مودی سرکار کے لیے چین اور چینی دونوں مصیبت بنے ہوئے ہیں۔ چین اروناچل پردیش میں گھسا پڑ رہا ہے اور چینی کی قیمت ہر گھر میں گھس رہی ہے۔ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عآپ رہنما اروند کیجریوال نے شکر کی بڑھتی قیمت پر بھڑک کر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ میں کہا کہ ’’مودی حکومت یا پھر اَن پڑھ حکومت… یہ لوگ غیر ملکی زر مبادلہ بچانے کے لیے گنے سے ایتھنول بنا رہے تھے۔ اب ملک میں چینی کی کمی ہو گئی ہے اور صرف 17 دنوں میں قیمت 20 روپے بڑھ گئی ہے، حالات ایسے ہو گئے کہ غیر ملکی زر مبادلہ پھونک کر چینی درآمد کرنے کی نوبت آ گئی ہے۔ یہ حکومت ہے یا مذاق؟ئے ۔موصوف کو غصہ تو اپنے ساتھی ڈاکٹر ستیندرجین کی گرفتاری پر آیا ہوگا مگر انہوں نے اپنا نزلہ چینی پر اتار دیا ۔ بی جے پی کی بی ٹیم سمجھے جانے والے اروند کیجریوال کا یہ خراجِ عقیدت دیکھ کر مودی جی خوش ہوگئے ہوں گے کیونکہ اس میں بلواسطہ ان کے حریف نتن گڈکری کوموردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ 31 جولائی کو چینی کی قیمت ہول سیل میں 44 روپے فی کلوگرام تھی ۔ اس کے بعد 20 اگست کو چینی کی قیمت ہول سیل میں 60 روپے فی کلوگرام اور ریٹیل میں 65 روپے فی کلوگرام پہنچ گئی ہے جوا ب 70روپے ہوگئی ہے۔ ایک سال قبل چینی کی مِل قیمت 3900 روپے فی کوئنٹل تھی مگر اب یہ قیمت 5500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
چینی کا یہ مسئلہ اچانک ایران اور امریکہ جنگ کی مانند نمودار ہونے والی صورتحال کا نتیجہ نہیں ہے کہ جو مودی سرکار کے اختیار میں نہ ہو۔ امسال اپریل (2026) کی ابتداء میں سرکار کو اس کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ملک میں چینی کی پیداوار مسلسل دوسرے سال کھپت سے کم رہنے والی ہے۔ اس کی وجہ گنے کی کم پیداوار کے سبب چینی ملوں کا معمول سے پہلے بند ہونا تھا ۔ ماہرین نے۵؍ ماہ قبل بتا دیا تھا کہ پیداوار میں کمی اور برآمدات میں اضافے سے ملکی ذخیرے کم ہو سکتے ہیں جس سے مقامی بازار میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چینی کی سالانہ گھریلو کھپت 280 لاکھ ٹن کے قریب ہے مگرممبئی میں قائم عالمی تجارتی کمپنی کے ہندوستانی سربراہ نے کہا تھا کہ اس سیزن میں چینی کی پیداوار 28 ملین میٹرک ٹن سےکم ہونے کا امکان ہےکیونکہ اس وقت تک زیادہ ترچینی کی ملیں پہلے ہی بند ہو چکی تھیں۔اس کے برعکس سیزن کے آغاز پرخواب خرگوش میں مست انڈین شوگر اینڈ بائیو انرجی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور نیشنل فیڈریشن آف کوآپریٹو شوگر فیکٹریز لمیٹڈ (NFCSF) نے پیداوار کا تخمینہ 31 ملین ٹن لگایا تھا جو غلط ثابت ہوا۔
امسال گنے کی پیداوارمیں زیادہ بارش کی وجہ سے فصل کی کمی کو تسلیم کرنے والی NFCSF نے یہ مان لیا تھا کہ 541 ملوں میں سے 467 ملیں مارچ کے آخر تک بند ہو چکی تھیں جبکہ پچھلے سال اس وقت تک صرف 420 ملیں بند ہوئی تھیں اور اس کا اثر چینی کی پیداوار پر پڑنے نیز قیمتوں کے بڑھنے کا امکان تھا مگر مودی سرکار اس درمیان کوئی انتظام کرنے کے بجائے گیانیش کمار کی مدد سے مغربی بنگال انتخاب جیتنے میں مگن تھی۔ اس مجرمانہ بے توجہی کے نتیجےمیں اب بنگالی رس گلاّ پھیکا ہوگیا ہے اور وزیر اعلیٰ شبیندو ادھیکاری کی مسلم دشمنی اس کو میٹھا نہیں کرسکتی۔ سرکاری ادارے NFCSF کی خوش فہمی اس لیے تھی کہ ہندوستانی شوگر ملوں نے 2025/26 مارکیٹنگ سال کی پہلی ششماہی میں 27.1 ملین ٹن چینی کی پیداوار کی، جو پچھلے سال سے 9فیصد زیادہ تھی اس لیے حکومت نے بڑے سرپلس کی توقع رکھتے ہوئے برآمدات کی اجازت دے دی مگر وہ بھول گئے کہ ملک کی سب سے بڑی چینی پیدا کرنے والی ریاست مہاراشٹر اور تیسرے سب سے بڑے پروڈیوسر کرناٹک میں تقریباً تمام ملیں توقع سے پہلے بند ہو چکی ہیں۔
ایک ماہ بعد مئی (2026) میں سرکار کو ہوش آیا تو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) نے رواں سال 30 ستمبر تک کے لیے چینی کی برآمدات پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ۔ تاہم، اس حکم کے اطلاق کو بالترتیب سی ایکس ایل اور ٹیرف ریٹ کوٹہ (ٹی آر کیو) کے تحت یورپی یونین اور امریکہ کو برآمد کی جانے والی چینی پر نہیں کیا۔ ان ممالک کےلیے برآمد کنندگان کو خاصی کم یا صفر کسٹم ڈیوٹی پر چینی کی مخصوص مقدار بھیجنے کی اجازت ہے۔ چینی مارکیٹنگ سال 2025-26 (اکتوبر تا ستمبر) کے لیے وزارت خوراک نے ابتدائی طور پر 1.5 ملین ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی تھی، پھر 500,000 ٹن کا اضافی کوٹا کھولا گیا مگر اس میں سے صرف 87,587 ٹن کی منظوری دی گئی۔ وزارت خوراک اور شوگر ملوں کو پورے 2025-26 مارکیٹنگ سال کے لیے 750,000-800,000 ٹن برآمد کرنے کی توقع تھی مگر ان خوابوں پر پانی پھر گیا ہے اور اب دنیا کے دوسرے سب سے بڑے چینی پیدا کرنے والے ملک ہندوستان پر چینی در آمد کرنے کی نوبت آگئی ہے ۔
چینی اور ایندھن میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جو لوگ گاڑی استعمال نہیں کرتے وہ بھی چائےتو پیتے ہی ہیں اور اس میں دودھ بھی پڑتا ہے۔ نونہال بچوں کے لیے بھی دودھ لازمی خوراک ہے۔ امسال ماہِ مئی میں مدر ڈیری ، امول یا سودھا تمام بڑی ڈیری کمپنیوں نے اپنے دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا۔ تقریباً ایک سال بعد یہ دوسری مرتبہ ہونے والا اضافہ تھا۔ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کی جیبوں کو متاثرکرتا ہے۔ لوگ پیٹرول سے زیادہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے فکر مند ہیں کیونکہ عام آدمی ہی مہنگائی کے بوجھ تلے پستا ہے۔ دودھ روزمرہ کی ضرورت ہے، اس لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود خریدنا ہی پڑتا ہے۔ عوام حکومت سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی توقع کرتےہیں۔ ڈیری کےعلاوہ کھانے پینے کی تمام اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے گھریلو بجٹ کو تہہ و بالا ہوجاتا ہے۔ عوام کو یہ شکایت بھی ہے کہ جہاں مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے وہیں نجی شعبوں میں کام کرنے والوں کی تنخواہیں نہیں بڑھ پاتیں ۔ لوگ چاہتے ہیں کہ مہنگائی کی شرح کے ساتھ نجی کمپنیوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو، جس سے ملازمین اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔ مزید برآں، دودھ کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا گھریلو بجٹ پر خاصا اثر پڑجاتاہے۔
مودی حکومت اس معاملے میں بالکل حساس نہیں ہے۔ پچھلے دنوں دہلی کی سرحد نوئیڈا میں جب غریب ملازمین نے احتجاج کیا تو انہیں نیپال، بنگلہ دیش بلکہ پاکستان تک سے جوڑ کرپولیس سے پٹوایا گیا۔ دودھ کی کمپنیاں مویشیوں کے چارے کی قیمت میں مسلسل اضافے سے پریشان ہیں ساتھ ہی پیکیجنگ کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں،اس کو دودھ کی قیمتوں میں اضافے کاجواز بنایا جاتا ہے۔ عالمی حالات کےسبب ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے اور خوردہ مارکیٹ میں افراط زر کے رجحانات بھی مہنگائی بڑھاتے ہیں۔حزب اختلاف کے رہنما بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کومہنگائی پر قابو پانے میں ناکام بتا کر اپنی شکایت درج کرواتے ہیں۔ مدھیہ پریش کانگریس کے ریاستی صدرجیتو پٹواری کے مطابق نام نہاد ’نیو انڈیا‘ میں عام آدمی کی کچن مسلسل مہنگی ہو رہی ہے۔ کھانے کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سویا بین تیل کے دام تقریباً 12 فیصد، مونگ پھلی کے تیل کے دام 10 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا تھا کہ چینی کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں، جبکہ دودھ کے دام میں دو سے تین روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ تو سکہ کا ایک پہلو ہے مگر دوسری جانب کسانوں کو ان کے دودھ اور زرعی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔پٹواری کے مطابق توور یا ارہر دال تقریباً 140 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب کسان کو اس کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی تو وہی پیداوار مل اور بازار میں مہنگی کیوں ہو رہی ہے؟ ان کے مطابق یہ صورتحال حکومت کی زرعی پالیسی اور بازار کے انتظام میں واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ پٹواری نے اسے حکومت کی زرعی پالیسی اور مارکیٹ مینجمنٹ پر سنگین سوال قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے کسانوں کو بونس دینے کے جو وعدے کیے تھے، وہ بھی پورے نہیں کیے ۔ملک میں دودھ مہنگا ہو رہا مگر شراب کو کھلی چھوٹ ہے۔ مدھیہ پردیش میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کی حکومت مذہبی شہروں میں شراب بندی کی بات تو کرتی ہے، لیکن زمینی سطح پر شراب کی دستیابی اور غیر قانونی شراب کے کاروبارزور و شور سے چل رہا ہے۔گجرات میں جہاں شراب بندی ہے زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کے لیے مدھیہ پردیش سے ہونے والی غیر قانونی اور زہریلی شراب کی سپلائی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔پٹواری نے ریاست میں شراب کی ہوم ڈیلیوری کا معاملہ اٹھاکر حکومت سے سوال کیا کہ غیر قانونی شراب کے کاروبار اور سپلائی نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے ظاہر ہے اگر کسی کاروبار سرکار کی حصہ داری ہوتو اس پر کسی کی نظرِ بد کیسے پڑ سکتی ہے؟ ایک سوال یہ ہےکہ جو سرکار پیپر کولیک ہونے سے نہیں روک پاتی وہ بھلا شراب کی لیک کو کیسے روک سکتی ہے۔