئلہ کو مقاصدی قواعد کی روشنی میں پیش کیا۔ انہوں نے فقہی تاریخ، مختلف آرا اور حفظِ دین، دعوتِ اسلام اور تالیفِ قلب جیسے مقاصد شریعت کا جائزہ لینے کے بعد معاصر فقہی اداروں کے فیصلوں کے حوالہ سے اس مسئلہ کی وضاحت کی مولانا تبریز عالم حلیمی قاسمی، استاذِ حدیث دارالعلوم حیدرآباد، نے ’’سماج کی ترقی اور بقائے باہم کے لیے مختلف مذاہب کے درمیان مفاہمت‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے بقائے باہم کو مذہبی و ثقافتی اختلاف کے باوجود امن، تحمل اور تعاون کے ساتھ زندگی گزارنے سے تعبیر کیا اور موالات، مواسات، مدارات اور معاملات کی تفصیل بیان کی اور واضح کیا کہ جائز سماجی و معاشی معاملات میں حسنِ سلوک اور تعاون کی گنجائش ہے، جب کہ عقائد و عبادات میں کسی مفاہمت کی گنجائش نہیں۔ڈاکٹر محمد سراج الدین قاسمی، اسسٹنٹ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، نے ’’مخلوط آبادی میں غیر مسلموں کے تہواروں اور شادیوں میں شرکت‘‘ کے موضوع پر مقاصدی قواعد کی روشنی میں گفتگو کی۔ انہوں نے معاصر مسائل کے حل میں زمینی حقائق، عرف اور معاشرتی حالات کے درست فہم کی ضرورت پر زور دیا۔ شادی بیاہ میں شرکت کو شرعی حدود اور حسنِ معاشرت سے مربوط کرتے ہوئے مذہبی تہواروں کے سلسلے میں اسلامی تشخص اور حفظِ دین کو بنیادی ترجیح قرار دیا۔آخری نشست میں ڈاکٹر مولانا مفتی محمد اعظم ندوی، صدر شعبۂ ثقافت معہد، نے ’’علم المقاصد پر تحریر کردہ معاصر کتابیں: خصوصیات و امتیازات‘‘ کے عنوان سے مقاصدِ شریعت پر لکھی گئی اہم جدید و معاصر تصانیف کا تعارف اور ان کی علمی خصوصیات پیش کیں۔ ڈاکٹر مولانا مفتی احمد نور عینی، استاذِ حدیث و فقہ المعہد، نے ’’بھارتی سماجی انصاف کی تحریک کے ساتھ تعامل‘‘ کے موضوع پر ہندوستانی سماجی انصاف کی تحریکوں کے ساتھ مسلمانوں کے تعامل کو مقاصدی قواعد کی روشنی میں واضح کیا مولانا پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی، استاذِ شعبۂ اسلامیات مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، نے ’’مقاصدی قواعد اور عملی تطبیقات‘‘ کے عنوان سے نئے اور پیش آمدہ مسائل پر مقاصدی قواعد کے اطلاق کا منہج متعدد عملی مثالوں کے ذریعہ واضح کیا۔فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا و ناظمِ معہد مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی،نائب ناظم معہد اورمولانا مفتی اشرف علی قاسمی معتمدِ امورِ انتظامی نے مختلف نشستوں کی صدارت کی۔ حضرت مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی نے اپنے صدارتی خطاب میں پروگرام کی اہمیت و ضرورت اور اس کے علمی و تربیتی فوائد پر روشنی ڈالی اور کہا : مقاصدِ شریعت کے مطالعہ کو عصر حاضر کے مسائل کے حل سے مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیوں کہ مقاصدِ شریعت فقہی روایت سے الگ کوئی نیا علم نہیں، بل کہ نصوص و فقہی اصولوں کے صحیح فہم اور معاصر حالات میں ان کی مناسب تطبیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ پروگرام کا مقصد طلبہ کو جدید فقہی مسائل کے ادراک، صحیح صورت مسئلہ اور شرعی اصولوں کی روشنی میں متوازن حل تلاش کرنے کی عملی بصیرت فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے پروگرام کی مختلف نشستوں میں معہد کے طلبہ نے تلاوتِ قرآن اور نعتِ رسول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ پہلی نشست کی نظامت مولانا نوشاد اختر ندوینے صدر شعبۂ مطالعۂ مذاہب، دوسری نشست کی نظامت مولانا محمد انظر قاسمی، استاذ شعبہ انگریزی معہد نے تیسری اور آخری نشست کی نظامت مولانا ناظر انور قاسمی، صدر شعبۂ انگریزی معہد نے بحسن و خوبی انجام دی۔ آخری نشست میں طلبہ نے ورکشاپ کے علمی و تربیتی فوائد کے حوالے سے اپنے تاثرات بھی پیش کیے۔ اس موقع پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی مطبوعہ کتاب ’’جدید مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے‘‘ بھی شرکائے پروگرام، بالخصوص طلبہ میں تقسیم کی گئی۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے